واعظ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

واعظ

Ecclesiastes

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

”فانی دُکھ درد اور رنج و راحت کا ایسا ولولہ انگیز جائزہ‏، زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا ایسا ہمہ گیر تجزیہ واعظ کی کتاب کے علاوہ اَور کہیں نہیں ملتا۔ اِس کی عالی مرتبت غم انگیزی کا جواب نہیں۔ روحانی روشنی اور بصیرت کے اَنمٹ نقوش ثبت کرنے میں کوئی نظم اِس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔“ —  ای۔سی۔ سٹیڈمین

۱۔ فہرستِ مسلمہ میں منفرد مقام

بائبل مقدس میں ’’واعظ‘‘ واحد کتاب ہے جس کی ’’بے مثالیت‘‘ پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا‏، حالانکہ اِس کی دیگر ہر بات پر مثلاً مصنف کون ہے؟ تاریخِ تصنیف کیا ہے؟ اِس کا بنیادی موضوع اور الٰہیات کیا ہے؟ اعتراض اُٹھائے گئے ہیں۔ 

ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب خدا کے باقی سارے پاک کلام سے ٹکراتی ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِس میں آسمان کے نیچے ساری اِنسانی عقل اور دلیل بازی پیش کی گئی ہے۔ یہ الفاظ ’’آسمان کے نیچے‘‘ واعظ کو سمجھنے کی واحد اور اہم کلید ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ الفاظ کتاب میں انتیس بار آئے ہیں مصنف کے تناظر کو ظاہر کرتی ہے۔ اُس کی تحقیق اِسی زمین تک محدود ہے۔ وہ زندگی کا معما حل کرنے کی خاطر دُنیا کو چھان مارتا ہے۔ اُس کا اپنا ذہن ہی ساری تفتیش اور چھان بین کرتا ہے۔ اِس میں خدا کی مدد شامل نہیں۔ 

اگر کلید یعنی ’’آسمان کے نیچے‘‘ کے الفاظ کو ہمہ وقت ذہن میں نہ رکھا جائے تو کتاب میں نہایت دشوار مشکلات و مسائل نظر آئیں گے۔ ایسا معلوم ہو گا کہ یہ کتاب باقی سارے صحائف کی تردید کرتی ہے‏، عجیب عجیب عقائد پیش کرتی ہے اور قابلِ اعتراض قسم کی اخلاقیات کی وکالت کرتی ہے۔ 

لیکن اگر یاد رکھیں کہ واعظ خدا کی حکمت کا نہیں بلکہ اِنسانی عقل و دانش کے حقائق کا مجموعہ ہے تو یہ سمجھنا آسان ہو گا کہ اِس کے بعض کلیے قاعدے کیوں سچے ہیں‏، بعض کیوں آدھا سچ ہیں اور بعض بالکل سچے نہیں ہیں۔ 

آئیے چند مثالوں پر غور کریں۔ واعظ ۱۲:‏۱ ایک سچائی ہے اور ہر زمانے کے نوجوانوں کے لئے قابلِ اعتماد نصیحت ہے کہ اُنہیں اپنی جوانی کے دِنوں میں اپنے خالق کو یاد رکھنا چاہئے۔ ۱:‏۴ صرف آدھی سچائی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ’’ایک پُشت جاتی ہے اور دوسری پشت آتی ہے‘‘‏، لیکن یہ سچ نہیں کہ ’’زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے‘‘ (‏دیکھئے زبور ۱۰۲:‏۲۵‏،۲۶ اور ۲۔پطرس ۳:‏۷‏،۱۰)‏۔ اِس کے بعد کے بیانات کو اگر سطحی طور پر دیکھا جائے تو بالکل سچ نہیں ہیں:‏ ’’پس اِنسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خوش ہو کر اپنا جی بہلائے‘‘ (‏۲:‏۲۴)‏۔ ’’اِنسان کو حیوان پر کچھ فوقیت نہیں‘‘ (‏۳:‏۱۹)‏۔ ’’مُردے کچھ بھی نہیں جانتے‘‘ (‏۹:‏۵)‏۔ 

