زبور ۷۴: یاد کر!
اِس دل دوز نوحہ میں نبوکدنظر کے تحت بابلیوں کے ذریعے ہیکل کی تباہی کا ذکر ہے۔ جب بابلی تباہ کاروں نے اپنا کام ختم کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اپنے لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ جب اُنہوں نے ملبہ کے ڈھیر سے دُھواں اُٹھتے دیکھا تو اُنہوں نے اِس آفت کی صحیح ترجمانی کی کہ یہ خدا کا قہر بھڑک رہا ہے۔ لیکن اِس کے باوجود وہ خداوند کو یاد دلاتے ہیں اور دل دوز انداز میں اُسے بتاتے ہیں کہ وہ اب بھی:
- اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں (آیت ۱)
- اُس کی جماعت ہیں (آیت ۲)
- اُس کی میراث کا قبیلہ ہیں (آیت ۲)
- اُس کی بے چاری فاختہ ہیں (آیت ۱۹)
- مظلوم و محتاج ہیں (آیت ۲۱)
وہ لفظ ’’یاد کر‘‘ کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں:
- اپنی جماعت کو یاد کر (آیت ۲)
- کوہِ صیون کو یاد کر (آیت ۲)
- دشمنوں کی طعنہ زنی کو یاد رکھ (آیت ۱۸)
- یاد کر کہ احمق کیسے خدا کے نام پر طعنہ زنی کرتا ہے (آیت ۲۲)
۷۴: ۱۔۴ گویا کہ خدا کو علم نہیں تھا کہ کیا کچھ ہو چکا ہے، وہ اُسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ آ کر دیکھے کہ کسدی سپاہیوں نے مقدس عمارت کو کیسے برباد کر دیا ہے۔ اِس کے بعد وہ شہادت سے بیان کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔ اُن بدیشی حملہ آوروں نے عین مُقدّس مقام میں آ کر غارت گری شروع کر دی۔ اُنہوں نے اپنے جھنڈے کھڑے کر دیئے جس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے یہوواہ کی جائے پرستش میں بے دین رسموں اور بت پرستی کی علامتوں کو متعارف کرایا۔
۷۴: ۵۔۸ جیسے لکڑہارے کے ہاتھوں گنجان درخت یکے بعد دیگرے گرتے جاتے ہیں، ویسے ہی بے دین حملہ آوروں نے کلہاڑیوں اور ہتھوڑوں سے ہیکل میں لکڑی کی نقش کاری کو کاٹ ڈالا ہے۔ ہیکل کو برباد کرنے کے بعد اُنہوں نے کھنڈرات کو آگ لگا دی اور یوں خدا کے مَقدِس کی بے حرمتی کی۔ اسرائیل اور اُس کی پرستش کی مکمل تباہی کے ارادے سے اُنہوں نے ملک کے تمام عبادت خانوں کو جلا دیا ہے۔
۷۴: ۹ قوم کی بہت زیادہ بربادی کا تین محرومیوں اور چار سوالوں میں خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ محرومیاں یہ ہیں:
- کوئی نشان نہیں ۔۔ ماضی میں بنی اسرائیل نے خدا کی طرف سے معجزانہ مداخلت کا تجربہ کیا، لیکن اب یہ نظر نہیں آئی۔
- کوئی نبی نہیں ۔۔ اِس وقت نبیوں کی آواز خاموش ہے (حزقی ایل ۳: ۲۶)۔
- آرام کی مہلت کے لئے کوئی اُمید نہیں ۔۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ صورتِ حال کب تک رہے گی۔
