زبور ۱۲۰ : تہمت کا بے کس ستم رسیدہ
جب ایماندار جھوٹ اور بہتان کا تختہ مشق بنتا ہے تو وہ بڑی بے کسی سے سپرجن کے مشاہدہ کا تجربہ کرتا ہے، ’’ایک جھوٹ اُسی وقت ساری دنیا کا چکر لگا لیتا ہے جب سچائی ابھی اپنے جوتے پہن رہی ہوتی ہے۔‘‘ اُسے بڑی آسانی سے ندامت اور پریشانی سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔
۱۲۰: ۱، ۲ زبور نویس کو یہی تجربہ ہوا جس وجہ سے وہ بھاگا ہوا خداوند کے حضور پہنچا۔ اُس کی التجا مختصر، سادہ اور واضح تھی۔ اُس کی خواہش یہ تھی کہ اُسے اُس کے دشمنوں کے جھوٹے ہونٹوں اور بے دینوں کی دغا باز زبان سے مخلصی دلائی جائے۔ یہ زیارت کا پہلا گیت ہے۔
۱۲۰ : ۳،۴ تب وہ ایک مجرم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اُس کے لئے سخت سزا کی پیش گوئی کرتا ہے۔ اُسے کیا سزا دی جائے؟ اُسے زبردست کی کمان کے تیروں سے چھلنی کر دیا جائے۔ اور دغاباز زبان سے کیا کیا جائے؟ کیا اِسے صابن سے صاف کیا جائے؟ نہیں، اِسے جھاؤ کے دہکتے ہوئے انگاروں سے داغا جائے! اِس صحرائی جھاڑی کی جڑ کے کوئلوں سے شدید حرارت پیدا ہوتی ہے۔
۱۲۰: ۵ بے چارگی اور بے بسی کے لمحات میں امن پسند زبور نویس مسک اور قیدار کے قبیلوں کے درمیان اپنے بہت جبری قیام پر نوحہ کرتا ہے۔ مسک، یافت کا بیٹا تھا (پیدائش ۱۰:۲) اور اُس کی نسل کے لوگ بہت زیادہ وحشی اور غیرمہذب تھے۔ قیدار، اسمٰعیل کا دوسرا بیٹا تھا (پیدائش ۲۵:۱۳) اور اُس کی نسل بھی ظالم اور بے رحم تھی۔
۱۲۰: ۶،۷ زبور نویس کی وحشیوں کے درمیان جبری جلاوطنی کو مدت ہو چکی تھی۔ یہ وحشی امن و سلامتی اور صلح سے نفرت کرتے تھے۔ اُن کی یہ حرکت اُس کے مزاج کے متضاد تھی۔ اُس نے اُن کے ساتھ صلح کے ساتھ رہنے کی بہت زیادہ کوششیں کیں، لیکن جنگ کے نئے عمل سے یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔
اگر وہ عہد جدید کے دَور میں ہوتا، تو وہ بہتان اور تصادم کی توقعات کے لئے بہتر طور پر تیار رہتا۔ وہ بہتر طریقہ سے اُس کے ساتھ نباہ کر لیتا کیونکہ اُس کے پاس ہمارے خداوند کا نمونہ ہوتا۔
’’نہ وہ گالیاں کھا کر گالی دیتا تھا اور نہ دُکھ پا کر کسی کو دھمکاتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سچے انصاف کرنے والے کے سپرد کرتا تھا‘‘ (۱۔پطرس ۲: ۲۳)۔
اُس کے پاس پطرس کی یہ تعلیم ہوتی:
’’اگر نیکی کرکے دُکھ پاتے اور صبر کرتے ہو تو یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے‘‘ (۱۔پطرس ۲: ۲۰ ب)۔
’’بدی کے عوض بدی نہ کرو اور گالی کے بدلے گالی نہ دو بلکہ اِس کے برعکس برکت چاہو کیونکہ تم برکت کے وارث ہونے کے لئے بلائے گئے ہو‘‘ (۱۔پطرس ۳: ۹)۔
اور بالآخر اُس کے پاس خداوند یسوع کی تعلیم ہوتی:
’’جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہرطرح کی بُری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہو گے۔ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے اِس لئے کہ لوگوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔‘‘(متی ۵: ۱۱،۱۲)
مقدس کتاب
۱ میَں نے مُصیبت میں خُداوند سے دُعا کی اور اُس نے مجھے جواب دیا ۔
۲ جھوٹے ہونٹوں اور دغاباز زُبان سے اَے خُداوند ! میری جان کو چُھڑا۔
۳ اَے دغاباز زُبان! تجھے کیا دیا جائے اور تجھ سے اور کیا کِیا جائے ؟
۴ زبردست کے تیز تیر جھاؤ کے انگاروں کے ساتھ۔
۵ مجھ پر افسوس کہ میَں مسؔک میں بستا او ر قیدؔار کے خیموں میں رہتا ہوں۔
۶ صُلح کے دُشمن کے ساتھ رہتے ہُوئے مجھے بڑی مُدت ہو گئی ۔
۷ میَں تو صُلح دوست ہوں پر جب بولتا ہوں تو وہ جنگ پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