زبور ۹۱: میرا زبور
۱۹۲۲ء میں ایک پانچ سالہ لڑکا قریب الموت تھا۔ گلے کی نالیوں کی تکلیف سے اُس کے لئے سانس لینا بہت دشوار تھا۔ اُس کی مسیحی ماں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا تاکہ وہ اپنے بیٹے کے آخری سانس کا منظر نہ دیکھ سکے۔ عین اُسی لمحہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ساتھ والے گاؤں سے اُس کا دیور اندر داخل ہوا۔ اُس نے بتایا، ’’ مَیں یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کو بچے کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، وہ صحت یاب ہو گا اور ایک دن خداوند اُس کی روح کو بھی نجات دے گا۔‘‘ ماں گھبرا گئی اور اِس گھبراہٹ میں بے اعتقادی بھی تھی۔ ’’آپ کس بنا پر یہ کہہ رہے ہیں؟‘‘ تب اُس نے بتایا کہ وہ گھر میں بیٹھا زبور ۹۱ پڑھ رہا تھا کہ خدا واضح طور پر آخری تین آیات کے ذریعے اُس سے ہم کلام ہوا:
’’چونکہ اُس نے مجھ سے دل لگایا ہے اِس لئے مَیں اُسے چھڑاؤں گا
مَیں اُسے سرفراز کروں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔
وہ مجھے پکارے گا اور مَیں اُسے جواب دوں گا۔
مَیں مصیبت میں اُس کے ساتھ رہوں گا۔
مَیں اُسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔
مَیں اُسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا اور اپنی نجات اُسے دکھاؤں گا۔‘‘
وہ لڑکا مَیں تھا۔ اُس رات خدا نے مجھے موت سے رہائی دی۔ اُس نے تیرہ سال بعد میری روح کو نجات دی اور مجھے طویل زندگی سے آسودہ کیا۔ چنانچہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مَیں کیوں زبور ۹۱ کو ’’میرا زبور‘‘ کہتا ہوں۔
یہ مسیح کے متعلق زبور ہے۔ اِس کی بنیادی تفسیر کا تعلق ہمارے عظیم خداوند یسوع سے ہے اور ہم اِسی نقطۂ نظر سے اِس کا مطالعہ کریں گے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہم اِس کے قیمتی وعدوں کا اپنی ذات پر بھی اطلاق کریں گے۔
۹۱: ۱، ۲ صرف یسوع ہی وہ واحد شخص ہے جو نمایاں طور پر حق تعالیٰ کے پردہ میں رہا اور جس نے قادرِ مطلق کے سایہ میں سکونت کی۔ اُس کی مانند کبھی کوئی زندگی نہ تھی۔ وہ حتمی اور مسلسل طور پر اپنے باپ خدا کی رفاقت میں رہا۔ اُس نے اپنی مرضی سے کبھی کوئی کام نہ کیا اور اُس نے صرف وہی کام کئے جو باپ کی مرضی کے مطابق تھے۔ گو وہ کامل خدا تھا، لیکن وہ کامل انسان بھی تھا اور اُس نے اِس دُنیا میں کلی طور پر خدا پر تکیہ کرتے ہوئے زندگی گزاری۔ بلا جھجک وہ اپنی آنکھیں اوپر اُٹھا کر کہہ سکتا تھا، ’’ مَیں خداوند کے بارے میں کہوں گا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔ وہ میرا خدا ہے جس پر میرا توکل ہے۔‘‘
۹۱: ۳ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آیات ۳۔۱۳ میں روح القدس کی آواز سنائی دیتی ہے جو خداوند یسوع کو بہت زیادہ تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے۔ کامل بھروسے کی زندگی کے باعث یہ تحفظ اُس کا بخرہ تھا۔ اِس تحفظ کی کیا ضمانتیں ہیں؟
پوشیدہ خطرات سے مخلصی ۔۔ صیاد کے پھندے سے مراد دشمن کا بدی کا منصوبہ ہے، جو بے خبر کو پھانس لیتا ہے۔
۹۱: ۴ قادرِ مطلق میں پناہ ۔۔ خدا کی گداز اور شخصی محبت اُس مادہ پرندے کی مانند ہے جو اپنے بچوں کو چھپا لیتی ہے۔
خدا کی وفاداری میں تحفظ۔۔ اُس کے وعدے یقینی ہیں۔ اُس نے جو کچھ کہا ہے اُسے پورا کرے گا۔ یہ ایماندار کی ڈھال اور سپر ہے۔