تاہم اگر ہمیں خدا کا مکاشفہ اور عرفان حاصل نہ ہوتا تو غالباً ہم بھی اِسی نتیجے پر پہنچتے۔

واعظ اور اِلہام

جب ہم کہتے ہیں کہ اِس کتاب میں ’’آسمان کے نیچے‘‘ پیش کردہ نتائج یا مقولے آدھا سچ ہیں یا بالکل سچ نہیں ہیں تو اِس سے واعظ کی کتاب کے الہامی ہونے پر کیا اثر پڑتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ الہامی ہونے کے سوال پر اِس کا قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ کتاب خدا کے الہامی کلام کا ایک حصہ ہے‏، یعنی ایسی تحریر جسے خدا نے ٹھہرا دیا تھا کہ یہ مصدقہ و مستند کلام میں شامل ہو۔ جس طرح باقی بائبل پر اُسی طرح ہم واعظ کے زبانی اور بااِختیار الہام پر یقین رکھتے ہیں۔ 

لیکن بائبل مقدس کی الہامی کتابوں میں بعض اوقات شیطان کے اور اِنسان کے وہ بیانات موجود ہوتے ہیں جو سچے نہیں ہیں۔ پیدائش ۳:‏۴ میں شیطان نے حوا سے کہا کہ اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے جو باغ کے درمیان میں ہے تو ہرگز نہ مرو گے۔ یہ جھوٹ تھا۔ لیکن یہ بائبل مقدس میں اِس لئے دیا گیا ہے تاکہ ہمیں سکھایا جائے کہ ابلیس شروع ہی سے جھوٹا ہے جیسا کہ ڈاکٹر چیفر نے کہا ہے:‏

ممکن ہے کہ الہام شیطان کا یا اِنسان کا جھوٹ رقم تو کرے‏، لیکن اُس کو راست نہیں ٹھہراتا نہ اُس کی تقدیس کرتا ہے۔ اچھا یا بُرا جو کچھ کہا گیا تھا صرف اُس کا ہو بہو ریکارڈ رکھتا ہے۔ 

واعظ کا غلط استعمال

چونکہ واعظ کی کتاب ’’آسمان کے نیچے‘‘ اِنسانی عقل اور دلیل بازی پیش کرتی ہے اِس وجہ سے کلام کے الہام پر شک کرنے والوں اور جھوٹے مسالک کی یہ سب سے پسندیدہ کتاب ہے۔ وہ اپنے بے دین اور بدعتی اعتقادات کو اور خصوصاً موت اور موت کے بعد زندگی کے بارے میں اپنے نظریات کو ثابت کرنے کی خاطر اِس کتاب سے حوالے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر موت کے بعد روحوں کے سوتے رہنے اور بدکاروں کے فنا یا معدوم ہو جانے کی تعلیم دینے کے لئے اِسی کتاب سے آیات استعمال کرتے ہیں۔ وہ بقائے رُوح اور ابدی سزا کا اِنکار کرنے کے لئے آیات کو سیاق و سباق سے جدا کر کے اور توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ 

لیکن وہ کبھی سیدھی بات نہیں کرتے اور حقیقت کی طرف اشارہ تک نہیں کرتے۔ وہ اپنے شکار کو کبھی نہیں بتاتے کہ واعظ کی کتاب آسمان کے نیچے اِنسانی عقل و دانش کی وضاحت کرتی ہے‏، اِس لئے مسیحی ایمان اور عقائد کو ثابت کرنے کے لئے موزوں اور معقول نہیں۔ 

۲۔ مصنف

سترھویں صدی تک اکثر یہودی اور مسیحی وثوق سے کہتے تھے کہ واعظ کی کتاب کا مصنف سلیمان ہے۔ اِس سے ایک صدی پہلے قدامت پسند مارٹن لوتھر نے یہ ماننے سے اِنکار کر دیا کہ سلیمان اِس کا مصنف ہے۔ لیکن اُسے ایک اِستثنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ 

