زبُور ۱۲۱

زبور ۱۲۱:‏ تحفظ کا حصول

۱۲۱ :‏ ۱‏، ۲ کنگ جیمز کے انگلش ترجمے میں یہ زبور یوں شروع ہوتا ہے:‏

’’ مَیں اپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اُٹھاؤں گا۔
جہاں سے میری کمک آئے گی۔
میری کمک خداوند سے ہے‏، جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔‘‘

مابعد مترجمین نے سوچا کہ اِس ممکنہ ترجمے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ خداوند کے بجائے پہاڑوں سے کمک آتی ہے (‏دیکھئے یرمیاہ ۳:‏۲۳)‏۔ چنانچہ اُنہوں نے پہلی آیت کے آخر میں سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ سوالیہ نشان اردو ترجمے میں بھی درج ہے:‏ 

’’ مَیں اپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اُٹھاؤں گا۔
میری کمک کہاں سے آئے گی؟ 
میری کمک خداوند سے ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔‘‘

مَیں یہاں کنگ جیمز ورژن کے ترجمے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یروشلیم میں ہیکل زمین پر خدا تعالیٰ کی سکونت گاہ تھی۔ پاک ترین مقام میں جلالی بادل خدا کی اپنے لوگوں کے درمیان حضوری کی علامت تھا۔ یروشلیم شہر پہاڑ پر واقع ہے اور

پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ چنانچہ جب کوئی یہودی اسرائیل کے دوسرے حصوں میں الٰہی مدد

۱۲۱ :‏ ۳ آیت ۳ کے شروع میں متکلم تبدیل ہو جاتا ہے۔ باقی آیات میں ہم روح القدس کی آواز سنتے ہیں جو خداوند پر بھروسا رکھنے والوں کو ابدی اور مستحکم تحفظ کی ضمانت دے رہا ہے۔ ایماندار کے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا جائے گا۔ پاؤں بنیاد یا موقف کی علامت ہے‏، اِس لئے اِس کا مطلب ہے کہ خدا اپنے ایماندار فرزند کو پھسلنے یا ناکامی سے بچائے گا۔

۱۲۱:‏ ۴ ایک ایسے محافظ کی ضمانت دی گئی ہے جو نہ اونگھتا ہے اور نہ سوتا ہے۔ سکندرِ اعظم نے اپنے سپاہیوں کو بتایا‏، ’’ مَیں جاگتا ہوں تاکہ تم سو سکو۔‘‘ رات کے پہروں میں جب ہم اپنے گرد و پیش کی دنیا سے بے خبر ہوتے ہیں تو سکندرِ اعظم سے بڑا موجود ہوتا ہے اور متواتر ہماری حفاظت کرتا ہے۔

۱۲۱ :‏ ۵‏، ۶ ایک ایسے محافظ کی ضمانت دی گئی ہے جو بذاتِ خود خداوند آپ ہے۔ کائنات کا مطلق العنان عظیم حکمران خود ہر ایک مقدّس کی حفاظت کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی گمنام کیوں نہ ہو۔

یہ ضمانت بھی دی گئی ہے کہ خداوند ہر ایک بُرے اثر سے بچائے گا۔ جب یہ کہا گیا ہے کہ وہ ’’تیرے دہنے ہاتھ پر تیرا سائبان ہے‘‘ تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ دن رات اپنے لوگوں کے ساتھ ہے تاکہ اُنہیں نقصان سے محفوظ رکھے۔ ’’نہ آفتاب دن کو تجھے ضرر پہنچائے گا۔‘‘ دورِ حاضر کے بعض لوگ اِسے لغوی معنوں میں سمجھتے ہیں‏، لیکن جن لوگوں کو بدروحوں سے مخلصی حاصل ہوئی ہے اور جو واقف ہیں کہ شیطان پرستوں اور توہم پرستوں کے لئے سورج اور چاند کی کیا اہمیت ہے‏، اُنہیں اِن آیات سے بدروحوں کے اثر سے آزادی اور تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ 

۱۲۱:‏ ۷‏،۸ ہر طرح کی بلا سے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جب تک خدا اجازت نہیں دیتا ایماندار کی زندگی پر کوئی شے اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ کوئی اٹکل پچو حالات نہیں‏، کوئی بے مقصد حادثات نہیں اور کوئی مہلک المیے نہیں۔ گو وہ بیماری‏، دُکھ اور موت کا بانی نہیں‏، لیکن وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اِنہیں استعمال کرتا ہے۔ اِسی اثنا میں اُس کا ایماندار فرزند یہ جان سکتا ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے (‏رومیوں ۸:‏ ۲۸)‏۔

بالآخر اِس دنیا اور ابدیت میں ہماری آمد و رفت میں خدا کی طرف سے نگہبانی کی ضمانت دی گئی ہے۔وہ ’’ہماری آمد و رفت میں اب سے ہمیشہ تک ہماری حفاظت کرے گا۔‘‘ 

’’محفوظ‘‘ اور ’’محافظ‘‘ اور ’’حفاظت‘‘ کے الفاظ آٹھ آیات میں چھ بار استعمال ہوئے ہیں۔ یہ سب اِس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے خداوند کو اپنی اُمید کے طور پر قبول کر لیا ہے‏، اُن کی مانند کوئی شخص بھی محفوظ نہیں ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ زبُور ۱۲۱ میَں اپنی آنکھیں پہاڑ کی طرف اُٹھاؤں گا میری کُمک کہاں سے آئے گی؟
۲ میری کُمک خُداوند سے ہے جِس نے آسمان اور زمین کو بنایا ۔
۳ وہ تیرے پاؤں کو پھسلنے نہ دیگا۔ تیرا مُحافظ اُنگھنے کانہیں۔
۴ دیکھ! اِسرؔائیل کو مُحافظ نہ اُنگھیگا نہ سوئیگا۔
۵ خُداوند تیرا مُحافظ ہے خُداوند تیرے دہنے ہاتھ پر تیرا سائبان ہے۔
۶ نہ آفتاب دِن کو تجھے ضرر پہنچائیگا نہ ماہتاب رات کو۔
۷ خُداوند ہر بلا سے تجھے محفوظ رکھے گا۔ اور تیری جان کو محفوظ رکھیگا۔
۸ خُداوند تیری آمدورفت میں اب سے ہمیشہ تک تیری حفاظت کریگا۔