زبُور ۱۳۸

‏۱۳۸:‏ خدا کا وفادار کلام

اِس زبور میں داؤد دعا کے کسی جواب کے لئے بہت زیادہ شکر گزار ہے۔ شکرگزاری کے اِس اظہار میں اُس نے ہمارے لئے بہت خوبصورت مثال قائم کی کہ ہم خدا کی نجات کے لئے کیسے شکرگزاری کریں۔ جب مسیح یسوع کے دَورِ حکومت میں بالآخر اسرائیل کی بحالی ہو گی تو اُس وقت اِس زبور کا اطلاق مکمل طور پر ہو گا۔ 

۱۳۸:‏ ۱ داؤد کی شکرگزاری میں کسی طرح کی نیم دلی نہیں ہے۔ یہوواہ کی شکرگزاری میں اُس کی تمام قوتیں کارفرما ہیں۔ 

اُس کی پرستش میں کسی قسم کی بزدلی نہیں۔ وہ چپکے سے عبادت نہیں کرتا۔ وہ بلاجھجک معبودوں یعنی زمین کے بادشاہوں کے سامنے گاتا ہے۔ لفظ ’’معبودوں‘‘ کا یہاں مطلب فرشتے یا بت بھی ہو سکتا ہے‏، لیکن سیاق و سباق سے لگتا ہے کہ یہاں اِس سے مراد اِرد گرد کے حکمران ہیں۔

۱۳۸:‏ ۲ دیندار یہودیوں کی رسم کے مطابق‏، داؤد پرستش کے لئے خیمہ اجتماع (‏ہیکل ابھی نہیں بنی تھی)‏ کی طرف رُخ کرکے سجدہ کرتا تھا۔ وہ یہوواہ کی سچی محبت اور وفاداری کے لئے اُس کی شکرگزاری کرتا تھا۔ وہ اپنی محبت کی بنا پر ہمارے ساتھ قیمتی اور بڑے وعدے کرتا ہے اور اُس کی وفاداری ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اُن میں سے ہر ایک پورا کیا جائے گا۔

’’کیونکہ تُو نے اپنے کلام کو اپنے ہر نام سے زیادہ عظمت دی ہے۔‘‘ خدا کی وفاداری کا تعلق اپنے کلام کو پورا کرنے میں ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ جو کچھ اُس نے کہا اُس نے کیا بلکہ اُس سے زیادہ بھی کیا ہے۔ اِس میں شاید یہ خیال بھی ہو کہ اُس نے داؤد کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو کثرت سے پورا کرنے میں اپنے گذشتہ مکاشفات کی نسبت زیادہ کیا۔ اگر اِس آیت کا اطلاق کلامِ مجسم پر کیا جائے تو اِس کا مطلب ہے کہ خدا نے اپنے ہر ایک دیگر ظہور کی نسبت خداوند یسوع مسیح کو بہت زیادہ سربلند کیا۔ 

۱۳۸:‏ ۳ آیت ۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زبور نویس کی شکرگزاری کا تعلق کسی حالیہ موقع سے ہے۔ شدید ضرورت کے لمحات میں اُس نے خداوند سے دعا کی اور اُسے فوری طور پر جواب ملا۔ اُس کی روح کو بہت زیادہ تقویت دی گئی جس سے اُس کا سارا خوف دُور ہو گیا اور اُسے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے دلیری ملی۔

۱۳۸:‏ ۴۔۶ دعا کے جواب میں خداوند کی وفاداری زمین کے بادشاہوں کے لئے ایک موثر گواہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ خداوند نے کیا وعدہ کیا ہے اور اب اُنہوں نے دیکھا کہ پیش گوئی کیسے پوری ہوئی۔ چنانچہ وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خداوند کا جلال بڑا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ گو خدا بلند و بالا ہے‏، تو بھی وہ داؤد ایسے خاکسار کا خیال رکھتا ہے اور داؤد کے مغرور دشمنوں کو دُور سے پہچان لیتا ہے۔ 

۱۳۸:‏ ۷ یہ ایک خوبصورت تصویر ہے ۔۔ داؤد ہر طرح کے دشمنوں‏، ہر طرح کی مشکلات اور ہر طرح کی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے‏، لیکن خداوند نے اُسے توفیق دی کہ اُن میں سے یوں بحفاظت گزر جائے گویا کہ اُن کا وجود تھا ہی نہیں۔ وہی ہاتھ جو اُس کے دشمنوں کو مارتا ہے‏، اُسے تباہی سے بچا لے گا۔

۱۳۸:‏ ۸ بڑے اعتماد سے داؤد اِس کی تصدیق کرتا ہے کہ ’’خداوند میرے لئے سب کچھ کرے گا۔‘‘ یہ وہی اعتماد ہے جس کا پولس نے فلپیوں ۱:‏۶ میں ذکر کیا:‏ ’’مجھے اِس بات کا بھروسا ہے کہ جس نے تم میں نیک کام شروع کیا ہے وہ اُسے یسوع مسیح کے دن تک پورا کر دے گا۔‘‘ 

اُس کی مستحکم محبت ہمیشہ قائم و دائم ہے اور اگرچہ ہم داؤد کے ساتھ مل کر یہ دعا کریں کہ ’’اپنی دست کاری کو ترک نہ کر‘‘‏، تو بھی حقیقت یہ ہے کہ وہ ترک نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرے گا۔

مقدس کتاب

۱ میَں پورے دِل سے تیرا شُکر کروُنگا۔ معبودوں کے سامنے تیری مدح سرائی کرونگا۔
۲ میَں تیری مُقدس ہیکل کی طرف رُخ کر کے سجدہ کرونگا اور تیری شفقت اور سچّائی کی خاطر تیرے نام کا شُکر کرونگا۔ کیونکہ تُو نے اپنے کلام کو اپنے ہر نام سے زیادہ عظمت دی ہے۔
۳ جِس دن میَں نے تجھ سے دُعا کی تُو نے مجھے جواب دیا۔ اور میری جان کو تقویت دیکر میرا حوصلہ بڑھایا۔
۴ اَے خُداوند ! زمین کے سب بادشاہ تیرا شُکر کرینگے۔ کیونکہ اُنہوں نے تیرے مُنہ کا کلام سُنا ہے۔
۵ بلکہ وہ خُداوند کی راہوں کا گیت گائینگے۔ کیونکہ خُداوند کا جلال بڑا ہے۔
۶ کیونکہ خُداوند اگرچہ بُلند و بالا ہے تو بھی خاکساروں کا خیال رکھتا ہے۔ لیکن مغرور کو دور ہی سے پہچان لیتا ہے۔
۷ خواہ میں دُکھ میں سے گُذروں تُو مجھے تازہ دم کریگا۔ تُو میرے دُشمنوں کے کے قہر کے خلاف ہاتھ بڑھائیگا۔ اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے بچا لیگا۔
۸ خُداوند میرے لئے سب کُچھ کریگا۔ اَے خُداوند! تیری شفقت ابدی ہے۔ اپنی دستکاری کو ترک نہ کر۔