زبُور ۱۹

زبور ۱۹:‏ خدا کی دو کتابیں

۱۹:‏ ۱‏،۲ ’’آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دست کاری دکھاتی ہے۔‘‘ اور وہ کس قدر عظیم داستان بیان کرتے ہیں۔ سوچئے کہ وہ کائنات کی وسعت کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔ اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں — یعنی ۰۰۰‏،۱۸۶ میل فی سیکنڈ یا اندازاً ساٹھ کھرب میل سالانہ‏، تو اِس سے دس ارب سال میں اُس مقام تک پہنچ سکیں گے جو ہم دوربین کے ذریعے دُور سے دُور دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود خلا کی بعید ترین حدیں ابھی بہت دُور ہوں گی۔ اب ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ خلا کی کوئی حد نہیں ہے۔ اِس لامحدود وسعت میں ہماری زمین محض ایک چھوٹا سا ذرہ ہے۔

ستاروں کی تعداد اور دیگر اجرامِ فلکی کے بارے میں غور کیجئے۔ چشم بینا سے ہم پانچ ہزار ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک چھوٹی دُور بین سے بیس لاکھ‏، لیکن پالمر دُوربین سے ہم اربوں کہکشائیں دیکھ سکتے ہیں۔

دُور ترین ستارے (‏جسے ہم دُوربین سے دیکھ سکتے ہیں)‏ کی روشنی کو زمین تک پہنچنے کے لئے دس ارب سال درکار ہیں۔ چنانچہ جب ہم خلا میں دیکھتے ہیں تو ہم پیچھے کی طرف وقت کو دیکھتے ہیں۔ مثلاً ہم کہکشاں Andromeda کو وہاں نہیں دیکھتے جہاں وہ اب ہے بلکہ وہاں جہاں یہ بیس لاکھ سال پہلے تھی۔ 

گو ستارے فضا میں ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں لیکن اُن کے درمیان اِس قدر وسیع فاصلہ ہے کہ وہ فضا کے سمندر میں ایک دوسرے سے کروڑوں میل دُور تنہا تیر رہے ہیں۔

اگر تخلیق اِس قدر بڑی ہے تو اُس کا خالق کتنا بڑا ہو گا! دن رات آسمان اُس کی عظمت‏، قدرت اور حکمت کو بیان کر رہا ہے۔ فضا مسلسل اُس کی دست کاری کے عجائب کا اعلان کر رہی ہے‏، جیسا کہ آئزک واٹ نے لکھا‏، ’’کائنات ایک کھلی کتاب ہے جو بنانے والے کی تعریف کرتی ہے۔‘‘ 

۱۹:‏۳۔۴ الف ’’نہ بولنا ہے‘‘ :‏ نہ الفاظ ہیں اور نہ سنائی دینے والی کوئی آواز ہی‏، تاہم ستاروں کا وعظ ساری زمین پر اور اُس کا پیغام دُنیا کی انتہا تک سنائی دیتا ہے۔ انسان محض آسمان کی طرف نگاہ کرنے سے جان سکتا ہے کہ خدا کا وجود ہے اور اُس کی ازلی قدرت کا جائزہ لے سکتا ہے (‏رومیوں ۱:‏۲۰)‏۔ اِس کائنات کا حجم اور اِس کی پیچیدگی لارڈ کیلون کے مشاہدہ کی تصدیق کرتے ہیں:‏ ’’اگر آپ بہت زیادہ سوچیں‏، تو سائنس آپ کو خدا پر ایمان لانے کے لئے مجبور کر دے گی‘‘۔ کانت نے لکھا:‏

یہ ناممکن ہے کہ آپ دُنیا کے تانے بانے پر غور کریں اور اِس کے قابل تعریف انتظام اور اِس کے آپس میں تعلقات کی کاملیت میں خدا کے ظہور کو نہ دیکھیں۔ جب ایک بار اِس پر غور و خوض کرکے اِس کے حسن اور کاملیت کی تعریف کر لیں گے تو عقل اُس حماقت سے نفرت کرنے لگے گی جو یہ جرأت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ حادثاتی طور پر ہوا۔ انسان لازماً یہ سوچے گا کہ کسی عظیم حکمت نے اِس منصوبہ کو بنایا اور کسی لامحدود قدرت نے اُسے عملی جامہ پہنایا۔

۱۹:‏ ۴۔۶ زبور نویس تصور کرتا ہے کہ آسمان ایک بہت بڑا خیمہ ہے جو خدا نے سورج کے لئے تیار کیا۔ جب سورج صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے تو یہ اُس دُولھے کی مانند ہے جو اپنے خلوت خانہ سے نکلتا ہے۔ سورج آسمان میں اُس پہلوان کی طرح حرکت کرتا ہے جو خوشی سے اپنی دوڑ دوڑتا ہے۔ یہ دوڑ آسمان کے مشرق کے سرے سے شروع ہوتی ہے اور مغرب کے افق تک جاری رہتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دراصل سورج نہ تو طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے‏، بلکہ زمین گھومتی ہے اور اِس سے یہ فریب نظر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن بائبل کے شاعرانہ پاروں میں انسانی زبان استعمال ہوئی ہے جیسے کہ ہم ہر روز اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔

