۲۔ تاریخی تبدیلی _ حزقیاہ کی کتاب (باب ۳۶۔۳۹)
ابواب ۳۶ سے ۳۹ تک کے حصے کو بعض اوقات حزقیاہ کی کتاب کہا جاتا ہے۔ یہ یسعیاہ کے صحیفے کا تواریخی حصہ ہے۔ سوائے ۳۸: ۹۔۲۰ کے یہ تقریباً حرف بہ حرف ۲۔سلاطین ۱۸: ۱۳،۱۷۔۲۰:۱۹ کا اِعادہ ہے۔
الف۔ حزقیاہ کی اسور سے رہائی (ابواب ۳۶،۳۷)
۱۔ اسور خدا کی نافرمانی کرتا ہے (باب ۳۶)
۳۶: ۱۔۳ باب ۳۶ میں شاہِ اسور کا ایک ایلچی ربشاقی (لغوی معنی بڑا ساقی لیکن اِسے گورنر یا فوج کے افسرِ اعلیٰ کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا) آ کر یروشلیم میں اوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کے میدان کی راہ میں حزقیاہ کے تین نمائندوں سے ملاقات کرتا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آخز اُس وقت کھڑا تھا جب ارام اور اسرائیل کے اتحاد سے بچنے کے لئے وہ یہوداہ کی بجائے اسور پر بھروسا کرنے پر تُلا ہوا تھا (۷:۳)۔
۳۶: ۴۔۱۰ ربشاقی انہیں خبردار کرتا ہے کہ مصر کے وعدوں پر بھروسا کرنا حماقت ہے کیوں کہ وہ ناکارہ اور بے حیثیت سلطنت اُسے زخمی کر دے گی جو اُس پر ٹیک لگائے گا۔ اِس دعوے کے جواب میں کہ ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں ربشاقی کہتا ہے کہ حزقیاہ نے یہوواہ کے اُونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا دیا ہے۔ ربشاقی کی یہ بات یا تو اُس کی لاعلمی کو ظاہر کرتی ہے یا وہ دانستہ جھوٹ بول رہا تھا۔ ہاں، حزقیاہ نے بتوں کے اُونچے مقام ضرور ڈھائے تھے اور ہیکل میں یہوواہ کی پرستش اور عبادت کو قائم کیا تھا۔ اِس کے علاوہ ربشاقی طعنہ دیتا ہے کہ اگر سنحیرب دو ہزار گھوڑے بھی دے تو شاہِ یہوداہ حزقیاہ اُن کے لئے کافی سوار مہیا نہیں کر سکتا۔ چونکہ یہوداہ کی نفری اِتنی تھوڑی ہے تو وہ اسوریوں کو شکست دینے کی اُمید کیسے کر سکتا ہے؟ وہ تو مصر کی مدد سے بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اور بالآخر وہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ خداوند نے اسوریوں کو یہوداہ پر چڑھائی کرنے اور اُسے غارت کرنے کا حکم دیا ہے۔
۳۶: ۱۱۔۲۰ ربشاقی عبرانی زبان میں بات کر رہا تھا اور حزقیاہ کے نمائندے کو خدشہ تھا کہ اُس کی دھمکیاں اور شیخی بھرے دعوے سن کر یہوداہ کے آدمیوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، اِس لئے اُنہوں نے اُس سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے ارامی زبان میں بات کر۔ اُس نے نہ صرف اِنکار کیا بلکہ بلند آواز میں ایک اَور لمبی تقریر شروع کر دی اور الزام لگانے لگا کہ حزقیاہ لوگوں کو جھوٹی محافظت کا فریب دے رہا ہے۔ پھر اُس نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر تم ہماری (اسوریوں کی) اطاعت قبول کر لو توہم تمہیں اِفراط سے خوراک دیں گے۔ علاوہ ازیں تمہیں ایک ایسے ملک میں آباد کریں گے جو تمہارے ملک کے برابر زرخیز ہے۔ اِس کے ساتھ ہی اُس نے (سامریہ سمیت) وہ شہر گنوائے جن کے معبود انہیں اسوریوں کے طاقتور ہاتھ سے نہ بچا سکے تھے اور بڑی طنز سے پوچھا کہ یروشلیم کی کیا مجال ہے؟ ربشاقی بڑے تکبر سے فیصلہ صادر کرتا ہے کہ خدا کے لوگ اسور کی اطاعت قبول کر لیں۔
۳۶: ۲۱،۲۲ اپنے بادشاہ حزقیاہ کے حکم کے مطابق اُس کے آدمیوں نے ربشاقی کو جواب دینے کی کوشش نہ کی بلکہ جا کر اُس کی باتیں بادشاہ کو بتائیں۔
مقدس کتاب
