کتابِ مقدس کی تفسیر
عزرا
Ezra
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’عزرا کی کتاب اِس قدر سادہ سی کتاب ہے کہ اِس کے تعارُف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہ یہودی تاریخ کے نہایت اہم واقعات میں سے ایک کا صاف اور سادہ سا بیان ہے __ یعنی خدا کے لوگوں کی بابل کی اسیری سے واپسی۔ اِس میں براہِ راست نہایت تھوڑی نصیحت کی گئی ہے۔ مصنف نہایت سادگی سے اپنی داستان کو بیان کرتا ہے تاکہ یہ داستان بذاتِ خود اپنے اندر پوشیدہ اسباق کا اِظہار کرے۔‘‘ (جارج رالنسن ۔ George Rawlinson)
۱۔ مُسلَّمہ فہرست میں منفرد مقام
کسی وقت عزرا اور نحمیاہ کی کتب ایک ہی کتاب تھی۔ لیکن اب یہ دو علیٰحدہ علیٰحدہ کتابیں ہیں۔ بلاشبہ شروع شروع میں یہ دونوں کتابیں علیٰحدہ علیٰحدہ تھیں، کیونکہ عزرا ۲ باب اور نحمیاہ ۷ باب کا متن تقریباً ایک جیسا ہے اور ایک ہی کتاب میں ایک ہی بات کو دُہرانا ناقابلِ تصور ہے۔
عزرا کی کتاب روحانی تاریخ ہے۔اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی کتاب جس میں بہت سی دستاویزات اور غیر مذہبی مواخذ سے مواد شامل کیا گیا ہو وہ بھی روح القدس کے اِنتخاب اور ترتیب سے الہامی کتابوں کا حصہ بن سکتی ہے۔
عزرا کی ۲۸۰ آیات کی نہایت غیر معمولی تقسیم ہے:
| ۱۱۱ آیات: | مردم شماری |
| ۱۰۹ آیات: | کہانی کی صورت میں بیان |
| ۴۴ آیات: | خطوط |
| ۱۰ آیات: | دعا |
| ۳ آیات: | اِعلان |
| ۳ آیات: | اِقتباس |
| کُل آیات ۲۸۰ | |
۲۔ مصنف
گو اِس کتاب کا مصنف گمنام ہے، تاہم صیغۂ واحد متکلم میں یادداشتیں (دیکھیں ۷: ۲۷۔۹:۱۵)، نسب نامے اور دستاویزات کو لکھنا غالباً عزرا کا کام ہے۔ سرکاری دستاویزات ارامی زُبان میں ہیں جو اُس وقت غیر قوموں میں سرکاری زُبان کی حیثیت سے رائج تھی اور عزرا اور نحمیاہ کے ایام میں بین الاقوامی زُبان تھی۔ عزرا کی کتاب کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اِس زبان میں لکھا ہوا ہے۔ عبرانی زبان کے خوبصورت حروفِ تہجی اِسی سامی زبان یعنی ارامی سے لئے گئے تھے۔
۳۔ سنِ تصنیف
دریائے نیل کے کنارے الفنٹائن میں سکونت پذیر یہودی جماعت کے لکھے ہوئے پپائرس کے ایسے نسخے ملے ہیں جو بالکل عزرا اور نحمیاہ کی کتابوں کی مانند ہیں۔ اِس سے اِس روایتی نظریے کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کتابیں پانچویں صدی ق م میں لکھی گئیں، اور اِس سے آزاد خیال نظریے کی تردید ہوتی ہے کہ یہ کتابیں سکندرِ اعظم کے دَور میں لکھی گئیں ، اور اِس سے آزاد خیال نظریے کی تردید ہوتی ہے کہ یہ کتابیں سکندرِ اعظم کے دَور میں لکھی گئیں (قریباً ۳۳۰ ق م میں)۔
عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ عزرا نے یہ کتاب دسویں باب کے آخر کے واقعات (۴۵۶ ق م) اور نحمیاہ کی یروشلیم میں آمد (۴۴۴ ق م) کے دوران لکھی۔ درج ذیل تواریخی جدول عزرا، نحمیاہ اور آستر کی کتابوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
| عزرا، نحمیاہ اور آستر کی تواریخی جدول | |
| (تاریخیں تقریباً لگ بھگ ہیں) | |
