کتابِ مقدس کی تفسیر
حزقی ایل
Ezekiel
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’حزقی ایل کے پہلے سے آخری باب تک ایک اعلیٰ اور بلند پایہ خیال کا سلسلہ پایا جاتا ہے اور وہ ہے خداوند خدا (یہوواہ) کی حاکمیتِ اعلیٰ اور جلال۔ وہ اِسرائیل میں اور دُنیا کی قوموں کے معاملات میں حاکمِ اعلیٰ ہے، اگرچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِنسانوں کے بلند بانگ اور تند و تیز دعوے سچائی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی اِسی مطلق مرضی سے خدا نے ٹھہرایا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اُس کی تمجید کریں اور دُنیا کی اِنتہا تک اُس کی گواہی دیں۔ ‘‘ (چارلس لی فِین برگ)
۱۔ مُسلَّمہ کتب میں یکتا مقام
بدقسمتی سے اِس مشکل کتاب کے بارے میں ہمارا بائبل کا علم زیادہ گہرا نہیں ہے۔ علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے کئی افراد ہیں جو اِس نبی کے قابلِ ذکر اُسلُوبِ بیان کے باعث بائبل مقدس پر فریفتہ ہیں۔
حزقی ایل کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ وہ (یرمیاہ اور کسی حد تک یسعیاہ اور انبیائے اصغر کے برعکس) خدا کے عدالت کرنے اور سزا دینے پر نہیں بلکہ خدا کے اپنے لوگوں کو تسلی دینے پر زور دیتا ہے۔ حزقی ایل نے نہرکبار کے کنارے سے (جہاں بابل کے قریب شاید کوئی قدیم مشقت کیمپ قائم تھا) یہ پیش گوئیاں لکھیں۔ اِن سے یہودی جلاوطنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
۲۔ مصنف
حزقی ایل (خدا مضبوط کرتا ہے یا خدا کا مضبوط کیا ہوا) اسیروں کے اُس دوسرے گروہ میں شامل تھا جو یروشلیم کی بربادی سے گیارہ (۱۱) برس پہلے بابل میں لائے گئے۔
۱۹۲۰ کی دہائی تک حزقی ایل کی نبوت کی کتاب اِستدلال پسند نقادوں کی قینچی سے بچی رہی۔ بعض آزاد خیال علما نے بڑی تیزی سے نظریات گھڑے جن میں اِس کتاب کی موضوع کی یکسانیت، حزقی ایل کی تصنیف ہونے اور روایات کے مطابق تاریخِ تصنیف سے اِنکار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ قدیم سے یہودیوں اور مسیحیوں کا یہ نظریہ بہت مضبوط ہے کہ یہ کتاب شاعر اور نبی بوزی کے بیٹے حزقی ایل کی تصنیف ہے۔ اور نقادوں کے نظریے کا خوب جواب دیا جا چکا ہے۔
جان بی۔ ٹیلر (John B. Taylor) نے چھے دلائل دیئے کہ اِس کتاب کے موضوع میں یکسانیت ہے اور یہ ایک ہی مصنف کی تصنیف ہے۔ ہم اِختصار کے ساتھ اِن دلائل کو ہدیۂ قارئین کرتے ہیں۔
