زبُور ۱۱۰

زبور ۱۱۰ :‏ داؤد کا بیٹا اور اُس کا خداوند

عہد جدید میں عہد عتیق کے دیگر حوالہ جات کی نسبت داؤد کے اِس زبور کا سب سے زیادہ اقتباس کیا گیا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ زبور مسیح کے متعلق ہے۔ پہلے وہ خدا کے دہنے ہاتھ نظر آتا ہے اور بعد میں اُسے جلال کے بادشاہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو عالمگیر حکومت کا اختیار سنبھالنے کے لئے دنیا میں آئے گا۔ ساتھ ساتھ اُسے ملک صدق کے طور پر ابدی کاہن بھی پیش کیا گیا ہے۔ 

۱۱۰:‏ ۱ پہلی آیت میں داؤد کہتا ہے کہ 

’’یہوواہ نے میرے خداوند سے کہا تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ 

جب تک کہ مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کر دوں۔‘‘

اِسے سمجھنے کے لئے اِن دو اشخاص کی شناخت کرنا ضروری ہے۔ پہلے یہوواہ کا ذکر ہوا ہے پھر خداوند کا۔ خداوند عبرانی لفظ آدون (‏adon)‏ کا ترجمہ ہے جس کا مطلب ’’مالک‘‘ یا ’’حکمران‘‘ ہے۔ یہ لفظ بعض اوقات خدا کے نام کے لئے استعمال ہوا اور کئی دفعہ اِس کا انسانی آقا پر اطلاق کیا گیا ہے۔ گو یہ لفظ ہمیشہ کسی اِلٰہی شخصیت کو ظاہر نہیں کرتا‏، لیکن جو الفاظ اِس کے بعد استعمال ہوئے ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داؤد کا خداوند (‏آدون)‏ خدا کے برابر ہے۔

ایک دن جب خداوند یسوع یروشلیم میں فریسیوں سے گفتگو کر رہا تھا تو اُس نے اُن سے پوچھا کہ مسیح کی شناخت کے بارے میں اُن کا کیا ایمان ہے۔ مسیح موعود کس کی نسل سے ہو گا؟ اُنہوں نے بالکل صحیح جواب دیا کہ وہ داؤد کی نسل سے ہو گا۔ لیکن مسیح نے اُن پر واضح کیا کہ زبور ۱۱۰ (‏جس کے بارے میں وہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ مسیح کے متعلق ہے)‏ کے مطابق مسیح‏، داؤد کا بھی خداوند ہو گا۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ بیک وقت داؤد کا بیٹا اور اُس کا خداوند بھی ہو؟ اور داؤد بادشاہ کا زمین پر کیسے کوئی خداوند ہو سکتا ہے؟

اِس کا جواب یہ ہے کہ مسیح خدا بھی ہو گا اور انسان بھی۔ خدا کی حیثیت سے وہ داؤد کا خداوند ہو گا۔ انسان کی حیثیت سے وہ داؤد کا بیٹا ہو گا۔ اور مسیح یسوع میں الوہیت اور انسانیت متحد تھی‏، اِس لئے وہ داؤد کا خداوند اور بیٹا دونوں ہو سکتا تھا۔

سب شہادتوں کے باوجود فریسی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ یسوع ہی مسیح ہے جس کے وہ عرصہ دراز سے منتظر تھے۔ چنانچہ ہم پڑھتے ہیں:‏

’’اور کوئی اُس کے جواب میں ایک حرف نہ کہہ سکا اور نہ اُس دن سے پھر کسی نے اُس سے سوال کرنے کی جرأت کی‘‘ (‏متی ۲۲:‏ ۴۱‏،۴۶ بمقابلہ مرقس ۱۲:‏ ۳۵۔۳۷ ؛ لوقا ۲۰:‏ ۴۱۔ ۴۴)‏۔

عہد جدید کے مصنفین کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ وہ جو خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے‏، یسوع ناصری کے سوا اَور کوئی نہیں ہے (‏متی ۲۶:‏ ۶۴ ؛ مرقس ۱۴:‏ ۶۲ ‏، ۱۶:‏ ۱۹ ؛ لوقا ۲۲:‏ ۶۹ ؛ اعمال ۲:‏۳۴ ‏، ۳۵ ‏، ۵:‏۳۱ ‏، ۷:‏۵۵‏،۵۶ ؛ رومیوں ۸:‏ ۳۴ ؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۲۴ و مابعد ؛ افسیوں ۱:‏ ۲۰ ؛ کلسیوں ۳:‏۱ ؛ عبرانیوں ۱:‏ ۳‏،۱۳ ‏، ۸:‏۱ ‏، ۱۰:‏۱۲‏،۱۳ ‏، ۱۲:‏۲ ؛ ۱۔پطرس ۳:‏ ۲۲ ؛ مکاشفہ ۳:‏ ۲۱)‏۔ چنانچہ پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ نے خداوند یسوع کے صعودِ مبارک پر کیا کہا جب وہ خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا۔ لیکن وہ صرف اُس وقت تک وہاں ہو گا جب تک اُس کے تمام دشمنوں کو اُس کے پاؤں کی چوکی نہ بنا دیا جائے۔