آج بھی بعض لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ قدامت پسندوں سمیت بائبل کے اکثر و بیشتر علما مانتے ہیں کہ یہ کتاب سلیمان کی تصنیف نہیں بلکہ سلیمانی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ مقصد دھوکا دینا نہیں بلکہ یہ ایک ادبی صِنف یا انداز ہے۔ 

اِسے سلیمان کی تصنیف نہ ماننے کے دلائل

اِسے سلیمان بادشاہ کی تصنیف ماننے کی روایت سے اِنکار کرنے میں سب سے بڑی دلیل ’’زبان‘‘ کے بارے میں ہے۔ بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ اِس کتاب میں ایسے الفاظ اور تراکیب اور گرائمر کی ساختیں پائی جاتی ہیں جو بابل کی اسیری کے بعد وجود میں آئیں۔

اکثر راسخ العقیدہ لوگوں کے لئے سلیمان سے اِس تحریر کو منسوب کرنے کا تصور ہی قابلِ قبول نہیں۔ زیادہ ایمان دار اِسے جھوٹ اور فریب ہی سمجھتے ہیں۔ 

اِس مسئلے کے حق اور مخالفت میں دلائل طویل اور پیچیدہ ہیں۔ ہم اُن کو دُہرانے اور تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اِتنا ہی کہنا کافی ہے کہ سلیمان کو اِس کتاب کا مصنف ماننے کے خلاف جتنے بھی اعتراض اُٹھائے گئے ہیں اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں جسے غلط ثابت نہ کیا جا سکے۔ کئی ذمہ دار علما ثابت کرتے ہیں کہ سلیمان کو واعظ کی کتاب کا مصنف ماننا معقول بات معلوم ہوتی ہے۔ 

سلیمان کو مصنف ماننے کے حق میں دلائل

سلیمان کو اِس کتاب کا مصنف ماننے کا روایتی نظریہ آج کتنا بھی نامقبول ہو‏، مگر چونکہ اِسے حقیقت میں کبھی غلط ثابت نہیں کیا گیا اِس لئے ہم محسوس کرتے ہیں کہ اِسی نظریے کی حمایت کرنا اور اِس پر قائم رہنا مناسب ہے۔ 

ایسے بالواسطہ اشارے موجود ہیں کہ سلیمان نے یہ کتاب لکھی۔ مثلاً ۱:‏۱‏،۱۲ میں مصنف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ’’داؤد کا بیٹا‘‘ اور ’’یروشلیم کا بادشاہ‘‘ تھا۔ لفظ ’’بیٹا‘‘ سے مراد بعد میں آنے والا کوئی جانشین ہو سکتا ہے۔ لیکن جب اِن الفاظ کو اُن تفاصیل کے ساتھ ملایا جائے جو براہِ راست سلیمان کے معلومہ حالاتِ زندگی سے مطابقت رکھتی ہیں تو اِس دلیل میں بہت وزن معلوم ہوتا ہے۔ 

چونکہ مصنف کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ’’تھا‘‘ اِس لئے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنف سلیمان نہیں ہو سکتا کیونکہ سلیمان اُس وقت بادشاہ ہی تھا جب اُس نے وفات پائی۔ تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات بڑھاپے میں ماضی کا اِس طرح ذِکر کرتے ہوئے لکھنا کوئی ناممکن بات نہیں۔ 

واعظ کی کتاب میں ’’براہِ راست تواریخی حوالے‘‘ سلیمان سے قطعی مناسبت رکھتے ہیں کسی اَور سے نہیں۔ 

