کتابِ مقدس کی تفسیر
غزل الغزلات
Song of Songs
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
اِس کتاب کی حیثیت اُس شاندار ہیکل کی سی ہے جسے خدا نے چن لیا کہ وہاں اُس کا نام سکونت کرے۔ یہ اِس مادی دُنیا کی ہیکل سے بھی زیادہ درخشاں اور شان دار ہے۔ یہ اُن سچائیوں سے بھری ہے جو روح القدس آسمان سے لے آیا اور یہاں رکھی ہیں تاکہ اُن افراد کی تسلی اور شادمانی کا باعث ہوں جو خدا کے گھر میں، جہاں اُس کا جلال سکونت کرتا ہے، رہنے کے مشتاق ہیں۔ — جارج برّوز
۱۔ کتبِ مسلمہ میں منفرد مقام
کتاب کا نام ’’غزل الغزلات‘‘ عبرانی میں اُس محاورے کا ترجمہ ہے جس کا مطلب ہے ’’اِنتہائی نفیس اور لطیف نغمہ۔‘‘ یہودی Midrash (عہد عتیق پر لکھی گئی قدیم یہودی تحریروں کا مجموعہ) میں اِسے’’نغمات میں نہایت قابلِ تعریف، نہایت عمدہ و اعلیٰ اور نہایت گراں قدر‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ سمجھنے کے لحاظ سے ’’غزل الغزلات‘‘ کو بائبل مقدس کی مشکل ترین کتاب خیال کیا جاتا ہے۔ فرانز ڈیلٹزق لکھتا ہے ’’غزل الغزلات، پرانے عہدنامے کی مبہم ترین کتاب ہے۔‘‘ اگر آپ کو شاعری، عشق اور فطرت سے لگاؤ اور شغف ہے تو آپ کے لئے اِس کتاب کو سمجھنا مشکل نہ ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتاب ہے کیا اور اِس کا مطلب کیا ہے؟
’’یہ کتاب ہے کیا؟‘‘ علما اِس ضمن میں متفق نہیں ہیں۔ کچھ اِسے غیر مربُوط عشقیہ غزلوں کا مجموعہ، بعض چھوٹا سا ڈرامہ، جبکہ بعض اِسے عشقیہ مُکالمہ کی مربوط ڈرامائی غزل قرار دیتے ہیں۔ چونکہ اِس میں متعدد مصرعے بار بار دہرائے گئے ہیں اور اِس کی کہانی میں روانی ہے، کہانی مختصر ہے اور گہرا تاثر پیدا کرتی ہے، اِس لئے مذکورہ تینوں میں سے آخری صنف قرار دینا مناسب ہے۔
اِس کے باوجود کوئی اِس کتاب کی تفسیر کیسے کرے؟ صدیوں سے قارئین اِس میدان میں خیالات کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ بعض یہودی اور مسیحی تو بناوٹی پارسائی ظاہر کرتے ہیں اور اِسے ’’شہوانی‘‘ کہہ کر پرے رکھ دیتے ہیں، جبکہ بعض نہایت پارسا اور دین دار لوگ عقیدت و احترام کے ساتھ مسرور ہوتے ہوئے اِسے پڑھتے ہیں۔
۲۔ مصنف
یہودی روایت کے مطابق یہ نظم سلیمان نے جوانی کے ایام میں لکھی، ’’اَمثال‘‘ کی کتاب پختہ عمر میں اور ’’واعظ‘‘ اُس زمانے میں لکھی جب اِس دُنیا سے جی بھر گیا تھا۔ یہ نظریہ اِسے قابلِ تعریف ٹھہراتا ہے۔ چونکہ مصنف اِزدواجی زندگی میں وفاداری کی تعریف کرتا اور اِس پر زور دیتا ہے، اِس لئے کہا جاتا ہے کہ سلیمان نے یہ کتاب اپنی بہت سی بیویوں میں سے پہلی بیوی کے نام منسوب کی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب سلیمان یک زوجی کو چھوڑ کر کثرتِ ازواج اور حرموں پر مائل نہیں ہوا تھا۔ لیکن زیر نظر تفسیر ایک بالکل فرق نظریہ پیش کرتی ہے۔
اِس غزل میں سات آیات (۱:۱،۵؛ ۳:۷،۹،۱۱؛ ۸:۱۱،۱۲) میں سلیمان کا ذِکر بنام آیا ہے۔ پہلی آیت اِس نظم کی تصنیف کو سلیمان سے منسوب کرتی ہے حالانکہ اِس کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے ’’سلیمان کے بارے میں غزل الغزلات‘‘۔ سلیمان کو قدرتی چیزوں میں خاص دلچسپی تھی (۱۔سلاطین ۴:۳۳)۔ اِس کتاب میں اُن کا ذِکر سلیمان کے مصنف ہونے کی حمایت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں شاہی گھوڑوں، رتھوں اور پالکی کے ذِکر سے اِس نظریے کی حمایت ہوتی ہے کہ یہ کتاب سلیمان کی تصنیف ہے۔ جغرافیائی مقامات کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک متحدہ سلطنت کا حصہ تھے اور سلیمان کے دورِ حکومت میں یہ بات دُرست تھی۔ یوں اِن تمام وجوہات کی بنا پر روایتی نظریے کو مان لینا مناسب ہے کہ اِس کا مصنف سلیمان ہے، علاوہ ازیں اِس کے مخالف دلائل کمزور ہیں اور قائل نہیں کرتے۔
