زبُور ۷۲

زبور ۷۲:‏ مسیح کی جلالی حکومت

اِس زبور کا آغاز ایک دنیوی بادشاہ (‏سلیمان)‏ کے لئے دعا سے ہوتا ہے‏، لیکن بہت جلد ہمیں احساس ہوتا ہے کہ زبور نویس سلیمان سے پرے خداوند یسوع مسیح کی حکومت کے جلال اور حشمت کی طرف نگاہ اُٹھاتا ہے۔ یہ پریشان اور جنگ میں ملوث دنیا کے لئے بہت اچھا وقت ہو گا۔ جس سنہری دَور کے لئے بنی نوع انسان آرزو مند تھے‏، اُس کا آغاز ہو جائے گا۔ مخلوقات کا کراہنا ختم ہو جائے گا اور امن و خوش حالی کا دَور دورہ ہو گا۔

۷۲:‏ ۱ پہلی آیت میں بادشاہ کی مسند نشینی پر کی جانے والی دعا کا ذکر ہے۔ ناکس اِس کا یوں ترجمہ کرتا ہے:‏ ’’عدالت کرنے کے لئے بادشاہ کو اپنی حکمت اور مہارت دے‏، تخت کا وارث صداقت میں تیری مانند ہو۔‘‘

زبور ۷۲ کے باقی ماندہ حصہ میں ’’ہو گا‘‘ ‏، ’’کرے گا‘‘ ایسے الفاظ اُس وقت حقیقت کا روپ دھاریں گے جب مخلصی دینے والا اپنی شاندار حکومت قائم کرے گا۔

۷۲:‏۲ وہ صداقت سے تیرے لوگوں کی اور انصاف سے تیرے غریبوں کی عدالت کرے گا۔ بدعنوانی‏، رشوت اور ظلم ختم ہو جائے گا۔ بغیر کسی رُو رعایت کے انصاف کیا جائے گا اور غریبوں کو آئندہ انصاف سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔

۷۲:‏ ۳ پہاڑوں پر لوگوں کے لئے سلامتی اور خوش حالی کی فصل ہو گی اور چھوٹی پہاڑیوں پر صداقت کے پھل پیدا ہوں گے۔ کتابِ مقدس میں پہاڑ اکثر حکومتی اختیارات کا نشان ہیں۔ یہاں شاید اِس خیال کو پیش کیا گیا ہے کہ مسیح کی بادشاہت میں رعایا کو ملک کی تمام عدالتوں سے انصاف کی توقع ہو گی ۔۔ یعنی عدالت عالیہ سے لے کر تمام ماتحت عدالتوں تک انصاف کا دَور دورہ ہو گا۔

۷۲:‏ ۴ صدیوں سے غریبوں اور حاجت مندوں پر ظلم کیا گیا ہے‏، اُنہیں کم اُجرت دی گئی ہے‏، اُنہیں ایذائیں دی گئی ہیں اور اُنہیں قتل بھی کیا گیا ہے۔ ہزار سالہ بادشاہت میں بادشاہ خود اُن کا وکیل ہو گا۔ وہ اُنہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہائی دے گا اور اُن کا اِستیصال کرنے والوں کو سزا دے گا۔

۷۲:‏۵‏،۶ جب تک سورج اور چاند قائم ہیں‏، نسل در نسل اُس کی رعایا اُس کی تعظیم کرے گی اور اُس سے ڈرے گی۔ اُس کا وجود سود مند ثابت ہو گا اور اُن کی تازگی کا باعث ہو گا ۔۔ بلکہ ایسے جیسے کٹی گھاس پر مینہ اور تپتی زمین پر بارش سود مند ہوتی ہے۔

۷۲:‏ ۷ وہ حقیقی مَلکِ صدق ہو گا۔ وہ صداقت اور امن کا بادشاہ ہو گا۔ جب تک چاند قائم ہے اُس کے دورِ حکومت میں امن و انصاف کی فرماں روائی ہو گی۔ ملاحظہ فرمائیے کہ یہاں امن سے پہلے صداقت آتی ہے۔ ’’صداقت کا انجام صلح ہو گا اور صداقت کا پھل ابدی آرام و اطمینان ہو گا‘‘ (‏یسعیاہ ۳۲:‏ ۱۷)‏۔ مسیح نے صلیب پر صداقت کے کام سے ہمارے لئے صلح و اطمینان کا اہتمام کیا۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ اپنی راست حکمرانی سے تباہ حال دنیا کو امن و انصاف دے گا۔

