زبُور ۴۶

زبور ۴۶:‏ خدا ہمارے ساتھ

پہلی جنگ عظیم میں سکاٹ لینڈ کے شمالی علاقہ کے ایک جزیرہ کے لوگوں سے نوجوانوں کو فوجی خدمات میں بلایا جا رہا تھا۔ ہر بار جب وہ روانہ ہونے کے لئے اکٹھے ہوتے تو اُن کے رشتہ دار اور دوست وہاں اکٹھے ہو کر یہی زبور گاتے تھے۔

اِس طرح خدا کے بے شمار مقدسین بہت بڑے بحرانوں میں اِس زبور سے تسلی پاتے رہے ہیں۔ اِس زبور سے کتنے دلوں کو خوشی اور تقویت ملی ہے جب یہ سطور بیماروں‏، ماتم کرنے والوں اور مصیبت زدوں کے لئے پڑھی گئیں۔ اِسی زبور نے راہب مارٹن لوتھر کو تنگی اور پریشانی کے لمحات میں مشہور اصلاحی گیت لکھنے کی تحریک دی‏، ’’ہمارا خدا مضبوط قلعہ ہے۔‘‘ اِس کا پیغام ہمہ گیر اور اِس کی حوصلہ افزائی دائمی ہے۔

جی۔سی۔مورگن نے اِس زبور کے تین نمایاں حصوں کے یہ عنوانات دیئے ہیں:‏

۱۔۳ آیات کسی بات سے نہ ڈریں کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔
(‏اعتماد کا چیلنج)‏
۴۔۷ آیات خداوند یروشلیم میں تخت نشین ہے۔
(‏اعتماد کا بھید)‏
۸۔۱۱ آیات زمین پر سلامتی اور عالمگیر حکومت۔
(‏اعتماد درست ثابت ہوتا ہے)‏

عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زبور اُس وقت لکھا گیا جب یروشلیم کو اسوری بھیڑیے سنحیرب کے محاصرہ سے معجزانہ طور پر مخلصی ملی (‏۲۔سلاطین ۱۸:‏ ۱۳۔۱۹:‏۳۵؛ یسعیاہ ۳۶:‏ ۱۔۳۷:‏ ۳۶)‏۔ اِس موقع پر یہوداہ کے لوگ محسوس کر رہے تھے کہ خدا لاثانی طور پر اُن کے درمیان حاضر ہے۔ اور اِس زبور میں اُس خدا کی حمد کی گئی ہے جو عمانوایل ہے — یعنی خدا ہمارے ساتھ۔

۴۶:‏ ۱۔۳ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مدد گار۔ اِس کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ ’’وہ مشکل مقامات میں خوشی سے مدد کے لئے حاضر ہے۔‘‘ مبارک ہیں وہ جو ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا تحفظ نہ تو ہماری دولت اور نہ ہمارے لشکروں میں ہے بلکہ صرف اور صرف یہوواہ میں ہے۔

تصور کریں کہ حالات کہاں تک خراب ہو سکتے ہیں! فرض کریں کہ زمین پگھل جائے گویا کہ آتش فشانی سے اُس کا یہ حال ہو گیا ہے۔ فرض کریں کہ زلزلے سے پہاڑ سمندر میں گر جائیں۔ فرض کریں کہ زمین پر سیلاب آ جائے اور زمین کی جنبش پہاڑوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔

یا ذرا اِس بات پر غور کیجئے کہ پہاڑ بادشاہتوں اور شہروں کی علامت ہیں اور سمندر قومیں ہیں۔ معاشرہ کی بنیادیں ہل رہی ہیں‏، بادشاہتیں زوال پذیر ہیں۔ دُنیا کی قومیں سیاسی‏، سماجی اور معاشی ابتری کے ہیجان میں مبتلا ہیں‏، اور دُنیا شدید مشکلات کے چنگل میں پھنس رہی ہے۔

لیکن خدا ہمارے ساتھ ہے۔ خواہ حالات کتنے ہی بُرے کیوں نہ ہو جائیں ہمیں خائف ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خدا اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔

۴۶:‏ ۴ وہ بذاتِ خود دریا ہے جس کی شاخوں سے خدا کے شہر کو فرحت ہوتی ہے۔ درحقیقت یروشلیم شہر میں کوئی دریا نہیں بہتا۔ لیکن خدا خود اپنے مُقدّس مسکن کو وہ سب کچھ فراہم کرتا ہے جو عام طور پر دریا کرتا ہے ۔۔۔ بلکہ اُس سے بڑھ کر۔ وہ زندگی اور تازگی کا سرچشمہ ہے‏، وہ رحمت اور بھلائی کا دریا ہے!

