نا حُوم تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

ناحوم

Nahum

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’ ناحوم کی بیان کردہ باتیں نہایت عمدہ اور صاف ہیں اور اِس کتاب کو بجا طور پر پرانے عہدنامے کے اعلیٰ ادب میں جگہ دی گئی ہے۔‘‘(‏سی۔ ایچ۔ ایچ۔ رائٹ۔Wright)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

ناحوم کی مختصر سی نبوت ایک عبرانی آدمی نے غیر قوم عالمی طاقت کے پایۂ تخت نینوہ کے خلاف لکھی ہے۔ اِسے قومی احساسات و جذبات کا ترجمان رسالہ قرار نہیں دیا جا سکتا‏، بلکہ یہ جور و ستم‏، فوجی طاقت کے بل بوتے پر دھونس جمانے اور خدا کے لوگوں پر اُس کے اثرات کی کھلی مذمت ہے۔ اگرچہ اپنے لوگوں کی برگشتگی‏، بے راہی اور گناہ کی سزا دینے کے لئے خدا بے دینوں اور بت پرستوں کو استعمال کرتا ہے مگر آلۂ کار بننے والی یہ اقوام بھی سزا کے لائق ٹھہرتی ہیں۔ اِس نکتے پر آر۔ کے۔ ہیریسن (‏Harrison)‏ نے یوں اِظہارِ خیال کیا ہے:‏

’’ انجامِ بد کی اِس چھوٹی سی نبوت میں مصنف نے نہایت زور دار اور یاد رکھنے کے قابل زبان میں عملی توضیح کی ہے کہ جس قوم کی اسوری تحقیر کرتے تھے اُس کا خدا اِنسان کی قسمت کا معمار اور مختار ہے۔ اُس کے اِنصاف کے سامنے دُنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شرمندہ اور خاکسار ہو کر جھکنا پڑتا ہے۔ ‘‘

۲۔ مصنف

ناحوم کا آبائی قصبہ الکوش تھا۔ یہ قصبہ اگرچہ اِتنا مشہور نہ تھا‏، لیکن اکثر اسے کفرنحوم (‏عبرانی کفر ناحوم بمعنی ناحوم کا قصبہ)‏ ہی مانا جاتا ہے۔ نبی کے نام کا مطلب ہے‏، ’’تسلی/ دلاسا دینے والا یا ڈھارس بندھانے والا۔‘‘

۳۔ سنِ تصنیف

اگرچہ کتاب میں تاریخ کا کوئی اِشارہ نہیں تو بھی یہ کتاب لازماً ۶۶۳ ق م میں نوآمون (‏Thebes)‏ کی فتح کے بعد لکھی گئی کیونکہ ناحوم اِس واقعے کا ذکر کرتا ہے (‏۳:‏۸)‏۔ یہ ضرور ۶۱۲ ق م میں نینوہ کی بربادی سے پہلے لکھی گئی۔ اِس طرح اِس کی تصنیف کا زمانہ بت پرست بادشاہ منسّی (‏۶۹۶۔۶۴۲ ق م)‏ کے طویل دَورِ حکومت کے دوران تقریباً ۶۶۳ اور ۶۵۴ ق م کے سال ہیں۔

۴۔ پس منظر اور موضوع

ناحوم القوشی نے یہوداہ کو تسلی کا پیغام دیا کیونکہ اُس نے اسوریوں کی بربادی اور خدا کے لوگوں کی بحالی اور ازسرِنو اِستحکام کی پیش گوئی کی۔ اِس کی نبوت یوناہ کی کتاب کا ضمیمہ یا تکمِلَہ ہے۔ یوناہ میں ہم نینوہ کو توبہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں‏، لیکن ناحوم میں دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی پرانی رَوِشوں کو پھر گئے اور خدا کے قہر کو بھڑکایا۔ ہمارے خداوند نے اہلِ نینوہ کی توبہ کی کیفیت یا وضع کا فریسیوں کی غیر تائب وضع سے موازنہ کیا ہے (‏متی ۱۲:‏ ۴۱)‏۔ 

یہ مختصر سا کتابچہ فوجی طرزِ عمل (‏جنگ بازی)‏ کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اسوری اپنے دشمنوں سے نہایت بے رحمی اور سنگ دلی کا سلوک کرتے تھے۔ اُن کے کتبوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ مفتوحین کی کھالیں اپنے خیموں اور فصیلوں پر لٹکاتے اور بہت خوش ہوتے تھے۔ یہ رواج بہت عام تھا یا کم مگر اُن کی ذہنیت اور افتادِ طبع کا آئینہ دار ہے۔ 

وہ اِسرائیل کے خدا کی بھی تحقیر و تکفیر کرتے تھے جو سقوطِ نینوہ سمیت ساری قوموں کو کنٹرول کرتا ہے۔ 

ناحوم اسور کے دارالسلطنت اور اُس زمانے کی دنیا کے سب سے بڑے شہر نینوہ کے زوال اور بربادی کی پیش گوئی کرتا ہے۔ لفظی معانی میں یہ نبوت پوری ہو چکی ہے‏، لیکن ایک اَور معانی میں یہ مستقبل میں اسوریوں کا بیان کرتی ہے جو خدا کے لوگوں کے لئے زبردست خطرہ ہوں گے۔ 

 

خاکہ
    باب
۱۔ خدا کی صفت __ وہ منصف ہے ‏۱:‏۱۔۸‏
۲۔ نینوہ کا انجامِ بد یقینی ہے ‏۱:‏ ۹۔۱۵‏
۳۔ نینوہ کے محاصرے کی تفصیل ‏۲:‏ ۱:‏ ۱۲‏
۴۔ خدا کا پکا ارادہ کہ اِس شہر کو برباد کروں گا ‏۲:‏ ۱۳۔۳:‏۱۹‏