کتابِ مقدس کی تفسیر
حجی
Haggai
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’ حجی نبی نے روحانی عقلِ سلیم کے دریا کو جس انداز سے کوزے میں بند کر دیا ہے دوسرا کوئی نبی ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔‘‘ (Frank E. Gaebelein)
۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام
یہ پرانے عہدنامے کی دوسری سب سے چھوٹی کتاب ہے۔ اور سیدھے سادے انداز میں ہیکل کی تعمیر نو پر زور دیتی ہے۔ جو بقیہ فلستین میں واپس آیا تھا کہ ہیکل کو ازسرِنو تعمیر کرے، اُنہوں نے بڑی شد و مد سے کام شروع کیا، لیکن بہت جلد ڈھیلے پڑ گئے اور یہ اہم کام سولہ برس تک التوا میں پڑا رہا۔ چنانچہ حجی کو مامور کیا گیا کہ غافل اور خوابیدہ یہودیوں کو یہ کام پورا کرنے پر اُبھارے۔ حجی نے اپنے پیغام کو وسعت دے کر بے دین قوموں کی عدالت اور مستقبل میں خدا کے لوگوں کی شان کی بحالی کو بھی اِس میں شامل کیا۔
۲۔ مصنف
ہو سکتا ہے کہ حجی کسی یہودی عید کے دن پیدا ہوا ہو کیونکہ اُس کے نام کا مطلب ہے، تہوار سے متعلق یا ہشاش بشاش۔ (جیسا ہمارے ہاں بھی عیدو نام ہوتا ہے)۔ وہ پرانے عہدنامے کا واحد کردار ہے جس کا یہ نام ہے۔ ممکن ہے کہ اُس کے ایمان دار والدین نے اِس اُمید سے اُس کا نام حجی رکھا ہو کہ مستقبل میں خوشیوں بھری بحالی ہو گی کیونکہ قرینِ قیاس ہے کہ وہ جلاوطنی (اسیری) کے دوران پیدا ہوا تھا۔
حجی اُن تین نبیوں میں پہلا ہے جنہوں نے بابل کی اسیری سے واپسی کے بعد خدمت کی۔ دوسرے دو زکریاہ اور ملاکی ہیں۔ عزرا ۱:۵ اور ۶:۱۴ میں حجی کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اُس کی زندگی کے بارے میں ہمیں عملاً کچھ علم نہیں۔ اِس سے یہ اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ خدا کسی نبی کو بلاتا اور مامور کرتا ہے تو (صرف) پیغام کو اہمیت دیتا ہے۔ جب کہ موجودہ زمانے میں (بلکہ عرصہ دراز سے) یہ رُجحان ہے کہ پیغام دینے والے کو اہمیت دی جاتی ہے اور اُس کی تعریفیں کی جاتی ہیں۔
۳۔ سنِ تصنیف
پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ حجی کی نبوت کا سنِ تصنیف ۵۲۰ ق م ہے __ ’’دارا بادشاہ (دارا اوّل) کی سلطنت کے دوسرے برس …‘‘ (۱:۱)۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
حجی اسیری کے بعد کے دَور کا نبی ہے۔ حجی اُس وقت ملکِ اِسرائیل میں واپس آیا تھا جب زرُبابل یہودیوں کے پہلے گروہ کو لے کر بابل سے آیا تھا۔ اُس کی خدمت اور ذمہ داری یہ تھی کہ لوگوں کو ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے پر اُبھارے اور اُن کی حوصلہ افزائی کرے (عزرا ۱:۵ )۔
اِس کتاب کے کلیدی جملے یہ ہیں:خداوند فرماتا ہے مَیں تمہارے ساتھ ہوں (۱:۱۳؛ ۲:۴)۔ تم اپنی رَوِش پر غور کرو (۱:۵،۷) یا اپنی رَوِش کا خیال رکھو (۲:۱۵،۱۸) اور حوصلہ رکھو (۲:۴)۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱۔ | پہلی نبوت __ چھٹے مہینے کی پہلی تاریخ | ۱ | |
| الف۔ | ہیکل کی تعمیر نو میں غفلت پر جھڑکی | ۱:۱۔۴ | |
| ب۔ | تعمیر نو نہ کرنے کا نتیجہ __ قلت اور خشک سالی | ۱:۵۔۱۱ | |
| ج۔ | حجی کی حوصلہ افزائی سے لوگ ہیکل پر کام دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ | ۱:۱۲۔۱۵ | |
| ۲۔ | دوسری نبوت __ ساتویں مہینے کی اکیسویں تاریخ | ۲:۱۔۹ | |
| الف۔ | نبی دوبارہ حوصلہ افزائی کرتا اور یقین دلاتا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ | ۲:۱۔۵ | |
| ب۔ | مستقبل کی ہیکل کی رونق پہلی ہیکل سے زیادہ ہو گی | ۲:۶۔۹ | |
| ۳۔ | تیسری نبوت __ نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ | ۲:۱۰۔۱۹ | |
| الف۔ | جب تک ہیکل کھنڈر ہے مذبح پر گزرانی جانے والی قربانیاں ناپاک ہوں گی۔ | ۲:۱۰۔۱۴ | |
| ب۔ | ہیکل کی بنیاد ڈالنے سے پہلے لوگ قلت کا شکار تھے | ۲:۱۵۔۱۷ | |
| ج۔ | اگر وہ ہیکل کی تعمیر دوبارہ شروع کریں تو خدا برکت دے گا | ۲:۱۸،۱۹ | |
| ۴۔ | چوتھی نبوت __ دسویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ | ۲:۲۰۔۲۳ | |
| لوگ | اِس وعدے سے حوصلہ پاتے ہیں کہ غیر قوم سلطنتیں نیست ہوں گی اور مسیحِ موعودکی بادشاہی قائم ہو گی۔ | ||