۱۱۰ :‏ ۲ آیت ۱‏،۲ کے درمیان کلیسیائی دَور آتا ہے جو مسیح کی تخت نشینی سے لے کر اُس کی دوسری آمد تک ہے۔ آیت ۲ میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہوواہ مسیح کا شاہی عصا صیون سے بھیجتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں مسیح خداوند کو بادشاہ مقرر کیا جاتا ہے اور یروشلیم اُس کا دارالخلافہ ہے۔ عصا شاہی اختیار کی علامت ہے۔ مسیح خداوند کو اپنے دشمنوں کے درمیان تمام دُنیا پر حکومت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ’’اپنے دشمنوں پر حکمرانی کر۔‘‘ اِس وقت سے پہلے خداوند یسوع اپنے تمام دشمنوں کو ہلاک کرے گا۔ یہاں اُس کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کی بات نہیں کی گئی بلکہ اُس کے دشمنوں پر حکمرانی کے لئے کہا گیا ہے جو اَب اُس کے دوست بن چکے ہیں اور اُس کی حکومت کے تابع ہو چکے ہیں۔ 

۱۱۰:‏ ۳ آیت ۳ میں تصدیق ہوتی ہے کہ جب وہ پاک پہاڑ پر اپنی فوجوں کی قیادت کرے گا تو لوگ رضا مندی سے اپنے آپ کو پیش کریں گے۔

یہاں لوگ رضا مندی سے پاک آرائش میں بادشاہ کا استقبال کرتے ہیں۔ بارنز لکھتا ہے کہ یہ لوگ اُس خوبصورتی اور دلکشی کا اظہار کریں گے جو پاک اور صاف ستھرے کردار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ 

آیت ۳ کا آخری حصہ مترجمین و مفسرین کے لئے کوفت کا باعث بنا رہا۔ سکروگی اِس کا یہ مفہوم پیش کرتا ہے‏، ’’جیسے شبنم اپنی ماں یعنی صبح کے بطن سے پیدا ہوتی ہے‏، ویسے ہی تیری فوج کثرت سے‏، تازہ دم‏، ہشاش بشاش اور زور آور حالت میں تیرے پاس آئے گی۔ ‘‘

۱۱۰:‏ ۴ بادشاہی کے نمایاں خدوخال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خداوند یسوع کی ذات میں بادشاہ اور کاہن کے دو عہدے متحد ہوں گے۔ انسانی حکمرانی کی صورت میں ایسا اتحاد بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ مغرب میں کلیسیا اور ریاست کی علیٰحدگی بلاوجہ نہیں ہے۔ لیکن جب یسوع حکمران ہے تو یہ اتحاد اچھا اور مناسب ہے۔ بغیر کسی خرابی کے بادشاہی عہدہ اور روحانی کہانت دنیا والوں کو ایک ایسا انتظام دے گی جس کے لئے لوگ عرصہ دراز سے منتظر رہے ہیں۔ 

آیت ۴ میں ہم مسیح کی کہانت کے سلسلے میں چار باتیں سیکھتے ہیں:‏

  1. یہوواہ نے اُسے کاہن بنانے کے لئے قسم کھائی تھی۔
  2. یہ تقرری ناقابلِ تنسیخ تھی۔
  3. اُس کی کہانت ابدی ہے۔
  4. یہ کہانت ملکِ صدق کے طور پر ہے۔

’’ملکِ صدق کے طور پر‘‘ کی ہمارے لئے عبرانیوں ابواب ۵۔۷ میں تفسیر کی گئی ہے۔ وہاں ملکِ صدق کی کہانت کا ہارون کے خاندان یا لاوی کے قبیلے کی کہانت سے موازنہ کیا گیا ہے۔

شریعت کے تحت خدا نے لاوی کے قبیلے کے مردوں اور ہارون کے خاندان کو کاہن مقرر کیا۔ اُن کی کہانت اُنہیں والدین سے ملتی اور موت کے وقت ختم ہوتی تھی۔ 

خدا نے اُس پُراسرار شخص ملک صدق کو اپنی مطلق العنان مرضی سے کہانت کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ اُسے یہ کہانت اُس کے والدین کی طرف سے میراث میں نہیں ملی تھی (‏’’یہ بے باپ‏، بے ماں‏، بے نسب نامہ ہے‘‘ عبرانیوں ۷:‏ ۳ الف)‏‏، اور اُس کی کہانت کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کہ کب شروع ہوئی اور کب ختم ہو گی۔ (‏’’نہ اُس کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخر‘‘ عبرانیوں ۷:‏ ۳ب)‏۔ اِس لحاظ سے ملک صدق کی کہانت لاوی کی کہانت سے برتر تھی۔ ہمارے خداوند کی کہانت بھی کسی نسل کی طرف سے نہیں تھی کیونکہ وہ لاوی کے قبیلے سے نہیں بلکہ یہوداہ کے قبیلے سے تھا۔ اُس کی کہانت خدا کے مطلق العنان ابدی فرمان کے وسیلے سے قائم ہوئی۔ چونکہ وہ ہمیشہ تک زندہ رہے گا اِس لئے اُس کی کہانت کبھی ختم نہ ہو گی۔

