زبور ۳۴ : نئی پیدائش کا زبور
اِس زبور کا تواریخی پس منظر ۱۔سموئیل ۲۱ باب میں موجود ہے۔ جب داؤد ساؤل سے ڈر کر بھاگا تھا تو اُس نے جات کے فلستی بادشاہ کے ہاں پناہ لی تھی جس کا نام اکیس یا زبور کے عنوان کے مطابق ابی ملک تھا (ممکن ہے کہ ابی ملک شخصی نام نہیں بلکہ لقب ہو)۔ اِس ڈر سے کہ کہیں اُس کے دُشمن اُسے مار نہ ڈالیں، داؤد اپنے آپ کو پاگل ظاہر کرکے پھاٹک کے کواڑوں پر نشان بنانے لگا اور داڑھی پر تھوک گرانے لگا۔ یہ چال کارگر ثابت ہوئی۔ بادشاہ کو مزید کسی پاگل کی ضرورت نہ تھی چنانچہ اُس نے داؤد کو نکال دیا جو عدلام کے غار میں جا چھپا۔ یہ واقعہ زبور نویس کے بہادری اور جرأت کے شاندار واقعات میں شامل نہیں، لیکن پھر بھی اُس نے اِسے اِس نقطہ نگاہ سے دیکھا کہ یہ خداوند کی طرف سے ایک ڈرامائی طور پر مخلصی تھی، چنانچہ اُس نے اِس واقعہ کی خوشی میں یہ زبور لکھ ڈالا۔
صدیوں سے ایماندار زبور ۳۴ کو بہت زیادہ پسند کرتے آئے ہیں، کیونکہ یہ خداوند پر ایمان کے ذریعے فضل سے اُن کی نجات کی اپنی گواہی کو زیادہ وضاحت سے پیش کرتا ہے۔ آیئے ہم زبور کا اِس روشنی میں مطالعہ کریں۔
۳۴:۱ گناہ سے نجات اِس قدر بیش قیمت تحفہ ہے کہ ہم مسلسل اِس تحفہ کے دینے والے کا دل سے شکر ادا کرتے رہیں۔ ہر وقت خداوند کو مبارک کہنا بھی حد سے زیادہ نہیں ہے۔ اُس کی ستائش اِس قدر وسیع مضمون ہے کہ اِسے ہماری زبان پر متواتر رہنا چاہئے۔ کوئی بھی انسانی زبان اُس کا مناسب شکر ادا کرنے کے اہل نہیں۔
۳۴: ۲ تبدیل شدہ شخص اپنے کردار یا حصولات پر نہیں بلکہ خداوند پر فخر کرتا ہے۔ جب ہم فضل کی خوش خبری کو سمجھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارا اپنی نجات میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مسیح نے ہمارے لئے سب کچھ کیا ہے۔ چنانچہ ہم صرف اور صرف اُسی پر فخر کریں۔ اگر وہ لوگ جو ابھی تک گناہ کے قبضے میں ہیں، ہماری گواہی کو سنیں اور اُس پر توجہ دیں، تو وہ بھی بیدار ہو کر نجات کا تحفہ پا سکتے ہیں۔
۳۴:۳ کوئی بھی نجات یافتہ روح، تنہائی میں اپنی مخلصی سے لطف اندوز ہونے پر مطمئن نہیں ہے۔ شاعر اِتنا خوش ہے کہ وہ سب لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر خداوند کی بڑائی کریں اور مل کر اُس کے نام کی تمجید کریں۔ بعض ایک جوڑوں نے اِس حوالے کو اپنی شادی کی انگوٹھیوں پر کندہ کروایا ہے۔
۳۴: ۴ جب خدا کا روح گناہ گار کی روح پر جنبش کرتا ہے تو وہ اُس میں یہ جبلت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خدا کا طالب ہو۔ بعد ازاں ہی نجات یافتہ گناہ گار کو احساس ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر خداوند اُس کا متلاشی تھا۔ اِس حقیقت کو اِن الفاظ میں ظاہر کیا گیا ہے:
مَیں نے خداوند کی تلاش کی اور بعد میں مجھے معلوم ہوا
کہ اُس نے میری روح کو تحریک دی کہ اُس کا طالب ہوں۔
اے سچے نجات دہندہ! مَیں نے تجھے تلاش نہیں کیا
بلکہ تُو نے مجھے تلاش کیا۔ (شاعر نامعلوم)
تاہم جب بھی ہم اُس کے طالب ہوں وہ جواب دیتا ہے اور ہمیں ساری دہشت سے چھڑاتا ہے — یعنی نامعلوم مستقبل کی دہشت سے، اپنے نہ اقرار کئے ہوئے اور نہ معاف کئے ہوئے گناہوں کی حالت میں مرنے کی دہشت سے، عدالت کے تخت کے سامنے کھڑے ہونے کی دہشت سے وغیرہ وغیرہ۔ جب ہم مسیح پر بھروسا رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا خداوند اور نجات دہندہ ہے، تو ہم اُس کی طرف سے معافی کے یہ الفاظ سنتے ہیں: ’’خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے۔‘‘
