زبور ۳۲ : معاف کیا گیا
خوشی یہ ہے کہ معافی حاصل کی جائے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بہت بڑے بوجھ سے رہائی حاصل کرنا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کہ قرض معاف کر دیا گیا ہو۔ اب ضمیر کو سکون حاصل ہوا ہے۔ احساسِ جرم ختم ہو چکا ہے، جنگ ختم ہو گئی ہے اور اب خوشی سے لطف اندوز ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ داؤد کے لئے اِس کا یہ مطلب تھا کہ اُس کی بہت بڑی بدکاری کو معاف کر دیا گیا، اُس کا گناہ ڈھانپا گیا اور اُس کی روح کو مکر سے صاف کر دیا گیا ہے۔ دَورِ حاضر کے ایماندار کے لئے یہ کفارہ محض گناہ کے ڈھانپے جانے سے کہیں زیادہ ہے۔ اِس دَور میں ایماندار جانتا ہے کہ اُس کے گناہ کلی طور پر معاف ہو چکے اور خدا کے بحرِ فراموشی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غرق ہو چکے ہیں۔
۳۲: ۱۔۲ رومیوں ۴: ۷،۸ میں پولس رسول زبور ۳۲: ۱،۲ کا اقتباس کرتے ہوئے ثابت کرتا ہے کہ عہد عتیق کے زمانہ میں بھی راست بازی اعمال کے بجائے ایمان سے حاصل ہوتی تھی۔ لیکن جو کچھ داؤد کہتا ہے وہ یہ بات اُس قدر ثابت نہیں کرتا جس قدر وہ کچھ جو داؤد نہیں کہتا۔ وہ ایسے راست باز شخص کے بارے میں بیان نہیں کرتا جو نجات کے لئے کام کرتا یا نجات کا مستحق ہے بلکہ وہ ایک ایسے گناہ گار کے بارے میں بات کرتا ہے جسے معافی حاصل ہو چکی ہے اور وہ معافی یافتہ کی خوشی اور مبارک حالی کو بیان کرتے ہوئے کاموں کا ذکر نہیں کرتا۔ روح القدس کی ہدایت سے پولس رسول اِس سے یہ اخذ کرتا ہے کہ داؤد اُس شخص کی مبارک حالی کا ذکر کرتا ہے جس کے حساب میں خدا، اُس کے اعمال کے قطع نظر راست بازی محسوب کر دیتا ہے (رومیوں ۴:۶)۔
۳۲: ۳،۴ اِس کے بعد داؤد کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ بت سبع سے زنا اور اوریاہ کی موت کی سازش کے ارتکاب کے بعد، اُس نے اپنے گناہ کا اقرار کرنے سے متواتر انکار کیا تھا۔ وہ اِسے دبا دینا چاہتا تھا۔ شاید اُس کی دلیل یہ ہو کہ ’’وقت ہر شے کو دُرست کر دیتا ہے۔‘‘ لیکن اقرار کرنے کے انکار سے وہ خدا اور اپنے بہترین مفادات کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ وہ جسمانی طور پر پژمردہ ہو گیا اور یہ سب کچھ اُس کی روح کی تلخی کے باعث تھا۔ اُسے محسوس ہوا کہ خدا کا ہاتھ اُس پر بھاری تھا، اُس کی راہ میں حائل تھا اور ہر ایک موڑ پر اُسے پریشان کر رہا تھا۔ اِس کا کوئی بھی حل کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ زندگی پہلے کی طرح رواں دواں نہیں تھی۔ اُس کی خوشیوں کے ایام ختم ہو چکے تھے اور اُس کا وجود مسلسل ایک ویرانے کی طرح تھا جس میں کوئی کشش نہ ہو۔
۳۲: ۵ ایک سال کی اِس بے تائب کیفیت کے بعد، داؤد اُس مقام پر پہنچ گیا جہاں اُس نے اپنی زبان سے چار الفاظ ادا کئے جن کا خدا انتظار کر رہا تھا ’’ مَیں نے گناہ کیا۔‘‘ تب وہ ساری شرمناک داستان اُس کی زبان سے نکلنے لگی جیسے پھوڑے سے پیپ نکلنے لگتی ہے۔ اب وہ لیپاپوتی، کسی طرح کی تخفیف یا بہانہ بازی کی کوشش نہیں کر رہا۔ بالآخر داؤد نے گناہ کو اُس کے اصلی نام سے پکارا: ’’اپنے گناہ … اپنی بدکاری … اپنی خطاؤں۔‘‘ جونہی اُس نے اقرار کیا، اُسے فوری طور پر یقین دہانی ہو گئی کہ خدا نے اُس کی بدی کو معاف کر دیا ہے۔
۳۲: ۶ دعا کے جواب کے اِس تجربے سے متاثر ہو کر وہ التجا کرتا ہے کہ خدا کے تمام لوگ اِسی طرح خداوند سے دعا کریں ’’جب تُو مل سکتا ہے۔‘‘ جو لوگ خداوند سے رفاقت رکھتے ہیں وہ پریشانی کے وقت مخلصی حاصل کریں گے۔ سیلاب کا پانی اُن تک نہیں پہنچے گا۔
