زبُور ۹۰

چوتھی کتاب (‏زبور ۹۰۔۱۰۶)‏

زبور ۹۰:‏ ماتم کرنے والے کا گیت

تصور کریں کہ سینا کے بیابان کا منظر ہے۔ وہ وقت گزر چکا ہے جب جاسوس قادس برنیع میں اپنی منفی رپورٹ کے ساتھ واپس آئے تھے۔ نتیجے میں لوگ ابھی تک بیابان میں چکر لگا رہے ہیں۔ اِس سفر میں وہ کسی مقام تک نہیں پہنچیں گے۔ 

ہر روز کوئی نہ کوئی خبررساں موسیٰ کے خیمہ میں اموات کی تازہ رپورٹ لے کر آتا ہے۔ اموات‏، اموات‏، اموات اور مزید اموات۔ بیابان ایک وسیع قبرستان دکھائی دیتا ہے۔ ہربار جب لشکر کوچ کرتا ہے‏، وہ اپنے پیچھے ایک قبرستان چھوڑ جاتے ہیں۔ 

اِس دن مردِ خدا موسیٰ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اموات کے باعث وہ شدتِ غم سے اپنے خیمہ میں واپس آتا ہے اور زمین پر منہ کے بل گر کر خدا سے یہ دعا کرتا ہے۔

۹۰:‏ ۱‏، ۲ فنا اور دُنیا کی ناپائیداری کے اِن حالات میں وہ سب سے پہلے خدا کی ابدیت میں سکون حاصل کرتا ہے۔ ہر شے ختم ہو جاتی ہے لیکن خدا لاتبدیل ہے۔ وہ اپنے لوگوں کے لئے گھر اور پناہ گاہ ہے۔ ازل سے ابد تک وہ اپنی ذات یعنی حکمت‏، قدرت‏، پاکیزگی‏، انصاف‏، نیکی اور سچائی میں لامحدود‏، ابدی اور لاتبدیل ہے۔

۹۰:‏ ۳‏، ۴ خدا کے مقابلے میں جو ازلی و ابدی ہے انسانی زندگی بہت مختصر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ خدا متواتر یہ حکم جاری کرتا رہتا ہے ’’خاک میں لوٹ آؤ‘‘ اور قبر تک کا یہ سفر ختم ہونے میں نہیں آتا۔ اُس ازلی و ابدی خدا کے نزدیک گرے ہوئے انسان کی زندگی کا بنیادی دورانیہ اگر ہزار برس بھی ہو تو یہ کل کے دن یا نیند کی جھپکی سے زیادہ نہیں ہے۔

۹۰:‏ ۵‏، ۶ موسیٰ کے نزدیک بھی انسانی زندگی محض نیند کی جھپکی تھی۔ پتہ نہیں چلتا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔ زندگی گھاس کی مانند ہے جو صبح کے وقت تازہ اور سرسبز ہوتی ہے‏، لیکن شام کے وقت مرجھا کر سوکھ جاتی ہے۔ یہ اُگتی‏، بڑھتی‏، اُڑ جاتی‏، کٹ جاتی اور ختم ہو جاتی ہے۔

۹۰:‏ ۷۔ ۱۰ گو ہر طرح کی موت گناہ کے داخل ہونے کا نتیجہ ہے‏، لیکن موسیٰ محسوس کرتا ہے کہ جو کچھ صحرا میں ہو رہا ہے‏، یہ خدا کی طرف سے خصوصی سزا ہے۔ تمام سپاہی جو مصر سے نکلتے وقت بیس برس یا اِس سے اوپر کی عمر کے تھے‏، کنعان پہنچنے سے قبل مر جائیں گے۔ ماتم کے نشانات اِس بات کی علامت تھے کہ خدا اپنے لوگوں سے ناراض ہے‏، کیونکہ اُنہوں نے یشوع اور کالب کی حوصلہ افزا رپورٹ سن کر کنعان میں داخل ہونے کے بجائے بے ایمان جاسوسوں کا ساتھ دیا تھا۔ اُن کی بدکاریاں اور پوشیدہ گناہ ہمیشہ اُس کے سامنے تھے اور یہ اُس کے لئے مسلسل بیزاری کا سبب تھا۔ نتیجے میں بنی اسرائیل اُس کے غضب کے تحت زندگی بسر کر رہے تھے اور اُس کے قہر کی موجوں کے تھپیڑے کھا رہے تھے۔ بے شک بعض اُس کی طرف سے مقرر کردہ عمر ستر سال تک زندہ رہیں گے اور بعض اِس سے زیادہ یعنی اَسی سال کی زندگی پائیں گے۔ لیکن اُن کے لئے بھی زندگی محض مشقت ہے۔ ایک کے بعد دوسرا غم جھیلنا پڑتا ہے۔ بعض چھوٹے سے چھوٹے کام محنت طلب ہیں۔ جلد ہی دل کی دھڑکن بند ہو جاتی ہے اور ایک اَور شخص صفحۂ ہستی سے غائب ہو جاتا ہے۔

۹۰:‏ ۱۱‏، ۱۲ مردِ خدا‏، خدا کی قدرت کے سامنے مرعوب اور خوف زدہ کھڑا ہے ۔۔ اُس کی قدرت کے سامنے جو غصہ سے بیدار ہو چکی ہے۔ کون اُس کی خاطر خواہ تعظیم کر سکتا ہے‏، اگر اُس کے قہر کی شدت پر غور کیا جائے؟ ایک بات یقینی ہے۔ لازم ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ایک ایک دن کی قدر جانیں اور ہر روز خدا کی اِس طرح فرماں برداری کریں کہ اِس کا ابدیت کے لئے شمار ہو۔