سلیمان یروشلیم میں بادشاہ تھا:‏ 

  1. نہایت حکمت والا (‏۱:‏۱۶)‏
  2. بے حد دولت مند (‏۲:‏۸)‏
  3. اُس نے اپنے آپ کو کسی خوشی سے محروم نہ رکھا (‏۲:‏۳)‏۔
  4. اُس کے پاس بڑی تعداد میں غلام‏، لونڈیاں اور نوکر چاکر تھے (‏۲:‏۷)‏۔
  5. وہ تعمیرات اور آرائشی منصوبوں کے لئے مشہور تھا (‏۲:‏۴۔۶)‏۔

یہودی روایت:‏ یہودی روایت واعظ کی تصنیف کو سلیمان سے منسوب کرتی ہے۔ اور صدیوں سے مسیحی علما اِسی کی پیروی کرتے آئے ہیں۔ اختلاف کا اِظہار صرف حالیہ سالوں میں سامنے آیا ہے۔ 

عبرانی زبان کے علما نے ’’زبان‘‘ کی بنیاد پر اِس دلیل کو سنجیدگی اور سختی سے چیلنج کیا ہے کہ یہ کتاب سلیمان کی تصنیف نہیں۔ اِس وجہ سے اور مندرجہ بالا شہادت کی وجہ سے ہم یہودی اور مسیحی روایت کو مانتے ہیں۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

اگر ہم سلیمان کو اِس کا مصنف مانیں اور اِس بات کو تسلیم کریں کہ اُس نے یہ بڑھاپے میں تحریر کی جب اُسے اپنی خود پرستانہ زندگی اور عیش و عشرت کی بطالت کا خوب پتا چل گیا تھا تو تاریخِ تصنیف ۹۳۰ ق م کے لگ بھگ ہو گی۔ 

اگر اِس بات کو ردّ کر دیا جائے کہ سلیمان ہی ’’واعظ‘‘ ہے تو کتاب کی تصنیف کی ممکنہ تاریخیں تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ 

بہت سے علما واعظ کی زبان کو زمانۂ ’’متاخر‘‘ کی عبرانی قرار دیتے ہیں (‏اگرچہ گلیسن آرچر اِسے ’’یکتا‘‘ یا ’’لاجواب‘‘ کے زُمرے میں رکھتا ہے)‏۔ اِس لئے عام طور سے واعظ کی کتاب اسیری کے بعد کے دَور (‏۳۵۰۔۲۵۰ ق م)‏ کی تصنیف مانی جاتی ہے۔ بعض راسخ العقیدہ علما اِس کے لئے فارسی دَور (‏تقریباً ۴۵۰۔۳۵۰ ق م)‏ سے قدرے پہلے کی تاریخ کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

آخری سے آخری ممکنہ تاریخ ۲۵۰۔۲۰۰ ق م ہو سکتی ہے‏، اِس لئے کہ غیر الہامی کتاب ’’یشوع بن سیراخ‘‘ (‏تقریباً ۱۹۰ ق م)‏ نے بلاشبہ اِس کا اِقتباس کیا ہے اور بحیرۂ مردار کے طوماروں (‏دوسری صدی ق م کے اواخر)‏ میں بھی اِس کتاب کے اِقتباسات موجود ہیں۔ 

۴۔ پس منظر اور مضمون

واعظ کی کتاب کو سلیمان کی تصنیف مانا جائے تو کتاب کے تاریخی پس منظر اور موضوع کا زیادہ یقین کے ساتھ تعین کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ 

سلیمان کی تحقیق

سلیمان کی زندگی میں ایک وقت آیا کہ وہ اِنسانی وجود کے حقیقی مقصد کی تلاش میں لگ گیا۔ اُس نے اچھی زندگی کو ڈھونڈ نکالنے پر کمر باندھی۔ خدا نے اُسے حکمت اور دولت فراوانی عطا کی تھی (‏۱۔سلاطین ۱۰:‏۱۴۔۲۵؛ ۲۔تواریخ ۹:‏۲۲۔۲۴)‏۔ اِس لئے سلیمان سوچتا تھا کہ اگر کسی کو دائمی راحت‏، آسودگی اور تسکین مل سکتی ہے تو وہ مَیں ہوں۔

