زبُور ۴

زبور ۴:‏ خدا کا پوشیدہ سکون

۴:‏ ۱ جونہی داؤد خداوند کی حضوری میں داخل ہوتا ہے‏، وہ اُسے ’’اے میری صداقت کے خدا!‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ اِس کے پیچھے یہ خیال ہے کہ منصف خدا پر بھروسا کیا جا سکتا ہے کہ وہ داؤد کا صداقت سے انصاف کرے گا۔ ممکن ہے کہ لوگ بہتان تراشی کریں اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں‏، لیکن خدا صحیح حقائق کو جانتا ہے اور وہ چاہے گا کہ انصاف کی فتح ہو۔

تب داؤد اِس بات کا اضافہ کرتا ہے‏، ’’ تنگی میں تُو نے مجھے کشادگی بخشی۔‘‘ انگلش کے ایک ترجمے میں یوں لکھا ہے ’’دباؤ میں تُو نے مجھے وسعت دی۔‘‘ عموماً ہمارا یہ تصور ہے کہ دباؤ سے کسی چیز کا حجم کم کیا جاتا ہے‏، لیکن خدا دباؤ کو روحانی وسعت کے لئے استعمال کرتا ہے۔ خوش حالی بہت کم ہماری روحانی ترقی کا باعث بنتی ہے‏، لیکن مصیبت ترقی اور بلوغت پیدا کرتی ہے۔ سپرجن نے ایک بار کہا:‏

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مَیں نے جو فضل آرام و سکون کے لمحات میں حاصل کیا وہ ایک پیسہ کے برابر ہے۔ اِس کے مقابلے میں جو بھلائی مجھے دُکھوں‏، غموں اور پریشانیوں سے حاصل ہوئی وہ بے حساب ہے۔ مَیں ہتھوڑے اور اہرن‏، آگ اور ریتی کا بہت مقروض ہوں۔ مصیبت اور دُکھ میرے گھر میں بہترین فرنیچر ہے۔

یہ یاد کرتے ہوئے کہ جب وہ ماضی میں پریشان تھا تو خدا نے اُس کی دعاؤں کا جواب دیا‏، داؤد اب بڑی آزادی سے خدا سے دعا کرتا ہے کہ وہ پھر اُس کی دعا کو سنے۔

۴:‏۲‏،۳ آیات ۲۔ ۵ سے داؤد کی التجا کے لئے فوری موقع کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔بے اصول لوگ اُس پر بہتان تراشی کر رہے تھے۔ یہ نکتہ چینی کرنے والے لوگ اُس کی ذات پر کیچڑ اُچھال رہے‏، اُس کی کردار کشی کر رہے اور جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے اُس کی شہرت کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ 

داؤد اُن سے سوال کرتا ہے کہ اُن کا فضول غصہ کب تک اُس کے خلاف جاری رہے گا‏، اور اُنہیں یاد دلاتا ہے کہ اُسے گرانے کے لئے اُن کی کوششیں بے معنی ہیں‏، کیونکہ خدا خود اُس کی طرف ہے۔ ’’خداوند نے دیندار کو اپنے لئے الگ کر رکھا ہے۔‘‘ جو خداوند پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُس کی آنکھ کی پُتلی ہیں (‏زکریاہ ۲:‏ ۸)‏۔ اُن کی صورتیں اُس کی ہتھیلیوں پر کندہ ہیں (‏یسعیاہ ۴۹:‏ ۱۶)‏۔ جب وہ اُسے پکارتے ہیں تو وہ اُن کی سنتا اور فوری طور پر اُن کی مدد کرتا ہے۔ یوں داؤد رومیوں ۸:‏ ۳۱ میں مذکور پولس کے خیال کو پیش کرتا ہے:‏ ’’اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟ ‘‘