۹۱: ۵ خوف سے آزادی ۔۔ چار طرح کے خطرات کا ذکر کیا گیا ہے جو عموماً خوف اور ڈر کا باعث بنتے ہیں:
رات کے اندھیرے میں حملہ بہت زیادہ خوف ناک ہوتا ہے کیونکہ پتہ نہیں چلتا کہ حملہ کہاں سے ہوا ہے۔ اُڑنے والے تیر کو لغوی معنوں میں تصور کر لیں، یا اِسے علامتی طور پر شریروں کے بہتان اور الزام تراشیاں خیال کر لیں۔
۹۱: ۶ وبا جو اندھیرے میں چلتی ہے، کی بھی لغوی اور علامتی طور پر تشریح کی جا سکتی ہے۔ کئی طرح کی بیماریاں وہاں بڑھتی ہیں جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی اور اخلاقی بُرائی بھی تاریکی میں نشو و نما پاتی ہے۔
ہلاکت جو دوپہر کو ویران کرتی ہے، کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اِسے ایسے ہی سمجھنا بہتر ہو گا۔
۹۱: ۷، ۸ قتل و غارت کے درمیان تحفظ ۔۔ جہاں اجتماعی طور پر قتل و غارت ہو رہی ہے، خداوند کا محبوب وہاں بھی محفوظ ہو گا۔ جب شریروں کو سزا ملے گی تو وہ محض تماشائی ہو گا اور اُسے کسی طرح سے نقصان نہیں پہنچے گا۔
۹۱: ۹، ۱۰ مصیبت میں تحفظ کی یقین دہانی ۔۔ چونکہ نجات دہندہ نے قادر مطلق کو اپنی سکونت اور پناہ گاہ بنایا، اِس لئے اُس پر کسی طرح کی آفت نہیں آئے گی اور کسی طرح کی وبا بھی اُس کے نزدیک نہیں آئے گی۔
۹۱: ۱۱، ۱۲ فرشتوں کے حفاظتی دستہ کے ذریعے محافظت ۔۔ یہ وہ حوالہ ہے جو ابلیس نے خداوند یسوع کے لئے اقتباس کیا جب وہ اُسے آزماتے ہوئے ہیکل کے کنگرے سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہہ رہا تھا (لوقا ۴: ۱۰،۱۱)۔ یسوع نے اِن آیات کے اپنے اوپر اطلاق کا انکار نہ کیا، لیکن اُس نے اِس بات سے انکار کیا کہ اِن آیات کو خدا کو آزمانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خدا نے اُسے نہ بتایا کہ وہ ہیکل پر سے چھلانگ لگا دے۔ اگر نجات دہندہ چھلانگ لگا دیتا، تو وہ خدا کی مرضی کے خلاف عمل کرتا۔
۹۱: ۱۳ شیر اور ا ژدہا پر فتح ۔۔یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اِبلیس اِس آیت تک پہنچنے سے قبل ٹھہر گیا۔ اگر وہ اِس کا اقتباس کرتا تو وہ اپنے انجام کا بیان کرتا۔ کتابِ مقدس میں ابلیس کو گرجنے والے شیر (۱۔پطرس ۵: ۸) اور پرانے سانپ (مکاشفہ ۱۲:۹) کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شیر سخت تشدد اور ایذا رسانی کرتا ہے، سانپ دھوکا دہی اور تباہی کرتا ہے۔
یوں روح القدس نے ابنِ آدم کو اُس کی زمین پر فرماں برداری اور کامل اعتماد کی وجہ سے نو طرح کی ضمانتیں دی ہیں۔ اب خدا باپ چھ بار اِن ضمانتوں کی تصدیق کرتا ہے۔
۹۱: ۱۴ ’’چونکہ اُس نے مجھ سے دل لگایا ہے اِس لئے مَیں اُسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اُسے سرفراز کروں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔‘‘
۹۱: ۱۵ ’’وہ مجھے پکارے گا اور مَیں اُسے جواب دوں گا۔ مَیں مصیبت میں اُس کے ساتھ رہوں گا۔‘‘
’’ مَیں اُسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔‘‘
۹۱: ۱۶ ’’ مَیں اُسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا اور اپنی نجات اُسے دکھاؤں گا۔‘‘
زبور نویس تو یہ کچھ کہتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے! ہم مسیح کے تحفظ کے وعدوں کو اِس حقیقت سے کیسے ہم آہنگ کریں کہ لوگوں نے بالآخر اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا؟ اور اگر ہم اِس زبور کا دَورِ حاضر کے ایمانداروں پر اطلاق کریں، تو یہ اِس حقیقت سے کہاں تک ہم آہنگ ہے کہ ان میں سے بہت سے بیمار ہیں، کسی جنگ میں مر جاتے ہیں یا کسی حادثے میں جاں بحق ہو جاتے ہیں؟
