زبور ۱۰۴ : خالق اور سنبھالنے والا
ذرا غور کریں کہ نیویارک ، لندن یا کراچی جیسے شہر کے نظام کو چلانے کے لئے کیا کچھ درکار ہے … یعنی اُن شہروں کو جن میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ پانی کی بہم رسانی، محکمہ مکانات، خوراک اور دیگر تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت بڑی انتظامیہ کی ضرورت ہے۔
لیکن ذرا غور کریں کہ خدا کا انتظام کس قدر بڑا ہے جس کے ذریعے وہ ہماری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اُس کی تمام مخلوقات کے لئے پانی کی بہم رسانی کی ضرورت ہے۔ انسانوں، حیوانوں، پرندوں اور مچھلیوں کے لئے خوراک مہیا کرنے کا بہت بڑا کام ہے۔ اُن کے لئے مکانات اور پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔ ہم خدا کی عظمت کی قدر کرنے لگتے ہیں جب ہم اُس کی تخلیق اور پروردگاری پر غور کرتے ہیں۔
۱۰۴ : ۱۔۳ بے نام زبور نویس اپنی پوری ذات کو خداوند کی ستائش کے لئے دعوت دینے کے بعد خدا کی ذات کو بیان کرتا ہے۔ اِسے تمثیلی زبان میں سمجھنا ہو گا، کیونکہ ہم نادیدنی خدا کو کس طرح بیان کر سکتے ہیں، یا ہم اُس کی لامحدود عظمت کا محدود الفاظ میں کس طرح ذکر کر سکتے ہیں؟
جب زبور نویس کھڑا ہو کر دیکھنے لگتا ہے تو وہ حیران ہو جاتا ہے۔ وہ پکار اُٹھتا ہے ’’اے خداوند میرے خدا! تُو نہایت بزرگ ہے۔‘‘ تب وہ خدا کے ظہور کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔ خدا نے ناقابلِ بیان حشمت اور جلال کا لباس پہن رکھا ہے۔ اُس نے اپنے آپ کو پوشاک کی طرح نور سے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہ اُس کی پاکیزگی اور راست بازی کی علامت ہے۔ وہ ستاروں بھری فضا کے آسمانوں کو زمین کے اوپر سائبان (عبرانی۔ خیمے کا پردہ) کی مانند تان دیتا ہے ۔۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی وسعت سے انسانی ذہن حیران رہ جاتا ہے۔ زمین پر پانیوں سے بھرے بادل وہ بنیاد ہیں جن پر آسمان کے ستون کھڑے کئے گئے ہیں۔ آسمان کے نیچے اُڑتے ہوئے بادل یہوواہ کے رتھ ہیں جنہیں ہوا کے بازو اُٹھائے ہوئے ہیں۔
۱۰۴ : ۴ ’’ تُو اپنے فرشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادموں کو آگ کے شعلے بناتا ہے۔‘‘ عبرانی زبان میں ہوا اور روح کے لئے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اِسی طرح جس لفظ کا ترجمہ فرشتہ ہوا ہے اُس کا بنیادی مطلب پیغمبر ہے۔ لہٰذا اِس جملے کا ترجمہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے: ’’ تُو ہواؤں کو اپنے پیغام رساں اور آگ کے شعلوں کو اپنے خادم بناتا ہے۔‘‘ کائنات کے سیاق و سباق میں یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے، لیکن عبرانیوں ۱: ۷ کے سیاق سباق میں روایتی ترجمہ کی ضرورت ہے (یونانی الفاظ کے بھی دوہرے معانی ہیں، چنانچہ اِس کا اطلاق دونوں عہد ناموں پر ہوتا ہے)۔
