ب۔ حزقیاہ کی بیماری اور شفایابی (باب ۳۸)
۳۸: ۱۔۸ تواریخی اعتبار سے باب ۳۸ باب ۳۷ کے بعد نہیں آتا کیونکہ آیت ۶ میں حزقیاہ کے ساتھ وعدہ ہے کہ خداوند اُسے اسوریوں کے ہاتھ سے بچا لے گا حالانکہ باب ۳۷ کے آخر میں وہ خطرہ پہلے ہی ٹل چکا ہے۔
حزقیاہ سخت بیمار ہو گیا تو اُس نے دِل سوزی سے عمر کی درازی کے لئے دعا مانگی اور اُس کے باپ داؤد کے خدا نے اُس کی عمر میں پندرہ برس بڑھا دیئے۔ اِس بات کے نشان کے لئے کہ وہ شفا پائے گا اور یروشلیم سنحیرب کے ہاتھ سے بچ جائے گا خدا نے وعدہ کیا کہ آخز کی دھوپ گھڑی میں سایہ دس درجے پیچھے کو لوٹ جائے گا۔ آیت ۸ کی عبرانی زبان مشکل ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخز نے اہرام نما چوگوشہ ستون بنوایا تھا جس کے زِینوں پر سایہ سے وقت بتایا جا سکتا تھا اور حزقیاہ کے دیکھتے ہوئے خدا نے سایہ دس درجے پیچھے کو لوٹا دیا۔
۳۸: ۹۔۱۵ اپنی شفایابی کی خوشی میں حزقیاہ نے ایک نظم یا زبور لکھا۔ یہ اِس تواریخی حصے کا بے مثال جزو ہے۔ ۲۔سلاطین میں اِس کے متوازی کوئی عبارت نہیں۔ اِس کی ابتدا میں اُس غم اور دکھ کا اظہار ہے جو حزقیاہ پر یہ سن کر طاری ہو گیا تھا کہ وہ بھری جوانی میں مر جائے گا۔ وہ کہتا ہے کہ ’’ مَیں … خداوند کو زندوں کی زمین میں پھر نہ دیکھوں گا‘‘ یعنی مجھے اِس دُنیا میں خداوند کی رحمت اور شفقت کا تجربہ نہ ہو گا اور مَیں باقی بنی نوعِ اِنسان سے کٹ جاؤں گا۔ میری زندگی ایسے ختم ہو رہی ہے جیسے گڈریئے کا خیمہ اُکھاڑ لیا جاتا ہے یا تیار کپڑا کھڈی سے اُتار لیا جاتا ہے۔ حزقیاہ اپنی اداسی، ویرانی، تلخی، دِل سوز التجا اور اپنی بے بسی کے احساس کا اظہار کرتا ہے جو خدا کی اِس سختی سے پیدا ہوا۔
۳۸: ۱۶۔۲۰ آیت ۱۶ سے ہمیں ایک تبدیلی نظر آتی ہے۔ حزقیاہ تسلیم کرتا ہے کہ اِن تکالیف اور دُکھوں سے اِنسان کی زندگی ہے کیونکہ وہ اِنسان کے کردار پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ اب خدا نے اُسے مرنے سے چھڑا لیا ہے اور یہ نشان ہے کہ خداوند نے اُس کے گناہ معاف کر دیئے۔ آیت ۱۸ بے بدنی کی اُس حالت کا دُھندلا سا عکس دِکھاتی ہے جو پرانے عہدنامے کے مقدسین کا نظریہ تھا۔ اب چونکہ وہ زندہ ہے اِس لئے خداوند کا شکر ادا کر سکتا ہے اور اپنی اولاد کو خدا کی سچائی اور وفاداری کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ وہ عمر بھر یہوواہ کی ستائش کرنے پر کمر بستہ ہے۔
۳۸: ۲۱،۲۲ یہ دو آیات تواریخی ترتیب کے لحاظ سے آیت ۶ اور ۷ کے درمیان آتی ہیں۔ کیلی (Kelly) رقم طراز ہے کہ انہیں یہاں رکھنے سے خدا ظاہر کرتا ہے کہ میرے اپنے کیسے بھی کمزور ہوں مجھے اُن سے دلچسپی اور سروکار ہے اور واضح کرتا ہے کہ نشان کیوں دیا گیا اور کیا ذرائع استعمال کئے گئے۔
اِس عبارت سے شفا کے موضوع پر میتھیوہنری نے دو اہم سبق اخذ کئے ہیں:
- ’’ خدا کے وعدوں کا مقصد ذرائع کے استعمال کو ردّ کرنا نہیں بلکہ اُس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ حزقیاہ کی شفایابی یقینی ہے پھر بھی ضرور ہے کہ وہ انجیر کی ٹکیہ لے کر پھوڑے پر باندھے (آیت ۲۱)۔ جب ہم خدا سے مدد کی التجا کرتے ہیں اور اپنی سعی اور کوشش سے اِن دعاؤں کی تائید نہیں کرتے تو خدا پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ اُسے آزماتے ہیں