اِس کا کسی حد تک تو یہ جواب ہے: جو شخص یہوواہ پر توکل رکھتا ہے، جب تک اُس کا کام ختم نہیں ہو جاتا تب تک وہ لافانی ہے۔ یسوع نے بھی اپنے شاگردوں کو یہی بات بتائی۔ جب اُس نے یہودیہ کو واپس جانے کے لئے کہا تو شاگردوں نے کہا:
اے ربی! ابھی تو یہودی تجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے اور تُو پھر وہاں جاتا ہے؟ یسوع نے جواب دیا کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ اگر کوئی دن کو چلے تو ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ دُنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اُس میں روشنی نہیں (یوحنا ۱۱: ۷۔۱۰)۔
خداوند جانتا تھا کہ جب تک اُس کا کام ختم نہ ہو جائے، یہودی اُسے چھو بھی نہیں سکتے اور یہ بات ہر ایک ایماندار پر بھی صادق آتی ہے۔
عین ممکن ہے کہ خدا اِس زبور کی کسی آیت کے وسیلے سے خصوصی اور شخصی طور پر بھی ایماندار سے ہم کلام ہو۔ اگر وہ ہم کلام ہو تو ایماندار اِس میں درج وعدے کا مطالبہ کرتے ہوئے اُس پر بھروسا کر سکتا ہے۔ شروع میں بیان کیا گیا واقعہ اِس کی وضاحت کرتا ہے۔
بالآخر عمومی طور پر یہ بھی سچ ہے کہ جو شخص خداوند پر بھروسا رکھتا ہے، اُسے اپنے تحفظ کا یقین ہے۔ ہم اکثر مستثنیات پر زیادہ زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمومی اصول تو اب بھی سچ ہے کہ خداوند کی ذات میں تحفظ ہوتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ جو حق تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے۔ وہ قادرِ مُطلق کے سایہ میں سکونت کریگا۔
۲ میَں خُداوند کے بارے میں کہونگا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔وہ میرا خُدا ہے جِس پر میرا توکُل ہے۔
۳ کیونکہ وہ تجھے صیاد کے پھندے سے اور مُہلک وبا سے چھوڑئیگا۔
۴ وہ تجھے اپنے پروں سے چھُپا لیگا۔ اور تجھے اُس کے بازؤں کے نیچے پناہ ملے گی۔اُس کی سچّائی ڈھال اور سِپر ہے۔
۵ تُو نہ رات کی ہیبت سے ڈرے گا۔نہ دِن کو اُڑنے والے تیر سے۔
۶ نہ اُس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے۔نہ اُس ہلاکت سے جو دوپہر کو ویران کرتی ہے۔
۷ تیرے آسپاس ایک ہزار گِر جائیں گے۔اور تیرے دہنے ہاتھ کی طرف دس ہزار لیکن وہ تیرے نزدیک نہ آئیگی۔
۸ لیکن تُو اپنی آنکھوں سے نگاہ کرے گا۔اور شریروں کے انجام کو دیکھے گا۔
۹ پر تُو اَے خُداوند ! میری پناہ ہے! تُو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔
۱۰ تجھ پر کوئی آفت نہ آئیگی۔اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچیگی۔
۱۱ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا۔کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔
۱۲ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔تاکہ ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔
۱۳ تُو شیر ببراور افعی روندیگا۔تُو جوان شیر اور اژدہا کو پامال کریگا۔
۱۴ چوُنکہ اُس نے مجھ سے دل لگایا ہے۔اِسلئے میَں اُسے چھڑاؤنگا۔میَں اُسے سرفراز کرونگا۔ کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔
۱۵ وہ مجھے پُکاریگا اور میَں اُسے جواب دونگا۔میں مُصیبت میں اُس کے ساتھ رہوں گا۔ میَں اُسے چھُڑاؤنگااور عزت بخشونگا۔
۱۶ میَں اُسے عمر کی درازی سے آسُودہ کرنگا۔ اور اپنی نجات اُسے دکھاؤں گا۔