- اِس کتاب میں شروع سے آخر تک تسلسل ہے اور سوچا سمجھا تاثر پیدا کرتی ہے۔
- اِس کتاب میں ایک ہی پیغام ہے __ یروشلیم اور ہیکل کی بربادی
- اِس کے اندازِ بیان اور زبان میں یکسانیت ہے، جن میں خصوصی تراکیب اور اجزائے جملہ بھی شامل ہیں مثلاً ’’آدم زاد‘‘، ’’خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا‘‘۔ ’’وہ جانیں گے کہ مَیں خداوند ہوں اور خداوند کا جلال‘‘۔
- حزقی ایل میں ایک واضح اور معین تواریخی ترتیب موجود ہے جو انبیائے اکبر کا طرۂ اِمتیاز ہے (دیکھئے یسعیاہ اور یرمیاہ)۔
- کتاب میں شروع سے آخر تک واحد متکلم کا صیغہ استعمال ہوا۔ یہ اِس کتاب کو اِمتیازی طور پر خود نوشت سرگذشت ثابت کرتا ہے۔ ۱:۳ اور ۲۴:۲۴ میں شناخت کرائی گئی ہے کہ مصنف حزقی ایل ہے۔
- کتاب میں حزقی ایل کی شخصیت اور کردار شروع سے آخر تک یکساں ہیں۔ اِس کا اِشتیاق اور صدق دلی، علامات کے استعمال کی لگن، تفاصیل پر توجہ اور خدا کے جلال اور فضیلت و فوقیت سے ہیبت زدہ ہونا اِس خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔
۳۔ سنِ تصنیف
حزقی ایل نے اپنی نبوتوں کی تاریخیں بڑی صحت کے ساتھ درج کی ہیں۔ اُس کی پہلی نبوت (۱:۲) یہویاکین کی جلاوطنی کے پانچویں سال (۵۹۳ ق م) میں ملی۔ اور آخری نبوت جس کی تاریخ دی گئی ہے وہ ۵۷۱ ق م (۲۹:۱۷) میں ملی۔ یوں اُس کی خدمت کا عرصہ کم سے کم بائیس سالوں پر محیط ہے۔ اگر کاہن کی حیثیت سے اُس کی خدمت تیس برس کی عمر میں شروع ہوئی تو نبوت کی خدمت کے اِختتام پر اُس کی عمر پچاس برس سے زیادہ تھی۔
۴۔ پس منظر اور موضوعات
حزقی ایل نے اسیری سے فوراً پہلے شروع کر کے کم و بیش بیس سالوں کے عرصے کے دوران اُن لوگوں کے درمیان خدمت کی جن کے ساتھ وہ خود بھی اسیری اور جلاوطنی میں تھا۔ وہ جھوٹی اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ ہم یروشلیم واپس جائیں گے چنانچہ اُس نے اُنہیں تعلیم دی کہ پہلے تم کو خداوند کے پاس واپس آنا ہو گا۔
حزقی ایل کی نبوت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے وہ یہوداہ کے گناہ گنواتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ خدا کا غضب عنقریب نازل ہوا چاہتا ہے اور تمہاری اسیری اور دارالحکومت کی بربادی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اِس کا واضح اور صاف صاف اعلان غیر معمولی رُؤیاؤں اور علامتی کاموں سے کیا گیا ہے۔ ایک روشن اور چمک دار بادل جو خدا کی حضوری کا نشان ہے ہیکل کے اوپر منڈلاتا نظر آتا ہے، پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے ہٹ جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے گناہوں کے باعث خدا اُن کے درمیان مزید سکونت نہیں کر سکتا۔ اور ضرور ہے کہ اُس کے غضب کی تلوار عنقریب گناہ سے ناپاک شدہ ہیکل پر آ پڑے۔ خداوند کا جلال ایک ایسا کلیدی تصور ہے جو حزقی ایل کی کتاب کے شروع سے آخر تک موجود ہے۔
دوسرے حصے میں یہوداہ کی پڑوسی قوموں کو اُن کی بت پرستی اور خدا کے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی پاداش میں مغلوب اور ملعون کیا گیا ہے۔ یہ قومیں ہیں عمونی، موآبی، ادومی، فلستی، صوری، صیدانی اور مصری۔
اور آخری حصے میں حزقی ایل پوری قوم __ اِسرائیل اور یہوداہ دونوں __ کی بحالی اور دوبارہ اتحاد کا بیان کرتا ہے۔ جب لوگ توبہ کریں گے تو خدا اپنا پاک روح اُن کے باطن میں ڈالے گا۔ مسایاح (مسیحِ موعود) اپنے لوگوں کے پاس آئے گا اور اُن کے آخری دشمنوں کو نیست کر دے گا۔ ہیکل از سرِنو تعمیر کی جائے گی اور خدا کا جلال اُس میں واپس آ جائے گا۔ یہ نبوتیں (پیش گوئیاں) ابھی پوری نہیں ہوئیں بلکہ زمین پر مسیح کے ہزار سالہ دَورِ حکومت کی منتظر ہیں۔
نبوت کی بہت سی دوسری کتابوں کی طرح حزقی ایل کی کتاب بھی پورے طور سے تواریخی ترتیب میں نہیں، تاہم یسعیاہ اور یرمیاہ کی نسبت زیادہ ترتیب وار ہے۔ بہت سے ابواب کے شروع میں تاریخیں یا تاریخی ادوار درج ہیں اور ہمیں اُن کو توجہ سے دیکھنا چاہئے۔ البرٹ بارنز ( Albert Barnes) نے نبوتوں کو مندرجہ ذیل تواریخی ترتیب دی ہے:
مختلف ابواب کے شروع میں دی گئی تاریخوں کے مطابق نبوتوں کی گروہ بندی کی گئی ہے۔ جو نبوتیں تاریخوں کے بغیر ہیں اُن کے لئے ہم فرض کر سکتے ہیں کہ وہ اِن سے پہلے مذکور تاریخ کو یا کم سے کم اِس کے بہت جلد بعد دی گئیں۔
| ۱۔ | یہویاکین کی اسیری کا پانچواں سال: | ابواب ۱۔۷ حزقی ایل کی بلاہٹ اور یروشلیم کا عنقریب ہونے والا محاصرہ۔ |
| ۲۔ | چھٹا سال | ابواب ۸۔۱۹ لوگوں کی مجموعی حالت کا جائزہ اور عنقریب آنے والی سزا کی پیش گوئیاں۔ |
| ۳۔ | ساتواں سال | ابواب ۲۰۔۲۳ تازہ ڈانٹ اور ملامت اور آنے والی تباہی کی تازہ پیش گوئیاں |
| ۴۔ | نواں سال | باب ۲۴، اِسی سال میں محاصرہ شروع ہوا۔ یہ اعلان کہ شہر شکست کھائے گا۔ |
| ۵۔ | اُسی سال | باب ۲۵، موآب، عمون اور فلستین کے خلاف نبوتیں |
| ۶۔ | گیارھواں سال | ابواب ۲۶۔۲۸ صور کے خلاف پیش گوئیاں اٹھارہ ماہ کے محاصرے کے بعد اِس سال یروشلیم پر قبضہ ہو گیا اور ہیکل ڈھا دی گئی۔ |