- خدا سے زندگی اور صحت کے خواست گار ہونے کا اہم اور خاص مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ہم خدا کو جلال دیں، نیکی کریں اور خدا کے عرفان اور فضل میں ترقی کریں اور آسمان پر جانے کی لائق بننے کی کوشش کریں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ ان ہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور یسعیاہ نبی آموص کے بیٹے نے اسکے پاس آ کر اس سےکہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تو مر جائے گا اوربچنے کا نہیں ۔
۲ تب حزقیاہ نے اپنے منہ دیوارکی طرف کیا اورخداوند سے دعا کی۔
۳ اور کہا اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ میں تیرے حضور سچائی اورپورے دل چلتا رہا ہوں اور جو تیر ی نظر میں بھلا ہے وہی کیا اورحزقیاہ زارزار رویا۔
۴ تب خداوند کا یہ کلام یسعیاہ پر نازل ہوا ۔
۵ کہ جا اورحزقیاہ سےکہہ کے خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تیری دعا سنی ۔ میں نے تیرے آنسو دیکھے ۔ سودیکھ میں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دونگا۔
۶ اور میں تجھ کو اور اس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لونگا اور میں اس شہر کی حمایت کرونگا۔
۷ اورخداوند کی طرف سے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ خداوند اس بات کو جو اس نے فرمائی پورا کریگا ۔
۸ دیکھ میں آفتاب کے ڈھلے ہوئے سایہ کے درجوں میں سے آخز کی دھوپ گھڑی کے مطابق دس درجے پیچھے کو لوٹا دونگا۔ چنانچہ آفتاب جن درجوں سے ڈھل گیا تھا ان میں کے دس درجے پھر لوٹ گیا۔
۹ شاہ یہوادہ حزقیاہ کی تحریر جب وہ بیمار تھا اور اپنی بیماری سے شفا یاب ہوا۔
۱۰ میں نے کہا کہ میں اپنی آدھی عمر میں پاتال کے پھاٹکوں میں داخل ہونگا۔ میری زندگی کے باقی برس مجھ سے چھین لئے گئے۔
۱۱ میں کہا میں خداوند کو ہاں خداوند زندوں کی زمین میں پھر کبھی نہ دیکھونگا۔ انسان اوردنیا کے باشندے مجھے پھر دکھائی نہ دینگے۔
۱۲ میرا گھر اجڑ گیا اور گڈریے کے خیمے کی مانند مجھ سےدورکیا گیا۔ میں نے جلاہے کی مانند اپنی زندگانی کو لپیٹ لیا ۔ وہ مجھ کو تانت سے کاٹ ڈالیگا۔ صبح سے شام تک تو مجھ کو تمام کر ڈالتا ہے۔
۱۳ میں نے صبح تک تحمل کیا ۔ تب وہ شیر ببر کی مانند میری سب ہڈیاں چور کر ڈالتا ہے ۔ صبح سے شام تک تو مجھے تمام کر ڈالتا ہے۔
۱۴ میں ابابیل اورسارس کی طرح چیں چیں کرتا رہا۔ میں کبوتر کی طرح کڑھتا رہا ۔ میری آنکھیں اوپر دیکھتے دیکھتےپتھرا گئیں۔ اے خداوند میں بے کس ہوں تو میرا کفیل ہو۔
۱۵ میں کہا کہوں؟ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا اور اسی نے پورا کیا۔ میں اپنی باقی عمر اپنی جان کی تلخی کے سبب سے آہستہ آہستہ پوری کرونگا۔
۱۶ اے خداوند ان ہی چیزوں سے انسان کی زندگی ہے اور ان ہی میں میری روح کی حیات ہے۔ سو تو ہی شفا بخش اورمجھے زندہ رکھ۔
۱۷ دیکھ میرا سخت رنج راحت میں تبدیل ہوا۔ اورمیری جان پر مہربان ہو کر تو نے اسے نیستی کے گڑھے سے رہائی دی۔ کیونکہ تو نے میرے گناہوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔
۱۸ اس لیے کہ پاتال تیری ستایش نہیں کر سکتا اور موت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اترنے والے ہیں تیری سچائی کے امیدوار نہیں ہو سکتے ۔
۱۹ زندہ ہاں زندہ ہی تیری ستایش کریگا جیسا آج کے دن میں کرتا ہوں۔ باپ اپنی اولاد کو تیری سچائی کی خبر دیگا۔
۲۰ خداوند مجھے بچانے کو تیار ہے اس لیے ہم اپنےتاردار سازوں کے ساتھ عمر بھر خداوند کے گھر میں سرود خوانی کرتے رہینگے۔
۲۱ یسعیاہ نے کہا تھا کہ انجیر کی ٹکیہ لیکر پھوڑے پر باندھیں اوروہ شفا پائے گا ۔
۲۲ اورحزقیاہ نے کہا تھا کہ اسکا کیا نشان ہےکہ میں خداوند کے گھر میں جاونگا؟۔