زبور ۶۶: آؤ ، دیکھو اور سنو
۶۶: ۱۔۴ پہلی چار آیات میں زبور نویس ساری زمین کو دعوت دیتا ہے کہ خدا کے جلال کا گیت گانے میں اُس کے ساتھ شامل ہو۔ یہ تمجید کا گیت ہو جس سے اُس کے نام کی خوبیوں کا اظہار ہو۔ یہ تمجید جلالی ہو کیونکہ مضمون جلالی ہے۔ عالمگیر پرستش کے اِس گیت کے الفاظ بھی دیئے گئے ہیں۔ ہم اِنہیں آسان لفظوں میں یوں پیش کر سکتے ہیں:
اے خداوند! تیرے کام بہت اعلیٰ ہیں۔ تُو اِس قدر زور آور ہے کہ تیرے دشمن تیرے سامنے بالکل ہیچ ہیں۔ بالآخر ساری زمین تیری پرستش کرے گی۔ ہر جگہ لوگ گیتوں میں تیرے نام کی تعریف کرتے ہیں۔ جب بادشاہت کا دَور
آئے گا تو بلاشبہ یہ بہت ہی مقبولِ عام گیت ہو گا۔
۶۶: ۵۔۷ خدا نے بنی اسرائیل کے لئے کیسے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ خدا کے دو عظیم کام ذہن میں آتے ہیں۔ اُس نے بحرِ قلزم میں خشک راستہ بنا دیا۔ جب چالیس سال بعد بنی اسرائیل دریائے یردن پر آئے تو اُس وقت بھی دریا میں خشک راستہ بن گیا۔ اُس وقت اسرائیل کتنے خوش ہوں گے۔ لوگوں نے اپنے خدا کی تعریف و تمجید کی جس کی مضبوط حکومت ختم نہیں ہوتی اور جس کی آنکھیں قوموں کو دیکھتی رہتی ہیں۔ ایسے خدا کے خلاف بغاوت کرنا کس قدر حماقت کی بات ہے۔
۶۶: ۸۔ ۱۲ جس معجزانہ طور سے خدا نے بنی اسرائیل کی حفاظت کی، اِس کے لئے غیرقوموں کو بھی خدا کو مبارک کہنا چاہئے۔ یکے بعد دیگرے بنی اسرائیل کی درجِ ذیل تصویر پیش کی گئی ہے۔
- اُنہیں چاندی کی طرح تایا گیا جیسے سنار آگ میں تپاتا ہے (آیت ۱۰)۔
- اُنہیں قید کیا گیا جیسے جال میں بند کر لیا جاتا ہے (آیت ۱۱ الف)۔
- غلامی کی طرح اُن سے جبری مشقت لی گئی (آیت ۱۱ ب)۔
- وہ شریر لوگوں کے پاؤں تلے روندے گئے (آیت ۱۲ الف)۔
- وہ آگ اور پانی کے خطرات سے دوچار ہوئے (آیت ۱۲ ب)۔
تاہم خدا نے اُنہیں حالتِ شکست میں ہرگز نہ رہنے دیا، بلکہ وہ اُنہیں فراوانی کی جگہ میں لے آیا۔
۶۶: ۱۳۔۱۵ آیات ۱۳۔۲۰ میں ’’ مَیں‘‘ اور ’’اپنی‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک گروپ کا گیت، تنہا شخص کا گیت بن گیا۔ بعض ایک مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہاں متکلم خداوند یسوع، اسرائیل کا بادشاہ اور عظیم سردار کاہن ہے۔ وہ خدا کے پاس ایک ایسی زندگی کی سوختنی قربانی لے کر آتا ہے جو کلی طور پر اپنے باپ کی مرضی کے تابع ہے۔ اُس نے مصیبت کے وقت جو وعدہ کیا تھا، اب وہ حمد کی صورت میں منت کو پورا کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ اُس کا صلیب پر اپنی مصیبت کی طرف اشارہ ہو یا اُن مصیبتوں کی طرف جو اُس نے اپنے لوگوں کے لئے برداشت کیں۔ ’’اُن کی تمام مصیبتوں میں وہ مصیبت زدہ ہوا‘‘ (یسعیاہ ۶۳:۹)۔
