زبُور ۹۶

زبور ۹۶:‏ بادشاہ آ رہا ہے

زبور ۹۶ میں جچے تُلے احکام کی صورت میں خداوند کی حمد کے کم از کم سترہ مختلف طریقے دیئے گئے ہیں۔ 

۹۶:‏ ۱‏، ۲ یہ نیا گیت ایک ترانہ ہے جو اُس وقت بلند ہو گا جب خداوند یسوع اپنی جلالی حکومت کو شروع کرنے کے لئے دنیا میں آئے گا۔ یہ نہ صرف نیا گیت ہو گا بلکہ عالمگیر بھی ہو گا۔ تمام دنیا کے لوگوں کی آوازیں اُس میں شامل ہوں گی۔ لوگ خداوند کے نام کو مبارک کہیں گے اور اُس کی نجات بخش قدرت کے لئے مسلسل گواہی دیں گے۔ ہر روز وہ کسی نہ کسی کو بتائیں گے کہ وہ نجات دیتا ہے۔

۹۶:‏ ۳۔۶ جو کچھ وہ مستقبل میں کریں گے‏، وہ ہمیں ابھی کرنا چاہئے‏، یعنی قوموں میں اُس کے جلال کا اور سب لوگوں میں اُس کے عجائب کا بیان۔ خداوند بزرگ ہے اور وہ تمام معبودوں سے اعلیٰ ہے۔ پتھر اور لکڑی سے بنائے ہوئے جھوٹے دیوتا کمزور اور بے بس ہیں۔ یہوواہ ہی حقیقی خدا ہے۔ اُسی نے آسمانوں کو بنایا۔ اُس کے اوصاف ایسے خادموں کی مانند ہیں جو اُس سے الگ نہیں ہو سکتے اور جو ہر کہیں اُس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یوں عظمت اور جلال اُس کے حضور میں‏، قدرت اور جمال مَقدِس میں اُس کے خدمت گزار ہیں۔ عزت اور حُسن اُس کے ساتھ چلتے ہیں‏، پرستش اور جلال اُس کے مَقدِس میں اُس کے خادم ہیں۔

۹۶:‏ ۷۔۹ اگر ہم واقعی خداوند کی عظمت اور بھلائی کی قدر کرتے ہیں‏، تو ہماری خواہش یہ ہو گی کہ دوسرے لوگ بھی اُس کے نام کی بڑائی کریں۔ لہٰذا زبور نویس قوموں کے قبیلوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ یہ بیان کرنے کے لئے اُس کے ساتھ شامل ہوں کہ وہ کس قدر عظیم اور زور آور ہے۔ وہ اُس کی ایسی تعظیم کریں جو اُس کے نام کے شایانِ شان ہے۔ وہ اُس کی بارگاہوں میں ہدیئے لائیں۔ اُنہیں چاہئے کہ پاک آرائش کے ساتھ اُس کی پرستش کریں۔ یا اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ پاک ملبوسات میں اُس کو سجدہ کریں۔ تمام دنیا اُس کی فرماں برداری کرے۔

پاک آرائش سے ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ خداوند کی عبادت کے دوران ہم جو کپڑے پہنتے ہیں وہ موقع کی مناسبت سے ہوں۔ گو یہ سچ ہے کہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے‏، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اپنے کپڑوں سے بھی خدا کی تعظیم کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً عشائے ربانی کی عبادت میں میلے اور گندے کپڑے پہننا اچھا نہیں لگتا کیونکہ شادی کی ضیافت میں ہم کبھی بھی ایسا لباس نہیں پہنیں گے۔

