وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«دُنیا کی سب سے گہری کتاب۔» (اے۔ٹی۔ رابرٹسن۔ Robertson)
۱۔ فہرست ِمُسلَّمہ میں منفرد مقام
یوحنا بہت واضح طور سے بتاتا ہے کہ یہ کتاب نوعیت کے اِعتبار سے «تبلیغی» کتاب ہے «کہ تم ایمان لاؤ» (۲۰:۳۱)۔ کلیسیا نے اِس رسولی نمونے کی عمدگی سے پیروی کی ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ گذشتہ صدی کے دوران کلیسیا نے یوحنا کی اِنجیل کی لاکھوں جلدیں تقسیم کی ہیں۔
علاوہ ازیں یوحنا کی اِنجیل بائبل کی کتابوں میں مقبول ترین کتاب ہے۔ جاں نثار اور پختہ و بالغ مسیحی اِس کتاب کو دلی شوق سے پڑھتے ہیں۔ یوحنا نہ صرف ہمارے خداوند کی زندگی کے واقعات ہی پیش کرتا ہے بلکہ اپنے آقا کے طویل مکالمات اور اپنے ذاتی غور و فکر کے نتیجے میں حاصل شدہ معلومات بھی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ یوحنا وہ شاگرد ہے جو گلیل میں نوعمری کے زمانے سے لے کر آسیہ کے صوبے میں نہایت بڑھاپے تک مسیح کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ نئے عہدنامے کی سب سے مشہور آیت بھی اِسی اِنجیل میں پائی جاتی ہے۔ مارٹن لوتھر نے کہا ہے کہ «پوری اِنجیل کا سمندر اِس آیت کے کوزے میں بند ہے» (یوحنا ۳:۱۶)۔
اگر نئے عہدنامے میں صرف یوحنا کی اِنجیل ہی شامل ہوتی تو بھی پاک کلام کے مطالعہ اور غور و خوض کے لئے زندگی بھر کے لئے کافی ہوتی۔
۲۔ مصنف
پچھلے ڈیڑھ سو سالوں کے دوران اِس مسئلے پر بہت بحث ہوتی رہی ہے کہ چوتھی اِنجیل کا مصنف کون ہے۔ بلاشبہ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اِنجیل خداوند یسوع کی الوہیت کی بڑی صاف اور واضح گواہی دیتی ہے۔ اِس حملے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ اِنجیل کسی عینی شاہد کا کام نہیں بلکہ کسی گمنام «یکتا مذہبی ذہن» کا کام ہے جو تقریباً سو سے ڈیڑھ سو سال بعد ہوا۔ یوں یہ مسیح کے بارے میں کلیسیا کی سوچ کو منعکس کرتی ہے، اُن باتوں کو نہیں جو مسیح نے خود اپنے بارے میں کہی یا کی تھیں۔
خود اِنجیل بھی اپنے مصنف کے نام کے بارے میں خاموش ہے۔ لیکن بہت سی ٹھوس وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اِس کا مصنف یوحنا رسول ہے جو بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔
سکندریہ کا کلیمنٹ (Clement) بیان کرتا ہے کہ زندگی کے آخری دَور میں یوحنا رسول کے کچھ قریبی دوست اِفسس میں اُس کے پاس آئے اور اُس سے درخواست کی کہ ایک اِنجیل لکھے جو اناجیلِ متوافقہ کا ضمیمہ ثابت ہو۔ اِس طرح خدا کے روح کے زیر اثر یوحنا نے ایک «روحانی» اِنجیل قلم بند کی۔ بات یہ نہیں کہ دوسری اناجیل کو «غیر روحانی» سمجھا جاتا تھا، لیکن یوحنا مسیح کے اقوال اور نشانوں (معجزوں) کے گہرے مفہوم پر خاص زور دیتا ہے۔ اِسی وجہ سے اِس اِنجیل کو خاص طور پر «روحانی» کہا جاتا ہے۔
