وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«موضوع ہے مسیح، وسیلہ ہے کلیسیا اور قدرت ہے روح القدس۔» ڈبلیو۔ گراہم سکراگی (Graham Scroggie)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
رسولوں کے اعمال کلیسیائی تاریخ کا واحد حصہ ہے جو الہام سے قلم بند کیا گیا۔ یہ کلیسیا کی اوّلین تاریخ ہے، اور کلیسیا کی وہ اِبتدائی تاریخ ہے جو ایمان کے اِبتدائی زمانے کا بیان کرتی ہے۔ باقی تاریخی بیانات صرف لوقا کی تحریر سے استفادہ کرتے ہیں اور اِن میں کچھ روایات (جو زیادہ تر قیاسی اور خیالی ہیں) کا اضافہ کر لیتے ہیں اور بس! اگر یہ کتاب نہ ہوتی تو ہمیں ابتدائی کلیسیا کی تاریخ کا قطعاً کوئی علم نہ ہوتا اور ہمیں اناجیل میں اپنے خداوند کے حالات سے سیدھے اور ایک دَم خطوط میں داخل ہونا پڑتا۔ خیال کیجئے کتنا بڑا خلا رہ جاتا۔ ہم یہ جاننے سے قاصر رہتے کہ جن کلیسیائوں سے خطاب کیا گیا ہے وہ کون ہیں اور کیسے وجود میں آئی تھیں۔ اعمال کی کتاب نہ صرف اِن سوالات کا بلکہ دیگر سوالوں کا بھی جواب دیتی ہے۔ یہ کتاب مسیح کی زندگی اور اُس مسیحانہ زندگی کے درمیان ایک پُل ہے جس کی تعلیم خطوط میں دی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ یہ یہودیت سے مسیحیت کی طرف اور شریعت سے فضل کی طرف کے عبوری عرصے کا بیان بھی ہے۔ یہی اعمال کی کتاب کی تفسیر کرتے ہوئے ایک بڑی مشکل کا سبب بھی ہے یعنی یروشلیم سے اُٹھنے والی ایک چھوٹی سی یہودی تحریک کے اُفق بتدریج کس طرح وسیع ہوئے اور کس طرح اُس نے ایک عالم گیر ایمان کی صورت اِختیار کر لی جس کی راہیں شاہی دارالحکومت کے اندر تک جا پہنچیں۔
۲۔ مصنف
تقریباً سبھی مفسرین متفق ہیں کہ لوقا کی اِنجیل اور رسولوں کے اعمال ایک ہی شخص کی تصنیف ہیں۔
اِس بات کے حق میں کہ اعمال کی کتاب لوقا کی تصنیف ہے خارجی شہادتیں بہت وسیع اور مضبوط ہیں اور اِبتدائی دَور سے موجود چلی آ رہی ہیں۔ لوقا کا دیباچہ (۱۶۰ء _ ۱۸۰ء) جو مرقیون (Marcion) کے نظریات کی تردید کرتا ہے اور مرتوروی فہرست ِمسلمہ (Muratorian Canon) (۱۷۰ء تا ۲۰۰ء) اور ابتدائی آبائے کلیسیا یعنی سکندریہ کا کلیمنٹ(Clement)، طرطلیان (Tertullian) اور اورغین (Oregin)سب متفق ہیں کہ اعمال کی کتاب لوقا نے لکھی ہے۔ اِسی طرح یوسیبیُس اور جیروم جیسے مصنفین بھی جو اعمال کو تاریخِ کلیسیا میں شامل کرتے ہیں، اِس نکتے پر متفق ہیں کہ اِس کا مصنف لوقا ہی ہے۔