| ۷۔ | دسواں سال | باب ۲۹: ۱۔۱۶ مصر کے خلاف نبوت |
| ۸۔ | ستائیسواں سال | ابواب ۲۹: ۱۷۔۳۰: ۱۹ مصر کے خلاف نبوت |
| ۹۔ | گیارھواں سال | ابواب ۳۰: ۲۰۔۳۱:۱۸ مصر کے خلاف نبوت |
| ۱۰۔ | بارھواں سال | باب ۳۲ مصر کے خلاف نبوت |
| ۱۱۔ | اُسی سال | ابواب ۳۳۔۳۴ بے ایمان اور سرکش حاکموں کو سرزنش اور ملامت |
| ۱۲۔ | اُسی سال۔ یا بارھویں اور پچیسویں سال کے درمیان کوئی سال | باب ۳۵، کوہِ شعیر کی عدالت (یا اُس کے خلاف فیصلہ) |
| ۱۳۔ | اُسی سال | ابواب ۳۶۔۳۹ تسلی کا رُؤیا۔ جوج کی شکست |
| ۱۴۔ | پچیسواں سال | ابواب ۴۰۔۴۸ ہیکل کا رُؤیا |
حزقی ایل نے خدا کا کلام بابل سے میلوں دُور یہودیہ میں کیسے پہنچایا؟ اِس نکتے پر ڈیلی نوٹس آف سکرپچر یونین (Daily Notes of Scripture Union) یوں کہتے ہیں:
’’اِس کتاب کی ایک مشکل یہ ہے کہ حزقی ایل نے دُور دراز یروشلیم میں رہنے والوں کی خدمت کیسے کی جب کہ وہ خود بابل میں اسیر اور جلاوطن تھا۔ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ ان جلاوطنوں کو اپنے وطن کے ساتھ رابطہ رکھنے اور رسل و رسائل کی آزادی تھی۔ دونوں شہروں کے درمیان علاقے پر بھی بابلیوں کا قبضہ تھا اور اُنہوں نے امن و امان قائم کر رکھا تھا۔ زمانۂ سابق کی نسبت حزقی ایل کے دَور میں رابطہ رکھنا زیادہ آسان ہو چکا تھا۔ کسی بھی قاصد کے لئے حزقی ایل کے علامتی کاموں کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا نسبتاً آسان تھا جب کہ اُس کا زبانی پیغام یاد داشت میں دُھندلا پڑ سکتا ہے اور تحریری پیغام بابل کے حاکموں کو متوجہ کر سکتا تھا۔‘‘
| خاکہ | ||||
| باب | ||||
| ۱۔ | حزقی ایل کی بلاہٹ اور اُسے ذمہ داری تفویض ہونا | ۱: ۱۔ ۳:۲۱ | ||
| الف۔ | حزقی ایل کے حالات | ۱: ۱۔۳ | ||
| ب۔ | حزقی ایل خدا کے جلال کا رُؤیا دیکھتا ہے | ۱:۴۔۲۸ الف | ||
| ج۔ | حزقی ایل کو مقرر کیا جاتا ہے کہ اِسرائیل کے لوگوں کے لئے نبوت کرے۔ | ۱:۲۸ب۔ ۳:۲۱ | ||
| ۱ | لوگوں کا کردار __ باغی | ۱: ۲۸ب۔۲:۷ | ||
| ۲ | پیغام کی نوعیت __ سزا کا حکم جیسا کہ طومار سےظاہر ہوا | ۲: ۸۔۳:۳ | ||
| ۳ | لوگوں کی سرشت __گستاخ اور سخت دل | ۳: ۴۔۱۱ | ||
| ۴ | نبی کا کردار۔ نگہبان (پہرے دار) | ۳: ۱۲۔۲۱ | ||
| ۲۔ | یہوداہ اور یروشلیم پر قہر و غضب کی تصویر کشی | ۳: ۲۲۔۲۴:۲۷ | ||
| الف۔ | آنے والی سزا کو ظاہر کرنے والے بصری معاونات | ۳: ۲۲۔۵:۱۷ | ||