’’وہاں ذوالجلال خداوند بڑی بڑی ندیوں اور نہروں کے بدلے ہماری گنجائش کے لئے آپ موجود ہو گا کہ وہاں ڈانڈ کی کوئی کشتی نہ جائے گی اور نہ شاندار جہازوں کا گزر اُس میں ہو گا‘‘ (‏یسعیاہ ۳۳:‏ ۲۱)‏۔

۴۶:‏ ۵ چونکہ خدا یروشلیم میں تخت نشین ہے اِس لئے مردِ خداکو کبھی جنبش نہ ہو گی۔ خدا صبح سویرے اُس کی کمک کرے گا۔خدا کے لوگوں کے لئے طویل رات رہی ہے‏، لیکن جلد ہی صبح ہو گی اور مسیح اپنا جائز مقام حاصل کرے گا اور اپنے لوگوں کی طرف سے خود اُن کی قوت کو ظاہر کرے گا۔ 

۴۶:‏۶ دُنیا کی قومیں خواہ غصے میں جھنجھلائیں اور سلطنتیں جنبش کھائیں‏، جب خدا اپنے غضب میں بولے گا تو زمین اُس کی تابع فرمان ہو کر پگھل جائے گی۔

۴۶:‏۷ یہ الفاظ خصوصی طور پر اُس بہت بڑی مصیبت کی نشاندہی کرتے ہیں جب زمین شدید ہیجان کا شکار ہو جائے گی‏، دُنیا میں سیاسی ابتری ہو گی‏، وہ جنگوں‏، وباؤں اور لامحدود پریشانیوں کی زد میں آ جائے گی۔ تب خداوند آسمان سے ظاہر ہو گا اور ہر طرح کی نافرمانی اور بغاوت کو کچل ڈالے گا اور صداقت اور راستی سے حکمرانی کرے گا۔ اُس وقت اسرائیل قوم کا ایماندار بقیہ یہ کہے گا‏، ’’ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔‘‘ 

اِس آیت کی یقین دہانی اِس قدر خوبصورت ہے کہ اِسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے یعنی آسمان کے فرشتوں کی فوجوں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ لیکن وہ یعقوب کا خدا بھی ہے۔ یعقوب کا مطلب ہے‏، ’’دھوکا دینے والا‘‘ یا ’’کسی کی جگہ لینے والا‘‘۔ تاہم خدا خود کہتا ہے کہ وہ یعقوب کا خدا ہے۔ اِن دونوں خیالوں کو یکجا کریں اور آپ اِس سے یہ اخذ کریں گے کہ فرشتگان کی فوجوں کا خدا ایک غیر مستحق گناہ گار کا بھی خدا ہے۔ جو لامحدود طور پر بلند ہے‏، وہ بہت قریب بھی ہے۔ وہ ہماری راہ کے ہر قدم پر ہمارے ساتھ ہے اور زندگی کے طوفانوں میں ہماری مضبوط پناہ گاہ ہے۔

۴۶:‏۸ جب ہم آٹھویں آیت تک پہنچتے ہیں تو طوفان ختم ہو چکا ہے۔ انسان کا دَورِ حکومت ختم ہو چکا ہے۔ اب بادشاہ یروشلیم میں اپنے تخت پر بیٹھ چکا ہے۔ ہمیں دعوت دی گئی ہے کہ جا کر میدانِ جنگ میں فتح کا جائزہ لیں۔ ہم جس طرف بھی دیکھتے ہیں شکست خوردہ دشمنوں کی بربادی کے نشان نظر آتے ہیں۔ ہر جگہ حیران کن عدالت و سزا کی شہادت موجود ہے‏، جو دُنیا پر مصیبت کے دوران اور اُس کے جلالی ظہور کے وقت نازل ہوئی۔

