۔2 کُرنتِھیوں تعارُف

کتابِ مقدس کی تفسیر

کرنتھیوں کے نام دوسرا خط

Second Epistle to the Corinthians

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


تعارُف

«پولس پر (‏۲۔کرنتھیوں میں)‏ مکاشفہ اِس قدر صاف اور واضح ہے کہ سارا مقدس ادب اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔» (‏سیڈلر ۔ Sadler)‏

۱۔ فہرست ِمسلَّمہ میں منفرد مقام

جہاں مبشر اور مبلغ ۱۔کرنتھیوں کا وسیع مطالعہ کرتے اور بشارت میں اِس کا وسیع استعمال کرتے ہیں،‏ وہاں ۲۔کرنتھیوں کو وسیع پیمانے پر نظر انداز کرتے ہیں۔ مگر یہ نہایت اہم خط ہے۔ بے شک اِسے نظر انداز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اُسلوبِ بیان اکثر طنزیہ ہے اور اِس کا مفہوم بیان کرنا مشکل ہے۔ پولس نے طرزِ تحریر میں جذبات سے بہت کام لیا ہے۔ اِس لئے ترجمہ کرتے وقت کئی الفاظ اپنے پاس سے بھرتی کرنے پڑتے ہیں تاکہ گہرے مفہوم کی صحیح عکاسی ہو سکے۔

اِس خط کو سمجھنا مشکل ہے۔ بہت سی آیات کا مطلب مبہم اور غیر واضح ہے۔ اِس کی کئی توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں۔

  1. پولس نے طنز کا بہت استعمال کیا ہے۔ لیکن بعض اوقات اِمتیاز کرنا مشکل ہے کہ کہاں طنز ہے اور کہاں نہیں۔
  2. بعض حصوں کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے پولس کے مشنری دَوروں کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے۔ اُس کے ہم خدمتوں کے دَوروں اور پولس کے خطوط کے متعلق بھی بہت کچھ مزید جاننے کی ضرورت ہے۔
  3. یہ خط بہت ہی ذاتی خط ہے اور الفاظ اکثر و بیشتر دل کی زبان ہیں۔ اِن کو سمجھنا ہمیشہ اِتنا آسان نہیں ہوتا۔

لیکن اِن مشکلات کے باعث دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے۔ خوش قسمتی سے خط کی بنیادی سچائیوں پر اِن کا کچھ اثر نہیں پڑتا،‏ صرف تفاصیل پر کچھ اثر پڑتا ہے۔

پھر ۲۔کرنتھیوں ایسا خط ہے جس کا بہت زیادہ اِقتباس کیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

۲۔ مصنف

کوئی بھی اِنکار نہیں کرتا کہ ۲۔کرنتھیوں پولس ہی کی تصنیف ہے۔ البتہ چند ایک علما یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ کہیں کہیں کچھ اضافے موجود ہیں،‏ تاہم خط کی وحدت (‏پولس کے مخصوص تجاوزات کے ساتھ)‏ نمایاں ہے۔

۲۔کرنتھیوں کے حق میں خارجی شہادت بہت مضبوط ہے۔ لیکن ۱۔کرنتھیوں کی نسبت قدرے بعد کی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ روم کے کلیمنٹ (‏Clement)‏نے اِس خط میں سے اِقتباس نہیں کیا۔ البتہ پولی کارپ (‏Polycarp)‏،‏ ایرینیُس (‏Irenaeus)‏،‏ سکندریہ کا کلیمنٹ،‏ طرطلیان (‏Tertullian)‏ اور قُپریانُس (‏Cyprian)‏ سب نے اِقتباس کیا ہے۔ مرقیون (‏Marcion)‏ نے جن دس خطوط کو پولس کی تصنیف مانا ہے اُن کی فہرست میں اِسے تیسرے نمبر پر لکھا ہے۔ یہ مرتوروی فہرست میں بھی شامل ہے۔ ۱۷۵ء کے بعد ۲۔کرنتھیوں کے لئے شہادتیں کثرت سے ملتی ہیں۔

