زبُور ۱۰۹

زبور ۱۰۹ :‏ خدا کے دشمنوں کا انجام

کسی اَور زبور میں خدا کی سزاؤں کے نزول کا اِتنی تفصیل سے ذکر نہیں ہوا۔ زبور نویس اپنے دشمنوں پر مختلف سزاؤں کے نزول کی التجا کرتا ہے۔

۱۰۹:‏ ۱۔۳ یہ زبور بڑی نرمی سے شروع ہوتا ہے۔ داؤد خدائے محمود سے مدد کے لئے فریاد کرتا ہے‏، یعنی اُس خدا سے جس کی وہ مدح سرائی کرتا ہے۔ اُس کے دشمن اُس کے خلاف لفظی حملے کرتے ہیں اور اُس پر ہر طرح کے جھوٹے الزام لگاتے رہے ہیں۔ ہر طرف سے اُس کے خلاف نفرت کی باتوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ خصوصی طور پر اِن ناجائز حملوں کو برداشت کرنا مشکل تھا۔ 

۱۰۹ :‏ ۴‏، ۵ داؤد نے ہمیشہ اپنے حملہ آوروں سے محبت اور شفقت کا اظہار کیا۔ اِس کے بدلے اُسے کیا ملا؟ وہ ہمیشہ اُن کے لئے دعا کرتا ہے۔ لیکن ہر ایک نیکی کے عوض اُنہوں نے اُس کی بے عزتی کی اور محبت کے عوض نفرت کا اجر دیا۔

۱۰۹ :‏ ۶‏، ۷ اِس مقام پر داؤد کا قلم زہر آلود ہو جاتا ہے۔ اُس کی دُکھی روح سے مہلک اور تلخ دعائیں نکلتی ہیں۔ آیات ۱۔۵ کے بہت سے دشمنوں میں سے وہ اب خصوصی طور پر ایک دشمن پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

بالآخر یہ شخص پکڑا جائے گا اور اُس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ جب ایسا ہو گا تو خداوند ایسے حالات پیدا کرے کہ کوئی شریر شخص الزام لگانے والا ہو اور شیطان خصلت اُس کا مدعی ہو۔ مقدمے کے آخر میں یہ فیصلہ سنایا جائے کہ وہ مجرم ہے۔ اور اگر وہ سزا کے خلاف اپیل کرے تو اُس کی درخواست توہین عدالت متصور کی جائے اور اُس کی سزا میں اضافہ کر دیا جائے۔

۱۰۹:‏ ۸۔۱۰ اُس کی زندگی کوتاہ ہو جائے اور کوئی دوسرا شخص اُس کا منصب لے لے۔ اِس خاص بد دعا کا یہوداہ اسکریوتی کے لئے اعمال ۱:‏۲۰ میں اقتباس کیا گیا جو رسولوں کے گروہ میں خزانچی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ 

’’کیونکہ زبور میں لکھا ہے کہ اُس کا گھر اُجڑ جائے اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے اور اُس کا عہدہ دوسرا لے لے۔‘‘

اِس زبور کی شدت کو سمجھنے کے لئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس کا نہ صرف داؤد اور اُس کے دشمن سے تعلق ہے‏، بلکہ مسیح اور اُس کے پکڑوانے والے سے بھی ہے۔ شاید اِس کا تعلق آنے والے دنوں میں اسرائیل اور مخالفِ مسیح سے بھی ہے۔ 

جہاں تک اُس دشمن کے خاندان کا تعلق ہے اُس کے بچے یتیم ہو جائیں‏، اُس کی بیوی بیوہ ہو جائے اور اُس کے بچے آوارہ پھرتے ہوئے بھیک مانگیں۔ وہ اُن کھنڈرات سے بھی نکال دیئے جائیں جو کسی وقت اُن کا گھر ہوتا تھا۔

۱۰۹:‏ ۱۱۔۱۳ جہاں تک اُس کی میراث کا تعلق ہے‏، قرض خواہ آ کر سب کچھ چھین لیں۔ جو کچھ اُس نے کمایا ہے پردیسی اُسے لوٹ لیں۔ 

چونکہ اُس نے رحم نہیں کیا تھا‏، اِس لئے اُس پر اور اُس کے یتیم بچوں پر بھی ترس نہ کھایا جائے۔ ایک نسل گزرنے کے بعد اُس کا خاندان گمنام ہو جائے۔ یہ سزا بہت شرمناک ہے۔