خارجی شہادتیں
انطاکیہ کا تھیفلس (تقریباً ۱۷۰ء) پہلا معروف مصنف ہے جس نے خصوصیت کے ساتھ یوحنا کو اِس اِنجیل کا مصنف قرار دیا۔ لیکن اِس سے پہلے بھی چوتھی اِنجیل کے بارے میں اِشارات اور اِس سے اِقتباسات ملتے ہیں۔ اِن میں اغناطیسیوس (Ignatius)، یوسطین شہید(Justin Martyr) (غالباً)، طاطیان (Tatian)، موراتوروی فہرست ِاسفار اور بدعتی باسیلید (Basilides) اور والنتینُس (Valentinus) شامل ہیں۔
ایرینیُس (Irenaeus) خود خداوند یسوع سے لے کر یوحنا تک، پھر یوحنا سے پولی کارپ (Polycarp)تک اور پولی کارپ سے اپنے آپ تک شاگردی کے ایک مکمل سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ اِس طرح ہم مسیحیت کے آغاز سے دوسری صدی کے اواخر تک پہنچتے ہیں۔ ایرینیُس اِس اِنجیل سے وسیع پیمانے پر اِقتباس کرتا ہے کہ یہ مسیح کے شاگرد کی تصنیف ہے اور کلیسیا میں قبولیت اور سند حاصل کر چکی ہے۔ ایرینیُس کے بعد بھی اِس اِنجیل کی وسیع پیمانے پر تصدیق اور توثیق کی گئی ہے۔ ایسا کرنے والوں میں سکندریہ کے کلیمنٹ (Clement) اور طرطلیان (Tertullian)جیسے گواہ شامل ہیں۔
اُنیسویں صدی کے اوائل تک صرف الوگی جیسا ایک گمنام فرقہ ایسا تھا جو کہتا تھا کہ یہ اِنجیل یوحنا کی تصنیف نہیں ہے۔
یوحنا باب ۲۱ کا بالکل آخری حصہ غالباً پہلی صدی کے آخر میں اِفسس کی کلیسیا کے لیڈروں نے تحریر کیا اور یوں یوحنا کی اِنجیل کو قبول کرنے میں ایمان داروں کی حوصلہ افزائی کی۔ آیت چوبیس اُسی شاگرد کی طرف اِشارہ کرتی ہے «جس سے یسوع محبت رکھتا تھا» جیسا کہ آیت ۲۰ اور اِس سے پہلے باب ۱۳ میں بھی کہا گیا ہے۔ ہمیشہ سے یہ بات مانی جاتی ہے کہ یہ الفاظ یوحنا رسول سے متعلق ہیں۔
آزاد خیال علما عام طور سے یہ تعلیم دیتے تھے کہ چوتھی اِنجیل دوسری صدی کے اواخر میں لکھی گئی۔ لیکن ۱۹۲۰ء میں یوحنا کی اِنجیل کے باب ۱۸ کا ایک ٹکڑا مصر میں دریافت ہوا۔ (اِس کو پاپائرس ۵۲ کہا جاتا ہے۔ سائنسی طریقوں سے ثابت ہوا ہے کہ اِس کا تعلق تقریباً ۱۲۵ء سے ہے یعنی دوسری صدی کا نصف اوّل)۔ یہ ٹکڑا سکندریہ سے نہیں بلکہ ایک علاقائی قصبے سے ملا۔ اِس حقیقت سے تصدیق ہوتی ہے کہ اِس اِنجیل کی روایتی تاریخ یعنی پہلی صدی کا اواخر صحیح ہے۔ کیونکہ اِفسس سے جنوبی مصر پہنچنے میں اِسے کچھ عرصہ تو ضرور لگا ہو گا۔ یوحنا باب ۵ کا اِسی طرح کا ایک اَور ٹکڑا جسے ایجرٹن پاپائرس ۲ کہتے ہیں مزید تصدیق کرتا ہے کہ یہ اِنجیل یوحنا کی زندگی ہی میں لکھی گئی تھی۔
داخلی شہادتیں