۱۰۴: ۵۔۹ جب ہم اِس زبور کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ اِس میں تخلیق کے ایام (پیدائش باب ۱)دہرائے گئے ہیں، گو بعض ایک ایام کا اِس قدر واضح حوالہ نہیں دیا گیا جیسے کہ دیگر ایام کا۔ زبور نویس خصوصی طور پر خدا کی پروردگاری کے انتظامات کے بارے میں حیرت کا اظہار کرتا ہے۔
سب سے پہلے وہ بیان کرتا ہے کہ خدا نے زمین کو نادیدنی بنیادوں پر کیسے بنایا، تاکہ یہ رہائش کے لئے پائیدار ہو اور کسی طرح کی جنبش نہ ہو۔ شروع میں ساری زمین اِس قدر گہرائی تک پانی میں چھپی ہوئی تھی کہ پہاڑ بھی نظر نہیں آتے تھے۔ تیسرے دن خدا نے کہا، ’’آسمان کے نیچے کا پانی ایک جگہ جمع ہو کہ خشکی نظر آئے‘‘ (پیدائش ۱: ۹)۔ پانی فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ پہاڑ اور وادیاں اُن علاقوں میں نمودار ہوئیں جن کا خدا نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا۔ اُس نے سمندر کی حدیں مقرر کر دیں تاکہ وہ خشک زمین پر نہ اُمڈ آئے۔
۱۰۴ : ۱۰۔۱۳ اِس کے بعد پانی کا خدا کا عجیب و غریب نظام شروع ہوا۔ چشموں سے کثرت کے ساتھ پانی جاری ہوا۔ پہاڑیوں پر سے ندیاں وادیوں اور میدانوں میں بہتی ہوئی بالآخر سمندر میں گرنے لگیں۔ اُس وقت سے جنگلی جانور اُن ندیوں، دریاؤں اور جھیلوں سے اپنی پیاس بجھاتے رہے ہیں۔ اور پرندے اُن درختوں میں اپنے گھونسلے بناتے ہیں جو اُن پانیوں کے کناروں پر اُگتے ہیں۔ جیسا کہ الیہو نے نشاندہی کی کہ خدا ’’پانی کے قطروں کو اوپر کھینچتا ہے جو اُسی کے ابخرات (بخارات) سے مینہ کی صورت میں ٹپکتے ہیں جن کو افلاک اُنڈیلتے اور انسان پر کثرت سے برساتے ہیں‘‘ (ایوب ۳۶: ۲۷،۲۸)۔ اور جب پہاڑوں پر بارش ہوتی ہے تو زمین خدا کے آب پاشی کے نظام کے نتیجے میں آسودہ ہوتی ہے۔
۱۰۴: ۱۴، ۱۵ خدا چوپایوں کے لئے کثرت سے گھاس اُگاتا ہے، اور انسان کو کاشت کاری کے لئے گندم وغیرہ مہیا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراک حاصل کرے۔ رفتہ رفتہ زمین سے معجزانہ طورپر خوراک حاصل ہوتی ہے۔ کیمیائی عمل سے انگوروں کے رس سے مے تیار ہوتی ہے۔ جب انسان اِسے پیتا ہے تو یہ اُس کے دل کو خوش کرتی ہے۔ زیتون سے تیل حاصل ہوتا ہے جسے مختلف طور سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ صحت بخش اور لذیذ ہوتا ہے۔ اور اناج سے روٹی بنتی ہے جو انسان کو محنت کے لئے تقویت دیتی ہے۔