اعمال کی کتاب کے مصنف کے بارے میں داخلی شہادتیں تین ہیں۔ کتاب کے شروع ہی میں مصنف ایک پہلے کی تصنیف کا حوالہ دیتا ہے جو تھیفلس سے منسوب تھی۔ لوقا ۱: ۱- ۴ سے پتا چلتا ہے کہ اِس سے مراد تیسری اِنجیل ہے۔ اندازِ تحریر، درد مندانہ نقطۂ نظر، اِستدلال (مسائل، اعتراضات کے جواب/ مناظرہ) پر زور اور کئی چھوٹی چھوٹی تفاصیل وہ کڑیاں ہیں جو دونوں کو باہم ملاتی ہیں۔ اگر لوقا کو باقی تین اناجیل کے ساتھ رکھنے کی خواہش غالب نہ ہوتی تو یہ اِنجیل اور اعمال کی کتاب اِسی طرح ساتھ ساتھ ہوتیں جیسے پہلا اور دوسرا کرنتھیوں۔
دوم، اعمال کے متن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصنف پولس رسول کے سفروں کا ساتھی تھا۔ خاص طور پر اُن حصوں میں جہاں «ہم» کا لفظ استعمال کیا گیا ہے (۱۶: ۱۰- ۱۷؛ ۲۰: ۵- ۲۱: ۱۸؛ ۲۷: ۱- ۲۸: ۱۶) اور جہاں مصنف اُن واقعات میں موجود ہے جو قلم بند کئے گئے ہیں۔ شکوک کو اُبھارنے والے لوگ اِن کو «خیالی یا داستانوی» قرار دیتے ہیں، مگر اِس بات میں کوئی وزن نہیں۔ اگر «ہم» کا اضافہ صرف اِس لئے کیا گیا ہے کہ تحریر زیادہ مستند دِکھائی دے تو پھر یہ اتنا کم کیوں ہوا اور اِس کا استعمال اِتنا لطیف کیوں ہے؟ نیز «ہم» میں جو « مَیں» شامل ہے اُس کو کوئی نام کیوں نہیں دیا گیا؟
سوم، جب پولس کے وہ ساتھی جن کا ذکر صیغۂ غائب میں کیا گیا اور وہ بھی جن کے بارے میں علم ہے کہ وہ «ہم» والے حصوں میں اُس کے ساتھ نہیں تھے خارج کر دیا جاتا ہے تو صرف لوقا ہی باقی رہ جاتا ہے جو اِس کتاب کا مصنف ہو سکتا ہے۔
۳۔ سنِ تصنیف
نئے عہدنامے کی بعض کتابوں کے وجود میں آنے کی تاریخ کو جاننا اِتنا ضروری نہیں ہے، لیکن اعمال کی کتاب کا سنِ تصنیف بہت اہم ہے اِس لئے کہ یہ کلیسیا کی تاریخ ہے بلکہ اِسے کلیسیا کی تاریخ کی پہلی کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔
اِس کی تصنیف کے تین سن پیش کئے جاتے ہیں۔ دو تو لوقا کو مصنف مانتے ہیں جب کہ تیسرا اِنکار کرتا ہے۔
- اگر مان لیا جائے کہ یہ کتاب دوسری صدی عیسوی میں لکھی گئی تھی تو لوقا اِس کامصنف نہیں ہو سکتا۔ وہ ۸۰ء یا زیادہ سے زیادہ ۸۵ء تک زندہ تھا۔ بعض آزاد خیال مصنفین محسوس کرتے ہیں کہ اعمال کے مصنف نے یوسیفس کی کتاب Antiquities (سنِ تصنیف تقریباً ۹۳ء) سے استفادہ کیا ہے۔ لیکن تھیوداس (اعمال ۵: ۳۶) کے متعلق لوقا اور یوسیفس کے بیانات میں خاص اختلاف پایا جاتا ہے۔
- عام مقبول نظریہ یہ ہے کہ لوقا نے رسولوں کے اعمال ۷۰ء اور ۸۰ء کے درمیان لکھی۔ اِس طرح ممکن ہے کہ اُس نے مرقس کی اِنجیل (سنِ تصنیف تقریباً ۶۰ء کا عشرہ) سے اِستفادہ کیا ہو۔