۷۲:‏ ۸ تاجِ برطانیہ اِس بات پر فخر کیا کرتا تھا کہ سلطنتِ برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ تمام دنیا میں انگریزی حکومت کی نوآبادیاں پھیلی ہوئی تھیں‏، لیکن مسیح کی کلیسیا عالمگیر ہو گی۔ اُس میں منتشر نو آبادیاں نہیں ہوں گی۔ اُس میں تمام قومیں شامل ہوں گی۔ اُس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے زمین کی انتہا تک ہو گی۔

۷۲:‏۹ صحرا کے جن خانہ بدوشوں پر ابھی تک مشکل سے حکومت کی گئی ہے‏، وہ بالآخر اُس کے سامنے جھکیں گے اور اُس کے دشمن شکست کھائیں گے۔ خاک چاٹنے کا مطلب ہے شرم ناک حد تک مطیع ہو جانا۔

۷۲:‏ ۱۰‏،۱۱ غیر قوموں کے بادشاہ ہدیئے لے کر بادشاہوں کے بادشاہ کے پاس یروشلیم آئیں گے۔ اُس کے حضور سپین کا بادشاہ آتا ہے‏، مختلف جزیروں کے فرماں روا اور جنوبی عرب امارات کے حکمران اُس کے سامنے حاضر ہوں گے‏، کیونکہ سب اُس کے اقتدار کو تسلیم کریں گے اور سب قومیں اُس کی خدمت کریں گی۔

۷۲:‏ ۱۲۔۱۴ یہاں حاجت مندوں کے لئے بادشاہ کے بہت زیادہ ترس کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک زبردست مخلصی دینے والا غریب‏، محتاج اور لاچار کی مدد کے لئے سامنے آئے گا۔ کمزور اور حاجت مند فوری طور پر اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو سکیں گے اور اُنہیں یقین ہو گا کہ اُنہیں خصوصی توجہ دی جائے گی اور فوری طور پر عمل کیا جائے گا۔ وہ اُنہیں ناراستوں اور ظالمانہ سلوک سے چھڑائے گا اور وہ دُنیا والوں پر ظاہر کرے گا کہ اُن کی جانیں کس قدر قیمتی ہیں۔

۷۲:‏ ۱۵ اُس کی وفادار رعایا ’’بادشاہ زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے گی۔ شکرگزاری کے طور پر وہ سبا کے خزانوں سے سونے کے ہدیے لائیں گے۔ تمام دُنیا سے اُس کے لئے مسلسل دعائیں کی جائیں گی اور لوگ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اُسے مبارک کہیں گے۔

۷۲:‏ ۱۶ زمین کی زرخیزی ناقابلِ بیان ہو گی۔ کوٹھڑیاں اور کھتے اناج سے بھرے ہوں گے۔ حتیٰ کہ جن جگہوں پر کبھی کاشت کاری نہ کی گئی تھی یعنی پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کے کھیت یوں لہرائیں گے جیسے لبنان کے جنگل ہوا سے لہراتے ہیں۔

جیسے کھیت گھاس سے بھرے ہیں‏، ویسے ہی شہروں میں لوگوں کی گنجان آبادی ہو گی۔ گو بہت زیادہ آبادی ہو گی تاہم خوراک کی کوئی قلت نہیں ہو گی۔

۷۲:‏ ۱۷ اُس کا نام ہمیشہ تک قائم رہے گا اور لوگ ابد تک اُسے پیار کریں گے اور اُس کی تعظیم کریں گے۔ جب تک سورج کا وجود ہے‏، اُس کا نام رہے گا۔ ابرہام کے ساتھ خدا کے وعدے کے مطابق‏، اُس میں تمام قومیں برکت پائیں گی اور سب قومیں اُسے خوش نصیب کہیں گی۔ 

۷۲:‏ ۱۸‏، ۱۹ زبور ستائش کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ خداوند یسوع کی جلالی حکومت خدا کا ماحصل ہے۔ صرف وہی یہ بہت اعلیٰ حالات پیدا کر سکتا ہے‏، کوئی اَور ایسا نہیں کر سکتا۔ اِس لئے لازم ہے کہ ابد تک اُس کے جلالی نام کی ستائش ہو اور اُس کے جلال سے ساری زمین معمور ہو۔

۷۲:‏۲۰ داؤد بن یسی کی دعائیں تمام ہوئیں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ جہاں تک زبور کی کتاب کا تعلق ہے داؤد کی دعائیں تمام ہوئیں‏، کیونکہ اِس کے بعد داؤد کے اَور مزامیر بھی پائے جاتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ جہاں تک زبور کی دوسری کتاب کا تعلق ہے‏، اُس کی دعائیں تمام ہوئیں کیونکہ دوسری کتاب میں زبور ۷۲ آخری زبور ہے۔ لیکن ایک اَور تشریح یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح کی موعودہ حکومت اُس کی دعاؤں کی حتمی تکمیل ہے۔ گذشتہ آیات میں مذکور بادشاہت اُس کے آخری الفاظ کا مضمون ہے (‏۲۔سموئیل ۲۳:‏ ۱۔۴)‏‏، اور اُس کی دعائیں اُس بادشاہت پر مرکوز ہیں۔ جب مسیح تخت نشین ہو گا اور اُس کی حکمرانی کا آغاز ہو جائے گا‏، تب داؤد کی خواہشات پوری ہو جائیں گی۔