۷۴: ۱۰،۱۱ چار سوال یہ ہیں:
- خدا کب تک دشمنوں کو اجازت دے گا کہ وہ طعنہ زنی کرتے رہیں؟
- کیا خدا اجازت دے گا کہ ہمیشہ تک اُس کے نام پر کفر بکا جائے؟
- بربادی کو روکنے کے لئے اُس نے اپنا ہاتھ کیوں کھینچ رکھا ہے؟
- اُس نے اپنا دہنا ہاتھ کیوں اپنے لباس میں چھپا رکھا ہے؟
۷۴: ۱۲۔۱۷ لیکن زبور نویس ماضی میں خدا کے اپنی قوم کے لئے زور دار کاموں کو یاد کرتے ہوئے اُمید اور تسلی پاتا ہے۔ اسرائیل کے دیرینہ بادشاہ کی حیثیت سے اُس نے مختلف مقامات پر اپنے لوگوں کو بڑے زور کے ساتھ مخلصی دلائی تھی۔ مثلاً مصر سے نکلنے کے بعد یہودیوں کے گزرنے کے لئے اُس نے اپنی طاقت سے بحرقلزم کو دو حصے کرکے خشک راستہ بنا دیا تھا۔ پھر جب مصر کے سمندری اژدہاؤں یعنی فرعون کے سپاہیوں نے اُن کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، تو اُس نے سمندر کو اُس کی اصلی حالت میں لا کر دشمنوں کے لشکر کو غرق کر دیا۔ اُس نے لویاتان کے سر کے ٹکڑے کر دیئے۔ لویاتان مصر کی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ تب سپاہیوں کی لاشیں ساحل سمندر پر پڑی تھیں اور وہ جنگلی جانوروں اور گِدھوں کی خوراک بن گئیں۔ اُس نے بیابان میں چشمے اور سیلاب جاری کئے اور یردن کو خشک کر دیا تاکہ لوگ موعودہ ملک میں داخل ہو سکیں۔ دن اور رات اُس کے اختیار میں ہیں اور سورج، چاند اور ستارے اُس کی مرضی سے کام کرتے ہیں۔ خداوند نے ہی جغرافیائی حدود، جغرافیائی خصوصیات اور موسم مقرر کئے ہیں۔
۷۴: ۱۸۔۲۱ زبور نویس خدا کو یاد دلاتا ہے کہ اِس مصیبت میں اُس کی ذات بھی شامل ہے۔ دشمن نے اُس کے نام پر طعنہ زنی کی ہے، ایک بے وقوف قوم نے اُس کے نام کی تکفیر کی ہے۔
لیکن اُس کی قوم کی بربادی بہت ہی افسوس ناک ہے۔ وہ اُس سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اِنہیں ترک نہ کرے۔ وہ اپنی فاختہ کو جنگلی جانوروں یعنی بابلیوں کے حوالے نہ کرے اور اپنی مصیبت زدہ قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھول نہ جائے۔ اب جبکہ اسرائیل کے ملک کے تاریک مقامات میں تشدد اور ظلم ہے، تو وہ اُس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ابرہام کے ساتھ باندھے ہوئے اپنے عہد کو یاد رکھے۔ وہ اپنے مظلوم لوگوں کو شرمندگی کی حالت میں نہ رہنے دے بلکہ اُن کے وقار کو بحال کرے اور اپنے لوگوں کو موقع دے کہ وہ اپنی دعاؤں کے جواب کے لئے اُس کے نام کی شکرگزاری کریں۔