داخلی شہادتیں بھی بکثرت ہیں کہ یہ خط پولس کی تصنیف ہے۔ فلیمون کے علاوہ یہ خط پولس کا خاص شخصی خط ہے اور اِس میں عقائد کی تعلیم سب سے کم ہے۔ دقیق شخصی حوالے،‏ رسول کے مزاج کی خاص خصوصیات اور ۱۔کرنتھیوں،‏ گلتیوں،‏ رومیوں اور اعمال کی کتاب کے ساتھ قریبی نمایاں تعلق،‏ یہ سب باتیں اِس روایتی نظریے کی حمایت کرتی ہیں کہ یہ خط پولس کا لکھا ہوا ہے۔ شروع سے ہی عام خیال تھا کہ ۱۔کرنتھیوں کا مصنف پولس ہے۔ اِس خط میں بھی وہی جماعت اور وہی خط لکھنے والا اور صاف اور واضح شہادتیں ہیں۔

۳۔ سنِ تصنیف

۲۔کرنتھیوں پہلے خط سے غالباً ایک سال سے بھی کم عرصہ بعد مکدنیہ سے لکھا گیا تھا (‏بعض قدیم تراجم فلپی کی نشان دہی کرتے ہیں)‏۔ عام طور سے تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ خط ۵۷ء میں تحریر ہوا۔ لیکن بہت سے علما ۵۵ء یا ۵۶ء کے حق میں ہیں،‏ جب کہ ہارنک اِسے ۵۳ء کی تصنیف بتاتا ہے۔

۴۔ پس منظر اور موضوع

ہم ۲۔کرنتھیوں کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ نہایت ذاتی خط ہے۔ پولس کی دوسری تحریروں کی نسبت اِس خط میں اُس نے گویا اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔ ہم اِس سے گہری قربت محسوس کرتے ہیں۔ ہم خود کو خداوند کے کام کے لئے اُس کے ولولے میں شریک محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں زندگی کی سب سے بڑی بلاہٹ کی عظمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہم خاموشی اور حیرت سے اُن دُکھوں کی فہرست پڑھتے ہیں جو رسول کو برداشت کرنی پڑیں۔ ہمیں وہ خفگی نظر آنے لگتی ہے جس سے وہ اپنے بے دھڑک نکتہ چینوں کو جواب دیتا ہے۔ مختصر یہ کہ پولس ہمیں اپنی زندگی کا ہر راز بتا دیتا ہے۔

پولس کے کرنتھس کے پہلے دَورے کا حال اعمال باب ۱۸ میں درج ہے۔ وہ اپنے دوسرے تبلیغی دَورے کے دوران وہاں گیا تھا۔ اور اِس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے اُس نے اتھینے میں وہ یادگار خطاب کیا تھا جس کو ہم مریخ کی پہاڑی کا خطاب کہتے ہیں۔

کرنتھس میں پولس پرسکلہ اور اکوِلہ کے ساتھ خیمہ دوزی کا کام کرتا اور یہودیوں کے عبادت خانے میں خوش خبری کی منادی کرتا رہا۔ سیلاس اور تیمتھیس مکدنیہ سے آ کر اِس تبلیغی کام میں اُس کے شریک ہوئے،‏ جو کم سے کم اٹھارہ ماہ تک چلتا رہا (‏اعمال ۱۸:‏ ۱۱)‏۔

جب اکثر و پیشتر یہودیوں نے پولس کے پیغام کو ردّ کر دیا تو وہ غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوا۔ جب لوگ __ یہودی اور غیر قوم،‏ دونوں __ نجات پانے لگے تو یہودی لیڈروں نے ناراض ہو کر اُس کو رومی گورنر کے سامنے پیش کر دیا۔ مقدمے کے فیصلے کے بعد پولس بہت دنوں تک کرنتھس ہی میں رہا۔ پھر کنخریہ اور اِفسس کو روانہ ہوا،‏ اور قیصریہ اور اِنطاکیہ کی طرف واپسی کا طویل سفر اِختیار کیا۔