| ۱ | حزقی ایل کو حکم ہوتا ہے کہ گونگا بنا رہے جب تک خدا بولنے کا حکم نہ دے۔ | ۳:۲۲۔۲۷ | ||
| ۲ | ایک کھپرے کی مدد سے یروشلیم کے محاصرے کی تصویر | ۴ | ||
| ۳ | بالوں اور تیز تلوار کے استعمال کی مدد سے لوگوں کےانجام کی پیش گوئی | ۵ | ||
| ب۔ | بت پرستی کا خاتمہ اور لوگوں کے ایک بقیہ کا بچایا جانا | ۶ | ||
| ج۔ | ل کے دھاوے کی شدت اور اُس کا عنقریب ہونا | ۷ | ||
| د۔ | ہیکل میں زبردست بت پرستی کا رُؤیا | ۸ | ||
| ہ۔ | خدا کی حضوری کا ہٹ جانا اور بعد ازاں بت پرستوں کی ہلاکت | ۹ | ||
| و۔ | یہ رُؤیا کہ خدا کا جلال یروشلیم پر قہر و غضب کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے | ۱۰ | ||
| ز۔ | شریر اُمرا کی مشورت کی نامنظوری | ۱۱: ۱۔۱۳ | ||
| ح۔ | ایک بقیہ کے بچائے جانے کا وعدہ | ۱۱: ۱۴۔۲۱ | ||
| ط۔ | جلال کے بادل کا زیتون کے پہاڑ پر چلے جانے | ۱۱: ۲۲۔۲۵ | ||
| ی۔ | آنے والی جلاوطنی (اسیری) کے لئے حزقی ایل کی علامتیں | ۱۲ | ||
| ۱ | اُس کا سفری سامان | ۱۲: ۱۔۱۶ | ||
| ۲ | اُس کی کپکپی | ۱۲: ۱۷۔۲۸ | ||
| ک۔ | جھوٹے نبیوں کا بُرا انجام | ۱۳ | ||
| ل۔ | بت پرست بزرگوں کو خدا کی دھمکی (اِنتباہ) | ۱۴ | ||
| م۔ | بے پھل تاک کی تمثیل | ۱۵ | ||
| ن۔ | یروشلیم کی شادی کی تمثیل | ۱۶ | ||
| س۔ | دو عقابوں کی تمثیل | ۱۷ | ||
| ع۔ | کھٹے انگوروں کی تمثیل کی تردید | ۱۸ | ||
| ف۔ | یہوداہ کے آخری بادشاہوں پر نوحہ | ۱۹ | ||
| ص۔ | ِسرائیل کے ساتھ خدا کے سلوک کا راست ٹھہرایا جانا | ۲۰: ۱۔۳۲ | ||
| ۱ | مصر میں بت پرستی | ۲۰: ۱۔۹ | ||
| ۲ | خدا کے سبتوں کی بے حرمتی | ۲۰: ۱۰۔۱۷ | ||
| ۳ | بیابان میں بغاوت | ۲۰: ۱۸۔۲۶ | ||
| ۴ | بت پرستی | ۲۰: ۲۷۔۳۲ | ||
| ق۔ | خدا کا حتمی بحالی کا وعدہ | ۲۰: ۳۲۔۴۴ | ||
| ر۔ | عنقریب ہونے والے حملے کی تصاویر | ۲۰: ۴۵۔۲۱:۳۲ | ||
| ۱ | جنگل کی آگ کا نشان | ۲۰: ۴۵۔۴۹ | ||
| ۲ | میان سے نکالی ہوئی تلوار کا نشان | ۲۱: ۱۔۱۷ | ||
| ۳ | راہ سے دو راستے نکالنے کا نشان | ۲۱: ۱۸۔۳۲ | ||
| ش۔ | یروشلیم کے ناپاک ہونے کی تین نبوتیں | ۲۲ | ||
| ت۔ | دو کسبی بہنوں کی تمثیل | ۲۳ | ||
| ۱ | اہولہ | ۲۳: ۱۔۱۰ | ||
| ۲ | اہولیبہ | ۲۳: ۱۱۔۲۱ | ||
| ۳ | بابلیوں کا دھاوا | ۲۳: ۲۲۔۳۵ | ||
| ۴ | اہولہ اور اہولیبہ کی سزا (عدالت) | ۲۳: ۳۶۔۴۹ | ||
| ث۔ | اُبلتی ہوئی دیگ کی تمثیل | ۲۴: ۱۔۱۴ | ||
| خ۔ | حزقی ایل کی بیوی کی وفات کا نشان | ۲۴: ۱۵۔۲۷ | ||