| ۵۳۸ ق م | ہیکل کی تعمیر نو کے لئے خورس کا فرمان |
| ۷/ ۵۳۸ ق م | زربابل کا یروشلیم کو جانا |
| ۵۳۶ ق م | ہیکل کی بنیاد رکھی گئی |
| ۵۳۵ ق م | ہیکل کی تعمیر کا کام رُک گیا |
| ۵۲۰ ق م | حجی اور زکریاہ کی خدمت |
| ۵۲۰ ق م | دارا کا فرمان کہ کام کو پھر سے شروع کیا جائے |
| ۵۱۶ ق م | ہیکل کی تعمیر کا کام مکمل ہو گیا |
| ۴۸۶ ق م | اخسویرس کا دَورِ حکومت شروع ہوتا ہے |
| ۸/ ۴۷۹ ق م | آستر کی ملکہ کی حیثیت سے تاج پوشی |
| ۴۶۴ ق م | ارتخششتا کا دَورِ حکومت شروع ہوتا ہے |
| ۴۵۸ ق م | عزرا کا یروشلیم کو جانا |
| ۴۴۴ ق م | نحمیاہ یروشلیم میں پہنچتا ہے |
| ۴۴۴ ق م | یروشلیم کی فصیل مکمل ہوتی ہے |
| ۴۲۰ ق م | نحمیاہ کا یروشلیم کو دوسرا سفر |
۴۔ پس منظر اور موضوعات
عزرا کی کتاب کے شروع میں بابلی حکومت دَم توڑتی ہوئی نظر آتی ہے اور یہودیوں کے اپنے ملک کو واپس جانے سے یرمیاہ کی پیش گوئی پوری ہوتی ہے (یرمیاہ ۲۹: ۱۰۔۱۴)۔
۱۔۶ ابواب میں زربابل کی قیادت میں فلستین میں واپسی کی پہلی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔ جلاوطنوں نے واپس جا کر سب سے پہلے سوختنی قربانی کے مذبح کو بنایا، بعد ازاں خداوند کے گھر کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا۔ خدا کے لوگوں کے دشمنوں نے خدا کے گھر کی تعمیر کی بہت مخالفت کی، لیکن حجی اور زکریاہ نبی نے بڑی حوصلہ افزائی بھی کی۔
۶ اور ۷ باب کے درمیان تقریباً ۵۸ سال کا عرصہ ہے۔ اِس دَور میں ملکہ آستر کی ڈرامائی کہانی وقوع پذیر ہوتی ہے اور عوامی تاریخ میں Marathon، Thermopylae اور سلمیس کی مشہور جنگیں رُونما ہوئیں۔
۷۔۱۰ ابواب میں یروشلیم کو عزرا کے سفر (تقریباً ۴۵۸ ق م) کا بیان ہے۔ وہ ارتخششتا بادشاہ کے احکام کے ساتھ وہاں جاتا ہے۔ اصلاحات کے لئے عزرا کی شخصی کاوشوں کا اِن ابواب میں تفصیلی ذکر ہے۔
| خاکہ | ||||
| باب | ||||
| ۱۔ | زرُبابل کی قیادت میں اسیروں کی یروشلیم میں واپسی | ۱۔۶ | ||
| الف۔ | خورس کا حکم | ۱: ۱۔۴ | ||
| ب۔ | تیاریاں اور سامان | ۱: ۵۔۱۱ | ||
| ج۔ | واپس آنے والوں کا رجسٹر | ۲ | ||
| د۔ | مذبح اور ہیکل کی بنیادوں کی تعمیر | ۳ | ||
| ہ۔ | ہیکل کی تعمیر نو کی مخالفت | ۴ | ||
| ۱ | خورس کے دَورِ حکومت میں مخالفت | ۴:۱۔۵،۲۴ | ||
| ۲ | اخسویرس کے دَورِ حکومت میں مخالفت | ۴:۶ | ||
| ۳ | ارتخششتا کے دَورِ حکومت میں مخالفت | ۴:۷۔۲۳ | ||
| و۔ | حجی اور زکریاہ کی طرف سے تعمیر نو کے لئے حوصلہ افزائی | ۵: ۱،۲ | ||
| ز۔ | دارا کے دَورِ حکومت میں مخالفت | ۵: ۳۔۱۷ | ||
| ح۔ | دارا کے پُرحمایت فرمان کے باعث ہیکل کی تکمیل | ۶ | ||
| ۲۔ | عزرا کی قیادت میں اسیروں کی واپسی | ۷۔۱۰ | ||
| الف۔ | ارتخششتا بادشاہ کی طرف سے واپسی کی اِجازت | ۷ | ||
| ب۔ | واپس آنے والوں کی گنتی | ۸: ۱۔۱۴ | ||
| ج۔ | یروشلیم آنے کا بیان | ۸: ۱۵۔۳۶ | ||
| د۔ | مخلوط شادیاں اور عزرا کا دعائیہ اقرار | ۹ | ||
| ہ۔ | یہودیوں کا غیر قوم بیویوں اور بچوں کو علیٰحدہ کرنے کا عہد | ۱۰ | ||