اپنے تیسرے بشارتی دَورے کے دوران وہ دوبارہ اِفسس میں آیا اور دو سال تک وہاں رہا۔ اِس قیام کے دوران کرنتھس سے ایک وفد اُسے ملنے آیا اور کئی معاملات میں پولس سے رائے اور مشورہ لیا۔ اِس موقعے پر اُٹھائے گئے سوالات کے جواب میں کرنتھیوں کا پہلا خط لکھا گیا تھا۔

کچھ عرصہ بعد رسول کو فکر ہوئی کہ پتا کرے کہ کرنتھیوں نے میرے پہلے خط کا اور خصوصاً اُس حصے کا کیا تاثر لیا ہے اور کیا ردِّعمل دکھایا ہے جس کا تعلق گناہ کرنے والے رُکن کی تادیب کے ساتھ ہے۔ چنانچہ وہ اِفسس سے تروآس آیا جہاں اُسے ططس سے ملاقات کی اُمید تھی،‏ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ چنانچہ وہ جہاز پر سوار ہو کر مکدنیہ پہنچا جہاں ططس بھی خبریں لے کر آ پہنچا۔ کچھ خبریں اچھی تھیں اور کچھ بُری۔ مقدسین نے گناہ کرنے والے رُکن کی تادیب کی تھی __ اور اِس طرح وہ روحانی طور پر بحال ہو گیا تھا۔ یہ اچھی خبر تھی۔ لیکن مسیحیوں نے یروشلیم کے حاجت مند مقدسین کے لئے کوئی امدادی رقم نہیں بھیجی تھی،‏ حالانکہ اُن کا ارادہ تو تھا۔ یہ کوئی اچھی خبر نہ تھی۔ ططس نے یہ اِطلاع بھی دی کہ جھوٹے اُستاد کرنتھس میں بہت سرگرم ہیں۔ وہ نہ صرف رسول کے کام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے بلکہ اُس کی رسالت اور خدا کے خادم کی حیثیت سے اُس کے اِختیار پر بھی اعتراض کر رہے تھے۔ یہ بہت بُری خبر تھی۔

یہ حالات تھے جن کے باعث مکدنیہ سے کرنتھیوں کے نام دوسرا خط لکھا گیا۔

پہلے خط میں پولس بنیادی طور پر ایک معلم نظر آتا ہے،‏ مگر دوسرے خط میں وہ پاسٹر کا کردار اِختیار کرتا ہے۔ اگر آپ کان لگا کر سنیں تو آپ کو ایک ایسے شخص کے دل کی دھڑکن سنائی دے گی جو خدا کے لوگوں سے دلی محبت رکھتا ہے اور جس نے خود کو اُن کی بھلائی کے لئے وقف کر رکھا ہے۔

چنانچہ آئیے ہم اِس بڑی مہم پر روانہ ہوں،‏ اور اُن سانس لیتے ہوئے خیالات،‏ اور جلتے ہوئے الفاظ کا مطالعہ کریں۔ آئیے ہم دعا کے ساتھ آغاز کریں کہ خدا کا پاک روح اُن کو ہمارے لئے روشن کرے!

