زبُور ۱۲

زبور ۱۲:‏ خدا کے کلام کے مقابلے میں انسان کی باتیں 

۱۲:‏۱ اِس آیت میں مذکور دعا کا باعث لوگوں میں وفاداری کا عمومی زوال تھا جو خاص طور پر اُن کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ ناکس نے اِس کا ترجمہ یوں کیا ہے:‏ 

’’اے خداوند! میری مخلصی کے لئے آ‏، دین داری مر چکی ہے‏، اِس گھٹیا دُنیا میں سچے دلوں کی کمی ہے۔‘‘

۱۲:‏ ۲ بے دین نسل کے خلاف تین خصوصی الزامات ہیں:‏

  • جھوٹ۔ وہ نہ صرف مختلف فریبوں کے مجرم ہیں‏، بلکہ سفید جھوٹ بولنے‏، نصفسچائی بیان کرنے‏، مبالغہ آرائی اور وعدہ خلافیوں کے مرتکب ہیں۔
  • خوشامد۔ وہ منافقانہ طور سے دوسروں کی تعریف کرتے ہیں۔ کسی کی تعریف کرنا‏،خوشامد کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ یہ اُس وقت خوشامد بن جاتی ہے جب کسیشخص کی ایسی خوبی کی تعریف کی جائے جو اُس میں موجود نہ ہو۔ اِس کے علاوہ‏،خوشامد کے مقاصد خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں۔
  • دو رنگی باتیں کرنا۔ وہ سوچتے کچھ اَور اور کہتے کچھ اَور ہیں۔ وہ ساز باز اور دو رُخیچالوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

۱۲:‏ ۳‏،۴ عرصہ دراز سے خدا کے حقیقی مقدسین کی فریاد یہ ہے کہ خداوند خود بے دین لوگوں کے خوشامدی لبوں کو کاٹ ڈالے اور اُن لوگوں کی زبان بند کر دے جو یہ فخر کرتے ہیں کہ اُن کے اصول جیتیں گے اور خواہ دوسرے لوگ کچھ بھی سوچیں وہ جو چاہیں آزادی سے کہیں گے۔ 

۱۲:‏ ۵‏،۶ غریبوں اور حاجت مندوں کی آہوں کے جواب میں خداوند وعدہ کرتا ہے کہ وہ اُٹھے گا اور ’’جس مخلصی کے وہ آرزو مند ہیں‏، وہ اُنہیں عطا کرے گا‘‘ (‏گلینو)‏۔ جس شے کا اُس نے وعدہ کیا ہے‏، وہ ضرور اُنہیں دے گا۔ اُس کے وعدے اُس چاندی کی مانند خالص ہیں جو ’’بھٹی میں مٹی پر تائی گئی اور سات بار صاف کی گئی ہو۔‘‘ دوسرے لفظوں میں سو فی صد خالص چاندی کی طرح۔ خدا کا کلام دھوکے‏، خوشامد‏، ذومعنی باتوں اور ہر طرح کی غلطی سے پاک ہے۔ اِس پر پورے طور سے بھروسا کیا جا سکتا ہے۔

۱۲:‏ ۷ چنانچہ ایماندار جبلی طور پر اِس پشت سے تحفظ کے لئے خداوند کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ نہ صرف اُن کے حملوں سے بچنا چاہتا ہے بلکہ اُن کے ساتھ ہر طرح کے سمجھوتے سے بھی تحفظ کا طلب گار ہے۔

۱۲:‏ ۸ آخری آیت میں ’’اِس پشت‘‘ کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ شریر پشت مسلسل شکار کی تلاش میں رہتی ہے‏، پاجی پن کی قدر کرتی اور نیکی کا مذاق اُڑاتی ہے۔ یہ وہی پشت ہے جس کا امثال ۳۰:‏ ۱۱۔۱۴ میں بیان کیا گیا ہے:‏

ایک پشت ایسی ہے جو اپنے باپ پر لعنت کرتی ہے اور اپنی ماں کو مبارک نہیں کہتی۔ ایک پشت ایسی ہے جو اپنی نگاہ میں پاک ہے لیکن اُس کی گندگی اُس سے دھوئی نہیں گئی۔ ایک پشت ایسی ہے کہ واہ وا کیا ہی بلند نظر ہے! اور اُن کی پلکیں اوپر کو اُٹھی رہتی ہیں۔ ایک پشت ایسی ہے جس کے دانت تلواریں ہیں اور ڈاڑھیں چھریاں تاکہ زمین کے مسکینوں اور بنی آدم کے کنگالوں کو کھا جائیں۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! بچالے کیونکہ کوئی دیندار نہیں رہا اور امانت دار لوگ بنی آدم میں سے مِٹ گئے۔
۲ وہ اپنے اپنے ہمسایہ سے جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ خوشامدی لبوں سے دورنگی باتیں کرتے ہیں۔
۳ خُداوند سب خُوشامدی لبوں کو اور بڑے بول بولنے والی زبان کو کاٹ ڈالیگا۔
۴ وہ کہتے ہیں ہم اپنی زبان سے جیتیں گے۔ ہمارے ہونٹ ہمارے ہی ہیں۔ ہمارا مالک کون ہے؟
۵ غربیوں کی تباہی اور مسکینوں کی آہ کے سبب سے خُداوند فرماتا ہے کہ اب میں اُٹھونگا اور جس پر وہ پھُنکارتے ہیں اُسے امن وامان میں رکھونگا۔
۶ خُداوند کا کلام ِ پاک ہے۔ اُس چاندی کی مانند جو بھٹّی میں مٹّی پر تائی گئی اور سات بار صاف کی گئی ہو۔
۷ تُو ہی اُن کو اِس پشت سے ہمیشہ تک بچائے رکھے گا۔
۸ جب بنی آدم میں پاجی پن کی قدر ہوتی ہے تو شریر ہر طرف چلے پھرتے ہیں۔