۳۴:۵ لیکن یہ کوئی محدود اور نجی نوعیت کی نجات نہیں — یہ سب کے لئے ہے۔ وہ سب جو مسیح کی طرف دیکھتے ہیں، منور ہو جاتے ہیں۔ غصہ، خوشی کی مسکراہٹوں میں اور بے دلی اور مایوسی، مسرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جو بھی اپنی زندگی خداوند کو دیتا ہے، کبھی مایوس نہ ہو گا۔ پُراعتماد دل اُس سے مایوس نہیں ہو گا۔
۳۴: ۶ ہم اُس کے پاس اپنی غربت، چیتھڑوں، انکساری اور بے کسی کی حالت میں آتے ہیں اور بخوشی اقرار کرتے ہیں کہ ہم اپنی نجات حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ہم کلی طور پر اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔
خداوند ہماری فریاد کو سنتا ہے۔ ہماری غربت کے لئے اُس کے لامحدود وسائل کھل جاتے ہیں۔ وہ نیچے جھک کر ہمیں ہمارے سارے دُکھوں سے بچاتا ہے ۔۔۔ یعنی گناہ کے اُلجھے ہوئے تانے بانے سے جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے۔
۳۴:۷ ایماندار کو نہ صرف نجات دی گئی ہے بلکہ اُسے نجات میں قائم رکھا گیا ہے۔ خداوند کا فرشتہ یعنی خود خداوند یسوع مسیح اُن کے گرد جو اُس سے ڈرتے ہیں خیمہ زن ہوتا ہے اور اُنہیں تمام دیکھے اور اَن دیکھے خطرات سے رہائی دیتا ہے۔ اُس کی کوئی بھیڑ بھی ہلاک نہیں ہو گی (یوحنا ۱۰: ۲۸)۔
۳۴:۸، ۹ جو نجات دہندہ کو جانتے ہیں، اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اُس کے بارے میں بتائیں۔ سامریہ میں چار کوڑھیوں کی طرح وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اچھا نہیں کرتے۔ آج کا دن خوش خبری کا دن ہے اور ہم خاموش ہیں‘‘ (۲۔سلاطین ۷: ۹)۔ اِس لئے زبور نویس کہتا ہے ’’آزما کر دیکھو کہ خداوند کیسا مہربان ہے۔ مبارک ہے وہ آدمی جو اُس پر توکل کرتا ہے۔‘‘
یہ غیر تبدیل لوگوں کے لئے مستند اور فوری دعوت ہے۔ ہم دلائل و وجوہات بیان کریں، منطق کے حوالے دیں اور مسیحی شہادتیں پیش کریں، لیکن آخرکار لازم ہے کہ ہر شخص خود چکھے اور اِس کا تجربہ کرے۔ مردوک کیمبل لکھتا ہے:
ممکن ہے کہ ہم خدا، اُس کے وجود اور خارجی شہادتوں کے بارے میں دلائل دیں، لیکن جب اُس کی محبت اور حضوری ہمارے دلوں کو چھوتی ہے، تب ہی ہم حقیقی طور پر اُس کی ناقابل بیان شفقت کو دیکھ سکتے ہیں۔
اِس کے بعد تبدیل شدہ لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ثابت قدمی سے ایمان کی زندگی گزاریں۔ مقدسوں کو دعوت دی گئی ہے کہ دیکھے سے نہیں بلکہ ایمان سے چلیں اور خدا کی عظیم، معجزانہ اور کثرت کی پرورد گاری کا تجربہ کریں۔ متی ۶: ۳۳ کا پیغام یہ ہے:
’’بلکہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کروتو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔‘‘
۳۴: ۱۰ گو بعض اوقات ببر کے بچے حاجت مند اور بھوکے ہوں، لیکن خداوند کے طالب کسی نعمت کے محتاج نہ ہوں گے، کیونکہ ہمارا خداوند یسوع مسیح ہمارا عظیم پرورد گار ہے۔
۳۴: ۱۱ خدا کا فضل نہ صرف نجات دیتا، قائم رکھتا اور وسائل مہیا کرتا ہے بلکہ تربیت بھی کرتا ہے۔