۷۴: ۲۲،۲۳ بالآخر خدا کے موقف کو خطرہ لاحق ہے۔ اُسے اپنے نام کی عزت کا دفاع کرنا چاہئے، کیونکہ احمق دن بھر اُس کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ اُسے اپنے دشمنوں کے مضحکہ کو نہیں بھولنا چاہئے جو مسلسل ہنگامہ آرائی کرتے رہتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُدا تُو نے ہم کو ہمیشہ کے لئے کیوں ترک کر دیا ؟ تیری چراگاہ کی بھیڑوں پر تیرا قہر کیوں بھڑک رہا ہے؟
۲ اپنی جماعت کو جِسے تُو نے قدیم سے خریدا ہے جِسکا تُو نے فِدیہ دیا تاکہ تیری میراث کا قبیلہ ہو اور کوہِ صیِؔون کو جِس پر تُو نے سکونت کی ہے یاد کر۔
۳ اپنے قدم دائمی کھنڈروں کی طرف بڑھا یعنی اۃُن سب خرابیوں کی طرف جو دُشمن نے مقدِس میں کی ہٰں۔
۴ تیرے مجمع میں تیرے مخالِف گرجتَے ہیں نِشان کے لئے اُنہوں نے اپنے ہی جھنڈے کھڑے کئے ہیں۔
۵ وہ اُن آدمیوں کی مانند ہیں جو گُنجان درختوں پر کُلہاڑے چلاتے ہیں۔
۶ اور اب وہ اُسکی ساری نقش کاری کو کُلہاڑی اور ہتھوڑوں سے بِالکُل توڑ ڈالتے ہیں۔
۷ اُنہوں نے تیرے مقدِس میں آگ لگا دی ہے۔ اور تیرے نام کے مسکن کو زمین تک مِسمار کر کے ناپاک کیا ہے۔
۸ اُنہوں نے اپنے دِل میں کہا ہے ہم اُن کو بِالکُل ویران کر ڈالیں اُنہوں نے اِس مُلک میں خُدا کے سب عبادت خانوں کو جلا دیا ہے۔
۹ ہمارے نِشان نظر نہیں آتے اور کوئے نبی نہیں رہا اور ہم میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ حال کب تک رہے گا۔
۱۰ اَے خُدا! مُخالف کب تک طعنہ زنی کرتا رہیگا؟ کیا دُشمن ہمیشہ تیرے نام پر کُفر بکتا رہے گا؟
۱۱ تُو اپنا ہاتھ کیوں روکتا ہےب؟ اپنا دہنا ہاتھ بغل سے نِکال اور فنا کر۔
۱۲ خُدا قدیم سے میرا بادشاہ ہے جو زمین پر نجات بخشتا ہے۔
۱۳ تُو نے اپنی قُدرت سے سمُندر کے دو حصے کر دیے۔تُو پانی میں اژدہاؤں کے سر کُچلتا ہے ۔
۱۴ تُو نے لِویوتان کے سر کے ٹُکڑے کئے۔اور اُسے بیابان کے رہنے والوں کی خُوراک بنایا۔
۱۵ تُو نے چشمے اور سیلاب جاری کئے۔ تُو نے بڑے بڑے دریاؤں کو خُشک کر ڈالا۔
۱۶ دِن تیرا ہے ۔ رات بھی تیری ہے۔نُور اور آفتاب کو تو ہی نے تیار کیا۔
۱۷ زمین کی تمام حدُود تُو ہی نے ٹھہرائی ہیں۔گرمی اور سردی کے موسم تُو ہی نے بنائے۔
۱۸ اَے خُداوند ! اِسے یاد رکھ کہ دُشمن نے طعنہ زنی کی ہے۔اور بیوُقُوف قَوم نے تیرے نام کی تکفیر کی ہے۔
۱۹ اپنی فاختہ کی جان کو جنگلی جانور کے حوالہ نہ کر اپنے غریبوں کی جان کو ہمیشہ کے لئے بھول نہ جا۔
۲۰ اپنے عہد کا خیال فرما۔ کیونکہ زمین کے تاریک مُقام ظُلم کے مسکنوں سے بھرے ہیں۔
۲۱ مظلُوم شرمندہ ہو کر نہ لوٹےَ۔غریب اور مُحتاج تیرے نام کی تعریف کریں۔
۲۲ اُٹھ اَے خُدا! آپ ہی اپنی وکالت کر۔ یاد کر کہ احمق دِن بھر تجھ پر کیَسی طعنہ زنی کرتا ہے ۔
۲۳ اپنے دُشمنوں کی آواز کو بھول نہ جا۔ تیرے مُخالفوں کا ہنگامہ برپا ہوتا رہتا ہے۔