۳۲:۷ وہ جو کسی وقت بے لچک اور ناپشیمان تھا، اب ٹوٹ چکا ہے اور اپنے گناہ پر نادم ہے۔ بڑی شکر گزاری کے ساتھ وہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا اُس کے چھپنے کی جگہ، مصیبت میں پناہ گاہ اور اُسے رہائی کے نغموں سے گھیرنے والا ہے۔
۳۲: ۸، ۹ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آیات ۸ اور ۹ داؤد کے الفاظ ہیں یا خداوند کے۔ اگر ہم اِن کی داؤد کی زبان کے طور پر تشریح کریں، تو یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ’’معافی کا فطری اثر یہ ہے کہ ہم اپنا تجربہ بتانے سے اور خصوصی طور پر پریشانیوں میں صلاح کاری سے دوسروں کی مدد کریں۔‘‘ اگر ہم دوسرا نظریہ اختیار کریں، تو خداوند داؤد کی پرستش کا جواب دیتے ہوئے راہنمائی کا وعدہ کرتا اور اُسے سکھاتا ہے کہ اُسے مسلسل فرماں برداری کی ضرورت ہے۔ یہاں باپ اپنے برگشتہ، واپس آنے والے بیٹے کے لئے ضیافت کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ آنے والے ایام کی راہوں پر چلنے کے لئے ہدایت اور زندگی کے تمام فیصلوں میں شخصی صلاح کاری کی پیش کش کرتا ہے۔ لیکن یہاں خبردار رہنے کی نصیحت بھی پائی جاتی ہے: گھوڑے کی مانند نہ بنو، جو بغیر حکم کے آگے بڑھنے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور نہ خچر کی مانند ہی بنو جو آگے بڑھنے کے لئے حکم کے باوجود انکار کرتے رہتے ہیں۔ دونوں جانوروں کو قابو میں رکھنے اور فرماں برداری سکھانے کے لئے دہانے اور ساز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایماندار کو خداوند کی راہنمائی کے لئے حساس ہونا چاہئے تاکہ اُسے راہِ راست پر لانے کے لئے سخت ضبط کی ضرورت نہ ہو۔
۳۲: ۱۰، ۱۱ جہاں تک داؤد کا تعلق ہے، صادق کو شریر پر سبقت حاصل ہے۔ اِن کا کوئی موازنہ نہیں۔ بہت سی مصیبتیں شریر کا بخرہ ہیں، لیکن خدا کی رحمت حلیم صادق کو گھیرے میں لئے رہتی ہے۔ چنانچہ یہ معقول ہے کہ صادق خداوند میں خوش و خرم ہو اور وہ خوشی سے للکارے۔
مقدس کتاب
۱ مُبارک ہے وہ جس کی خطا بخشی گئی اور جسکا گُناہ ڈھانکاگیا۔
۲ مُبارک ہے وہ آدمی جس کی بدکاری کو خُداوند حساب میں نہیں لاتا۔ اور جس کے دِل میں مکر نہیں۔
۳ جب مَیں خاموش رہا تو دِن بھر کے کراہنے سے میری ہڈیاں گھُل گئیں۔
۴ کیونکہ تیرا ہاتھ رات دِن مجھ پر بھاری تھا میری تراوت گرمیوں کی خشکی سے بدل گئی۔ (سِلاہ)
۵ مَیں نے تیرے حضُور اپنے گُناہ کو مان لیا اور اپنی بدکاری کو نہ چھپایا۔ مَیں نے کہا میں خُداوند کے حضُور اپنی خطاؤں کا اِقرار کرونگا اور تُو نے میرے گُناہ کی بدی کو مُعاف کیا۔ (سِلاہ)
۶ اِسی لئے ہر دیندار تجھ سے ایسے وقت میں دُعا کرے جب تُومل سکتا ہے۔ یقیناً جب سَیلاب آئے تو اُس تک نہیں پہنچیگا۔
۷ تُو میرے چھپنے کی جگہ ہے۔ تُو مجھے دُکھ سے بچائے رکھیگا۔ تُو مجھے رہائی کے نغموں سے گھیرلیگا۔ (سِلاہ)
۸ مَیں تجھے تعلیم دُونگا اور جس راہ پر تجھے چلنا ہوگا تجھے بتاؤنگا۔ مَیں تجھے صلاح دُونگا۔ میری نظر تجھ پر ہوگی۔
۹ تُم گھوڑے یا خچّر کی مانند نہ بنو جن میں سمجھ نہیں۔ جن کو قابُو میں رکھنے کا ساز دہانہ اور لگام ہے ورنہ وہ تیرے پاس آنے کے بھی نہیں۔
۱۰ شریر پر بہت سی مُصیبتیں آئینگی پر جس کا تُوکل خُداوند پر ہے رحمت اُسے گھیرے رہیگی۔
۱۱ اَے صادقو! خُداوند میں خُوش وخُرم رہو اور اَے راست دِلو! خُوشی سے للکارو۔