ایک اَور طرح سے ملک صدق‏، مسیح کے مشابہ تھا کہ وہ کاہن بھی تھا اور بادشاہ بھی۔ اُس کا نام اور لقب ظاہر کرتا ہے کہ وہ راست بازی اور صلح (‏سالم)‏ کا بادشاہ تھا (‏عبرانیوں ۷:‏۲)‏۔ وہ خدا تعالیٰ کا کاہن بھی تھا (‏پیدائش ۱۴:‏ ۱۸)‏۔

۱۱۰:‏۵ زبور کی آخری تین آیات میں خداوند یسوع مسیح کی ایک زور آور فاتح کی حیثیت سے تصویر پیش کی گئی ہے جو اپنی حکومت کے آغاز سے پہلے ہر طرح کی لاقانونیت اور بغاوت کو ختم کرتا ہے۔ اِن آیات میں مذکورہ شخصیات کی شناخت کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے‏، اگر ہم اُنہیں اِس نقطہ نگاہ سے دیکھیں کہ اِن میں یہوواہ اور مسیح بادشاہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ آیت ۵ کو اِس انداز سے پڑھیں:‏

خداوند (‏ادونائے۔۔یہاں خداوند یسوع مراد ہے)‏ تیرے (‏یہوواہ کے)‏
دہنے ہاتھ ہے۔ وہ (‏مسیح)‏ اپنے قہر کے دن بادشاہوں کو چھید ڈالے گا۔

۱۱۰ :‏۶ یہاں خداوند یسوع غیراقوام کے خلاف لشکر کشی کرتا ہے جیسا کہ یوایل ۳:‏۹۔۱۷ ؛ زکریاہ ۱۴:‏۳ اور مکاشفہ ۱۹:‏۱۱۔۲۱ میں پیش گوئی کی گئی ہے۔ وہ قوموں میں عدالت کرتا ہے اور وادی اُن کی لاشوں سے اٹ جاتی ہے۔ مزید بیان یہ ہے ’’وہ بہت سے ملکوں میں سروں کو کچلے گا۔‘‘ اِس کا یہ بھی ترجمہ ہو سکتا ہے‏، ’’وہ وسیع مُلک میں سروں کو کچلے گا۔‘‘ یہ بے دین شخص کے انجام کی طرف اشارہ ہے ’’جسے خداوند یسوع اپنے منہ کی پھونک سے ہلاک اور اپنی آمد کی تجلی سے نیست کرے گا‘‘ (‏۲۔تھسل ۲:‏۸)‏۔ 

۱۱۰:‏ ۷ جونہی وہ اپنے دشمنوں سے نپٹنے کے لئے آگے بڑھتا ہے تو بادشاہ راہ میں ندی کا پانی پئے گا۔ چونکہ پانی روح القدس کی ایک علامت ہے (‏یوحنا ۷:‏ ۳۸‏،۳۹)‏‏، اِس لئے ممکن ہے کہ اِس کا یہ مطلب ہو کہ خداوند روح کی خدمت سے تازہ دم ہو جاتا ہے اور ازسرِ نو قوت حاصل کرتا ہے۔ اِس سے اِس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ اِس کے نتیجے میں کیوں فتح سے اپنے سر کو بلند کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ یٔہوواہ نے میرے خُداوند سے کہا تُومیرے دہنے ہاتھ بیٹھ جب تک کہ میں تیر ے دُشمنوں کو تیرے پاؤں کی چو کی نہ کر دوُں۔
۲ خُداوند تیرے زور کا عصا صیُون سے بھیجیگا۔ تُو اپنے دُشمنو ں میں حُکمر ا نی کر ۔
۳ لشکر کشی کے دن تیر ے لوگ خُوشی سے اپنے آپ کو پیش کر تے ہیں ۔تیر ے جوان پاک آرایش میں ہیں۔ اور صُبح کے بطن سے شبنم کی مانند ۔
۴ خُداوند نے قسم کھائی ہے اور پھریگا نہیں کہ تُو مِلکِ صدؔق کے طور پر ابدتک کاہن ہے ۔
۵ خُداوند تیرے دہنے ہاتھ پر اپنے قہر کے دن بادشاہوں کو چھید ڈالیگا۔
۶ وہ قوموں میں عدالت کریگا۔ اور لاشوں کے ڈھیر لگا دیگا۔ اور بہت سے مُلکوں میں سروں کو کُچلے گا۔
۷ وہ راہ میں ندی کا پانی پئیگا اِسلئے وہ سر کو بُلند کریگا۔