۴۶:‏ ۹ لیکن اب سلامتی کا شہزادہ تخت نشین ہو چکا ہے‏، تمام دُنیا میں جنگیں ختم ہو چکی ہیں۔ جو مقصد حاصل کرنے میں دُنیا کی کونسلیں‏، لیگیں اور کانفرنسیں بے بس ہو چکی ہیں وہ خداوند یسوع نے لوہے کے عصا سے حاصل کر لیا ہے۔ ترکِ اسلحہ بحث سے حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسلحہ خانہ کباڑخانہ بن گیا ہے اور وہ وسائل جو اسلحہ کی خرید کے لئے خرچ کئے جاتے تھے‏، اب زراعت اور پیداواری شعبوں میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ 

۴۶:‏ ۱۰ خدا کی آواز زمین کے تمام باشندوں کو یقین دہانی اور اُس کی فضیلت کے لہجہ میں سنائی دیتی ہے۔ ’’خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ مَیں خدا ہوں۔ مَیں قوموں کے درمیان سربلند ہوں گا۔ مَیں ساری زمین پر بلند ہوں گا۔‘‘ ہر طرح کا خوف ختم ہو چکا ہے اور ہر طرح کی فکر جاتی رہی ہے۔ اُس کے لوگ اب مطمئن ہیں۔ وہ خدا ہے۔ وہ فتح مند ہے۔ وہ قوموں میں اعلیٰ ہے‏، وہ ساری سرزمین پر سربلند ہے۔

۴۶:‏۱۱ خواہ کچھ بھی ہو یا حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں‏، ایماندار اب بھی بڑے اعتماد اور دلیری سے کہہ سکتا ہے ’’لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے‏، یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔‘‘ اگر وہ جو آسمان کی فوجوں کی راہنمائی کرتا ہے‏، ہمارے ساتھ ہے تو کون ہے جو ہماری مخالفت کرکے کامیاب ہو سکے گا؟ غیر مستحق کیڑے یعقوب کا خدا وہ قلعہ ہے جس میں ہم سب اِس غیر یقینی زندگی کے طوفانوں سے پناہ لے سکتے ہیں۔

خاموش ہو جاؤ‏، صبح ہو گی‏، رات ختم ہو جائے گی۔
مسیح اپنے نور پر بھروسا رکھ جو تیرا وفادار دوست ہے۔
اور جان لے کہ وہ تیرا خدا ہے جس کی کامل مرضی
سب باتوں میں سے بھلائی پیدا کرتی ہے۔
اوپر دیکھو ۔۔۔ خاموش ہو جاؤ۔
(‏فلورنس وِلز)‏

مقدس کتاب

۱ خُدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مُصیِبت میں مُستعِد مدد گار۔
۲ اِسلئے ہم کو کچھ خُوف نہیں خواہ زمین اُ لٹ جاۓ۔اور پہاڑسمُنُدر کی تہ میں ڈال ِدۓجاہیں۔
۳ خواہ اُس کا پانی شور مچاۓاورموُجزن ہو اورپہاڑ اُسکی طُغیانی سے ہل جائیں۔
۴ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخو ں سے خُد ا کے شہر کو یعنی حق تعا لی کے مقُد س مسکن کو فرحت ہو تی ہے۔
۵ خُدا اُس میں ہے۔ اُسے کبھی جبُنشِ نہ ہو گی ۔ خُدا صُبح سویرے اُسکی کمک کر ے گا ۔
۶ قُو میں جھُنجلا ؑئیں۔سلطنتوں نے جُنبشِ کھائی ۔وہ بو ل اُٹھا۔ زمین پِگھل گئی۔
۷ لشکروں کا خُداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقُوب کا خُدا ہماری پناہ ہے۔
۸ آؤ! خُداوند کے کاموںکو دیکھیں کہ اُس نے زمین پر کیا کیا ویرانیاں کی ہیں۔
۹ وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کرتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹُکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔
۱۰ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خُدا ہوں ۔ میَں قوموں کے دِرمیان سر بلنَد ہونگا۔
۱۱ لشکروں کا خُدا وند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقُوب کا خُدا ہماری پناہ ہے۔