أیسعیاہ ۴۶

(‏۷)‏ بابل کے بتوں کے زوال سے تسلی (‏باب ۴۶)‏

۴۶:‏ ۱‏، ۲ فارسی حملہ آور بابل کے دیوتاؤں بیل اور نبو کے بتوں کو جانوروں پر لاد کر لے جا رہے ہیں۔ تھکے ماندے جانور آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہیں تو بھی یہ بت جھٹکے کھاتے اور گر جاتے ہیں۔ وہ دیوتا یا معبود جن کی یہ نمائندگی کرتے ہیں اِس بوجھ کو بچا نہیں سکتے بلکہ وہ اسیری میں چلے جاتے ہیں۔ 

۴۶:‏ ۳‏، ۴ بتوں کو تو لوگ اُٹھاتے ہیں۔ اِن کے مقابلے میں خدا اپنے لوگوں کو سرسفید ہونے تک اُٹھائے پھرے گا۔ جیمز سٹوأرٹ (‏Stewart)‏ اِس کا خلاصہ یوں پیش کرتا ہے:‏

’’یسعیاہ کے زمانے سے اِنسان یہ جانتے ہیں کہ سچے اور جھوٹے مذہب میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ جھوٹا مذہب ایک بے جان بوجھ ہے جو روح کو اُٹھانا پڑتا ہے جب کہ سچا مذہب ایک زندہ قوت ہے جو روح کو اُٹھا لیتا ہے۔‘‘

۴۶:‏ ۵۔۷ کون سا بت یا مورت ہے جو ہستیِ مطلق اور بے مثل کی نمائندگی کر سکتی ہے؟ اِس کے باوجود فریب خوردہ لوگ سنار کو بھاری رقمیں ادا کرتے ہیں کہ ہمارے لئے دیوتا/معبود بنا دے۔ پھر وہ اُس (‏بت)‏ کے آگے جھکتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اُسے کندھے پر اُٹھاتے ہیں اور کہیں رکھتے یا نصب کرتے ہیں تو وہ بے حس و حرکت اُسی جگہ رہتا ہے۔ وہ نہ دعا سن سکتا نہ دکھ مصیبت سے چھڑا سکتا ہے۔

۴۶:‏ ۸۔۱۱ جو لوگ بھی بت پرستی پر مائل ہیں اُنہیں رُک جانا اور یاد رکھنا چاہئے کہ صرف حقیقی خدا نے آئندہ ہونے والی باتیں پیشتر ظاہر کی ہیں اور اپنے سارے ارادے پورے کرنے پر قادر ہے۔ وہ مشرق سے عقاب یعنی خورس کو بلائے گا تاکہ اُس کے لوگوں کو کسدیوں سے رہائی دلائے۔

۴۶:‏ ۱۲‏،۱۳ جو لوگ سخت دلی اور ہٹ دھرمی سے شہادت اور ثبوت کو نہیں مانتے اب خدا کی سنیں کہ وہ صیون کو نجات بخشے گا۔

مقدس کتاب

۱ بیل جھکتا ہے بنو خم ہوتا ہے انکے بت جانوروں اور چوپایوں پر لدے ہیں جو چیزیں تم اٹھائے پھرتےتھے تھکے ہوئے چوپایوں پر لدی ہیں ۔
۲ وہ جھکتے اور باہم خم ہوتےہیں وہ اس بوجھ کو بچانہ سکے اور وہ آپ ہی اسیری میں چلے گئے ہیں۔
۳ اے یعقوب کے گھرانے اور اے اسرائیل کے سب باقی ماندہ لوگو جنکو بطن ہی سے میں نے اٹھایا اور جنکو رحم ہی سے میں نے گود لیا میری سنو۔
۴ میں تمہارے بڑھاپے تک وہی ہوں اورسر سفید ہونے تک تم کو اٹھائے پھرونگا۔ میں ہی نے خلق کیا اور میں ہی اٹھاتا رہونگا۔ میں ہی لے چلونگا اور میں ہی رہائی دونگا۔
۵ تم مجھے کس سے تشبیہ دو گے اور مجھے کس کے برابر ٹھہراؤ گے اور مجھے کس کی مانند کہو گے تاکہ ہم مشابہ ہوں؟ ۔
۶ جو تھیلی سے با افراط سونا نکالتے اور چاندی کو ترازو میں تولتے ہیں وہ سنار کو اجرت پر لگاتے ہیں اور وہ اس سے ایک بت بناتاہے پھر وہ اسکے سامنے جھکتےبلکہ سجدہ کرتے ہیں۔
۷ وہ اسے کندھے پر اٹھاتےہیں وہ اسے لے جا کر اسکی جگہ پر نصب کرتے ہیں اوروہ کھڑا رہتا ہے ۔ وہ اپنی جگہ سے سرکتا نہیں بلکہ کوئی اسی پکارے تو نہ اسے جواب دے سکتا ہے اور نہ مصیبت سے چھڑا سکتا ہے۔
۸ اے گنہگارو! اسے یاد رکھو اور مرد بنو۔ اس پر پھر سوچو۔
۹ پہلی باتوں کو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں ۔ میں خدا ہوں اور کوئی مجھ سا نہیں۔
۱۰ جو ابتدا سے ہی انجام کی خبر دیتاہوں اور ایّامِ قدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہے گی اور میں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا ۔
۱۱ جو مشرق سے عقاب کو یعنی اس شخص کو جو میرے ارادہ کو پورا کریگا دور کے ملک سے بلاتا ہوں میں ہی نے یہ کیا اور میںہی اسکو وقوع میں لاونگا۔ میں نے اس کا ارادہ کیا اور میں ہی اسے پورا کرونگا ۔
۱۲ اے سخت دلو جو صداقت سےدور ہو میری سنو۔
۱۳ میں اپنی صداقت کو نزدیک لاتا ہوں ۔ وہ دور نہیں ہو گی اور میری نجات تاخیر نہیں کریگی اور میں صیون کو نجات اوراسرائیل کو اپنا جلال بخشونگا۔