نحمیاہ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

نحمیاہ

Nehemiah

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’اِس کتاب کا نصف سے زائد حصہ شخصی ریکارڈ پر مشتمل ہے‏، جہاں نہایت صاف گوئی سے تاثرات دئیے گئے ہیں جن سے بائبل کی دیگر تحریروں میں اِسے نمایاں مقام ملتا ہے۔ عزرا کی کہانی کا بھی بیشتر حصہ صیغۂ واحد متکلم میں بیان کیا گیا ہے (‏عزرا ۸:‏۱۵۔۹:‏۱۵)‏۔ لیکن عزرا عملی اور سخت طبع کے مالک نحمیاہ کی نسبت خاموش اِنسان تھا‏، اِس لئے وہ نحمیاہ کی نسبت اپنے دستاویزی بیان میں زیادہ نمایاں نظر نہیں آتا۔‘‘ (‏ڈیرک کِڈنر۔ Derek Kidner)‏

۱۔ فہرستِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

اگر آپ کسی تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں‏، اور آپ کو لوگوں کو اِس کام میں شامل کرنے میں دِقت پیش آ رہی ہے تو آپ نحمیاہ کی کتاب کا مطالعہ کریں‏، اِس کی تعلیم دیں اور اِس میں سے منادی کریں۔ ۵۰۰ ق م میں لکھی ہوئی اِس کتاب میں ناممکن کام کو ممکن بنانے کے لئے قیادت کی خوبیوں کو بہت خوبصورت طریقے سے اُجاگر کیا گیا ہے۔ 

۲۔ مصنف

نحمیاہ کے نام کا لغوی مطلب ہے ’’یہوواہ آرام دیتا ہے۔‘‘ وہ اپنی یادداشتوں کو صیغۂ واحد متکلم میں لکھتا ہے۔ الفنٹائن کی تحریریں اِس کتاب کی تاریخی حیثیت کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ یوحنان سردار کاہن (‏دیکھیں ۱۲:‏ ۲۲‏،۲۳)‏ اور نحمیاہ کے ایک بڑے دشمن سنبلط کے بیٹوں کا ذکر کرتی ہیں۔ 

اِس سے اِس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خلقیاہ کا بیٹا اور حنانی کا بھائی نحمیاہ ہی اِس کتاب کا مصنف ہے (‏۱:‏ ۱‏،۲)‏۔ ہمیں نحمیاہ کے پس منظر کے بارے میں بہت کم علم ہے۔ وہ غالباً فارس میں پیدا ہوا تھا۔ 

نحمیاہ بہت اعلیٰ مرتبے پر فائز تھا یعنی وہ بادشاہ کا ساقی تھا جو کہ ایک نہایت اہم عہدہ تھا۔ ضرور تھا کہ ایسا شخص اِس کتاب میں مذکور طریقِ کار‏، تحریک اور قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہوتا۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

نحمیاہ نے غالباً واقعات کے فوراً بعد اِنہیں لکھ لیا (‏تقریباً ۴۳۰ ق م میں)‏۔ یہ ارتخششتا اوّل (‏۴۶۲۔۴۲۴ ق م)‏ کے دَورِ حکومت میں تھا۔ 

یوسیفس بیان کرتا ہے کہ جب سکندرِ اعظم فلستین میں آیا تو یدوع سردار کاہن تھا۔ چونکہ نحمیاہ ۱۲:‏۲۲ میں ایک یدوع کا ذکر ہے اِس لئے بعض لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ یہ کتاب نحمیاہ کے ایام کے بعد لکھی گئی۔ عین ممکن ہے کہ جب نحمیاہ نے یدوع کا ذکر کیا ہو تو اُس وقت وہ نوجوان ہو (‏کیونکہ اُس کا کہانتی گھرانے سے تعلق تھا)‏ اور سکندرِ اعظم کے دَور میں اُس کی عمر ۹۰ سال کے لگ بھگ ہو۔ یا ممکن ہے کہ ایک ہی نام کے دو سردار کاہن ہوں۔ تیسرا اِمکان یہ ہے کہ یوسیفس جو عموماً اِس دَور کی تاریخوں میں اکثر غلطی کر جاتا ہے‏، یہاں بھی غلطی پر ہو۔