۱۰۹ :‏ ۱۴‏، ۱۵ اُس کے پیش رَو بھی بے الزام نہیں ہیں۔ اُس کے باپ دادا کی بدی خداوند کے حضور یاد رہے اور اُس کی ماں کا گناہ مٹایا نہ جائے۔ اُن کے جرائم تفصیل سے نہیں بتائے گئے‏، لیکن اُن کا گناہ بہت بڑا ہو گا کیونکہ زبور نویس التجا کرتا ہے کہ خداوند اُن کے گناہوں کو کبھی نہ بھولے اور زمین پر سے اُن لوگوں کا ذکر مٹا دے۔

۱۰۹:‏ ۱۶۔۲۰ آیت ۱۶ میں ہم پڑھتے ہیں کہ اِس شریر آدمی پر سخت قسم کا فردِ جرم لگایا گیا۔ رحم نہ کرنا اُس کا طرزِ زندگی تھا‏، بلکہ وہ جارحانہ طور پر غریب اور محتاج کو ستاتا تھا۔ شکستہ دل کو وہ موت کے گھاٹ اُتار دیتا تھا۔ اِس آیت میں یہوداہ کی تصویر بہت واضح طور پر نظر آتی ہے جس نے بے گناہ نجات دہندہ کو سولی پر چڑھوا دیا۔

لیکن اخلاقی عمل داری میں سزا کا ایک بے لچک اصول ہوتا ہے۔ انسان جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ فصل کی کٹائی ناگزیر ہے۔ گناہ کی سزا سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ زبور نویس التجا کرتا ہے کہ یہاں اِس اصول کا پورا اطلاق کیا جائے۔ یہ شخص دوسروں پر لعنت کرنا پسند کرتا تھا‏، اب وہی لعنتیں اُس کے سر پر آ پڑیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ دوسرے برکتوں سے لطف اندوز ہوں‏، چنانچہ اب برکتیں اُس سے دُور رہیں۔ وہ لعنت کو پوشاک کی طرح پہنتا تھا‏، اب لعنتیں اِس طرح اُس کی زندگی میں سرایت کریں جیسے پانی سپنچ میں جذب ہو جاتا ہے۔ وہ اُس کے جسم کے ہر ایک حصے میں سرایت کر جائیں‏، بلکہ اُس کی ہڈیوں میں سما جائیں۔ لعنتیں ایسے اُسے ڈھانپ لیں جیسے کپڑے اُسے ڈھانپ لیتے ہیں۔ وہ ایسے کمربند کی مانند اُس سے چمٹی رہیں‏، جسے وہ کبھی نہیں اُتار سکتا۔ 

داؤد پر الزام و تہمت لگانے والوں کے لئے اُس کی یہی خواہش ہے۔ لگتا ہے کہ اِس سزا کی فہرست میں اُس نے کوئی بھی تفصیل نظرانداز نہیں کی۔ 

۱۰۹ :‏ ۲۱۔۲۵ زبور نویس زبور کو دو درخواستوں اور ایک شکرگزاری سے ختم کرتا ہے۔ پہلے تو وہ اپنی مصیبتوں سے مخلصی کے لئے دعا کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خدا اپنے نام کی خاطر اُس کا ساتھ دے یعنی کہ وہ قدرت اور انصاف کے خدا کی حیثیت سے اپنے آپ کو جلال دے۔ خدا داؤد کے سلسلے میں ایک بار پھر ظاہر کرے کہ اُس کی شفقت خوب ہے۔ 

زبور نویس کی مصیبت بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ وہ نہ صرف غریب اور محتاج ہے بلکہ اُس کا دل بھی زخمی ہے۔ اُس کی زندگی ڈھلتے سایہ کی طرح جاتی رہی ہے۔ اُسے زندگی سے ایسے جھٹک دیا گیا ہے جیسے کوئی شخص بڑی آسانی سے ٹڈی کو جھٹک دیتا ہے۔ طویل فاقہ کشی سے اُس کے گھٹنے کمزور ہو گئے ہیں اور اُس کا جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گیا ہے۔ اُس کی خستہ حالی پر اُس کے دشمن ہنستے ہیں‏، وہ طنزیہ انداز میں اُس پر سرہلاتے ہیں۔