۱۰۴: ۱۶۔۱۸ جنگل کے بڑے بڑے درخت زمین سے منوں کے حساب سے پانی جذب کر لیتے ہیں۔ لبنان کا دیودار قدرتی طور پر اُگتا ہے اور انسان اِسے نہیں لگاتا۔ یہ درخت پرندوں کی رہائش گاہ مہیا کرتے ہیں۔ صنوبر کے درختوں میں لقلق کا بسیرا ہے۔ اونچے پہاڑ جنگلی بکروں کے لئے مثالی رہائش گاہ ہیں، جبکہ چٹانیں سافانوں کے لئے رہنے کی جگہ مہیا کرتی ہیں۔
۱۰۴ : ۱۹۔۲۳ چونکہ زندگی کی گردش نظامِ اوقات کے مطابق ہوتی ہے، اِس لئے اِسے ماپنے کا کوئی طریقہ ضرور ہے۔ چنانچہ خدا نے چاند کو مہینوں کی نشاندہی کے لئے مقرر کیا اور سورج جانتا ہے کہ اُسے کب غروب ہونا ہے اور یوں دن کا اختتام مقرر کرتا ہے۔ دن اور رات کا سلسلہ جانوروں اور انسانوں کے لئے خدا کی پرورد گاری ہے۔ رات کی تاریکی میں جنگلی جانور دبے پاؤں خوراک حاصل کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ جب صبح ہوتی ہے تو وہ پھر اپنی غاروں میں واپس چلے جاتے ہیں۔ لیکن انسان اپنے کام کے لئے نکلتا ہے اور دن کی روشنی کو پیداواری محنت کے لئے استعمال کرتا ہے۔
۱۰۴: ۲۴۔۲۶ خدا کی صنعتیں بے شمار ہیں۔ کیسی حکمت نے اُنہیں ترتیب دیا ہے! یہ زمین اُس کی مخلوقات سے معمور ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی حیران کن تفصیلات کے تحت ہر ایک کی فکر کرتا ہے۔ سمندر چھوٹے بڑے جانداروں سے بھرا پڑا ہے، اُس میں سب سے چھوٹی مخلوق سے لے کر وہیل مچھلیوں تک موجود ہیں۔
آیت ۲۶ میں جاندار مخلوقات کے ذکر کے دوران جہازوں کا ذکر موزوں نہیں لگتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس کا مطلب بہت بڑا دریائی جانور ہے (پیدائش ۱: ۲۱)، لیکن جہاز صحیح مفہوم ہے۔ اِسی آیت میں لویاتان کا مطلب شاید وہیل مچھلی ہو جو سمندر کو کھیلنے کے لئے موزوں مقام تصور کرتی ہے۔ ایوب کی کتاب کے باب ۴۱ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
۱۰۴: ۲۷۔۳۰ گو تمام جانداروں کو اِس بات کا شعور نہ ہو، لیکن خوراک کے لئے اُن کا انحصار خدا پر ہے۔ جب وہ دیتا ہے تو یہ لے لیتے ہیں۔ جب وہ اپنی مُٹھی کھولتا ہے تو وہ نہایت آسودہ ہوتے ہیں۔ آیت ۱۳ کے مطابق زمین خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی بارش کے نتیجے میں آسودہ ہوتی ہے۔ آیت ۱۶ میں درخت پانی سے تر و تازہ رہتے ہیں اور اب تمام مخلوقات آسودہ ہے۔
خدا کے انتظام میں ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہم بچ نہیں سکتے: موت ایک پشت کو ختم کرتی ہے اور دوسری پشت اُس کی جگہ لے لیتی ہے۔ جب جانور تشدد یا عمر کے تقاضے سے مر جاتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا خدا نے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ لیکن جب یہ مر جاتے اور مٹی میں مل جاتے ہیں تو خدا اپنی روح کو بھیجتا ہے اور زمین کو تازہ مخلوق سے آباد کرتا ہے۔ایک طرف تو مسلسل بربادی کا عمل ہے، لیکن دوسری طرف روئے زمین پر مسلسل تجدید ہوتی رہتی ہے۔
