زبُور ۱۱

زبور ۱۱:‏ جب توکل کر سکتے ہیں تو بھاگنے کی کیا ضرورت ہے؟

زبور ۱۱ غم ناک شہ سرخی کا تریاق ہے۔ جب خبر ہر طرح سے بُری ہو — یعنی جنگ‏، تشدد‏، جرائم‏، بدی اور سیاسی بے چینی ہو— تو داؤد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم خداوند پر نگاہیں جمانے سے حالات سے نپٹ سکتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جب داؤد نے اپنا دروازہ کھولا‏، تو ایک پریشان ملاقاتی اندر داخل ہوا۔ اُس کا چہرہ زرد اور اُترا ہوا تھا‏، اُس کی آنکھوں سے پریشانی جھلک رہی تھی اور اُس کے ہونٹ تھرتھرا رہے تھے۔ اُس نے داؤد کو آنے والی مصیبت کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں کی طرف بھاگ جائے۔ یہ زبور اُس نااُمید ملاقاتی کے دل شکن اور مایوس کن مشورے کا جواب تھا۔

۱۱:‏ ۱۔۳ سب سے پہلے داؤد خداوند پر اپنے سادہ سے توکل کا بیان کرتا ہے کہ وہ اُس کی پناہ گاہ ہے۔ ’’جب آپ توکل کر سکتے ہیں تو بھاگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ تب وہ اُس مصیبت سے ڈرانے والے شخص کو ملامت کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ آیت ۱(‏ب)‏ سے آیت ۳ تک پریشان مخبر کے الفاظ ہیں۔ اِس کا یوں آغاز ہوتا ہے:‏ ’’چڑیا کی طرح اپنے پہاڑ پر اڑ جا۔‘‘ دراصل اُس نے داؤد سے یہ کہا تھا کہ ’’تم ایک پرندہ کی طرح کمزور اور غیرمحفوظ ہو۔ تمہارے لئے بہتر ہے کہ راہِ فرار اختیار کر لو۔ اِس وقت مجرموں کی بالا دستی ہے‏، وہ پورے طور پر مسلح ہیں‏، وہ پُرامن اور قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کو مارنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ قانون اور نظام ختم ہو چکا ہے اور معاشرے کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ کیا ایسی صورتِ حال میں تم ایسے راست باز شخص کے لئے اُمید ہو سکتی ہے؟‘‘

۱۱ :‏ ۴۔۶ کیا اُمید ہو سکتی ہے؟ خداوند تو ابھی تک موجود ہے۔ وہ میری اُمید ہے۔ خداوند اپنی مقدس ہیکل میں ہے اور کوئی چیز اُس کے منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ کا باعث نہیں بن سکتی۔ اُس کا تخت آسمان پر ہے۔ یہ تخت قائم ہے اور اُسے کوئی ہلا نہیں سکتا‏، خواہ زمین پر بادشاہتوں کا عروج و زوال ہو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گو کوئی شخص خدا کے سکون میں مخل نہیں ہو سکتا‏، تاہم وہ بنی آدم کے کاموں سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ نہ صرف وقوع پذیر واقعات اور حالات کو دیکھتا ہے بلکہ مسلسل صادقوں اور شریروں کا احتساب کرتا رہتا ہے۔ گو خدا بے پایاں محبت ہے‏، اُس کی روح تشدد کرنے والوں سے نفرت کرتی ہے۔ وہ آسمان پر سے آگ اور گندھک کی بارش اور سخت لُو سے اُن کو سزا دے گا۔

۱۱:‏۷ جس قدر خداوند تشدد کرنے والے سے نفرت کرتا ہے‏، اُسی قدر وہ صادق سے محبت رکھتا ہے۔ خدا خود صادق ہے اِس لئے وہ صداقت کو پسند کرتا ہے۔ راست باز کا حتمی اجر یہ ہو گا کہ وہ خدا کے حضور کھڑا ہو گا۔

چنانچہ ہمیں بُرے حالات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کسی خاص وقت پر حالات کے دھارے ہمارے خلاف ہوں‏، لیکن خدا کا ناقابلِ تسخیر مقصد بالآخر یقینی طور پر کامیاب ہو گا۔

ہر جگہ خدا کی حکمرانی ہے اور سب چیزیں اُس کی خدمت گزار ہیں۔
اُس کا ہر ایک عمل خالص برکت ہے‏، 
اُس کی روش بے داغ روشنی ہے
ہم اُسے نہیں سمجھ سکتے‏، تاہم زمین اور آسمان بتاتے ہیں کہ 
خدا تخت پر مطلق العنان کی حیثیت سے بیٹھا
سب چیزوں پر حکمرانی کرتا ہے۔
(‏شاعر نامعلوم)‏

مقدس کتاب

۱ میرا توکل خُداوند پر ہے۔ تُم کیونکر میری جان سے کہتے ہو کہ چڑیا کی طرح اپنے پہاڑ پر اُڑ جا؟
۲ کیونکہ دیکھو! شریر کمان کھینچتے ہیں۔ وہ تِیر کو چلّے پر رکھتے ہیں تاکہ اندھیرے میں راست دِلوں پر چلائیں۔
۳ اگر بنیاد ہی اُکھاڑ دی جائے تو صادق کیا کرسکتا ہے؟
۴ خُداوند اپنی مُقدس ہیکل میں ہے۔ خُداوند کا تخت آسمان پر ہے۔ اُس کی آنکھیں بنی آدم کو دیکھتی اور اُس کی پلکیں اُنکو جانچتی ہیں۔
۵ خُداوند صادِق کو پرکھتا ہ پر شریر اور ظُلم دوست سے اُس کی رُوح کو نفرت ہے۔
۶ وہ شریروں پر پھندے برسائیگا۔ آگ اور گندھک اور لُو اُنکے پیالے کا حصہ ہوگا۔
۷ کیونکہ خُداوند صادق ہے۔ وہ صداقت کو پسند کرتا ہے۔ راستباز اُس کا دیدار حاصل کرینگے۔