۱۰۹ :‏ ۲۶۔۲۹ اپنی دوسری دعا میں وہ خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُسے اُس کے دشمنوں کے رو برو بے گناہ ثابت کرے۔ جب یہوواہ اُس کی مخلصی اور مدد کے لئے آئے گا تو اُس کے مخالفین جانیں گے کہ یہ اِلٰہی مداخلت کا عمل یعنی کہ خداوند کا ہاتھ ہے۔ جب خداوند اُسے برکت دے گا تو اُن کی لعنتوں سے کیا فرق پڑے گا! اُس وقت دشمن شرمسار ہوں گے اور زبور نویس شادمان ہو گا۔ وہ ذلت اور پریشانی سے ملبس ہوں‏، اور وہ اپنی ہی شرمندگی کو چادر کی طرح اوڑھ لیں۔

۱۰۹:‏ ۳۰‏، ۳۱ آخر میں داؤد یہ منصوبہ بناتا ہے کہ دعاؤں کا جواب مل جانے پر وہ خداوند کے حضور کس طرح حمد کرے گا۔ یہ معمولی حمد نہیں ہو گی بلکہ بہت بڑی شکرگزاری ہو گی۔ وہ یہ شکرگزاری تخلیہ میں نہیں کرے گا بلکہ بڑی بھیڑ میں اُس کی حمد کرے گا۔ اور اِس حمد کا مضمون یہ ہو گا کہ یہوواہ محتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا ہو کر اُن سے چھڑاتا ہے جو اُس کی ہلاکت کے درپے ہیں۔ جب خداوند کسی کا دفاع کرنے والا ہو تو وہ پُراعتماد ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ایف۔بی۔مائر نے کہا ہے:‏ 

کسی کو مجرم ٹھہرانا کس قدر فضول سی بات ہے جب کہ تمام دنیا کا منصف اُسے راست ٹھہرانے کے لئے پاس کھڑا ہو؟

ہمیں بد دعا کے مزامیر کو کس طرح سمجھنا چاہئے؟

 بد دعا کے مزامیر میں مشکل یہ ہے کہ ہم اُن زبوروں کی انتقامی روح کو دیگر مقامات میں خدا کے لوگوں کے ساتھ محبت اور معافی کے حکم سے کیسے ہم آہنگ کریں۔ بد دعا والے مزامیر میں سے زبور ۹۰۱ میں سب سے سخت لہجہ کا اظہار کیا گیا ہے، اِس لئے یہاں اِس مسئلے کو حل کرنا مناسب ہو گا۔

 سب سے پہلے مَیں بعض ایک تشریحات کو درج کروں گا جو مجھے قائل نہیں کر سکیں۔ اِس کے بعد مَیں اپنی سمجھ کے مطابق صحیح تشریح پیش کروں گا، گو اِس میں بھی کچھ اُلجھنیں ہیں۔

 اِس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ بد دعائیں اِس قدر شریر سے انتقام یا سزا کی دعائیں نہیں ہیں جس قدر اُن میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ خدا کے دشمنوں کا کیا حشر ہو گا۔ چنانچہ اُنگر کہتا ہے:

”مقدس لوگوں کی طرف سے افراد پر لعنتیں انتقام، دکھ یا بے صبری کا اظہار نہیں ہیں، بلکہ یہ پیش گوئیاں ہیں۔“

 اِن میں سے اکثر پیروں کا فعل امر میں نہیں بلکہ فعل مستقبل میں صحیح ترجمہ کیا جانا چاہئے۔

 ایک دوسری تشریح یہ ہے کہ داؤد خدا کے ممسوح کی حیثیت سے بول رہا تھا۔ اپنی حیثیت کے لحاظ سے وہ خدا کا نمائندہ تھا۔ اِس لئے اُسے اِن سخت سزاؤں کے اعلان کے لئے اجازت دی گئی۔ (لیکن یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بد دعا کے تمام مزامیر داؤد نے ہی نہیں لکھے تھے)۔

 پھر بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اُن لوگوں کے احساسات کا تاریخی ریکارڈ ہیں اگرچہ اُن کی سختی کی تصدیق نہیں کرنی چاہئے۔ اِس نظریہ کے متعلق بارنز لکھتا ہے:

یہ تاثرات محض اِس بات کا ریکارڈ ہے کہ زبور نویس کے ذہن میں فی الحقیقت کیا کچھ وقوع پذیر ہو رہا تھا۔ اِس نظریہ کے مطابق جو تاثرات پیش کئے گئے ہیں وہ نقل کرنے کے لئے پیش نہیں کئے گئے۔

 اِس کی دیگر تشریحات بھی ہیں۔ بد دعا والے زبوروں کا دفاع یوں بھی کیا گیا ہے کہ چونکہ اسرائیل خدا کی برگزیدہ قوم تھی، اِس لئے اسرائیل کے دشمن خدا کے دشمن تھے۔ زبور نویس بیان کرتا ہے کہ گناہ گار کیسی سزا کے مستحق ہیں اور وہ انتقام کے لئے خواہش کا اظہار نہیں کرتا۔