۱۰۴: ۳۱، ۳۲ زبور کا آغاز تخلیق سے ہوا اور اب یہ سنہری دَور کے لئے پُر درد دعا سے اختتام پذیر ہوتا ہے، جب گناہ کے اثرات زائل کر دیئے جائیں گے اور خداوند کو اُس کی عظمت اور بھلائی کے لئے عزت اور جلال ملے گا۔
زبور نویس کی آرزو ہے کہ سب کچھ بحال ہو کہ وہ اور خدا کی تمام دیگر مخلوقات نئے ہم آہنگ انتظام کا حصہ بنیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تخلیق کا ایک نیا سبت شروع ہو ، یعنی خدا کا آرام جس میں وہ اپنی مخلوقات سے اور مخلوقات اُس سے خوش ہو اور یوں پوری کائنات خدا کا مَقدِس بن جائے جس میں اُس کی حمدو ستائش ہو۔
جہاں تک خداوند کا تعلق ہے، داؤد دعا کرتا ہے کہ اُس کا جلال ہمیشہ رہے اور وہ اپنی صنعتوں سے خوش ہو۔ یہ وہ خدا ہے جس کی ایک جھلکی سے بھونچال آ جاتا ہے اور جس کے چھو لینے سے آتش فشاں پہاڑ پھٹ جاتا ہے۔
۱۰۴ : ۳۳۔۳۵ جہاں تک زبور کے مصنف کا تعلق ہے اُس کا عزم ہے کہ جب تک وہ زندہ ہے خدا کی عظمتوں کی ستائش کرتا رہے گا۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اُس کا دھیان یہوواہ کو پسند آئے جس میں اُسے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
جہاں تک گنہگاروں کا تعلق ہے جو خدا کی تخلیق کو برباد کرتے ہیں، اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔ خدا نے پہلے سے حکم دے دیا ہے کہ ایسا ہی ہو اور یوں اُس کی دعا خدا کی مرضی کے عین مطابق ہے۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم آخری ستائشی کلمات میں اُس کے ساتھ شریک ہیں۔
’’اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ۔ خداوند کی حمد کرو۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اَے میری جان ! خُداوند کو مُبارِک کہہ۔اَے خُداوند میرے خُدا! تُو نہایت بزرگ ہے۔ تُو حشمت اور جلال سے مُلبس ہے۔
۲ تُو نُور کو پوشاک کی طرح پہنتا ہے اور آسمان کو بیابان کی طرح تانتا ہے۔
۳ تُو اپنے بالا خانوں کے شہتیر پانی پر ٹِکاتا ہے۔ تُو بادلوں کو اپنے رتھ بناتا ہے۔ تُو ہوا کے بازوؤں پر سیر کرتا ہے۔
۴ تُو اپنے فرشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادموں کو آگ کے شعلے بناتا ہے۔
۵ تُو نے زمین کو اُس کی بنیاد پر قائم کیا تاکہ وہ کبھی جنبُش نہ کھائے ۔
۶ تُو نے اُسکو سُمندر سے چھُپایا جَیسے لباس سے ۔ پانی پہاڑوں سے بھی بلند تھا۔
۷ وہ تیری جھڑکی سے بھاگا۔ اور تیری گرج کی آواز سے جلدی جلدی چلا۔
۸ اُس جگہ پہنچ گیا جو تُو نے اُسکے لئے تیار کی تھی۔ پہاڑ اُبھر آئے ۔ وادیاں بیٹھ گئیں۔
۹ تُو نے حد باندھ دی تاکہ وہ آگے نہ بڑھ سکے اور پھِر لُوٹ کر زمین کو نہ چِھپائے ۔