کیونکہ خدا کا وہ فضل ظاہر ہوا ہے جو سب آدمیوں کی نجات کا باعث ہے اور ہمیں تربیت دیتا ہے تاکہ بے دینی اور دنیوی خواہشوں کا انکار کرکے اِس موجودہ جہان میں پرہیزگاری اور راست بازی اور دین داری کے ساتھ زندگی گزاریں اور اُس مبارک اُمید یعنی اپنے بزرگ خدا اور منجی یسوع مسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہیں۔ جس نے اپنے آپ کو ہمارے واسطے دے دیا تاکہ فدیہ ہو کر ہمیں ہر طرح کی بے دینی سے چھڑالے اور پاک کرکے اپنی خاص ملکیت کے لئے ایک ایسی اُمت بنائے جو نیک کاموں میں سرگرم ہو ( ططس ۲: ۱۱۔۱۴)۔
چنانچہ زبور نویس یہاں بچوں کی راہنمائی کرتا ہے کہ خدا ترسی عملی طور پر کیا کیا ہے:
۳۴: ۱۲۔۱۵
- زبان پر قابو— جو بدی اور دغا کی بات سے آزاد ہو۔
- علیٰحدہ راستہ — بدی سے علیٰحدہ اور نیک کاموں کے لئے مخصوص ہو۔
- میل ملاپ کا رجحان— جیسا کہ پولس نے کہا، ’’جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو‘‘ (رومیوں ۱۲: ۱۸)۔
پطرس رسول ۱۔پطرس ۳:۹ میں لکھتا ہے: ’’تم برکت کے وارث ہونے کے لئے بلائے گئے ہو۔‘‘ اِس بات پر زور دینے کے لئے وہ اِس زبور کی ۱۲۔۱۶ الف آیات کا اقتباس پیش کرتا ہے تاکہ ہم بدی کے عوض بدی نہ کریں اور گالی کے بدلے گالی نہ دیں بلکہ برکت چاہیں۔ ’’خداوند کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اُس کے کان اُن کی فریاد پر لگے رہتے ہیں‘‘ (زبور ۳۴: ۱۵)۔
۳۴: ۱۶ آیت ۱۶ کا اقتباس کرتے ہوئے پطرس آیت کے پہلے نصف حصہ تک محدود رہا۔
’’خداوند کا چہرہ بدکاروں کے خلاف ہے۔‘‘
اُس نے دوسرے حصہ کا اقتباس نہ کیا جس میں لکھا ہے: ’’تاکہ اُن کی یاد زمین پر سے مٹا دے۔‘‘
آیت کا پہلا حصہ ہر دَور پر صادق آتا ہے۔ دوسرے حصہ کی تکمیل اُس وقت ہو گی جب خداوند یسوع مسیح دُنیا میں بادشاہوں کے بادشاہ کی حیثیت سے آئے گا۔
۳۴: ۱۷ صادقوں کو یہ ناقابل بیان اِستحقاق حاصل ہے کہ خداوند فوری طور پر اُن کی سنتا ہے۔ جب بھی وہ چلاتے ہیں وہ اُن کو اُن کے سب دُکھوں سے چھڑاتا ہے۔ بارنز یہاں یہ تفسیر پیش کرتا ہے: ’’کسی شخص نے بھی خداوند سے رجوع کرنے اور دعا کے استحقاق کو پورے طور پر نہیں سراہا۔‘‘
۳۴: ۱۸ خداوند مغروروں کا مقابلہ کرنا جانتا ہے، لیکن وہ شکستہ دلوں اور خستہ جانوں کا مقابلہ نہیں کرتا۔ وہ شکستہ دلوں کے لئے ہمیشہ قابل رسائی ہے اور خستہ جانوں کو بچانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔
۳۴:۱۹ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، صادق کی مصیبتیں بہت ہیں۔ شاید کسی دن ہمیں پتہ چلے کہ بے دین کی نسبت ہماری مصیبتیں بہت زیادہ تھیں۔ لیکن ہماری ساری مصیبتیں صرف اِس زندگی تک محدود ہیں۔ مزید برآں ہم اکیلے یہ مصیبتیں برداشت نہیں کرتے بلکہ ہمارا ابدی دوست ہمارے ساتھ ہے۔ خداوند یسوع کے جی اُٹھنے کے باعث ہمیں مصیبتوں سے مکمل اور حتمی مخلصی کا یقین ہے۔ چونکہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اِس لئے ہم بھی کسی دن جی اُٹھیں گے اور ہم گناہ، بیماری، غم، مصیبت اور موت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزاد ہوں گے۔
۳۴: ۲۰ لیکن موت میں بھی خداوند اپنے مقدسوں کے بدنوں کا تحفظ کرتا ہے۔
’’وہ اُس کی سب ہڈیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
اُن میں سے ایک بھی توڑی نہیں جاتی۔‘‘
اِس آیت کی لغوی طور پر ہمارے خداوند کی موت کے موقع پر تکمیل ہوئی۔