انیسویں صدی کے اواخر میں مشہور اینگلی کن عالم بشپ ویسٹکاٹ نے اِس بات کے حق میں دلائل دیئے کہ چوتھی اِنجیل یوحنا کی تصنیف ہے۔
- مصنف یہودی تھا۔ اسلوبِ تحریر، ذخیرۂ الفاظ، یہودی رسوم اور خصائص سے گہری واقفیت اور پرانے عہدنامے کا پسِ منظر جو اِس اِنجیل سے منعکس ہوتا ہے، سب اِس دلیل کی حمایت کرتے ہیں۔
- یہ یہودی فلسطین میں بستا تھا (۱:۲۸؛۲:۱،۱۱؛ ۴:۴۶؛ ۱۱:۱۸،۵۴؛ ۲۱:۱،۲)۔ وہ یروشلیم اور ہیکل کو قریب سے جانتا تھا (۵:۲؛ ۹:۷؛ ۱۸:۱؛ ۱۹:۱۳،۱۷،۲۰،۴۱۔ مزید دیکھئے ۲:۱۴-۱۶؛ ۸:۲۰؛ ۱۰:۲۲)۔
- وہ اِن باتوں کا عینی شاہد تھا۔ مقامات، اشخاص، وقت اور انداز کی متعدد تفاصیل موجود ہیں (۴:۴۶؛ ۵:۱۴؛ ۶:۵۹؛ ۱۲:۲۱؛ ۱۳:۱؛ ۱۴:۵،۸؛ ۱۸:۶؛ ۱۹:۳۱)۔
- وہ مسیح کا شاگرد تھا۔ وہ شاگردوں کے اندرونی حلقے اور خود خداوند کے بارے میں قریبی معلومات کا اِظہار کرتا ہے (۶:۱۹،۶۰،۶۱؛ ۱۲:۱۶؛ ۱۳:۲۲،۲۸؛ ۱۶:۱۹)۔
- چونکہ مصنف دوسرے شاگردوں کے نام پوری صحت کے ساتھ بیان کرتا ہے مگر اپنا نام نہیں بتاتا، اِس لئے باور کیا جاتا ہے کہ ۱۳:۲۳؛ ۱۹:۲۶؛ ۲۰:۲؛ ۲۱:۷،۲۰ کا بے نام شاگرد یوحنا رسول ہی ہے۔ مصنف کے عینی شاہد ہونے کے بارے میں تین اَور حوالے قابلِ غور ہیں۔ دیکھئے ۱:۱۴؛ ۱۹:۳۵ اور۲۱:۲۴۔
۳۔ سنِ تصنیف
ایرینیُس قطعی طور پر کہتا ہے کہ یوحنا نے یہ اِنجیل اِفسس میں تحریر کی تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو اِس کا سنِ تصنیف زیادہ سے زیادہ ۶۹ء یا ۷۰ء ہو گا، اِس سے پہلے کا نہیں کیونکہ شاگرد اِنہی دنوں وہاں آیا تھا۔ چونکہ یوحنا یروشلیم کی بربادی کا ذکر نہیں کرتا تو ممکن ہے کہ یہ واقعہ ابھی پیش نہیں آیا تھا۔
بعض بہت آزاد خیال علما یوحنا کی اِنجیل کے لئے ۴۵ء سے ۶۶ء کی تاریخ متعین کرتے ہیں۔ اِس لئے کہ اِس کا تعلق بحیرۂ مردار کے طوماروں سے بھی ممکن معلوم ہوتا ہے۔ یہ بہت غیر معمولی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ عموماً قدامت پسند علما ہی پہلے کی تاریخ کو ترجیح دیتے ہیں۔ زیر نظر معاملے میں کلیسیا کی قدیم روایات بعد کی تاریخ کی حمایت کرتی ہیں۔
پہلی صدی کے اواخر کی تاریخ کے حق میں دلائل بہت مضبوط ہیں۔ علما کی اکثریت ایرینیُس، سکندریہ کے کلیمنٹ اور جیروم کے ساتھ متفق ہیں کہ یوحنا کی اِنجیل سب سے آخر میں لکھی گئی ہے۔ کچھ تو اِس لئے بھی کہ وہ اناجیلِ متوافقہ کے بیانات کو آگے بڑھاتی اور اُن پر اضافہ کرتی ہے۔ یوحنا کی اِنجیل میں یروشلیم کی تباہی کا ذکر نہیں۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ یہ کتاب اِس واقعے کے پندرہ سے بیس سال بعد تحریر ہوئی، جب کہ اِس صدمے اور حادثے کے تاثرات کافی حد تک زائل ہو چکے تھے۔ ایرینیُس لکھتا ہے کہ یوحنا شہنشاہ تراجان (جس کا دَورِ حکومت ۹۸ء میں شروع ہوا) کے عہد تک زندہ تھا۔ اِس لئے کتاب کا سنِ تصنیف اِس کے کچھ پہلے ہو گا۔ اِس اِنجیل میں «یہودیوں» کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے جس سے بعد کی تاریخ کا اندازہ ہوتا ہے جب مسیحیوں کے لئے یہودی مخالفت شدید ہو کر ایذارسانی بن چکی تھی۔