لیکن اِس تحقیق اور تلاش پر سلیمان نے خود ایک شرط عائد کر دی تھی کہ مَیں یہ سب کام خود ہی کروں گا۔ اُسے اُمید تھی کہ الٰہی مکاشفے کی مدد کے بغیر ہی مَیں اپنی عقل و ذہانت سے زندگی کی تکمیل تلاش کر لوں گا۔ یہ خدا کی مدد کے بغیر کسی اِنسان کی اپنی تلاش اور جستجو ہونی تھی۔ سلیمان نے چاہا کہ وہ ’’آسمان کے نیچے‘‘ زندگی کی عظیم ترین اچھائی کی تلاش کر لے۔ 

سلیمان کی تحقیق کے اخذ کردہ نتائج

سلیمان کی یہ تحقیق اِس مایوس کن نتیجے پر ختم ہوئی کہ زندگی ’’بطلان اور ہوا کی چران‘‘ (‏۱:‏۱۴)‏ ہے۔ اُس کی تحقیق اُسے صرف یہ سمجھا سکی کہ آسمان کے نیچے یہ زندگی اِس ساری کوشش و سعی کے پاسنگ بھی نہیں۔ وہ نہ تو زندگی کی تکمیل اور نہ ہی دائمی آسودگی اور تسکین پا سکا۔ اپنی ساری دولت اور حکمت کے باوجود وہ اچھی زندگی دریافت کرنے میں ناکام رہا۔ 

اور بے شک اُس کا اخذ کردہ نتیجہ صحیح تھا۔ اگر کوئی شخص آسمان سے ’’اُوپر‘‘ نہیں جاتا تو یہ زندگی لا حاصل جستجو ہے۔ بے معنی اور بے مقصد ہے۔ یہ دُنیا جو کچھ دے سکتی ہے اُس سے اِنسان کے دل کو آسودگی اور تسکین حاصل نہیں ہو سکتی۔ پاسکل کا قول ہے کہ ’’اِنسان کے دل کے خلا کو صرف خدا ہی پُر کر سکتا ہے‘‘ اور اوگستین کا کہنا ہے ’’اے خداوند! تُو نے ہم کو اپنے لئے بنایا ہے اور ہمارے دل کو سوائے تیرے کہیں تسلی اور سکون نہیں مل سکتا۔‘‘

سلیمان کا تجربہ خداوند یسوع کی بات کی پیش بینی تھا کہ ’’جو کوئی اِس پانی میں سے پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہو گا‘‘ (‏یوحنا ۴:‏۱۳)‏۔ اِس دُنیا کا پانی دائمی آسودگی نہیں دے سکتا۔ 

حقیقت کے لئے سلیمان کی تلاش اور تحقیق صرف ایک عارضی مرحلہ تھا‏، اُس کی سوانح حیات کا صرف ایک باب تھا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ جب وہ سچائی کی اِس فلسفیانہ تلاش اور تحقیق کے سفر پر روانہ ہوا تو اُس کی عمر کیا تھی۔ لیکن صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب اُس نے یہ روزنامچہ لکھا تو کافی عمر رسیدہ تھا (‏۱:‏۱۲؛ ۱۱:‏۹)‏۔ بالآخر سلیمان کی نظریں آسمان کی طرف اُوپر اُٹھیں۔ یہ بات اِس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ بائبل مقدس کی تین کتابوں کا ایک بڑا حصہ اُس سے منسوب ہے۔ لیکن اُس کی زندگی کے آخری ایام گناہ اور ناکامی کے اندھیروں میں لپٹے ہوئے تھے۔ اِس سے ہمیں یاد آتا ہے کہ ایمان دار بھی کیسے بُری طرح برگشتہ ہو سکتا ہے۔ اور جو افراد خداوند یسوع کے واضح عکس یا مثال ہیں وہ بھی کیسے ادھورے اور ناقص ہیں۔ 

