زبُور ۱۳۶

زبور ۱۳۶ :‏ عظیم ہلّیل

یہ زبور اِس لحاظ سے منفرد ہے کہ ہر آیت کا دوسرا حصہ ایک جیسا ہے:‏ ’’کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘ اِس زبور میں یہ فقرہ ۲۶ بار آتا ہے۔

یہ زبور ’’عظیم ہلیل‘‘ کے عنوان سے مشہور ہے۔ اِسے عید فسح اور نئے سال کی تقریبات میں باقاعدگی سے گایا جاتا تھا۔ وہ اِسے اپنی روزمرہ عبادت میں بھی استعمال کرتے تھے۔ 

مضمون کے بار بار دہرانے میں کسی قسم کی بوریت نہیں ہے۔ اِس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہمیں خداوند کی مستحکم شفقت کی متواتر ضرورت ہے اور یہ ایک ایسا مضمون ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ اُس کی مہربانی اور وفاداری میں کبھی ناکامی نہیں ہوتی۔ 

عبادت کے لئے بلاہٹ (‏۱۳۶:‏ ۱۔۳)‏

تعارف میں ہمیں دعوت دی گئی ہے کہ خداوند کا شکر کریں اِس لئے کہ وہ حقیقی طور پر بھلا ہے۔ وہ یہوواہ ہے ۔۔یعنی عہد کی پابندی کرنے والا خداوند۔ وہ الہٰوں کا خدا ہے۔ کائنات کے زور آور حکمرانوں میں سب سے اعلیٰ۔ وہ مالکوں کا مالک ہے۔ فرشتوں اور انسانوں میں سب قائدین کا مالک ہے۔ لیکن وہ نہ صرف بڑا ہے بلکہ بھلا بھی ہے۔ وہ خالق ‏، نجات دہندہ‏، راہنما‏، سپہ سالار اور اپنے لوگوں کا پروردگار ہے۔ 

خالق (‏۱۳۶:‏ ۴۔۹)‏

سب سے پہلے ہم اُس کی شفقت اور بھلائی کو تخلیق کے عجیب کاموں میں دیکھتے ہیں۔ اپنی حکمت سے اُس نے وسیع اور عظیم آسمان بنائے۔ اُس نے براعظم بنائے گویا کہ یہ پانی پر تیرتے ہوئے جزیرے ہیں۔ اُس نے آسمان پر بڑی بڑی روشنیاں نصب کیں۔ سورج جو دن کے وقت روشنی دیتا ہے اور چاند اور ستارے جو انسان کے آرام کے لمحات کے لئے ہلکی روشنی فراہم کرتے ہیں۔ 

نجات دہندہ (‏۱۳۶:‏ ۱۰۔ ۱۵)‏

عظیم خالق زور آور نجات دہندہ بھی ہے۔ اپنی قوم کو مصریوں کے ظلم سے چھڑانے کے لئے اُس نے مصر کے پہلوٹھوں کو مارا اور اپنے قوی ہاتھ سے اپنی قوم کو آزاد کیا۔ اِس کے لئے اُسے بحرقلزم کو دو حصوں میں تقسیم کرنا پڑا تاکہ بیچ میں خشک راستہ بن جائے۔ بنی اسرائیل بحفاظت گزر گئے‏، لیکن جب پانی اپنی جگہ پر واپس آگیا تو فرعون کے سپاہی غرق ہو گئے۔ خدا نے اپنی قوم کے لئے ایسی شفقت کا اظہار کیا کہ جسے بھلایا نہیں جا سکتا تھا۔

راہنما (‏۱۳۶:‏ ۱۶)‏

چالیس سال تک خدا نے سنسان ‏، ویران بیابان میں اپنے لوگوں کی راہنمائی کی۔ وہاں کوئی سڑکیں نہیں تھیں‏، کوئی نقشے نہیں تھے‏، لیکن اُن کی تمام ضروریات کے لئے خداوند ہی سب کچھ تھا۔ وہ ایک لاثانی اور منفرد راہنما تھا۔ 

سپہ سالار (‏۱۳۶:‏ ۱۷۔ ۲۲)‏

اُس نے خود اُن کے لئے جنگیں لڑیں۔ جب سیحون اور عوج بادشاہ نے اُن کا راستہ روکا تو اُس نے اُنہیں بُری طرح شکست دی اور اُن کی زمین اسرائیل کی میراث کر دی۔ 

مدد گار ‏، نجات دہندہ اورپروردگار (‏۱۳۶:‏ ۲۳۔۲۵)‏

ایک طرح کے خلاصہ کے طور پر زبور نویس یہوواہ کی ستائش کرتا ہے کہ وہ عظیم مددگار‏، نجات دہندہ اور پروردگار ہے۔ اُس نے اسرائیل کو اُس وقت یاد رکھا جب وہ تعداد میں تھوڑے اور مظلوم تھے اور اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں تھے۔ اُس نے اُنہیں اُن کے دشمنوں کے ہاتھوں سے مخلصی دلائی۔ وہ تمام جانداروں کو متواتر خوراک مہیا کرتا ہے۔

آسمان کا خدا (‏۱۳۶:‏ ۲۶)‏

اگر ہمارے اندر خدا کی عظمت اور شفقت کا متواتر شعور ہو تو ہماری اُس کے لئے شکر گزاری بڑھتی جائے گی۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲ اِلہٰوں کے خُدا کا شُکر کرو۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۳ مالِکوں کے مالِک کا شُکر کرو کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۴ اُسکا جو اکیلا بڑے بڑے عجیب کام کرتا ہے۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۵ اُسی کا جِس نے دانائی سے آسمان بنایا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۶ اُسی کا جِس نے زمین کو پانی پر پھیلایا۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۷ اُسی کا جِس نے بڑے بڑے نیّر بنائے کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۸ دِن کو حکومت کرنے کے لئے آفتاب کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۹ رات کو حکومت کرنے کے لئے مہتاب اور ستارے کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۰ اُسی کا ج،س نے مصؔر کے پہلوٹھوں کو مارا۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۱ اور اِسرائؔیل کو اُن میں سے نِکال لایا۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۲ قوی ہاتھ اور بلند بازو سے کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۳ اُسی کا جِس نے بحرِ قُلزؔم کو دو حصّے کر دیا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۴ اور اِسرائؔیل کو اُس میں سے پار کیا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۵ لیکن فرعؔون اور اُسکے لشکر کو بحرِ قُلزؔم میں ڈالدیا۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۶ اُسی کا جو بیابان میں اپنے لوگوں کا راہنما ہُؤا۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۷ اُسی کا جِس نے بڑے بڑے بادشاہوں کو مارا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۸ اور نامور بادشاہوں کو قتل کیا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۱۹ اموریوں کے بادشاہ سیحؔون کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۰ اور بسؔن کے بادشاہ عوؔج کو کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۱ اور اُنکی زمین میراث کر دی کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۲ یعنی اپنے بندہ اِسرائؔیل کی میراث کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۳ جِس نے ہماری پستی میں ہمکو یاد کیا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۴ اور ہمارے مخالفوں سے ہمکو چُھڑایا کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۵ جو سب بشر کہ روزی دیتا ہے۔ کہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲۶ آسمان کے خُدا کا شُکر کرو کیونکہ اُسکی شفقت ابدی ہے۔