زبور ۹۲: علمِ نباتات سے ایک سبق
۹۲: ۱۔۵ کوئی شخص بھی اِس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ خداوند کا شکر کرنا بھلا ہے۔ یہ اِن معنوں میں بھلا ہے کہ خداوند اِس شکرگزاری کا مستحق ہے۔ یہ شکرگزاری کرنے والے اور اِس کے سننے والے کے لئے بھی بھلا ہے۔ حق تعالیٰ کے نام کی مدح سرائی کرنا نہایت ہی مناسب عمل ہے۔ شکرگزاری کے لئے تو موضوعات ختم ہونے میں نہیں آتے۔ صبح کے وقت اُس کی شفقت کا اِظہار ایک لامتناہی موضوع ہے اور رات کے پہروں میں انسان کو مصروف رکھنے کے لئے اُس کی وفاداری پر غور کرنا کافی ہے۔ دس تار والے ساز، بربط اور ستار پر گونجتی آواز کے ساتھ گیت کی خوبصورتی بڑھائیں۔ تخلیق، پروردگاری اور مخلصی کے عجیب و غریب کاموں کے لئے جس قدر بھی شیریں موسیقی ہو، خداوند کی شکرگزاری اور مدح سرائی کے لئے کم ہے۔
۹۲: ۶۔۹ لیکن یہ توقع نہ رکھیں کہ جسمانی شخص بھی خدا کی گہری باتوں کو سمجھ لے گا۔ وہ اُنہیں نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ’’وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں‘‘ (۱۔کرنتھیوں ۲:۱۴)۔ جہاں تک الٰہی حقیقتوں کا تعلق ہے، خواہ وہ دنیوی علوم میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، وہ کند ذہن اور احمق ہے۔ وہ اِس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ کائنات میں مقررہ اخلاقی قوانین شریر کی تباہی کا تعین کرتے ہیں۔ گو وہ وقتی طور پر پھلے پھولے، تاہم اُس کی کامیابی تھوڑے عرصہ کے لئے ہے جس طرح گھاس بہت جلد سوکھ جاتی ہے۔ جیسے خداوند یقینی طور پر ابد تک سربلند ہے، ویسے ہی اُس کے دشمن یقینی طور پر پراگندہ ہو کر برباد ہو جائیں گے۔
۹۲: ۱۰، ۱۱ اِس بات کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ خدا راست باز کے سینگ کو جنگلی سانڈ کے سینگ کی مانند بلند کرتا ہے، یعنی وہ اپنے لوگوں کو قوت اور عزت دیتا ہے۔ وہ اپنے وفادار لوگوں کو تازہ تیل سے مسح کرتا ہے جو روح القدس کی پُرفضل خدمت کی علامت ہے۔ آخری باب کے لکھے جانے تک، خدا کے مقدسین نے اپنے دشمنوں کی موت کو دیکھ لیا ہو گا اور اُن کے انجام کے طویل ماتم کی آواز کو سن لیا ہو گا۔
۹۲: ۱۲۔۱۵ صادق کی ترقی و خوش حالی کا لبنان کے دیودار اور کھجور کے درخت سے موازنہ کیا گیا ہے۔ کھجور کا درخت خوبصورتی اور پھل دار ہونے کی اور دیودار قوت اور دوام کی علامت ہے۔ ایمانداروں کی بہت زیادہ ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ خداوند کے گھر میں لگائے گئے ہیں اور وہ ہمارے خدا کی بارگاہوں میں سرسبز ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہر روز خداوند کی رفاقت میں رہتے ہیں اور اُس سے قوت اور تازگی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ عمر اُن کے پھل دار ہونے کی قوتوں کو متاثر نہیں کرتی۔ وہ مسلسل روحانی زندگی کی قوت حاصل کرتے رہتے ہیں اور اُن کی گواہی ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ اُن کی ترقی اِس بات کی شہادت ہے کہ خداوند اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سچا ہے۔ وہ قابلِ بھروسا چٹان ہے اور اُس کی ذات کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر تکیہ نہ کیا جا سکے۔
شریروں کا گھاس (آیت ۷) اور صادقوں کا تر و تازہ اور سرسبز درخت (آیت ۱۴) سے موازنہ کیا گیا ہے۔ شریر مرجھا اور بکھر جاتے ہیں لیکن صادق قوت پر قوت پاتے جاتے ہیں۔ روحانی نباتات کے علم کا یہ اصول ہے۔
مقدس کتاب
۱ کیا ہی بھلا ہے خُداوند کا شُکر کرنا اور تیرے نام کی مدح سرائی کرنا اَے حق تعالیٰ!
۲ صُبح کو تیری شفقت کا اظہار کرنا اور رات کو تیری وفاداری کا۔
۳ دس تار والے ساز اور بربط پر اور سِتار پر گونجتی آواز کے ساتھ۔کیونکہ اَے خُداوند! تُو نے اپنے کام سے خُوش کیا۔ میَں تیری صعنت کاری کے سبب سے شادیانہ بجاؤں گا۔
۴
۵ اَے خُداوند! تیری صنعتیں کیسی بڑی ہیں! تیرے خیال بہت عمیق ہیں۔
۶ حیوان خصلت نہیں جانتا اور احمق اِسکو نہیں سمجھتا ہے۔
۷ جب شریر گھاس طرح اُگتے ہیں اور سب بدکردار پھُولتے پھلتے ہیں تو یہ اِسی لئے ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوں۔
۸ لیکن تُو اَے خُداوند! ابدُالآباد بلند ہے۔
۹ کیونکہ دیکھ! اَے خُداوند! تیرے دُشمن۔ دیکھ! تیرے دُشمن ہلاک ہو جائینگے۔سب بد کردار پرگندہ کر دئے جائینگے۔
۱۰ لیکن تُو نے میرے سینگ کو جنگلی سانڈ کے سینگ کی مانند بلند کیا ہے۔ مجھ پر تازہ تیل ملا گیا ہے۔
۱۱ میری آنکھ نے میرے دُشمنوں کو دیکھ لیا ہے۔میرے کانوں نے مُخالف بدکاروں کا حال سُن کیا ہے۔
۱۲ صادق کھجور کے درخت کی مانند سر سبز ہو گا۔ وہ لبنؔان کے دیودار کی طرح بڑھیگا۔
۱۳ جو خُداوند کے گھر میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خُدا کی بارگاہوں میں سر سبز ہونگے۔
۱۴ وہ بڑھاپے میں بھی برومند ہونگے۔ وہ تروتازہ اور سرسبز رہینگے۔
۱۵ تاکہ واضح کریں کہ خُدا راست ہے۔ وہی میری چٹان ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