۹۰:‏ ۱۳‏، ۱۴ موسیٰ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ شفقت سے اپنے لوگوں کی طرف رجوع کرے۔کیا وہ ہمیشہ غصے رہے گا؟ کیا وہ جلدی اُن پر رحم کرکے اُنہیں آسودہ نہیں کرے گا تاکہ وہ اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن خوشی و خرمی سے گزار سکیں؟

۹۰:‏ ۱۵‏،۱۶ اب موسیٰ التجا کرتا ہے کہ جتنے سال بنی اسرائیل نے دُکھ اور مصیبت برداشت کی‏، اُتنے سال اُنہیں خوشی و شادمانی عطا کرے۔ وہ پہلے ہی اُس کی نازل کردہ سزاؤں میں اُس کی قوت کا اظہار دیکھ چکے تھے۔ اب وہ خداوند سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کا دوسرا پہلو ظاہر کرے یعنی فضل کے کام۔

۹۰:‏ ۱۷ بالآخر شفاعت کنندہ خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اپنی برگزیدہ قوم پر کرم کرکے اُن کی کاوشوں میں اُنہیں بارور کرے۔ ’’ہاں ہمارے ہاتھوں کے کام کو قیام بخش۔‘‘

روایتی طور پر اکثر زبور ۹۰ کی مسیحی جنازوں پر تلاوت کی جاتی ہے۔ اِس لئے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زندگی مختصر ہے اور کہ ہم ہر لمحہ کی قدر و قیمت جانیں۔ لیکن اِس زبور میں عہدِ جدید کے دَور کی تسلی اور یقین دہانی کا ذکر نہیں ملتا۔ ’’مسیح یسوع نے زندگی اور بقا کو اُس خوش خبری کے وسیلہ سے روشن کر دیا‘‘ (‏۲۔تیم ۱:‏ ۱۰)‏۔ ہم جانتے ہیں کہ مرنا نفع ہے‏، یہ بدن سے علیٰحدہ ہو کر مسیح کے ساتھ رہنا ہے۔ چنانچہ اِس زبور کا تاریک اور مایوس کن نظریہ ایماندار کی مسیح میں اُمید کی فتح اور خوشی سے بدل جاتا ہے‏، کیونکہ اب موت کا ڈنک جاتا رہا اور موت فتح کا لقمہ ہو گئی۔

مقدس کتاب

۱ یارب! پُشت در پُشت تُو ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔
۲ اِس سے پیشتر کہ پہاڑ پیدا ہوئے یا زمین اور دُنیا کو تُو نے بنایا۔ ازل سے ابدتک تُو ہی خُدا ہے۔
۳ تُو انسان کو پھر خاک میں ملا دیتا ہے اور فرماتا ہے اَے بنی آدم! لَوٹ آؤ۔
۴ کیونکہ تیری نظر میں ہزار برس اَیسے ہیں جَسے کل کا دِن جو گُذر گیا۔اور جَیسے رات کا ایک پہر۔
۵ تُو اُنکو گویا سیلاب سے بہا لے جاتا ہے۔ وہ نیندد کی ایک جھپکی کی مانند ہیں۔وہ صُبح کو اُگنے والی گھاس کی مانند ہیں۔
۶ وہ صُبح کو لہلہاتی اور بڑھتی ہے وہ شام کو کٹتی اور سُوکھ جاتی ہے۔
۷ کیونکہ ہم تیرے قہر سے فنا ہو گئے اور تیرے غضب سے پریشان ہُوئے۔
۸ تُو نے ہماری بدکاری کو اپنے سامنے رکھا۔اور ہمارے پوشیدہ گُناہوں کو اپنے چہرہ کی روشنی میں۔
۹ کیونکہ ہمارے تمام دِن تیرے قہر میں گُذرے۔ ہماری عمر خیال کی طرح جاتی رہتی ہے۔
۱۰ ہماری عمر کی میعاد ستّر برس تک ہے۔ یا قوت ہو تو اَسّی برس۔تو بھی اُنکی رونق محض مشقّت اور غم ہے۔کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔
۱۱ تیرے قہر کی شدت کو کون جانتا ہے اور تیرے خُوف کے مُطابق غضب کو؟
۱۲ ہمکو اپنے دِن گِننا سِکھا ۔ اَیسا کہ ہم دانا دِل حاصل کریں۔
۱۳ اَے خُداوند! باز آ۔ کب تک؟ اور اپنے بندوں پر رحم فرما۔
۱۴ صُبح کو اپنی شفقت سے ہمکو آسودہ کر تاکہ ہم عُمر بھر خُوش و خُرم رہیں۔
۱۵ جِتنے دِن تُو نےہمکودُکھ دیا اور جِتنے برس ہم مُصیبت میں رہے اُتنی ہی خُوشی ہمکو عنایت کر۔
۱۶ تیرا کلام تیرے بندوں پر اور تیرا جلال اُنکی اولاد پر ظاہر ہو۔
۱۷ اور رب ہمارے خُدا کا کرم ہم پر سایہ کرے۔ہمارے ہاتھوں کے کام کو ہمارے لئے قیام بخش ہاں ہمارے ہاتھوں کے کام کو قیام بخش دے۔