۹۶:‏ ۱۰ اِس آیت میں نئے گیت کے سبب کا ذکر کیا گیا ہے:‏ مسیح کو بادشاہ کے عہدے پر فائز کرنا۔ خداوند نے حکومت کرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی نظام مضبوط بنیادوں پر اُستوار کر دیا گیا ہے اِس لئے اُسے جنگوں‏، پریشانیوں‏، غربت‏، ناانصافی‏، آفتوں اور دیگر بحرانوں سے جنبش نہ ہو گی۔ ’’اُسے جنبش نہ ہو گی‘‘:‏ اِس جملہ سے یہ مطلب اخذ کیا جائے ’’مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت کے دوران کبھی نہیں۔‘‘ ہم جانتے ہیں کہ اُس وقت کے آخر میں آسمان اور زمین آگ سے پگھل جائیں گے (‏۲۔پطرس ۳:‏ ۷۔۱۲)‏۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ خداوند راستی سے قوموں پر حکمرانی کرے گا اور اُنہیں ہنگامہ خیز حالات سے محفوظ رکھے گا۔

۹۶:‏ ۱۱۔۱۳ جب خداوند دنیا پر حکومت کرنے آتا ہے تو تمام مخلوقات کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اِس خوشی کی تقریب میں شامل ہوں۔ آسمان خوشی منائیں گے اور زمین شادمان ہو گی۔ ’’سمندر اور اُس کے اندر کی سب چیزیں شور مچائیں۔‘‘ کوئی میدان خاموش نہیں ہو گا ’’اور جنگل کا ہر درخت خوشی سے خداوند کی آمد کا استقبال کرے گا‘‘ کیونکہ وہ دنیا پر حکومت کرنے کے لئے آ رہا ہے۔ وہ کامل راستی اور کلی طور پر دیانت داری سے حکمرانی کرے گا۔ ’’سو تم اب بادشاہ کو واپس لانے کی بات کیوں نہیں کرتے؟‘‘ (‏۲۔سموئیل ۱۹:‏۱۰)‏۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کے حُضُور نیا گیت گاؤ۔ اَے سب اہل زمین! خُداوند کے حُضُور گاؤ۔
۲ خُداوند کے حضُور گاؤ۔اُسکے نا م کومُبا رک کہو ۔روز بروز اُسکی نجا ت کی بشارت دو۔
۳ قوموں میں اُسکے جلال کا سب لوگوں میں اُسکے عجائب کا بیان کرو ۔
۴ کیونکہ خُداوند بُزرگ اور نہایت ستایش کے لائق ہے۔ وہ سب معبودوں سے زیادہ تعظیم کے لائق ہے۔
۵ اِسلئے کہ اور قوموں کے سب معبُود محض بُت ہیں لیکن خُداوندنے آسمانوں کو بنایا۔
۶ عظمت اور جلال اُسکے حُضور ہیں۔ قُسرت اور جمال اُسکے مقدس میں۔
۷ اَے قوموں کے قبیلو! خُداوند کی۔ خُداوند کی تمجید و تعظیم کرو۔
۸ خُداوند کی اَیسی تمجید کرو جو اُسکے نام کے شایان ہے۔ ہدیہ لاؤ اور اُسکی بارگاہوں میں آؤ۔
۹ پاک آرایش کے ساتھ خُداوند کو سجدہ کرو اَے سب اہلِ زمین ! اُسکے حُضور کانپتے رہو۔
۱۰ قوموں میں اعلان کرو کہ خُداوند سلطنت کرتا ہے۔ جہان قائم ہے اور اُسے جنبش نہیں۔ وہ راستی سے قوموں کی عدالت کریگا۔
۱۱ آسمان خُوشی منائے اور زمین شادمان ہو۔ سُمندر اور اُسکی معمُوری شور مچائیں۔
۱۲ میَدان اور جو کچھ اُس میں ہے باغ باغ ہوں۔ تب جنگل کے سب درخت خُوشی سے گانے لگینگے۔
۱۳ خُداوند کے حُضُور ۔ کیونکہ وہ آرہا ہے۔ وہ زمین کی عدالت کرنے کو آ رہا ہے۔ وہ صداقت سے جہان کی اور اپنی سچّائی سے قوموں کی عدالت کریگا۔