زبور ۱۴: احمق کا عقیدہ
احمق کا عقیدہ یہ ہے کہ ’’کوئی خدا نہیں۔‘‘ چونکہ اُس کی خواہش ہے کہ کوئی خدا نہ ہو، اِس لئے وہ خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ یہ ایک بیہودہ موقف ہے۔ اوّل، یہ علیمِ کُل ہونے کا دعویٰ ہے کہ ’’ مَیں سب کچھ جانتا ہوں۔ یہ ممکن نہیں کہ میرے علم کی حدوں سے پرے خدا کا وجود ہو۔‘‘ دوم، اِس میں ہمہ جا حاضر ہونے کا دعویٰ بھی ہے ’’ مَیں بیک وقت ہر جگہ حاضر ہوں اور یہ ممکن نہیں کہ میرے جانے بغیر خدا کا اِس کائنات میں کہیں وجود ہو۔‘‘ علاوہ ازیں یہ موقف تخلیق میں کائنات کے عجائب کو نظر انداز کرتا ہے — یعنی کائنات کی وسعت، سیاروں کی حیران کن حد تک بے کم وکاست حرکات و سکنات، زندگی کی بقا کے لئے زمین کی عجیب و غریب موزونیت، انسانی جسم اور ذہن کی حیرت انگیز پیچیدگی اور پانی اور زمین کی غیرمعمولی خوبیوں پر نگاہ نہیں ڈالتا۔
مثال کے طور پر زندگی کے قیام کے لئے زمین کی موزونیت پر غور کریں۔ ہنری باش نے خدا کے محتاط اور عالی شان منصوبہ کی درج ذیل مثالیں پیش کی ہیں:
زمین اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے گھومتی ہے۔ یہ رفتار اگر سو میل فی گھنٹہ ہوتی، تو ہمارے دن اور رات دس گناہ لمبے ہوتے اور ہمارا سیارہ یکے بعد دیگرے جلتا اور منجمد ہو جاتا۔ لیکن اگر یہ مشتری، زُحل اور یورینس جتنا بڑا ہوتا تو بہت زیادہ کشش ثقل سے انسانی حرکات تقریباً ناممکن ہو جاتیں۔ اگر ہم مریخ جتنا دُور ہوتے، تو ہمارے گرم ترین علاقوں میں بھی ہر رات برف باری ہوتی۔ اگر ہمارا سمندر، موجودہ سمندر سے نصف ہوتا، تو موجودہ بارش سے ایک چوتھائی بارش حاصل ہوتی اور اگر یہ ۸/۱ بڑا ہوتا تو ہماری سالانہ بارش چار گنا بڑھ جاتی اور ساری زمین دلدل ہو جاتی جہاں سکونت کرنا ناممکن ہو جاتا۔
پانی صفر درجہ حرارت پر منجمد ہو جاتا ہے۔ اگر سمندر اِس درجہ پر منجمد ہو جاتا تو یہ تباہ کن صورتِ حال ہوتی، کیونکہ یوں قطبی علاقوں میں برف حد سے زیادہ جم جاتی۔ اِس تباہی کو روکنے کے لئے خدا نے سمندر میں نمک ڈال دیا تاکہ اِس کے نقطۂ انجماد کو تبدیل کر دے۔
یہ کہنا کہ یہ سب کچھ حادثاتی طور پر وقوع میں آ گیا، دُرست نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل کہتی ہے کہ ملحد بے وقوف ہیں۔ وہ اخلاقی احمق ہیں۔
اِن احمقوں کے لئے خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ بگڑے ہوئے ہیں اور نفرت انگیز کام کرتے ہیں۔ کسی انسان کے عقیدہ اور کردار میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ خدا کے بارے میں اُس کا تصور جس قدر ادنیٰ ہو گا، اُس کی اخلاقی زندگی بھی اُسی قدر ادنیٰ ہو گی۔ یا توسبب یا پھر نتیجے کے لحاظ سے الحاد اور لاادریت کا بگڑی ہوئی زندگی سے تعلق ہوتاہے۔ بارنز لکھتا ہے:
یہ عقیدہ کہ کوئی خدا نہیں بدی کی زندگی گزارنے کے لئے قبول کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بگڑی ہوئی زندگی گزاریں اور آنے والی سزا کے خوف سے گریز کریں۔