سلیمان اور خدا

یہ تو ثابت اور عیاں ہے کہ سلیمان خدا پر ایمان رکھتا تھا۔ اور اُس وقت بھی رکھتا تھا جب وہ تکمیل اور آسودگی کی تلاش میں تھا۔ واعظ کی کتاب میں وہ کم سے کم چالیس مرتبہ خدا کا ذِکر کرتا ہے‏، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس وقت وہ نہایت پکا ایمان رکھتا تھا۔ شروع سے آخر تک وہ خدا کے لئے جو لفظ استعمال کرتا ہے وہ ہے ’’الوہیم۔‘‘ یہ نام خدا کے ’’قادر خالق‘‘ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ سلیمان ایک دفعہ بھی خدا کے لئے ’’یہوواہ‘‘ (‏خداوند‏، یہوہ)‏ نام استعمال نہیں کرتا __ یعنی وہ خدا جس نے اِنسان کے ساتھ عہد کا رشتہ قائم کیا۔ 

یہ بہت اہم بیان ہے۔ آسمان کے نیچے جو اِنسان ہے وہ جان سکتا ہے کہ خدا ہے۔ رومیوں ۱:‏۲۰ میں پولس بھی یہی بات یاد دلاتا ہے۔ 

’’کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قدرت اور الوہیت دُنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کو کچھ عُذر باقی نہیں۔‘‘

مخلوقات یا کائنات سے خدا کا وجود ثابت ہے۔ دہریت حکمت نہیں بلکہ جان بوجھ کر اور ہٹ دھرمی سے اندھا بنے رہنے کا نام ہے۔ سلیمان پوری تاریخ میں سب سے زیادہ صاحبِ حکمت آدمی تھا۔ اُس نے اپنی عقل اور ذہانت سے سچائی کو جاننے کی کوشش کی اور پھر حقیقت کو تسلیم کیا کہ کوئی اعلیٰ و افضل ترین ہستی موجود ہے۔ 

یہ بات تو ہر کوئی جان سکتا ہے کہ کوئی خدا (‏الوہیم)‏ ہے جس نے سب کچھ خلق کیا ہے‏، لیکن ’’یہوواہ‘‘ (‏خدا)‏ کو صرف خصوصی مکاشفہ ہی سے جان سکتے ہیں۔ چنانچہ اِس کتاب میں ’’الوہیم‘‘ خدا کے بار بار ذِکر کو نجات بخش ایمان کے برابر شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات اور موجودات خدا کے وجود کی گواہی دیتی ہیں اور یہ بھی کہ جو لوگ اِس کا اِنکار کرتے ہیں وہ ’’احمق‘‘ ہیں (‏زبور ۱۴:‏۱؛ ۵۳:‏۱)‏۔

واعظ کی کتاب کی ضرورت

لامحالہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’خدا نے کیوں ٹھہرا دیا کہ ایک ایسی کتاب بائبل مقدس میں شامل ہو جو خدا کی ذات کے بجائے اِنسانی کوششوں پر مرکوز ہے؟‘‘

سب سے پہلے تو یہ کتاب بائبل مقدس میں اِس لئے شامل ہے کہ کسی اِنسان کو سلیمان کے افسوس ناک تجربے میں سے گزرنا نہ پڑے اور وہ آسودگی اور تسکین کی وہاں تلاش نہ کرتا پھرے جہاں وہ ہے ہی نہیں۔ 

نفسانی آدمی طبعی اور جبلّی طور پر سوچتا ہے کہ مَیں اَملاک و جائیداد‏، عیش و عشرت یا سیر و سفر سے خوشی حاصل کر سکتا ہوں یا شراب اور نشہ یا شہوت پرستی اور زناکاری سے دل کو راضی کر سکتا ہوں۔ لیکن اِس کتاب کا پیغام یہ ہے کہ ایک شخص جو دُنیا کے کسی بھی اِنسان سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ حکمت تھا اُس نے یہ سب کچھ آزمایا اور ہیچ اور بے سود پایا۔ چنانچہ ہم آسمان کی طرف دیکھنے اور تسلی اور آسودگی دینے والی واحد ہستی یعنی خداوند یسوع مسیح کی طرف رجوع ہونے سے اِس لاحاصل کوشش‏، اخراجات‏، سردردی‏، اُکتاہٹ اور مایوسی سے بچ سکتے ہیں۔ 