سورج کی حرارت سے کوئی چیز چھپی نہیں رہتی۔ یہ ساری دُنیا کو بے نقاب کر دیتا ہے اور اِس کی حرارت دُنیا کے دُور ترین کونوں اور دراڑوں میں سرایت کرتی ہے۔

۱۹:‏ ۷۔۹ لیکن تخلیق خدا کے اظہار کی صرف ایک کتاب ہے۔ آیت ۷ میں خدا کے مکاشفہ کی دوسری کتاب یعنی ’’خدا کی شریعت‘‘ کو متعارف کرایا گیا ہے۔ دونوں کتابیں خدا کا جلال ظاہر کرتی ہیں اور صاحب فکر لوگوں کو پرستش کی تحریک دیتی ہیں۔ اِس لئے زبور کی کتاب کے اکثر مفسرین کانت کے مشہور مقولہ کا اقتباس کرتے ہیں:‏

میرے اوپر ستاروں بھرا آسمان اور مجھ میں اخلاقی شریعت‏، ایسی دو چیزیںہیں جو میری روح کو بہت زیادہ تعریف اور تعظیم سے معمور کرتی ہیں۔

لیکن خدا کی دونوں کتابوں میں فرق ہے۔ تخلیق خدا کی قدرت اور قوت کا انکشاف کرتی ہے۔ لیکن اُس کا کلام اُسے اِس صورت میں متعارف کراتا ہے کہ وہ انسان کے ساتھ عہد کا تعلق قائم کرتا ہے۔ خدا کے کام اُس کے علم اور قوت کو ظاہر کرتے ہیں‏، لیکن اُس کا کلام اُس کی محبت اور فضل کو ظاہر کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ سائنسی سچائی ہماری عقل کو تحریک دے‏، لیکن روحانی سچائی ہمارے دل اور ضمیر کو قائل کرتی ہے۔

خدا کے کلام کی تعریف میں داؤد بیان کرتا ہے کہ یہ نہ صرف خدا کی شریعت ہے بلکہ یہ خدا کی شہادت‏، خداوند کے قوانین‏، خداوند کا حکم‏، خداوند کا خوف اور خداوند کے احکام ہیں۔ زبور نویس خدا کے کلام کی نہایت اعلیٰ خوبیاں بیان کرتا ہے۔ یہ کامل‏، برحق‏، راست‏، بے عیب‏، پاک اور ابد تک قائم رہنے والا ہے۔ اِس کے بعد وہ اِس کی پانچ خوبصورت خدمتوں کی فہرست پیش کرتا ہے۔ خدا کی شریعت جان کو بحال کرتی‏، نادان کو دانش بخشتی‏، دل کو فرحت پہنچاتی‏، آنکھوں کو روشن کرتی اور خدا کے خادم کو خبردار کرتی ہے۔

۱۹:‏۱۰ خدا کے کلام کی قدر و قیمت کا سونے کی قیمت کے حساب سے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن لوگوں کو اِس کا سونے کی طرح کھوج لگانا چاہئے۔ خدا کی کتاب کے اوراق میں بہت بڑی دولت پوشیدہ ہے اور ہماری سب سے بڑی دلچسپی یہ ہونی چاہئے کہ ہم اُس کی تحقیق کریں۔

’’خدا کا جلال راز داری میں ہے
لیکن بادشاہوں کا جلال معاملات کی تفتیش میں ہے‘‘ (‏امثال ۲۵:‏ ۲)‏۔

ذخائر تلاش کرنے والا سونے کی دریافت سے اِس قدر خوش نہیں ہو گا جس قدر مَیں بائبل کے روحانی خزانہ سے جواہر تلاش کرکے خوش ہوتا ہوں۔ جس طرح مَیں شہد کو بہت پسند کرتا ہوں‏، لیکن اُس کا مزہ خدا کے کلام سے زیادہ میٹھا نہیں ہے۔ مَیں اپنی بائبل میں سے جو تسلی اور دولت حاصل کرتا ہوں الفاظ اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بہت ہی خوبصورت بیان ہے:‏ بائبل ’’شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیریں ہے۔‘‘ سب سے خالص شہد وہ ہے جو چھتے سے ٹپکتا ہے نہ کہ وہ جسے دبا کر نکالا جائے۔

۱۹:‏ ۱۱ ’’ نیز اُن سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے۔‘‘ پاک کلام سے ایماندار شریر کا مقابلہ کرتا‏، آزمائش سے بھاگتا‏، گناہ سے نفرت کرتا اور بُرائی سے گریز کرتا ہے۔ پاک کلام کے احکام کو ماننے سے مسیحی ایماندار زندگی میں حقیقی تکمیل پاتا ہے۔ روحانی‏، جسمانی اور ذہنی طور پر وہ اچھی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ مزید برآں وہ اُس اجر کو جمع کرتا ہے جو مسیح کے تخت عدالت کے سامنے اُسے دیا جاتا ہے۔ ’’دینداری سب باتوں کے لئے فائدہ مند ہے اِس لئے کہ اب کی اور آئندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اِسی کے لئے ہے‘‘ (‏۱۔تیم ۴:‏۸)‏۔