جب ہم یہاں مینڈھوں، بیلوں یا بکروں کی سوختنی قربانیوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ہمیں اِنہیں لغوی معنوں میں سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۶۶: ۱۶۔۱۹ آیت ۵ میں دعوت یہ تھی کہ ’’آؤ اور دیکھو۔‘‘ یہاں آیت ۱۶ میں دعوت یہ ہے کہ ’’آؤ اور سنو۔‘‘ تاریخ میں خدا کے کاموں کو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن جو کچھ اُس نے انسانی روح کے ساتھ کیا ہے اُسے صرف سنا جا سکتا ہے۔ مسیح تمام خدا ترس لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اُس کی دعاؤں کے جواب کی گواہی کو سنیں۔ اُس نے اپنی التجاؤں اور سرفرازی میں اُس کو پکارا۔ یہ اشارہ اُس کی بشریت کے ایام کی طرف ہے جب ’’اُس نے زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اُسی سے دعائیں اور التجائیں کیں جو اُس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب سے اُس کی سنی گئی‘‘ (عبرانیوں ۵: ۷)۔ اگر اُس کے دل میں بدی ہوتی تو خداوند اُس کی نہ سنتا۔ چونکہ اُس میں کوئی گناہ نہ تھا، اِس لئے خدا ترسی کے سبب سے اُس کی سنی گئی۔
۶۶: ۲۰ اور اِس سے اختتامی شکرگزاری کے لئے تحریک ملی۔
’’خدا مبارک ہو جس نے نہ تو میری دعا کو رد کیا
اور نہ اپنی شفقت کو مجھ سے باز رکھا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اَے ساری زمین! خُدا کے حضور خُوشی کا نعرہ مار۔
۲ اُسکے نام کے جلال کا گیت گاؤ۔ سِتایش کرتے ہوئے اُسکی تمجیِد کرو۔
۳ خُدا سے کہو تیرے کام کیا ہی مُہیب ہیں! تیری بڑی قُدرت کے باعث تیرے دُشمن عاجزِّی کرینگے۔
۴ ساری زمین تجھے سِجدہ کرے گی اور تیرے حضور گائیگی۔ وہ تیرے نام کے گیت گائیں گے۔
۵ آؤ اور خُدا کے کاموں کو دیکھو۔بنی آدم کے ساتھ وہ سُلوُک میں مُہیِب ہے۔
۶ اُس نے سُمندرکو خُشک زمین بنا دیا۔ وہ دریا میں سے پیَدل گُذر گئے۔وہاں ہم نے اُس میں خُوشی منائی۔
۷ وہ اپنی قُدرت سے ابدتک سلطنت کرے گا۔اُسکی آنکھیں قُوموں کو دیکھتی رہتی ہیں۔سرکش لوگ تکبُر نہ کریں۔
۸ اَے لوگو! ہمارے خُدا کو مُبارک کہو اور اُسکی تعریف میں آ واز بُلند کرو۔
۹ وہی ہماری جان کو زِندہ رکھتا ہےاور ہمارے پاؤں کو پھسلنے نہیں دیتا۔
۱۰ کیونکہ اَے خُدا! تُو نے ہمیں آزما لیا ہے۔تُو نے ہمیں اِیسا تایا جَیسے چاندی تائی جاتی ہے۔
۱۱ تُو نے ہمیں جال میں پھنسایا اور ہماری کمر پر بھاری بوجھ رکھا۔
۱۲ تُو نے سواروں کو ہمارے سروں پر سے گُذارا۔ہم آگ میں سے اور پانی میں سے ہو کر گُذرے لیکن تُو ہمکو فراوانی کی جگہ میں نِکال لایا۔
۱۳ میَں سوختنی قُربانیاں لیکر تیرے گھر میں داخل ہونگا۔اور اپنی منّتیں تیرے حضور ادا کرونگا۔
۱۴ جو مُصیِبتکے وقت میرے لبوں سے نِکلیں اور میَں نے اپنے مُنہ سے مانیں۔
۱۵ میَں موٹے موٹے جانوروں کی سوختنی قُربانیاں مینڈھوں کی خوُشبو کے ساتھ چڑھاؤنگا۔میَں بَیل اور بکرے گُذرانونگا۔
۱۶ اَے خُدا سے ڈرنے والو! سب آؤ۔ سنو اور میَں بتاؤن گا کہ اُس نے میری جان کے لئے کیا کیا کیِا ہے۔
۱۷ میَں نے اپنے مُنہ سے اُسکو پُکارا۔ اُس کی تمجید میری زُبان سے ہوئی۔
۱۸ اگر میَں بدی کو اپنے دِل میں رکھتا تُو خُداوند میری نہ سُنتا۔
۱۹ لیکن خُدا نے یقیناً سُن لیا ہے۔ اُس نے میری دُعا کی آواز پر کان لگایا ہے۔
۲۰ خُدا مُبارِک ہو جِس نے نہ تو میری دُعا کو ردّ کیا اور نہ اپنی شفقت کو مجھ سے باز رکھا۔