زبُور ۱۳۵

زبور ۱۳۵ :‏ حمد کیوں کریں؟

۱۳۵:‏ ۱‏، ۲ پہلی دو آیات میں حمد کے لئے عمومی بلاہٹ ہے ’’خداوند کی حمد کرو۔‘‘ یہ بلاہٹ کاہنوں کے لئے ہے‏، لیکن یہ سارے بنی اسرائیل اور دیگر ایسے تمام لوگوں کے لئے بھی ہے جو خداوند سے ڈرتے ہیں۔ 

۱۳۵:‏ ۳ اُن بہت سی وجوہات کو ملاحظہ فرمائیں جو خداوند کے نام کی حمد کے لئے پیش کی گئی ہیں۔ وہ بھلا ہے۔ کوئی بھی زبان یہ بیان کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کس قدر بھلا ہے۔ ہم تو صرف یہ کر سکتے ہیں کہ حقیقت کو بیان کریں اور اُس کی ستائش کریں۔ 

اُس کا نام دل پسند یا خوش کرنے والا ہے۔ اُس کا عظیم فضل بدبخت گناہ گار کو نجات دیتا اور اُسے ابدی جلال بخشتا ہے۔ 

۱۳۵:‏۴ خداوند نے اسرائیل کو اپنی ملکیت ہونے کے لئے چنا۔ حیرت زدہ روح متواتر یہ سوال پوچھتی ہے ’’مجھے کیوں چنا گیا؟‘‘ یہی وجہ ہمیں پرستار بناتی ہے۔ 

۱۳۵:‏ ۵ خداوند تعالیٰ بزرگ ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں کہ وہ خالق‏، سنبھالنے والا اور نجات دہندہ ہے تو ہم اُس کی تعریف میں گاتے ہیں‏، ’’ تُو کس قدر بزرگ ہے۔‘‘

ہمارا خداوند سب معبودوں سے بالاتر ہے۔ یعنی وہ تمام حکمرانوں‏، بادشاہوں اور تمام بتوں سے بالاتر ہے۔ ’’اور اُس کی پوشاک اور ران پر یہ نام لکھا ہوا ہے:‏ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ‘‘ (‏مکاشفہ ۱۹:‏ ۱۶)‏۔ 

۱۳۵:‏ ۶ وہ عالم گیر حکمران ہے (‏آیت ۶)‏۔ وہ کائنات میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

۱۳۵:‏ ۷ کائنات پر وہ مطلق العنان حیثیت سے حکمران ہے۔ بادل‏، بجلی اور ہوا کس قدر مہیب ہیں‏، لیکن اُس کا قادر ہاتھ اِن سب کو چلاتا ہے۔ سٹیفن چار ناک لکھتا ہے:‏’’خدا کی قدرت بالکل اُس کی مانند ہے :‏ لامحدود‏، ابدی‏، سمجھ سے باہر۔ نہ کوئی مخلوق اُس پر حاوی ہو سکتی ہے اور نہ اُسے پریشان ہی کر سکتی ہے۔‘‘

۱۳۵:‏ ۸‏، ۹ اُس نے اسرائیل کو مصر سے نکالا۔ اسرائیل کی تاریخ میں اُس کی قدرت اور قوت کا سب سے بڑا اظہار یہ تھا کہ اُس نے فرعون کو مختلف آفتوں سے کچلا (‏اور سب سے بڑی آفت یہ تھی کہ اُن کے پہلوٹھوں کو مارا)‏ اور سمندر کو دو ٹکڑے کر دیا۔ 

۱۳۵:‏ ۱۰۔۱۱ اُس نے اسرائیل کے دشمنوں کو شکست دی۔ خدا نے اپنے فضل سے اپنے لوگوں کو سیحون ‏، عوج اور کنعان میں رہنے والی غیراقوام پر فتح دی۔

۱۳۵:‏ ۱۲ اُس نے کنعان اسرائیل کو دیا۔ مصر سے نکلنے والوں کو ملک کنعان میراث کے طور پر دیا گیا۔ 

۱۳۵:‏ ۱۳ وہ ابدی ہے۔ اُس کا نام ابدی ہے۔ اور اُس کا نام وہی کچھ ہے جو کچھ وہ خود ہے۔

اُس کی شہرت پشت در پشت ہے۔ اُسے بڑی محنت سے ابدیت میں یاد کیا جائے گا۔

۱۳۵:‏ ۱۴ وہ راست اور رحیم ہے۔ ہم اِس پر بھروسا کر سکتے ہیں کہ خداوند اپنی قوم کی عدالت کرے گا یعنی انصاف قائم کرے گا اور اپنے بندوں پر ترس کھائے گا۔ موسیٰ نے یہ بات سب سے پہلے استثنا ۳۲ :‏۳۶ میں گائی‏، لیکن یہ گیت کبھی ختم نہ ہو گا۔