۳۔ سنِ تصنیف
سلیمان نے ایک ہزار پانچ گیت لکھے (۱۔سلاطین ۴:۳۲)۔ یہ گیت لغوی اور معنوی لحاظ سے اُس کے گیتوں میں سب سے بلند پایہ، دلکش اور خوبصورت ہے۔ یہ نظم اُس نے اپنے چالیس سالہ دورِ حکومت (۹۷۱۔۹۳۱ ق م) کے دوران کسی وقت لکھی۔ یہ روایت کہ ابھی وہ جوان تھا اور بہت سی عورتوں کے ساتھ عیاشی میں نہیں پڑا تھا بہت منطقی اور قابلِ قبول ہے۔
۴۔ پس منظر اور مضامین
مسیحی حلقوں میں اِس کتاب کی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ یہ اپنی دلھن یعنی کلیسیا کے لئے مسیح کی محبت کا بیان ہے۔ اِس تشریح کے مطابق سلیمان مسیح کا مثیل ہے اور شو لمیت کلیسیا کی مثیل ہے۔ تاہم پاک کلام کا توجہ سے مطالعہ کرنے والا بہت جلد معلوم کر لیتا ہے کہ یہ اِس کتاب کی بنیادی اور اوّلین تشریح نہیں ہو سکتی، کیونکہ کلیسیا ایک ’’بھید‘‘ تھا جو مکاشفہ کے مطابق ازل سے پوشیدہ رہا اور نئے عہدنامے کے رسولوں اور نبیوں کے زمانے میں ظاہر ہوا (رومیوں ۱۶:۲۵،۲۶؛ اِفسیوں ۳:۹)۔ شاید ہی کوئی مسیحی اِنکار کرے کہ اِس نغمے میں کلیسیا کے لئے مسیح کی محبت کی خوبصورت تصویر پیش کی گئی ہے، لیکن یہ اِس کتاب کی تفسیر نہیں بلکہ اطلاق ہے۔ اِس کتاب کی بنیادی ’’تفسیر‘‘ یہوواہ اور اسرائیلی قوم کے حوالے سے ہونی چاہئے۔
ایک اَور تفسیر کے مطابق اِس کتاب کو ازدواجی زندگی میں بے وفائی کے خلاف احتجاج مانا گیا ہے۔ سلیمان کی بہت سی بیویاں ہیں۔ اِس کے باوجود وہ ایک دوشیزہ شو لمیت کی محبت کا دم بھرتا اور اُسے فریفتہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اُس کا محبوب ایک چرواہا ہے جس کی وہ وفادار اور جاں نثار ہے۔ وہ سلیمان کی چاپلوسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ وہ جب بھی شو لمیت کی تعریف اور خوشامد کرتا ہے وہ ہر دفعہ اپنے عاشق اور محبوب کی باتیں کرنے لگتی ہے۔ کتاب کے آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ شو لمیت کا اپنے عاشق سے میل ہو جاتا ہے اور وہ اُس کی محبت میں سرشار ہوتی اور آرام پاتی ہے۔ جو لوگ اِس تفسیر کو قبول کرتے ہیں وہ توجہ دلاتے ہیں کہ سلیمان کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو پس منظر شہر اور محل ہوتا ہے، جب کہ چرواہے کو نہایت مناسب طور پر دیہاتی پس منظر میں دکھایا جاتا ہے۔ شہر اور دیہات کا یہ نمایاں تقابل اس خیال کو بہت تقویت دیتا ہے کہ اِس ڈرامے میں ایک نہیں بلکہ دو مرد کردار ہیں۔ اِس تفسیر کو زیادہ پذیرائی اِس لئے نہیں ملتی کہ اِس میں سلیمان کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ بہرکیف یہ حقیقت ہے کہ سلیمان کثرتِ ازواج کا دلدادہ تھا جبکہ خدا نے اپنے لوگوں کو یک زوجی کا حکم دیا تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ اسرائیلی قوم یہوواہ سے بے وفا ہو گئی تھی اور دوسرے محبوبوں کے پیچھے بھاگتی تھی۔ اِس غزل میں اُن لوگوں کو وفادار محبت کی خوبصورتی اور جازبیت کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا۔