- سب سے زیادہ مضبوط دلیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن واقعات پر اِس کتاب کی تاریخ ختم ہوتی ہے لوقا نے اُن کے تھوڑے ہی عرصے بعد اِس کتاب کو مکمل کیا تھا یعنی پولس کی روم میں پہلی قید کے دوران۔
ممکن ہے کہ لوقا نے ایک تیسری جلد لکھنے کا منصوبہ بنایا ہو (مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی)۔ اِس لئے اُس نے وہ تباہ کن واقعات بیان نہیں کئے جو مسیحیوں کو ۶۳ء اور ۷۳ء کے درمیانی عرصے میں پیش آئے تھے۔ لیکن چونکہ مندرجہ ذیل واقعات کا کوئی ذکر نہیں اِس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصنیف اِن سے پہلے کی ہے۔ واقعات یہ ہیں __ روم کو جلانے (۶۴ء) کے بعد مسیحیوں پر نیرو کے وحشیانہ مظالم، یہودیوں کی روم کے ساتھ جنگ (۶۶-۷۰ء)، پطرس اور پولس کی شہادت (۶۰ء کے دہے کا اخیر) اور یہودیوں اور عبرانی مسیحیوں کے لئے سب سے دل شکن واقعہ یعنی یروشلیم کی بربادی۔ چنانچہ زیادہ اِمکان یہ ہے کہ لوقا نے اعمال کی کتاب اُس زمانے میں لکھی جب پولس روم میں قید (۶۲ء یا ۶۳ء) تھا۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
رسولوں کے اعمال کی کتاب میں زندگی اور عمل و حرکت کی فراوانی نظر آتی ہے۔ روح القدس کام کرتا ہوا دِکھائی دیتا ہے۔ وہکلیسیاکو قائم کر رہا ہے۔ اُسے تقویت اور توانائی عطا کر رہا ہے۔ اُس کے تبلیغی کام کو وسیع سے وسیع تر کر رہا ہے۔ یہ ایک شاندار روئیداد ہے کہ قادر روح ایسے ذرائع اور وسائل کو استعمال کرتا ہے جو بالکل غیر ممکن معلوم ہوتے ہیں۔ ناقابلِ تسخیر رُکاوٹوں پر غالب آتا ہے۔ نہایت غیر روایتی طریقے استعمال کر رہا ہے اور نہایت شاندار نتائج حاصل کر رہا ہے۔
جہاں اناجیل کے بیان کا اِختتام ہوتا ہے اعمال کی کتاب کے بیان وہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ بڑی تیزی اور ڈرامائی انداز سے اِبتدائی کلیسیا کے اِبتدائی سالوں کے طوفانی واقعات و حالات کو ہمارے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اُس تبدیلی اور عبوری صورتِ حال کی رُوداد ہے جس میں نئے عہدنامے کی کلیسیا نے یہودیت کا کفن اُتار پھینکا اور ایک نئی رفاقت و شراکت کی اِمتیازی خصوصیات کو اُجاگر کیا جس میں یہودی اور غیراقوام مسیح میں ایک ہو جاتے ہیں۔ کسی نے کیا بجا کہا ہے کہ اعمال کی کتاب «اضحاق کی دودھ چھڑائی» کی داستان ہے۔
اِس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک روحانی فرحت و نشاط کا احساس حاصل ہوتا ہے کہ خدا سرگرمِ عمل ہے۔ ساتھ ہی اُس تنائو اور کشاکش کا احساس ہوتا ہے جو شیطان اور گناہ کی مخالفت اور رُکاوٹ سے ہوتا ہے۔