۱۹:‏ ۱۲ جب ہم غور کرتے ہیں کہ خدا کی شریعت کس قدر پاک‏، راست اور کامل ہے‏، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر ناکام ہیں اور ہم داؤد کے ساتھ تعجب سے کہتے ہیں ’’کون اپنی بھول چوک کو جان سکتا ہے؟‘‘

جونہی کتابِ مقدس ہمیں بے نقاب کرتی ہے اور ہمیں اُن گناہوں کے لئے قائل کرتی ہے جن کے بارے میں پہلے ہم بے خبر تھے‏، تو ہم پوشیدہ عیبوں سے معافی کے لئے دعا کرنے پر تیار ہوتے ہیں— ایسے پوشیدہ عیبوں کے لئے‏، جنہیں ہم یا دوسرے لوگ نہیں جانتے‏، لیکن خدا جانتا ہے۔ گناہ‏،گناہ ہے خواہ ہمیں اِس کا علم ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ ہم اپنے پوشیدہ گناہوں کے لئے بھی اقرار کریں۔

۱۹:‏ ۱۳ لیکن اِس زبور میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہم نہ صرف نادانستہ گناہوں کی معافی کے لئے دعا کریں‏، بلکہ بے باکی کے گناہوں سے بچنے کے لئے بھی یعنی ایسے گناہوں سے جو خود اعتمادی اور تکبر سے پیدا ہوتے ہیں۔ تکبر وہ گناہ ہے جس سے دُنیا کے گناہ نے جنم لیا۔ اِس نے لوسیفر کو خدا کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے اُکسایا۔ زبور نویس سب سے زیادہ اپنی زندگی میں بے باکی کے گناہوں کے تسلط سے خائف تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر وہ اِن کے تسلط سے بچ جائے تو وہ بڑے گناہ سے بچا رہے گا۔ خاص طور پر خدا سے دُور ہونے اور اُس کے خلاف بغاوت کرنے کے بڑے گناہ سے۔

۱۹:‏ ۱۴ مدح سرائی اپنے اختتام کو پہنچی۔ داؤد نے تخلیق کی کتاب اور مکاشفہ کی کتاب کی تعریف کی۔ اب وہ دعا کرتا ہے کہ اُس کا خداوند‏، اُس کی چٹان اور فدیہ دینے والا اُس کی باتوں اور دل کے خیالوں کو قبول کرے۔ جب خدا کو چٹان کہا جاتا ہے‏، تو یہ استعارہ قوت‏، حفاظت اور نجات کو ظاہر کرتا ہے۔ مسیح میں خدا ہمارے فدیہ دینے والے کی حیثیت سے ہمیں گناہ‏، غلامی اور ندامت سے واپس خرید لیتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دستکاری دکھاتی ہے۔
۲ دِن سے دِن بات کرتا ہے اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔
۳ نہ بولنا ہے نہ کلام۔ نہ اُن کی آواز سنائی دیتی ہے۔
۴ اُنکا سُر ساری زمین پر اور اُن کا کلام دُنیا کی اِنتہا تک پہنچا ہے ۔ اُس نے آفتاب کے لئے اُن میں خیمہ لگایا ہے
۵ جو دُلہے کی مانند اپنے خلوت خانہ سے نکلتا ہے اور پہلوان کی طرح اپنی دوڑ میں دوڑنے کو خوش ہے۔
۶ وہ آسمان کی اِنتہا سے نکلتا ہے اور اُس کی گشت اُس کے کناروں تک ہوتی ہے اور اُس کی حرارت سے کوئی چیز بے بہر نہیں۔
۷ خُداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خُداوند کی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانش بخشتی ہے۔
۸ خُداوند کے قوانین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت پہنچاتے ہیں۔ خُداوند کا حکم بے عیب ہے۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔
۹ خُداوند کا خُوف پاک ہے۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ خُداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں۔
۱۰ وہ سونے سے بلکہ بہت کُندن سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔ وہ شہد سے بلکہ چھّتے کے ٹپکوں سے بھی شیرین ہیں۔
۱۱ نیز اُن سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے۔ اُن کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔
۱۲ کون اپنی بھول چُوک کو جان سکتا ہے؟ تُو مجھے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر۔
۱۳ تُو اپنے بندے کو بے باکی کے گناہوں سے بھی باز رکھ۔ وہ مجھ پر غالب نہ آئیں تو مَیں کامل ہونگا۔ اور بڑے گناہ سے بچا رہونگا۔
۱۴ میرے مُنہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضُور مقبول ٹھہرے۔ اَے خُداوند! اَے میرے چٹان اور میرے فدیہ دینے والے!