ایک تیسری تفسیر شو لمیت کو اسرائیلی قوم کے اُس بقیہ کی مثیل کی حیثیت سے دیکھتی ہے جو آنے والے دِنوں میں ایمان دار اور وفادار رہے گا۔ سلیمان خداوند یسوع کا مثیل ہے۔ یہ غزل اُس محبت بھری رفاقت کی تصویر پیش کرتی ہے جس سے بقیہ اُس وقت مستفید اور لطف اندوز ہو گا جب وہ اُس پر نظر کریں گے جسے اُنہوں نے چھیدا تھا اور ایسے ماتم کریں گے جیسے کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کا ماتم کرتا ہے۔ سلیمان کی کثرتِ ازواج اُس کے مسیح خداوند کا مثیل ہونے میں مانع نہیں آتی۔ مثیل ناقص اور ادھورے ہوتے ہیں ’’اصل‘‘ کامل ہے۔
آج کل ایک چوتھی تفسیر بہت مقبول ہے کہ یہ کتاب رشتہ اِزدواج میں سچی محبت اور پاک دامنی اور پاکیزگی کی حوصلہ افزائی ہے۔ آج کی دُنیا میں جنسی بے راہ رَوی، بغیر نکاح کے جنسی روابط اور رفیقِ حیات یا رفیقۂ حیات سے بے وفائی جیسی خرابیوں کی روشنی میں یہ تشریح بہت جاندار ہے اور پیدائش ۱:۲۷ اور ۲:۲۰۔۲۴ سے مطابقت رکھتی ہے۔
بہرصورت آپ غزل الغزلات کی کسی بھی تشریح کو مانیں اور ترجیح دیں ہمیں یقین ہے کہ ایمان دار جوڑے اپنی ازدواجی اور رُومانی زندگی میں اِس کتاب کو وسیع پیمانے پر اور دُرستی سے استعمال کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے اور اپنی شادی کے عزو وقار کو بڑھاتے رہیں گے۔
| خاکہ | ||
| باب | ||
| ۱۔ | کتاب کا عنوان | ۱:۱ |
| ۲۔ | شو لمیت سلیمان کے دربار میں اپنے چرواہے محبوب کو یاد کرتی اور دربار کی خواتین کو اُس کے اور اپنے بارے میں بتاتی ہے | ۱:۲۔۸ |
| ۳۔ | سلیمان دوشیزہ شو لمیت کو عشقیہ باتوں سے فریفتہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اُس کی خوشامد نہیں سنتی | ۱:۹۔۲:۶ |
| ۴۔ | دوشیزہ یروشلیم کی بیٹیوں کو ایک تاکید کرتی ہے | ۲:۷ |
| ۵۔ | شو لمیت اپنے چرواہے محبوب سے ایک گذشتہ ملاقات کو یاد کرتی ہے، جس میں اُس کے بھائیوں کے اِس حکم سے خلل پڑا کہ شو لمیت اپنا کام کرے | ۲:۸۔۱۷ |
| ۶۔ | دوشیزہ اپنے محبوب سے ملاقات کی جگہ کا خواب دیکھتی ہے | ۳:۱۔۴ |
| ۷۔ | یروشلیم کی بیٹیوں کو تاکید کا اعادہ | ۳:۵ |
| ۸۔ | سلیمان کا جلوس یروشلیم میں آتا ہے | ۳:۶۔۱۱ |
| ۹۔ | سلیمان ایک بار پھر دوشیزہ کو فریفتہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اُس کی دل فریب باتوں سے متاثر نہیں ہوتی | ۴:۱۔۶ |
| ۱۰۔ | نوجوان چرواہا آتا ہے اور دوشیزہ سے کہتا ہے کہ یروشلیم کو چھوڑ اور دیہات میں اُس گھر کو چل جس کا ہم نے منصوبہ بنایا ہے۔ شو لمیت رضامندی کا اِظہار کرتی ہے۔ | ۴: ۷۔۱۵:۱ |
| ۱۱۔ | شو لمیت ایک خواب کو یاد کرتی ہے جس میں اُس نے اپنی کاہلی کے باعث اپنے محبوب سے ملاقات کا موقع کھو دیا تھا | ۵:۲۔۸ |
| ۱۲۔ | دربار کی خواتین کے اِستفسار پر شو لمیت اپنے محبوب کے حُسن اور جاذبیت کی تعریفیں کرتی ہے جس سے وہ بھی اُس کے محبوب کو دیکھنے کی آرزو کرنے لگتی ہیں | ۵:۹۔۶:۳ |
| ۱۳۔ | سلیمان اپنی عاشقانہ التجائیں دہراتا ہے | ۶:۴۔۱۰ |
| ۱۴۔ | شو لمیت دربار کی خواتین کو وضاحت سے بتاتی ہے کہ مَیں کیسے غیر متوقع طور پر محل میں لائی گئی | ۶:۱۱۔۱۳ |
| ۱۵۔ | سلیمان کی آخری کوشش بھی بے نتیجہ رہتی ہے | ۷:۱۔۱۰ |
| ۱۶۔ | شو لمیت اپنے چرواہے محبوب سے باتیں کرتی ہے جو اُسے لے جانے کو آ پہنچا ہے۔ | ۷:۱۱۔۸:۳ |
| ۱۷۔ | یروشلیم کی بیٹیوں کو آخری بار تاکید کی جاتی ہے | ۸:۴ |
| ۱۸۔ | وہ جوڑی اپنے گاؤں میں پہنچتی ہے۔ عہد و پیمان یا قول و قرار کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں | ۸:۵۔۱۴ |