 جیسے کہ مَیں نے پہلے کہا مجھے اِن میں سے کوئی تشریح تسلی بخش نہیں لگتی۔ مجھے سب سے زیادہ یہ تشریح پسند ہے کہ بد دعا والے زبوروں میں ایک ایسی روح ہے جو ایک یہودی کے لئے شریعت کے تحت رہتے ہوئے تو درست ہے، لیکن ایک مسیحی کے لئے فضل کے تحت رہتے ہوئے درست نہیں ہے۔ یہ زبور ہمیں اِس لئے سخت لگتے ہیں کیونکہ ہم اِنہیں عہدجدید کے مکاشفہ کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ داؤد اور دیگر زبور نویسوں کے پاس عہد جدید نہیں تھا۔ جیسا کہ سکروگی نشاندہی کرتا ہے:

… یہ اچھا ہو گا کہ ہم فوری طور پر اِس حقیقت کو پہچانیں کہ گزشتہ دَور موجودہ دَور سے کمتر تھا۔ گو شریعت، فضل کے متضاد نہیں، لیکن یہ اِس کے برابر نہیں ہے۔ گو مسیح شریعت کو پورا کرنے کے لئے آیا، لیکن وہ اِس سے ماورا لے جانے کے لئے بھی آیا۔ ہمیں خبردار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زبوروں میں انتقامی انداز کو پولس کے خطوط کے معیار سے پرکھنے کی کوشش نہ کریں۔

 کسی شخص کے خاندان کو سزا میں شامل کرنا گو ہمیں انتہا پسندی معلوم ہو، لیکن اِس حقیقت کے پیش نظر زبور نویس حق بجانب تھا کہ خدا نے دھمکی دی تھی کہ وہ باپ کی بدکاری کی سزا اُس کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک دے گا (خروج ۰۲:۵، ۴۳:۷؛ گنتی ۴۱: ۸۱؛ استثنا ۵:۹)۔ خواہ ہم یہ بات پسند کریں یا نہ کریں، لیکن روحانی عملداری میں یہ اصول پایا جاتا ہے کہ ایک شخص کے گناہوں سے اُس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص جزیرہ کی مانند دوسروں سے الگ تھلگ نہیں ہوتا۔ اُس کے اعمال کے نتائج اُس کی اپنی ذات اور دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔

 ہم آج کل خداوند کے سالِ مقبول میں رہتے ہیں۔ جب یہ دَور گزر جائے گا اور ہمارے خداوند کے انتقام کا دن شروع ہو گا، تو بددعا والے زبوروں کی زبان ایک بار پھر خدا کے لوگوں کی زبان ہو گی۔ اِس لئے کہ مصیبت کے دَور کے شہید کہیں گے: ”تُو کب تک انصاف نہ کرے گا اور زمین کے رہنے والوں سے ہمارے خون کا بدلہ نہ لے گا؟“ (مکاشفہ ۶: ۰۱)