| ۳۔ | سات غیر قوموں کے خلاف نبوتیں | ۲۵۔۳۲ | ||
| الف۔ | عمون کے خلاف نبوت | ۲۵: ۱۔۷ | ||
| ب۔ | موآب کے خلاف نبوت | ۲۵: ۸۔۱۱ | ||
| ج۔ | ادوم کے خلاف نبوت | ۲۵: ۱۲۔۱۴ | ||
| د۔ | فلستین کے خلاف نبوت | ۲۵: ۱۵۔۱۷ | ||
| ہ۔ | صور کے خلاف نبوت | ۲۶: ۱۔۲۸: ۱۹ | ||
| ۱ | صور کی بربادی | ۲۶ | ||
| ۲ | صور پر مرثیہ | ۲۷ | ||
| ۳ | صور کا زوال | ۲۸: ۱۔۱۹ | ||
| و۔ | صیدا کے خلاف نبوت | ۲۸: ۲۰۔۲۶ | ||
| ز۔ | مصر کے خلاف نبوت | ۲۹۔۳۲ | ||
| ۱ | فرعون اور اُس کے لوگوں کے خلاف عام دھمکی | ۲۹ | ||
| ۲ | مصر کے زوال پر نوحہ | ۳۰: ۱۔۱۹ | ||
| ۳ | فرعون کا زوال | ۳۰:۲۰۔۳۱: ۱۸ | ||
| ۴ | فرعون اور مصر پر نوحہ | ۳۲ | ||
| ۴۔ | اسرائیل کی بحالی اور اُس کے دشمنوں کی سزا | ۳۳۔۳۹ | ||
| الف۔ | نبی کی نگہبان کی حیثیت سے دوبارہ تقرری | ۳۳ | ||
| ب۔ | جھوٹے چرواہے اور اچھا چرواہا | ۳۴ | ||
| ج۔ | ادوم کا بُرا انجام | ۳۵ | ||
| د۔ | ملک اور لوگوں کی بحالی | ۳۶ | ||
| ہ۔ | سوکھی ہڈیوں کی وادی کا رُؤیا | ۳۷: ۱۔۱۴ | ||
| و۔ | اِسرائیل اور یہوداہ کا دوبارہ ملاپ (ایک قوم بننا) | ۳۷: ۱۵۔۲۸ | ||
| ز۔ | اسرائیل کے مستقبل میں دشمنوں کی بربادی | ۳۸،۳۹ | ||
| ۵۔ | ہزار سالہ دَور کے مناظر | ۴۰۔۴۸ | ||
| الف۔ | ہزار سالہ دَور میں یروشلیم کا مسکن | ۴۰۔۴۲ | ||
| ۱ | پیمائش کا سرکنڈا لئے ہوئے آدمی | ۴۰: ۱۔۴ | ||
| ۲ | بیرونی صحن کا مشرقی پھاٹک | ۴۰: ۵۔۱۶ | ||
| ۳ | بیرونی صحن | ۴۰: ۱۷۔۱۹ | ||
| ۴ | بیرونی صحن کے دو بیرونی پھاٹک | ۴۰: ۲۰۔۲۷ | ||
| ۵ | اندرونی صحن کے تین پھاٹک | ۴۰: ۲۸۔۳۷ | ||
| ۶ | قربانی کے لئے سازو سامان | ۴۰: ۳۸۔۴۳ | ||
| ۷ | کاہنوں کے حجرے (کوٹھریاں) | ۴۰: ۴۴۔۴۷ | ||
| ۸ | مسکن کی ڈیوڑھی | ۴۰: ۴۸،۴۹ | ||
| ۹ | مسکن اور پاک ترین مقام | ۴۱: ۱۔۴ | ||
| ۱۰ | اطراف کے حجرے (کوٹھریاں) | ۴۱: ۵۔۱۱ | ||
| ۱۱ | مسکن کے مغرب میں ایک عمارت | ۴۱:۱۲ | ||
| ۱۲ | مسکن کی پیمائش | ۴۱: ۱۳۔۱۵ الف | ||
| ۱۳ | مسکن کی اندرونی آرائش اور سازو سامان | ۴۱:۱۵ب۔۲۶ | ||
| ۱۴ | کاہنوں کی کوٹھریاں | ۴۲: ۱۔۴ | ||
| ۱۵ | بیرونی صحن کی پیمائش | ۴۲: ۱۵۔۲۰ | ||
| ب۔ | ہزار سالہ دَور میں عبادت | ۴۳،۴۴ | ||
| ج۔ | ہزار سالہ دَور میں نظم و نسق | ۴۵،۴۶ | ||
| د۔ | ہزار رسالہ دَور میں ملک | ۴۷،۴۸ | ||
| ۱ | پانیوں کی صحت یابی | ۴۷: ۱۔۱۲ | ||
| ۲ | ملک کی سرحدیں (حدود) | ۴۷: ۱۳۔۲۳ | ||
| ۳ | ملک کی تقسیم | ۴۸ | ||