خاکہ
      باب
۱۔  پولس خدمت کی تشریح کرتا ہے ۱۔‏۷
  الف۔ سلام ۱:‏ ۱،‏۲
  ب۔ دُکھوں میں تسلی دینے کی خدمت ۱:‏ ۳۔‏۱۱
  ج۔ پولس کے منصوبوں میں تبدیلی کی وضاحت ۱:‏ ۱۲۔‏۲:‏۱۷
  د۔ خدمت کے لئے پولس کی اَسناد ۳:‏ ۱۔‏۵
  ہ۔ پرانے عہد اور نئے عہد کا مقابلہ ۳:‏ ۶۔‏۱۸
  و۔ خوش خبری کی واضح منادی کرنے کا فرض ۴:‏ ۱۔‏۶
  ز۔ مٹی کا برتن اور آسمانی منزل ۴:‏ ۷۔‏۱۸
  ح۔ مسیح کے تخت ِعدالت کی روشنی میں جینا ۵:‏ ۱۔‏۱۰
  ط۔ خدمت میں پولس کی نیک نامی ۵:‏ ۱۱۔‏۶:‏۲
  ی۔ خدمت میں پولس کا کردار ۶:‏ ۳۔‏۱۰
  ک۔ کھلے دل اور شفقت کے لئے پولس کی اپیل ۶:‏ ۱۱۔‏۱۳
  ل۔ کلام کے مطابق علیٰحدگی اِختیار کرنے کی اپیل ۶:‏ ۱۴۔‏۷:‏۱
  م۔ کرنتھس سے اچھی خبر ملنے پر پولس کی خوشی ۷:‏ ۲۔‏۱۶
۲۔ پولس کی نصیحت کہ یروشلیم کے مقدسین کے لئے چندہ بھیجنے کا کام مکمل کیا جائے ۸،‏۹
  الف۔ فراخ دلی سے دینے کے اچھے نمونے ۸:‏ ۱۔‏۹
  ب۔ چندہ جمع کرنے کے کام کو پورا کرنے کا نیک مشورہ ۸:‏ ۱۰،‏۱۱
  ج۔ فراخ دلی سے دینے کے تین عمدہ اُصول ۸:‏ ۱۲۔‏۱۵
  د۔ چندہ اور خیرات کا اِنتظام کرنے کے لئے تین نیک نام بھائی ۸:‏ ۱۶۔‏۲۴
  ہ۔ اپیل کہ کرنتھیوں پر پولس کے فخر کی تصدیق ہو ۹:‏ ۱۔‏۵
  و۔  فراخ دلی سے دینے کا اَجر ۹:‏ ۶۔‏۱۵
۳۔ پولس اپنی رسالت کا دفاع کرتا ہے ۱۰۔‏ ۱۳
  الف۔ پولس اپنے معترضین کو جواب دیتا ہے ۱۰:‏ ۱۔‏۱۲
  ب۔ پولس کا اُصول _ مسیح کے لئے نئی زمین تیار کرنا ۱۰:‏ ۱۳۔‏۱۶
  ج۔ پولس کا عظیم نصب العین۔ خداوند کی خوشنودی ۱۰:‏ ۱۷،‏۱۸
  د۔ پولس اپنی رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ۱۱:‏ ۱۔‏۱۵
  ہ۔ پولس کا مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا اُس کی رسالت کی حمایت کرتا ہے ۱۱:‏ ۱۶۔‏۳۳
  و۔ پولس کے مکاشفات اُس کی رسالت کی حمایت کرتے ہیں ۱۲:‏ ۱۔‏۱۰
  ز۔ پولس کے عجیب کام (‏معجزے)‏ اُس کی رسالت کی حمایت کرتے ہیں ۱۲:‏ ۱۱۔‏۱۳
  ح۔ پولس کا التوا میں پڑا ہوا کرنتھس کا دَورہ ۱۲:‏ ۱۴۔‏۱۳:‏۱
  ط۔ اہلِ کرنتھس خود پولس کی رسالت کے گواہ ہیں ۱۳:‏ ۲۔‏۶
  ی۔ پولس کی خواہش کہ کرنتھیوں سے بھلائی کرے ۱۳:‏ ۷۔‏۱۰
  ک۔ خدائے ثالوث کے نام میں پولس کی پُرفضل الوداع ۱۳:‏ ۱۱۔‏۱۴