۱۰ وہ وادیوں میں چشمے جاری کرتا ہے جو پہاڑوں میں بہتے ہیں ۔
۱۱ سب جنگلی جانور اُن سے پیتے ہیں۔گور حر اپنی پیاس بُجھاتے ہیں۔
۱۲ اُنکے آس پاس ہوا کے پرندے بسیرا کرتے اور ڈالیوں میں چہچہاتے ہیں۔
۱۳ وہ اپنے بالاخانوں سے پہاڑوں کو سیراب کرتا ہے۔تیری سعنتوں کے پھل سے زمین آسوُدہ ہے۔
۱۴ وہ چوپایوں کے لئے گھاس اُگاتا ہے۔ اور انسان کے کام کے لئے سبزہ تاکہ زمین سے خُوراک پیدا کرے۔
۱۵ اور مَے جو انسان کے دِل کو خُوش کرتی ہے۔اور روغن جو اُسکے چہرہ کو چمکاتا ہے اور روٹی جو آدمی کے دِل کو توانائی بخشتی ہے۔
۱۶ خُداوند کے درخت شاداب رہتے ہیں یعنی لُبنان کے دیودار جو اُس نے اُگائے۔
۱۷ جہاں پرندے اپنے گھونسلے بناتے ہیں صنوبر کے درختوں میں لقلق کا بسیرا ہے۔
۱۸ اُونچے پہاڑ جنگلی بکروں کے لئے ہیں چٹانیں سافانوں کی پناہ کی جگہ ہیں۔
۱۹ اُس نے چاند کو زمانوں کے امتیاز کے لئے مقرر کیا ۔آفتاب اپنے غروب کی جگہ جانتا ہے۔
۲۰ تُو اندھیرا کر دیتا ہے تو رات ہو جاتی ہے جِس میں سب جنگلی جانور نِکل آتے ہیں۔
۲۱ جوان شیر اپنے شِکار کی تلاش میں گرجَتے ہیں اور خُدا سے اپنی خُوراک مانگتے ہیں۔
۲۲ آفتاب نکلتے ہی وہ چل دیتے ہیں۔ اور جاکر اپنی مانوں میں پڑ رہتے ہیں۔
۲۳ انسان اپنے کام کے لئے اور شام تک اپنی محنت کرنے کے لئے نکلتا ہے۔
۲۴ اَے خُداوند! تیری صعنتیں کیسی بے شُمار ہیں! تُو نے سب کچھ حکمت سے بنایا۔ زمین تیری مخلوقات سے معمور ہیں ۔
۲۵ دیکھو یہ بڑا اور چوڑا سُمندر جِس میں بے شُمار رینگنے والے جاندار ہیں۔یعنی چھوٹے اور بڑے جانور ۔
۲۶ جہاز اِسی میں چلتے ہیں اِسی میں لویاتان ہے جِسے تُو نے اِس میں کھیلنے کو پیدا کیا ۔
۲۷ اِن سب کو تیرا ہی آسرا ہے تاکہ تُو اُنکو وقت پر خُوراک دے۔
۲۸ جو کچھ تُو دیتا ہے یہ لے لیتے ہیں۔تُو اپنی مُٹھی کھولتا ہے اور یہ اچھی چیزوں سے سیر ہوتے ہیں۔
۲۹ تُو اپنا چہرہ چھِپا لیتا ہے اور یہ پریشان ہو جاتے ہیں تُو اُنکا دم روک لیتا ہے اور یہ مر جاتے ہیں اور پھر مٹی میں مل جاتے ہیں۔
۳۰ تُو اپنی رُوح بھیجتا ہے اور یہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور تُو رویِ زمین کو نیا بنا دیتا ہے۔
۳۱ خُداوند کا جلال ابدتک رہے خُداوند اپنی صعنتوں سے خُوش ہو۔
۳۲ وہ زمین پر نگاہ کرتا ہے اور وہ کانپ جاتی ہے۔ وہ پہاڑوں کو چُھوتا ہے اور اُن سے دھواں نکلنے لگتا ہے۔
۳۳ میں عُمر بھر خُداوند کی تعریف گاؤنگا۔جب تک میرا وُجوُد ہے اپنے خُدا کی مدح سرائی کرونگا۔
۳۴ میرا دھیان اُسے پسند آئے۔میَں خُداوند میں شادمان رہونگا۔
۳۵ گُنہگار زمین پر سے فنا ہو جائیں اور شریر باقی نہ رہیں! اَے میری جان! خُداوند کو مُبارِک کہہ۔ خُداوند کی حمد کرو۔