لیکن اِس بے مثال کتاب کی ایک اَور اہمیت بھی ہے‏، اور یہ اہمیت اُن لوگوں کے لئے ہے جو ابھی خوش خبری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر ڈبلیو۔ ٹی۔ ڈیوی سن نے کہا ہے:‏

واعظ کی کتاب اور مسیح کی انجیل کے درمیان فرق اور مقابلے کی بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ اِس حقیقت پر زور دینے کی کچھ ضرورت ہے کہ ’’اِنجیل مقدس‘‘ (‏نیا عہدنامہ)‏ نے پہلے زمانے کے حکمتی ادب کو غیر ضروری یا بے فائدہ نہیں کر دیا۔ اُس نے اپنے دَور میں فائدہ پہنچایا اور اَب بھی پہنچاتا ہے۔ اِنسان کی تاریخ میں ایسے وقت بھی آتے ہیں جب وہ یسوع کے قدموں میں بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اُس وقت بہتر ہوتا ہے کہ وہ واعظ کے مکتب میں جائے۔ بھرے جانے سے پہلے ضرور ہے کہ دل بالکل خالی کیا جائے۔ آج کے مناد اور مبلّغ کو زبردستی وہ سبق سکھانا پڑتا ہے جو ابھی تک فرسودہ نہیں ہوا اور نہ کبھی فرسودہ ہو گا۔ ’’خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ اِنسان کا فرضِ کُلی یہی ہے‘‘ (‏۱۲:‏۱۳)‏۔ ضرور ہے کہ اِنسان یسوع کے پاس آئے اور سیکھے کہ اِس بات پر موثر طور سے عمل کیسے کیا جا سکتا ہے اور وہ اعلیٰ تر سبق سیکھے جن کے لئے یہ کتاب راستہ تیار کرتی ہے۔

 

خاکہ
      باب
۱۔ دیباچہ:‏ آسمان کے نیچے (‏دُنیا میں)‏ سب کچھ بطلان ہے ‏۱:‏۱۔۱۱‏
۲۔ سب کچھ بطلان ہے ‏۱:‏۱۲۔۶:‏۱۲‏
  الف۔ ذہنی اور عقلی کاوشوں کا بطلان ‏۱:‏۱۲۔۱۸‏
  ب۔ عیش و عشرت‏، عزت و وقار اور مال کی کثرت کا بطلان ‏ ۲‏
  ج۔ زندگی اور موت کے چکر کا بطلان ‏ ۳‏
  د۔ زندگی کی عدم مساوات کا بطلان ‏ ۴‏
  ہ۔ عوامی مذہب اور سیاست کا بطلان ‏۵:‏۱۔۹‏
  و۔ عارضی دولت کا بطلان ‏۵:‏۱۰۔۶:‏۱۲‏
۳۔ آسمان کے نیچے (‏دُنیا میں)‏ زندگی کے لئے نصیحت ‏۷:‏۱۔۱۲:‏۸‏
  الف۔ آسمان کے نیچے کیا اچھا اور کیا بہتر ہے ‏ ۷‏
  ب۔ آسمان کے نیچے حکمت اور دانش ‏ ۸‏
  ج۔ آسمان کے نیچے (‏دُنیا میں)‏ زندگی سے لطف اُٹھانا ‏ ۹‏
  د۔ آسمان کے نیچے صاحبِ حکمت اور اَحمق کا حال ‏ ۱۰‏
  ہ۔ آسمان کے نیچے نیکی پھیلانا ‏۱۱:‏۱۔۱۲:‏۸‏
۴۔ اِختتامیہ __ آسمان کے نیچے بہترین چیز ‏۱۲:‏۹۔۱۴‏