۱۴: ۲،۳ جب خدا آسمان سے نگاہ کرتا ہے کہ دیکھے کہ آدم کی نسل سے کوئی شخص خدا کی تلاش میں عقل مندی سے کام لیتا ہے تو اُس کی معلومات افسوس ناک ہوتی ہیں۔ فطری اور عملی لحاظ سے انسان گناہ گار ہے۔ اگر اُس کو اُس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کبھی بھی خدا کی تلاش نہیں کرے گا۔ لوگوں کو صرف روح القدس کی خدمت کے ذریعے خدا اور اُس کی نجات کا شعور حاصل ہوتا ہے۔
پولس رسول اِس زبور کی پہلی تین آیات کا رومیوں ۳: ۱۰۔۱۲ میں اقتباس کرتے ہوئے ظاہر کرتا ہے کہ گناہ نے تمام بنی نوع انسان اور ہر شخص کے ہر ایک حصہ کو متاثر کیا ہے۔ یہاں اِس زبور میں داؤد تمام نسل انسانی کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا، حالانکہ یہ بیان یقینی طور پر درست ہے، بلکہ وہ صادق کے مقابلہ میں خدا کا کھلے طور پر انکار کرنے والوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ یہ وہ کافر لوگ ہیں جو سچے اور زندہ خدا سے گمراہ ہو گئے ہیں۔ وہ اخلاقی طور پر بگڑ گئے ہیں۔ خدا نے اُن میں سے کسی ایک کو بھی نیکو کار نہ پایا۔
۱۴: ۴ جس انداز سے وہ خدا کے لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں، اِس سے اُن کی جہالت کا پتہ چلتا ہے۔ اگر اُنہیں اِس بات کا احساس ہوتا کہ خدا کیسے غریب کی حفاظت کرتا اور گناہ کی سزا دیتا ہے تو وہ ایمان داروں کو ایسے نہ نگل جاتے جیسے روزمرہ کی جائز شے روٹی کو کھاتے ہیں۔ اگر وہ خدا کی نیکی اور سختی کو جانتے تو وہ دعا کے بغیر زندگی نہ گزارتے۔
۱۴: ۵،۶ جب خداوند معصوم و صادق کا ساتھ دے گا تو ناراست بہت زیادہ خوف زدہ ہو جائے گا۔ اُنہوں نے غریب کے سادہ ایمان کا ہمیشہ مذاق اڑایا، لیکن اب وہ دیکھیں گے کہ جس خدا کا اُنہوں نے انکار کیا وہی اپنے لوگوں کی پناہ گاہ ہے۔
۱۴: ۷ وہ بہت عظیم دن ہو گا جب مسیح اپنے لوگوں کی رہائی کے لئے صیون سے آئے گا۔ اسرائیل کی خوشی کی انتہا نہیں رہے گی جب مسیح کے یہودی مقدسین بالآخر کلی طور پر اُن قوموں کی اسیری سے آزاد ہو جائیں گے جو واحد اور سچے خدا کا انکار کرتی ہیں۔
مقدس کتاب
۱ احمق نے اپنے دِل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔وہ بگڑ گئے۔ اُنہوں نے نفرت انگیز کام کئِے ہیں۔ کوئی نیکو کار نہیں۔
۲ خُداوند نے آسمان پر سے بنی آدم پر نگاہ کی تاکہ دیکھے کہ کوئی دانشمند کوئی خُدا کا طالب ہے یا نہیں۔
۳ وہ سب کے سب گمراہ ہوئے۔ وہ باہم نجس ہو گئے۔ کوئی نیکو کار نہیں۔ ایک بھی نہیں۔
۴ کیا اُن سب بدکرداروں کو کچھ علم نہیں جو میرے لوگوں کو ایسے کھا جاتے ہیں جیسے رُوٹی اور خُداوند کا نام نہیں لیتے؟
۵ وہاں اُن پر بڑا خوف چھا گیا کیونکہ خُدا صادق پشت کے ساتھ ہے۔
۶ تم غریب کی مشورت کی ہنسی اُڑاتے ہو۔ اِس لئے کہ خُداوند اُس کی پناہ ہے۔
۷ کاش کہ اسرائیل کی نجات صیُّون میں سے ہوتی! جب خُداوند اپنے لوگوں کو اسیری سے لوٹا لائیگا تو یعقوب خُوش اور اسرائیل شادمان ہوگا۔