مقدس کتاب

۱ اے خدا! بادشاہ کی مدد کر ! تا کہ وہ بھی تیری طرح عقلمندی سے فیصلہ کرے ۔ تیری اچھا ئی سیکھنے میں شہزا دے کی مدد کر۔
۲ بادشاہ کی مدد کر تا کہ تیرے لوگوں کا وہ بہتر فیصلہ کر ے۔ مد دکر اُس کی تا کہ وہ غریبوں کو صحیح فیصلہ دے سکے ۔
۳ زمین پر ہر جگہ سلا متی اور انصاف رہے ۔
۴ بادشاہ کو غریب لو گوں کے ساتھ انصاف کر نے دے۔ وہ بے سہا را لوگوں کی مدد کرے۔ وہ لوگ سزا پا ئیں جو ا ُ ن کو ستا تے ہیں۔
۵ میری یہ خواہش ہے کہ جب تک سورج آسمان میں چمکتا ہے اور چاند آسمان میں ہے لوگ بادشاہ کا احترام اور خوف کریں۔ مجھے امیدہے کہ لوگ اُ سکا خوف ہمیشہ کریں گے۔
۶ بادشاہ کی مدد، کھیتوں پر پڑنے وا لی بارش اور کھیتوں میں پڑنے وا لی بو چھا ڑ کی طرح کر۔
۷ جب تک وہ بادشاہ ہے، بھلا ئی کا بول با لا رہے ، جب تک چاند ہے، امن قائم رہے۔
۸ اُس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک، دریائے فرات سے مغربی ساحلی زمین تک پھیلے۔
۹ بیا باں کے لوگ اُس کے آگے جھکیں گے۔ اور اس کے سب دشمن اُس کے آگے اوندھے مُنہ گریں گے اور کیچڑ پر جھکیں گے۔
۱۰ تر سیس کے بادشاہ اور دوسرے جزیرے اُس کے لئے نذرانہ پیش کریں۔ شیبا کے بادشاہ اور سبا کے بادشاہ اُس کے تحفے پیش کریں۔
۱۱ سب بادشاہ ہما رے بادشاہ کے آگے جھکیں ۔ ساری قومیں اُس کی خدمت کر تی رہیں گی۔
۱۲ ہما را بادشاہ بے سہا روں کا مدد گار ہے ۔ ہما را بادشاہ غریبوں اور مسکینوں کو سہا را دیتا ہے ۔
۱۳ غریب محتاج اُس کے سہا رے ہیں۔ یہ بادشاہ اُن کو زندہ رکھتا ہے ۔
۱۴ یہ بادشاہ اُن کو اُن لوگوں سے بچا تا ہے۔ جو ظا لم ہیں اور جو اُن کو دُکھ دینا چاہتے ہیں۔ بادشاہ کے لئے اُن غریبوں کی زندگی بیش قیمت ہے۔
۱۵ بادشاہ کی عمر دراز ہو ! اور شیبا سے سونا حاصل کرے۔ بادشاہ کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہو اور تم ہر دن اُ سکو مبارک با ددو۔
۱۶ کھیت بھر پور فصل دے۔ پہاڑ فصلوں سے ڈھک جا ئیں۔ یہ کھیت لبنان کے کھیتوں کی مانند زر خیز ہو جا ئیں۔ شہر لوگوں سے بھر جا ئے جیسے میدان ہری گھا س سے بھر جا تے ہیں۔
۱۷ بادشاہ کی شان وشوکت اور مقبولیت ہمیشہ بنی رہے ۔ لوگ اُس کے نام کو یاد تب تک کر تے رہیں جب تک سورج چمکتا رہے۔ لوگ اُ س سے دعا ء خیر وبر کت حاصل کریں۔ اور ہر کوئی اسے دعاء خیر وبرکت دے۔ خداوند کی تمجید کرو۔ جو اسرائیل کا خدا ہے ۔ وہی خدا ایسے حیرت انگیز کام کر سکتا ہے ۔
۱۸
۱۹ اس کے عظیم نام کی ہمیشہ تمجید کرو۔ اس کا جلال ساری دنیا میں بھر جا ئے۔آمین ۔
۲۰ یسّی کے فرزند داؤد کی دعائیں ختم ہو ئیں۔