کتابِ مقدس کی تفسیر
عبدیاہ
Obadiah
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے عبدیاہ کی نبوت لاثانی ہے۔ اِس کتاب میں سزا کا حکم ایسا سخت ہے کہ رحم اور تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اِس میں اُمید کا اِشارہ تک نہیں ہے۔‘‘(فریڈرک اے۔ ٹیٹ فورڈ۔ Frederick A. Tatford)
۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام
عبدیاہ کا رُؤیا پرانے عہدنامے میں سب سے چھوٹی اور بائبل مقدس میں تیسری سب سے چھوٹی کتاب ہے۔ اِس کا صرف ایک ہی موضوع ہے __ یعقوب کے جڑواں بھائی عیسو کی ہلاکت اور بربادی۔ تاریخ میں ادومی ہمیشہ اور متواتر اسرائیل کے خلاف لڑتے رہے اور خدا کے برگزیدہ (چنے ہوئے) لوگوں کے لئے عداوت اور حقارت کا عملی مظاہرہ کرتے رہے تھے۔
۲۔ مصنف
پرانے عہدنامے میں درجن بھر آدمیوں کا نام عبدیاہ (خدا کا بندہ / غلام) ہے۔ لیکن کسی کو اِس نبی کی حیثیت سے شناخت کرنے کا امکان نہیں۔ حقیقت میں ہم اِس کتاب کے مصنف کے بارے میں صرف اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا اِس کی کتاب میں بیان ہوا ہے۔
۳۔ سنِ تصنیف
چونکہ ہم مصنف کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اِس لئے تاریخ کا تعین صرف داخلی شہادتوں سے کرنا ہو گا۔
آزاد خیال علما عموماً اور بہت سے قدامت پسند علما بھی بعد کے دَور کو ترجیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کتاب ۵۸۶ ق م میں یروشلیم کی بربادی کے بہت ہی تھوڑا عرصہ بعد لکھی گئی۔ اگرچہ یرمیاہ، نوحہ اور زبور ۱۳۷ کے ساتھ مشابہات اور زبان و الفاظ کے بعض خصائص بعد کی تاریخ کا اِشارہ دیتے ہیں، لیکن یہ حقیقت کہ شہر اور ہیکل کی مکمل بربادی کا ذکر نہیں ہے اِس نظریے کی تائید کرتی ہے کہ یہ کتاب اِس واقعے سے پہلے تحریر ہوئی ہو گی۔
اِس نظریے کے مطابق ایک رائے یہ ہے کہ یہ کتاب یہورام کے دورِ حکومت (۸۴۸ ۔ ۸۴۱ ق م) یا آخز کے دَورِ حکومت (۷۳۱۔۷۱۵ ق م) میں لکھی گئی۔ بہت سے علما موخرالذکر دور کی تائید نہیں کرتے۔ لیکن جو تائید کرتے ہیں وہ اپنی دلیل کے حق میں ۲۔تواریخ ۲۸: ۱۷ کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ ادومیوں نے یروشلیم پر حملہ کیا اور اسیروں کو لے گئے تھے۔
اگر بہت پہلے کی تاریخ درست ہے تو عبدیاہ لکھنے والے نبیوں میں سب سے پہلا نبی اور الیشع کا ہم عصر تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ عبدیاہ کی کتاب یروشلیم کی مکمل بربادی کا ذکر نہیں کرتی جو ۵۸۶ ق م میں ہوئی۔ اِس کے علاوہ معلوم ہوتا ہے کہ آیات ۱۲۔۱۴ میں ادومیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کام دوبارہ نہ کریں جو ماضی میں کیا تھا۔ اگر یروشلیم راکھ کا ڈھیر ہوتا تو ایسی فہمائش یا نصیحت بے معانی ہوتی۔
بائبل مقدس پر یقین اور ایمان رکھنے والا مسیحی اِن تینوں میں سے کوئی ایک نظریہ مان سکتا ہے۔ اِس سے کتاب کے الہامی ہونے پر کوئی زَد نہیں پڑتی۔ البتہ ۸۴۰ ق م کے لگ بھگ کی تاریخ زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
یہ نبوت ادومیوں کے خلاف ہے جو عیسو کی نسل تھے اور بنی اِسرائیل کے جانی دشمن تھے۔ یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ وہ یروشلیم کے زوال اور سقوط پر شادمان تھے۔ میتھیو ہنری اُن جذبات کی بہت عمدہ عکاسی کرتا ہے جو عبدیاہ کی چھوٹی سی نبوت کا پس منظر ہیں:
’’بعض لوگوں نے بہت عمدہ رائے دی ہے کہ یہ اِسرائیلیوں کے لئے نہایت آزمائش کا وقت تھا کیونکہ وہ جو خود یعقوب کی اولاد تھے جس سے محبت رکھی گئی، دیکھ رہے تھے کہ ہم مصیبت میں ہیں مگر ادومی، جو عیسو کی اولاد تھے جس سے نفرت رکھی گئی، نہ صرف اِقبال مند ہیں بلکہ ہماری مصیبتوں پر خوشی کا جشن منا رہے ہیں۔ اِس لئے خدا نے اُن (اِسرائیلیوں) کو دُور سے ادوم کی تباہی کا منظر دکھا دیا جو قطعی اور مکمل ہو گی اور جو اُن (اِسرائیلیوں) کی اپنی اصلاح کا مسرت بخش ثمرہ (نتیجہ) ہو گی۔‘‘
جیسا کہ ہم پہلے اِشارہ دے چکے ہیں کہ بائبل مقدس کے علما اِس بات پر متفق نہیں کہ یہاں یروشلیم کی اُس تباہی کا ذکر ہے جو نبوکدنضر کے ہاتھوں ہوئی یا اُس سے پہلے کسی زوال کا حوالہ ہے۔
نئے عہدنامے میں ادوم کا ذکر ادومیہ کے نام سے آیا ہے۔ تجارتی اور معاشی طور پر اِسے عربوں نے برباد کیا۔ بعد ازاں رومیوں نے اِس کو فتح کر لیا۔ یوں تقریباً ۷۰ء تک ادومی تاریخ کے صفحات سے محو ہو گئے۔
| خاکہ | |||
| آیات | |||
| ۱۔ | ادوم کا غرور توڑا جائے گا | ۱۔۴ | |
| ۲۔ | ادوم کی بربادی | ۵۔۹ | |
| الف۔ | مکمل طور سے لُٹ جانا | ۵،۶ | |
| ب۔ | ادوم کے اتحادیوں کی غداری | ۷ | |
| ج۔ | ادوم کے لیڈروں کی ہلاکت | ۸۔۹ | |
| ۳۔ | ادوم کے زوال کے اسباب | ۱۰۔۱۴ | |
| ۴۔ | ادوم پر قہر و غضب اُس کے کاموں کا بدلہ ہے | ۱۵،۱۶ | |
| ۵۔ | اِسرائیل اور یہوداہ کی بحالی اور ادوم کا معدوم ہونا | ۱۷۔۲۱ | |