۴:‏۴ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ تھرتھراؤ کیا گیا ہے اُس کا مطلب ’’غصہ کرو‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ داؤد کے دشمنوں کو اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہئے۔ اگر اُنہیں ضرور ہی غصے کا اظہار کرنا ہے تو وہ صحیح موقف کے لئے کریں۔ ’’غصہ تو کرو لیکن گناہ نہ کرو‘‘ افسیوں ۴:‏ ۲۶ میں اقتباس کیا گیا ہے‏، لیکن وہاں اِس آیت کے ذریعے ایمانداروں کو مخاطب کیا گیا ہے اور اُنہیں یاد دلایا گیا ہے کہ خداوند کے موقف کے لئے غصہ کا اظہار کیا جائے نہ کہ اپنے موقف کے لئے۔ یہاں زبور ۴ میں یہ الفاظ شریروں کے لئے کہے گئے ہیں تاکہ اُنہیں خبردار کیا جائے کہ کہیں اُن کا شدید غصہ‏، عملی تشدد میں تبدیل نہ ہو جائے۔ جب وہ رات کی تنہائیوں میں اپنے بستر پر لیٹے جاگ رہے ہوتے ہیں‏، تو اُنہیں اپنے دلوں کو جانچتے ہوئے غور کرنا چاہئے کہ خدا کے خلاف لڑنا حماقت ہے۔ یوں سنجیدگی سے سوچ بچار سے بہتان تراشی کا اُن کا رویہ ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کو ترک کر دیں گے۔

۴:‏۵ بڑی دلیری سے بشارتی انداز سے داؤد شریروں کو صلاح دیتا ہے کہ وہ خداوند پر ایمان کے ساتھ عملی صداقت کو ہم آہنگ کریں۔ ’’انصاف کو اپنی قربانیاں بناؤ‘‘ (‏گلینو)‏۔ لیکن ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کا توکل خداوند پر ہے۔

۴:‏۶ بہت سے لوگ خوشی اور خوش حالی کے طلب گار ہیں۔ وہ مسلسل کوئی بھلائی دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ برکت دینے والے کے بغیر برکت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور خدا کے بغیر بھلائی کے طلب گار ہیں۔ وہ مسیح سے معمور زندگی کے سب مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں‏، لیکن مفادات دینے والے کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔

اُن کے برعکس داؤد اِن الفاظ کے ساتھ نیکی کے سرچشمے کے پاس جاتا ہے ’’اے خداوند تُو اپنے چہرہ کا نور ہم پر جلوہ گر فرما۔‘‘

۴:‏۷ جب شریروں کی کوٹھڑیوں میں غلہ اور مشکیزوں میں مے کی فراوانی ہوتی ہے تو داؤد کی خوشی اُن کی مادی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ’’غلہ اور مے کی فراوانی سے وہ خوشی حاصل نہیں ہوتی جو خوشی تُو نے میرے دل میں رکھی ہے‘‘ (‏ناکس)‏۔

۴:‏ ۸ جب زبور نویس کو خداوند کی پروردگاری کے بارے میں یقین دہانی ہوتی ہے تو اُس کی باطنی تلخی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اب سلامتی سے لیٹ جائے گاکیونکہ وہ جانتا ہے کہ خداوند اُسے تحفظ دے گا۔ دعا کی صرف آٹھ مختصر آیات نے کس قدر تبدیلی پیدا کر دی ہے۔

مقدس کتاب

۱ جب میں پُکاروں تو مجھے جواب دے۔ اَے میری صداقت کے خُدا! تنگی میں تُو نے مجھے کُشادگی بخشی۔ مجھ پر رحم کر اور میری دُعا سُن لے۔
۲ اَے بنی آدم! کب تک میری عزت کے بدلے رُسوائی ہو گی؟ تُم کب تک بطالت سے محبت رکھو گے اور جُھوٹ کے درپے رہوگے؟(سلاہ):
۳ جان رکھو کہ خُداوند نے دیندار کو اپنے لئے الگ کر رکھا ہے۔ جب میں خُداوند کو پُکارونگا تو وہ سُن لیگا۔
۴ تھرتھراؤ اور گُناہ نہ کرو۔ اپنے اپنے بستر پر دِل میں سوچو اور خاموش رہو۔ (سلاہ)
۵ صداقت کی قربانیاں گذرانو اور خُداوند پر تُوکل کرو۔
۶ بہت سے کہتے ہیں کون ہم کو کچھ بھلائی دِکھائیگا؟ اَے خُداوند تُو اپنے چہرہ کانُور ہم پر جلوہ گر فرما۔
۷ تُو نے میرے دِل کو اُس سے زیادہ خُوشی بخشی ہے جو اُ ن کو غلّا اور مَے کی فراوانی سے ہوتی تھی۔
۸ میں سلامتی سے لیٹ جاؤنگا اور سورہونگا کیونکہ اَے خُداوند! فقط تُو ہی مجھے مطمئن رکھتا ہے۔