۴۔ پس منظر اور موضوع

یہودیوں کی بحالی میں نحمیاہ تیسرا عظیم راہنما تھا۔ زرُبابل ۵۳۸۔۵۳۷ ق م میں اسیروں کے پہلے گروہ کو لے کر یروشلیم آیا (‏عزرا ۲)‏ اور ہیکل کی تعمیر کے کام کی نگرانی کی۔ اِس کے تقریباً ۸۰ سال بعد عزرا فقیہ یہودیوں کے دوسرے گروہ کو لے کر مقدس شہر میں آیا۔ اُس نے خدا کے کلام کی تعلیم دیتے ہوئے بہت سی اصلاحات کیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یروشلیم میں حالات رُوبہ زوال ہو گئے۔ 

عزرا کی مہم کے تیرہ سال بعد خدا نے یروشلیم کی حالت کے بارے میں نحمیاہ کو بوجھ دیا۔ حالات کو درست کرنے کے لئے اِجازت کے حصول کے بعد اُس نے اِسرائیلیوں کو ایسی قیادت دی جس کی اُنہیں سخت ضرورت تھی۔ (‏اُس کی دعائیہ زندگی کے بارے میں متعدد حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے)‏۔ اِس سے اُسے اپنے مشن کے شروع ہی سے مخالفتوں کے طوفان کا مقابلہ کرنے کی حکمت اور قوت ملی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’دُنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ جو نہیں جانتے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے‏، وہ جو وقوع پذیر واقعات کا تماشا دیکھتے ہیں اور وہ جو حالات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بنتے ہیں۔‘‘ نحمیاہ وہ شخص تھا جو حالات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بنا۔ عزرا کی کتاب میں ہیکل اور پرستش کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے‏، لیکن نحمیاہ کی کتاب میں فصیل اور روزمرہ کام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ نحمیاہ کی کتاب یہ ظاہر کرتی ہے کہ روزمرہ زندگی کے معاملات میں خدا کس طرح مدد کرتا ہے۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ نحمیاہ کا پہلی بار یروشلیم میں آنا:‏ شہر کی بحالی ‏ ۱۔۱۲‏
  الف۔ یروشلیم کی حالتِ زار کے بارے میں مایوسی ‏ ۱‏
  ب۔ یروشلیم کی بحالی کے لئے اِختیار نامہ ‏ ۲:‏ ۱۔۸‏
  ج۔ یروشلیم کی دیوار کی تعمیر نو ‏۲:‏ ۹۔۶:‏۱۹‏
    ‏۱‏ شخصی معائنہ اور علانیہ مخالفت ‏۲:‏ ۹۔۲۰‏
    ‏۲‏ کارکن اور اُن کا کام ‏ ۳‏
    ‏۳‏ خارجی رکاوٹیں اور خصوصی حفاظتی اقدام ‏ ۴‏
    ‏۴‏ اندرونی مسائل اور خصوصی اصلاحات ‏ ۵‏،۶‏
  د۔ یروشلیم کے لئے حفاظتی دستوں کی تنظیم ‏۷:‏ ۱۔۴‏
  ہ۔ یروشلیم کی آبادی کی مردم شماری ‏۷:‏ ۵۔۷۳‏
  و۔ یروشلیم میں احیائے دین ‏ ۸۔۱۰‏
  ز۔ یروشلیم کے نواحی علاقوں کو نئے سرے سے آباد کرنا ‏ ۱۱‏
  ح۔ یروشلیم کے کاہنوں اور لاویوں کی مردم شماری ‏۱۲:‏ ۱۔۲۶‏
  ط۔ یروشلیم کی دیوار کی مخصوصیت ‏۱۲:‏ ۲۷۔۴۷‏
۲۔ نحمیاہ کا دوسری بار یروشلیم میں آنا اور یروشلیم کی اصلاح ‏ ۱۳‏
  الف۔ طوبیاہ کو ہیکل سے باہر نکالنا ‏۱۳:‏ ۱۔۹‏
  ب۔ لاویوں کے لئے دہ یکی کی بحال ‏۱۳:‏ ۱۰۔۱۴‏
  ج۔ سبت کے دن غیر شرعی سرگرمیوں کا خاتمہ ‏۱۳:‏ ۱۵۔۲۲‏
  د۔ مخلوط شادیوں کو ختم کرنا ‏۱۳:‏ ۲۳۔۳۱‏