۱۳۵:‏ ۱۵۔۱۸ وہ بتوں سے اعلیٰ ہے۔ اُن بتوں کی ہیئت کو بیان کرنا ہی کافی ہے کیونکہ اِس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ بے وقعت ہیں۔ وہ چاندی اور سونا ہیں اِس لئے فانی ہیں۔ انسان نے اُنہیں بنایا اِس لئے وہ انسان سے کمتر ہیں۔ وہ گونگے ‏، اندھے ‏، بہرے اور بے جان ہیں۔ یہ کہنا کس قدر افسوس ناک ہے کہ اُن کے بنانے والے اُن کی مانند ہیں۔ وہ روحانی طور پر اندھے‏، بہرے‏، گونگے اور مردہ ہیں۔ 

۱۳۵:‏ ۱۹‏،۲۰ خداوند کی عظمت پر غور کرنے سے اُس کو مبارک کہنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے یعنی اُس کی عزت ‏، حمد ‏، عقیدت‏، ستائش اور شکرگزاری کرنے کی خواہش۔ اسرائیل کا گھرانا اور جو لاویوں کی حیثیت سے اُس کی خدمت کرتے ہیں وہ اُسے مبارک کہیں‏، جو بھی خداوند کی تعظیم کرتے ہیں وہ اُسے مبارک کہیںیعنی انسان کے تمام طبقوں کے لوگ اُسے مبارک کہیں۔ جب مسیح صیون میں واپس آ کر یروشلیم میں حکومت کرے گا تب اسرائیل یہ گائیں گے:‏ 

۱۳۵:‏ ۲۱ ’’ صیون میں خداوند مبارک ہو۔

وہ یروشلیم میں سکونت کرتا ہے۔خداوند کی حمد کرو۔‘‘

ہم اِس وقت یہی کہیں اور کریں۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کی حمد کرو۔ خُداوند کے نام کی حمد کرو۔ اَے خُداوند کے بندو! اُسکی حمد کرو۔
۲ تُم جو زمین کے گھر میں ہمارے خُداوند کے گھر کی بارگاہوں میں کھڑے رہتے ہو۔
۳ خُداوند کی حمد کرو کیونکہ خُداوند بھلا ہے اُسکے نام کی مدح سرائی کرو کہ یہ دِل پسند ہے۔
۴ کیونکہ خُداوند نے یعقُؔوب کو اپنے لئے اور اِسرائؔیل کو اپنی خاص ملکیت کے لئے چُن لیا ہے۔
۵ اِسلئے کہ میں جانتا ہوں کہ خُداوند بُزرگ ہے۔ اور ہمارا رب سب معبودوں سے بالا تر ہے۔
۶ آسمان اور زمین میں ۔ سُمندر اور گہراؤ میں خُداوند نے جو کچھ چاہا وُہی کیا۔
۷ وہ زمین کی انتہا سے بخارات اُٹھاتا ہے۔ وہ بارِش کے لئے بجلیاں بناتا ہے اور اپنے مخزنوں سے اندھی نکالتا ہے۔
۸ اُسی نے مصر کے پہلوٹھوں کو مارا۔ کیا اِنسان کے کیا حیوان کے ۔
۹ اَے مصؔر ! اُسی نے تجھ میں فرعؔون اور اُسکے سب خادموں پر نشان اور عجائب ظاہر کئے ۔
۱۰ اُس نے بہت سی قوموں کو مارا اور زبردست بادشاہوں کو قتل کیا۔
۱۱ اموریوں کے باشاہ سیحؔون کو اور بؔسن کے بادشاہ عوؔج کو اور کنعؔان کی سب مملکتوں کو ۔
۱۲ اور اُنکی زمین میراث کر دی۔ یعنی امنی قوم اِسرائؔیل کی میراث ۔
۱۳ اَے خُداوند! تیرا نام ابدی ہے اور تیری یادگار اَے خُداوند پُشت در پُشت قائم ہے۔
۱۴ کیونکہ خُداوند اپنی قوم کی عدالت کریگا۔ اور اپنے بندوں پر ترس کھائے گا۔
۱۵ قوموں کے بت چاندی اور سونا ہیں۔ یعنی آدمی کی دستکاری۔
۱۶ اُنکے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔اُنکے کان ہیں پر وہ سُنتے نہیں۔ اور اُنکے مُنہ میں سانس نہیں ۔
۱۷
۱۸ اُنکے بنانے والے اُن ہی کی مانند ہو جائینگے۔۔ بلکہ وہ سب جو اُن پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
۱۹ اَے اِسرئؔیل کے گھرانے! خُداوند کو مُبارِک کہو۔ اَے ہارؔون کے گھرانے! خُداوند کو مُبارِک کہو۔
۲۰ اَے لاوی کے گھرانے! خُداوند کو مُبرِک کہو۔ اَے خُداوند سے ڈرنےوالو! خُداوند کو مُبارِک کہو۔
۲۱ صیِوُؔن میں خُداوند مُبارِک ہو۔ وہ یروشلؔیم میں سکونت کرتا ہے۔ خُداوند کی حمد کرو۔