اگرچہ ٹھیک ٹھیک سنِ تصنیف کا تعین ممکن نہیں تاہم یہ غالباً ۸۵ء تا ۹۵ء کے عشرے میں احاطۂ تحریر میں لائی گئی۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
یوحنا اپنی اِنجیل کو سات مشہور معجزات یا «نشانوں» پر اُٹھاتا ہے۔ ہر معجزے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یسوع خدا ہے
- قانائے گلیل میں پانی کو مے بنانا (۲:۹)۔
- بادشاہ کے ملازم کے بیٹے کو شفا دینا (۴:۴۶-۵۴)۔
- بیت حسدا کے حوض پر معذور آدمی کو شفا دینا (۵:۲-۹)۔
- پانچ ہزار کو کھلانا (۶:۱-۱۴)۔
- یسوع کا گلیل کی جھیل کے پانی پر چلنا اور شاگردوں کو طوفان سے بچانا (۶:۱۶-۲۱)۔
- جنم کے اندھے کی آنکھیں کھولنا (۹:۱-۷)۔
- لعزر کو زندہ کرنا (۱۱:۱-۴۴)۔ یہ سات معجزات تو عام لوگوں کے سامنے کئے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ایک آٹھواں معجزہ بھی ہے جو یسوع نے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد صرف اپنے شاگردوں کے سامنے کیا تھا۔ یہ ہے مچھلیوں کو معجزانہ پکڑنا (۲۱:۱-۱۴)۔
چارلس ارڈمن (Erdman) کہتا ہے کہ چوتھی اِنجیل نے کسی اَور کتاب کی نسبت «سب سے زیادہ لوگوں کو مسیح کی پیروی کرنے پر آمادہ کیا ہے، سب سے زیادہ ایمان داروں کو وفاداری سے خدمت کرنے پر اُبھارا ہے اور علما کے سامنے سب سے زیادہ مشکل مسائل پیش کئے ہیں۔»
ہمارے خداوند کی زمینی خدمت کی تاریخی ترتیب اِسی اِنجیل سے مرتب کی گئی ہے۔ دوسری تینوں اناجیل سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی خدمت کا زمانہ صرف ایک سال ہے۔ یوحنا نے سالانہ تہواروں اور عیدوں کے حوالے دیئے ہیں جن سے حساب لگایا گیا ہے کہ خداوند کی علانیہ خدمت تقریباً تین سال کے عرصے پر محیط تھی۔ اِن حوالہ جات پر توجہ دیجئے:پہلی عید فسح (۲:۱۲،۱۳)۔ «ایک عید» (۵:۱) غالباً عید فسح یا عید پوریم (یا تیسری) عید فسح (۶:۴)۔ عید خیام (۷:۲)۔ عید تجدید (۱۰:۲۲) اور عید فسح (۱۲:۱)۔
یوحنا وقت کے حوالے بھی پوری صحت کے ساتھ دیتا ہے۔ باقی تینوں مصنفین اندازے سے حوالہ دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن یوحنا تخصیص اور صحت پر زور دیتا ہے جیسے «ساتویں گھنٹے میں» (۴:۵۲)؛ «تیسرے دن» (۲:۱)، «دو دن» (۱۱:۶) اور «چھے روز» (۱۲:۱)۔