 ایک آخری خیال ملاحظہ فرمایئے! زبوروں میں بد دعاؤں کی سختی ہمارے دلوں کو تیار کرتی ہے کہ ہم خداوند یسوع کی قدر کر سکیں جس نے صلیب پر اپنے بدن پر ہر لعنت کو برداشت کیا تاکہ ہمیں ہر ایک لعنت اور لعنت کرنے سے آزاد کر دے۔ اگر زبوروں میں بیان کردہ تمام سزاؤں کو اکٹھا کر دیا جائے تو اُس کے مقابلہ میں بالکل معمولی ہیں جو یسوع نے ہمارے فدیہ کے طور پر برداشت کیں۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا! میرے محموُد! خاموش نہ رہ۔
۲ کیونکہ شریروں اور دغابازوں نے میرے خلاف مُنہ کھولا ہے۔اُنہوں نے جھُوٹی زُبان سے مجھ سے باتیں کی ہیں۔
۳ اُنہوں نے عداوت کی باتوں سے مجھے گھیر لیا۔ اور بے سبب مجھ سے لڑے ہیں۔
۴ وہ میری مُحبت کے سبب سے میرے مُخالِف ہیں لیکن میَں تو بس دُعا کرتا ہوں۔
۵ اُنہوں نے نیکی کے بدلے مجھ سے بدی کی ہے۔ اور میری مُحبت کے بدلے عداوت۔
۶ تُو کسی شریر آدمی کو اُس پر مُقرر کر دے اور کوئی مُخالِف اُسکے دہنے ہاتھ کھڑا رہے۔
۷ جب اُسکی عدالت ہو تو وہ مجرم ٹھہرائے اوراُسکی دُعا بھی گُناہ گنی جائے۔
۸ اُسکی عُمر کوتاہ ہو جائے اور اُس کا منصب کوئی دوُسرا لے لے۔
۹ اُسکے بچے یتیم ہو جائیں اور اُسکی بیوی بیوہ ہو جائے۔
۱۰ اُس کے بچے آوارہ ہو کر بھیک مانگیں۔اُنکو اپنے ویران مُقاموں سے دوُر جاکر ٹُکڑے مانگنا پڑے۔
۱۱ قرض خواہ اُس کا سب کچھ چھین لے۔اور پردیسی اُسکی کمائے لوٹ لیں۔
۱۲ کوئی نہ ہو جو اُس پر شفقت کرے نہ کوئی اُس کے یتیم بچوں پر ترس کھائے۔
۱۳ اُسکی نسل کٹ جائے اور دوسری پُشت میں اُنکا نام مٹا دیا جائے۔
۱۴ اُسکے باپ دادا کی بدی خُداوند کے حُضور یاد رہے۔اور اُس کی ماں کا گُناہ مِٹایا نہ جائے۔
۱۵ وہ برابر خُداوند کے سامنے رہیں۔تاکہ وہ زمین پر سے اُنکا ذِکر مٹا دے۔
۱۶ اِسلئے کہ اُس نے رحم کرنا یاد نہ رکھا پر غریب اور محتاج اور شکستہ دل کو ستایا تاکہ اُنکو مار ڈالے۔
۱۷ بلکہ لعنت کرنا اُسے پسند تھا۔ سو وہی اُس پر آ پڑی اور دُعا دینا اُسے مرغوب نہ تھا سو وہ اُس سے دور رہی۔
۱۸ اُس نے لعنت کو اپنی پوشاک کی طرح پہنا اور وہ پانی کی طرح اُس کے باطن میں اور تیل کی طرح اُس کی ہڈیوں میں سما گئی ۔
۱۹ وہ اُس کے لئے اُس پاشاک کی مانند ہو جِسے وہ پہنتا ہے۔ اور اُس کے پٹکے کی جگہ جِس سے وہ اپنی کمر کسے رہتا ہے۔
۲۰ خُداوند کی طرف سے میرے مُخالِفوں کا اور میری جان کو بُرا کہنے والوں کا یہی بدلہ ہے۔
۲۱ لیکن اَے مالک خُداوند ! اپنے نام کی خاطر مجھ پر احسان کر ۔ مجھے چھُڑا کیونکہ تیری شفقت خوب ہے۔
۲۲ اِسلئے کہ میں غریب اور محتاج ہوں اور میرا دِل میرے پہلو میں زخمی ہے۔
۲۳ میں ڈھلتے سایہ کی طرح جاتا رہا۔ میں ٹِّڈی کی طرح اُڑا دیا گیا۔
۲۴ فاقہ کرتے کرتے میر گھُٹنے کمزور ہو گئے۔ اور چکنائی کی کمی سے میر جسم سوُکھ گیا۔
۲۵ میَں اُنکی ملامت کا نشانہ بن گیا ہوں جب وہ مجھے دیکھتے ہیں تو سر ہلاتے ہیں۔
۲۶ اَے خُداوند ! میرے خُدا! میری مدد کر۔ اپنی شفقت کے مُطابق مجھے بچا لے۔
۲۷ تاکہ وہ جان لیں کہ اِس میں تیرا ہاتھ ہےاور تُو ہی نے اَے خُداوند !یہ کیا ہے ۔ ۰
۲۸ وہ لعنت کرتے رہیں۔پر تُوبر کت دے وہ جب اٹُھے گے۔تو شر منِد ہ ہو نگے پر تیر ا بندہ شادمان ہوگا۔
۲۹ میرے مُخالف ذلت سے ملُبس ہو جائیں اوراپنی ہی شرمندگی کوچادر کی طرح اوڑھ لیں۔
۳۰ میَں اپنےمُنہ سے خُداوند کا شُکر کر وُنگا۔بلکہ بڑی بھیڑمیںاُسکی حمد کرؤنگا ۔
۳۱ کیونکہ وہ محُتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا ہوگا۔تاکہ اُس کی جان پر فتوی دینے والوں سے اُسے رہائی دے ۔