پہلے بارہ ابواب میں مقدس پطرس رسول کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ بڑی جرأت اور دلیری کے ساتھ اِسرائیلی قوم کے سامنے منادی کرتا ہے۔ تیرھویں باب سے مقدس پولس رسول صف ِاوّل میں آ جاتا ہے۔ وہ غیر قوموں کے لئے پُرجوش، اَن تھک اور روح سے معمور رسول ہے۔
اعمال کے واقعات تقریباً تیس سال پر محیط ہیں۔ جے۔بی۔ فلپس کہتا ہے کہ اِنسانی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اِتنے مختصر سے عرصے میں معمولی سے اِنسان کے اِتنے چھوٹے گروہ نے دُنیا پر اِتنا اثر چھوڑا ہو کہ اُن کے دشمن بھی غیض وغضب سے بھری آنکھوں کے ساتھ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ اُنہوں نے «جہان کو باغی کر دیا ہے» (اعمال ۱۷: ۶) لغوی معنی «جہان کو اُلٹ دیا ہے»۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱۔ | یروشلیم کی کلیسیا | ۱- ۷ | |
| الف۔ | جی اُٹھے خداوند کا روح القدس کے بارے میں وعدہ | ۱: ۱- ۵ | |
| ب۔ | آسمان پر جاتے ہوئے خداوند کا شاگردوں کو فرمان | ۱: ۶- ۱۱ | |
| ج۔ | شاگرد یروشلیم میں دعا کے ساتھ اِنتظار کرتے ہیں | ۱: ۱۲- ۲۶ | |
| د۔ | پنتکست کا دن اور کلیسیا کا آغاز | ۲: ۱- ۴۷ | |
| ہ۔ | ایک لنگڑے آدمی کی شفا اور پطرس کا اِسرائیلی قوم پر الزام | ۳: ۱- ۲۶ | |
| و۔ | کلیسیا کی ایذارسانی اور ترقی | ۴: ۱- ۷: ۶۰ | |
| ۲۔ | یہودیہ اور سامریہ میں کلیسیا | ۸: ۱- ۹: ۳۱ | |
| الف۔ | سامریہ میں فلپس کی خدمت | ۸: ۱- ۲۵ | |
| ب۔ | فلپس اور حبشی خوجہ | ۸: ۲۶- ۴۰ | |
| ج۔ | سائول ترسی کا مسیح پر ایمان لانا | ۹: ۱- ۳۱ | |
| ۳۔ | دُنیا کی اِنتہا تک کلیسیا | ۹: ۳۲- ۲۸: ۳۱ | |
| الف۔ | پطرس غیر قوموں میں اِنجیل کی منادی کرتا ہے | ۹: ۳۲ـ- ۱۱: ۱۸ | |
| ب۔ | انطاکیہ میں کلیسیا کا قیام | ۱۱: ۱۹- ۳۰ | |
| ج۔ | ہیرودیس کی طرف سے ظلم و ستم اور اُس کی وفات | ۱۲: ۱- ۲۳ | |
| د۔ | پولس کا پہلا بشارتی دورہ: گلتیہ | ۱۲: ۲۴- ۱۴: ۲۸ | |
| ہ۔ | یروشلیم کی کونسل | ۱۵: ۱- ۳۵ | |
| و۔ | پولس کا دوسرا بشارتی دَورہ : ایشیائے کوچک اور یونان | ۱۵: ۳۶- ۱۸: ۲۲ | |
| ز۔ | پولس کا تیسرا بشارتی دَورہ : ایشیائے کوچک اور یونان | ۱۸: ۲۳- ۲۱: ۲۶ | |
| ح۔ | پولس کی گرفتاری اور پیشیاں | ۲۱: ۲۷- ۲۶: ۳۲ | |
| ط۔ | پولس کا سفرِ روم اور جہاز کی غرقابی | ۲۷: ۱- ۲۸: ۱۶ | |
| ی۔ | پولس کی نظر بندی اور روم کے یہودیوں کے سامنے گواہی | ۲۸: ۱۷- ۳۱ | |