زبور ۵۴: خدا میرا مددگار ہے
جب داؤد، ساؤل کے ظلم سے تنگ آ کر مفرور تھا تو زیفیون نے دوبار بادشاہ کو اُس کے بارے میں بتایا کہ وہ کہاں موجود ہے (۱۔سموئیل ۲۳:۹؛۲۶:۱)۔ اِس راز کے افشا ہونے پر زبور نویس کے نوکِ قلم سے اِس زبور کے الفاظ نکل پڑے۔ ہر زمانہ میں جب خدا کے لوگ انسانوں کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھائیں تو یہ نہایت موزوں دعا ہے۔
۵۴: ۱ مدد کے لئے ابتدائی فریاد میں خدا کے نام میں نجات اور اُس کی قدرت سے انصاف کے لئے التجا کی گئی ہے۔ اُس کا نام اُس کی فطرت اور کردار کو اور اُس کی قدرت اُس کے قادر مطلق ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہاں نجات کا مطلب دشمنوں سے دنیوی مخلصی ہے۔
۵۴: ۲، ۳ ’’ابھی نہیں توکبھی نہیں‘‘ کے مقولہ کے تحت زبور نویس ہنگامی صورتِ حال پیش کرتے ہوئے خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس کی فریاد کو سنے اور اُس کے منہ کی باتوں پر کان لگائے۔
حقیقت یہ تھی کہ یہ بیگانے سازش کے تحت داؤد کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے، اُس کے خون کے پیاسے یہ لوگ اُسے ختم کر دینا چاہتے تھے۔ اِن گمراہ لوگوں کو خدا کی کوئی پروا نہیں تھی۔
۵۴: ۴، ۵ خداوند دعا گو کی جان کو سنبھالنے والوں میں سے ہے۔ ایک وقت آئے گا جب وہ اپنے لوگوں کے دشمنوں کو برباد کر دے گا اور اُنہیں مصیبت میں ڈال دے گا۔
یہ علم کہ خدا کیا کرے گا جلد ہی دعا میں بدل جاتا ہے، ’’اے خداوند! اپنی وفاداری ثابت کرکے اُن کی بدی کے منصوبوں کو ختم کر دے۔‘‘
۵۴: ۶ آیت ۱ میں مذکور نجات بخش نام پھر پرستش کا نام بن جائے گا۔ داؤد خداوند کے پاس رضا کی قربانیاں لائے گا اور خداوند کے نام کی شکر گزاری کرے گا، کیونکہ یہ وہ قیمتی نام ہے جس میں ہر طرح کی نیکی پوشیدہ ہے۔
۵۴: ۷ آخری آیت میں داؤد یوں گویا ہوتا ہے جیسے اُس کی تمام مصیبتیں ختم ہو گئی ہوں، جیسے کہ اُس نے پہلے سے اپنے دشمنوں کی موت کو دیکھ لیا ہے۔ مورگن لکھتا ہے ’’گو وہ ابھی تک مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے، تاہم وہ مخلصی کا گیت گاتا ہے جیسے کہ یہ پہلے سے اُسے حاصل ہو چکی ہے۔‘‘ چنانچہ ’’ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اَن دیکھی چیزوں کا ثبوت ہے‘‘ (عبرانیوں ۱۱: ۱)۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُدا اپنے نام کے وسیِلہ سے مجھے بچا اور اپنی قُدرت سے میرا اِنصاف کر
۲ اَے خُدا! میری دُعا سُن لے۔ میرے مُنہ کی باتوں پر کان لگا ۔ کیونکہ بیَگانے میرے خلاف اُٹھے ہیں اور تُند خُو میری جان کےخواہاں ہوئے ہیں۔اُنہوں نے خُدا کو اپنے رُوبرو نہیں رکھا۔
۳
۴ دیکھو! خُدا میرا مدد گار ہےخُداوند میری جان کو سنبھالنے والوںمیں ہے۔
۵ وہ بُرائی کو میرے دُشمنوں ہی پر لُوٹا دیگا۔تُو اپنی سچائی کی ُرو سے اُن کو فنا کر۔
۶ میَں تیرے حضور رضا کی قُربانی چڑھاؤں گا۔اَے خُداوند! میَں تیرے نام کی شُکرگزاری کرُونگاکیونکہ وہ خُوب ہے۔
۷ کیونکہ اُس نے مُجھے سب مُصیبتوں سے چھُڑایا ہےاور میری آنکھ نے میرے دُشمنوں کو دیکھ لِیا ہے۔