یوحنا کے خطوط کے علاوہ اِس انجیل کا اسلوبِ بیان اور ذخیرۂ الفاظ بھی انوکھا اور یکتا ہے۔ جملے چھوٹے اور سادہ ہیں۔ سوچ میں عبرانی مگر زبان میں یونانی ہیں۔ اکثر جملہ جتنا چھوٹا ہے خیال اُتنا ہی بھاری اور گہرا ہے! ذخیرۂ الفاظ تمام دیگر اناجیل کے مقابلے میں نہایت محدود ہے، مگر مطالب و معانی میں اِنتہائی گہرا ہے۔ غور کریں کہ یہ الفاظ کیسے اہم ہیں اور کتنی مرتبہ آئے ہیں۔ باپ (۱۱۸)، ایمان لانا / رکھنا (۱۰۰)، دُنیا (۷۸)، محبت (۴۵)، گواہی، گواہی دینا وغیرہ (۴۷)، زندگی (۳۷)، نور (۲۴)۔
یوحنا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عدد سات یا اِس کے حاصلِ ضرب بار بار آتے ہیں۔ صحائف میں ہر جگہ اِس عدد کے ساتھ کاملیت اور پورا ہونے کا تصور وابستہ ہے (ملاحظہ کریں پیدائش ۲:۱-۳)۔ اِس اِنجیل میں خدا کا روح مسیح کی ذات میں خدا کے مکاشفہ کو کامل اور پورا کر دیتا ہے۔ اِس لئے سات کے عدد پر مبنی نظیریں جگہ جگہ ملتی ہیں۔
کون ہے جو یوحنا کی اِنجیل میں سات «مَیں ہوں» سے واقف نہیں؟ «زندگی کی روٹی» (۶:۳۵،۴۱،۴۸،۵۱)، «دُنیا کا نور» (۸:۱۲؛ ۹:۵)، «دروازہ» (۱۰:۷،۹)، «اچھا چرواہا» (۱۰:۱۱،۱۴)، «قیامت اور زندگی» (۱۱:۲۵)، «راہ اور حق اور زندگی» (۱۴:۶)، «انگور کا درخت» (۱۵:۱،۵)۔ سات اَور «مَیں ہوں» بھی ہیں۔ مگر اِتنے نمایاں اور مشہور نہیں کیونکہ اُن کے ساتھ مُسنَد نہیں ہے۔ دیکھئے ۴:۲۶؛ ۶:۲۰؛ ۸:۲۴،۲۸،۵۸؛۱۳:۱۹؛ ۱۸:۵،۸ آخری دُہرا ہے۔
چھٹے باب میں «زندگی کی روٹی» کا بیان ہے۔ یہاں جس یونانی لفظ کا ترجمہ «روٹی» یا «روٹیاں» کیا گیا ہے، وہ اکیس مرتبہ آیا ہے۔ اور اکیس سات کا حاصلِ ضرب ہے۔ اور «زندگی کی روٹی» کی گفتگو میں «جو روٹی آسمان سے اُتری» وغیرہ کے الفاظ پورے سات مرتبہ آئے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بیان ہوا، یہ اِنجیل لکھنے سے یوحنا کا یہ مقصد تھا کہ قارئین ایمان لائیں کہ «یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی» پائیں (۲۰:۳۱)۔
| خاکہ | ||
| باب | ||
| ۱. | تمہید — خدا کے بیٹے کی پہلی آمد | ۱:۱-۱۸ |
| ۲. | خدا کے بیٹے کی خدمت کا پہلا سال | ۱:۱۹-۴:۵۴ |
| ۳. | خدا کے بیٹے کی خدمت کا دوسرا سال | ۵ |
| ۴. | خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:گلیل | ۶ |
| ۵. | خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:یروشلیم | ۷:۱-۱۰:۳۹ |
| ۶. | خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:پیریہ | ۱۰:۴۰-۱۱:۵۷ |
| ۷. | خدا کے بیٹے کی اپنوں کے درمیان خدمت | ۱۲-۱۷ |
| ۸. | خدا کے بیٹے کے دُکھ اور موت | ۱۸-۱۹ |
| ۹. | خدا کے بیٹے کی فتح | ۲۰ |
| ۱۰. | اِختتامیہ — جی اُٹھا بیٹا اپنوں کے ساتھ | ۲۱ |