’’لیکن جب اُنہوں نے یسوع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں… یہ باتیں اِس لئے ہوئیں کہ یہ نوشتہ پورا ہو کہ اُس کی کوئی ہڈی نہ توڑی جائے گی‘‘ (یوحنا ۱۹: ۳۳،۳۶)۔
یوں ہمارا خداوند فسح کے برہ کی مکمل علامت تھا، جس کے بارے میں لکھا گیا تھا
’’اور نہ تم اُس کی کوئی ہڈی توڑنا‘‘ (خروج ۱۲: ۴۶)۔
۳۴: ۲۱، ۲۲ اِس زبور کی آخری دو آیات کا انحصار لفظ ’’مجرم‘‘ پر ہے۔ جہاں تک شریروں کا تعلق ہے، بدی اُنہیں ہلاک کرکے رکھ دے گی اور وہ مجرم ٹھہریں گے۔ لیکن یہوواہ کے بندوں کا ایک ایسا سہارا ہے جو اُن کی روحوں کو مخلصی دیتا ہے اور جو اُس پر توکل کرتے ہیں اُن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔ خداوند کی تعریف ہو کہ جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں (رومیوں ۸:۱)۔
چنانچہ ایماندار کو نجات مل گئی ہے، اُسے قائم رکھا جاتا ہے اور اُسے اِس وقت اور ابدیت میں کثرت سے آسودگی حاصل ہو گی۔ اِس زبور کا پیغام یہی ہے کہ نئے سرے سے پیدا ہونا سب کچھ ہے۔
مقدس کتاب
۱ مَیں ہر وقت خُداوند کو مُبارک کہونگا۔ اُس کی ستایش ہمیشہ میری زبان پر رہیگی۔
۲ میری رُوح خُداوند پر فخر کریگی۔ حلیم یہ سُن کر خُوش ہونگے۔
۳ میرے ساتھ خُداوند کی بڑائی کرو۔ ہم مل کر اُس کے نام کی تمجید کریں۔
۴ مَیں خُداوند کا طالب ہوا۔ اُس نے مجھے جواب دِیا اور میری ساری دہشت سے مجھے رہائی بخشی۔
۵ اُنہوں نے اُس کی طرف نظر کی اور مُنور ہوگئےاور اُن کے مُنہ پر کبھی شرمندگی نہ آئیگی۔
۶ اِس غریب نے دُہائی دی۔ خُداوند نے اِس کی سُنی اور اِسے اِس کے سب دُکھوں سے بچالیا۔
۷ خُداوند سے ڈرنے والوں کی چاروں طرف اُس کا فرشتہ خیمہ زن ہوتا ہے۔ اور اُن کو بچاتا ہے۔
۸ آزما کر دیکھو کہ خُداوند کیسا مہربان ہے۔ مُبارک ہے وہ آدمی جو اُس پر توکّل کرتا ہے۔
۹ خُداوند سے ڈرو اَے اُس کے مقدسو! کیونکہ جو اُس سے ڈرتے ہیں اُن کو کچھ کمی نہیں۔
۱۰ شیرببر کے بچے تو حاجتمند اور بھُوکے ہوتے ہیں پر خُداوند کے طالب کسی نعمت کے محتاج نہ ہونگے۔
۱۱ اَے بچو! آؤ میری سُنو۔ میں تم کو خُدا ترسی سکھاؤنگا۔
۱۲ وہ کون آدمی ہے جو زندگی کا مُشتاق ہے اور بڑی عمر چاہتا ہے تاکہ بھلائی دیکھے؟
۱۳ اپنی زبان کو بدی سے باز رکھ اور اپنے ہونٹوں کی دغا کی بات سے۔
۱۴ بدی کو چھوڑ اور نیکی کر۔ صُلح کا طالب ہو اور اُسی کی پیروی کر۔
۱۵ خُداوند کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اُس کے کان اُن کی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔
۱۶ خُداوند کا چہرہ بدکاروں کے خلاف ہے تاکہ اُنکی یاد زمین پر سے مِٹا دے۔
۱۷ صادِق چلّائے اور خُداوند سے سُنا اور اُن کو اُس کے سب دُکھوں سے چھڑایا
۱۸ خُداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔
۱۹ صادق کی مُصیبتیں بہت ہیں لیکن خُداوند اُس کو اُن سے سے رہائی بخشتا ہے ۔
۲۰ وہ اُس کی سب ہڈیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔اُن میں سے ایک بھی توڑی نہیں جاتی۔
۲۱ بدی شریر کو ہلاک کر دے گی اور صادق سے عداوت رکھنے والے مجرم ٹھہرینگے۔
۲۲ خُداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اُس پر توکل کرتے ہیں اُن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہریگا۔