۱ اور حزقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے چودھویں برس یوں ہوا کہ شاہ اسور سنحیرب نے یہوادہ کے سب فصیلدار شہروں پر چڑھائی کی اور انکو لے لیا۔
۲ اورشاہ اسور نے ربشاقی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ لکیس سے حزقیاہ کے پاس یروشلیم کو بھیجا اور اس نے اوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کےمیدان کی راہ میں مقام کیا۔
۳ تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبناہ منشی اور محرر یوآخ بن آسف نکل کر اسکے پاس آئے ۔
۴ اور ربشاقی نے انکے سے کہا تم حزقیاہ سے کہو کہ ملک معظم شاہ اسور فرماتا ہے کہ تو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے؟۔
۵ کیا مشورت اور جنگ کی قوت منہ کی باتیں ہی ہیں؟ آخر کس کے برتے پر تو نے مجھ سے سرکشی کی ہے؟۔
۶ دیکھ تجھے اُس مسلے ہوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مصر پر بھروسہ ہے اس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اس کے ہاتھ میں گڑجائیگا اور اسے چھید دیگا ۔ شاہ مصر فرعون ان سب کے لیے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں ایسا ہی ہے ۔
۷ پر اگر تو مجھ سے یوں کہے کہ ہمارا توکل خداوند ہمارے خدا پر ہے تو کیا وہ وہی نہیں ہے جس کے اونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا کر حزقیاہ نے یہوادہ اوریروشلیم سے کہا کہ تم اس مذبح کے آگے سجدہ کیا کرو ؟۔
۸ اس لیے اب ذرا میرے آقا شاہ اسور کے ساتھ شرط باندھ اورمیں تجھے دو ہزار گھوڑے دونگا بشرطیکہ تو اپنی طرف سے ان پر سوارچڑھا سکے ۔
۹ بھلا پھر تو کیونکر میرے آقا کے کمترین ملازموں میں سے ایک سردار کا بھی منہ پھیر سکتا ہے؟ اورتو رتھوں اورسواروں کے لیے مصر پر بھروسہ کرتاہے ؟ ۔
۱۰ اور کیا اب میں نے خدا کے بے کہے ہی اس مقام کو غارت کرنے کے لیے چڑھائی کی ہے ؟ خداوند نے ہی تو مجھ سے کہا کہ اس ملک پر چڑھائی کر اور اسے غارت کر دے ۔س
۱۱ تب الیاقیم اور شبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے آرامی زبان میں بات کر کیونکہ ہم اسے سمجھتے ہیں اوردیوار پر کے لوگوں کے سنتےہوئے یہودیوں کی زبان میں ہم سے بات نہ کر۔
۱۲ لیکن ربشاقی نے کہا کیا میرے آقا نے مجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے ؟ کیا اس نے مجھے ان لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اوراپنا ہی قارورہ پینے کو دیوار پر بیٹھے ہیں؟ ۔
۱۳ پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کی زبان میں بلند آواز سے کہنے لگا کہ ملک معظم شاہ اسور کا کلام سنو۔
۱۴ بادشاہ یوں کہتاہے کہ حزقیاہ تم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تم کو چھڑا نہیں سکیگا ۔
۱۵ اور نہ وہ یہ کہہ کر تم سے خداوند پر بھروسہ کرائے کہ خداوند ضرور ہم کو چھڑائے گا اور یہ شہر شاہ اسور کے حوالہ نہ کیا جائیگا۔
۱۶ حزقیاہ کی نہ سنو کیونکہ شاہ اسور یوں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے صلح کر لو اورنکل کر میرے پاس آؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کا میوہ کھاتا اور اپنے حوض کا پانی پیتا رہے۔
۱۷ جب تک کہ میں تم کو آکر ایک ایسے ملک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ملک کی مانند غلہ اور مے کا ملک روٹی اور تاکستانوں کا ملک ہے ۔
۱۸ خبردار ایسا نہ ہو کہ حزقیاہ تم کو یہ کہہ کر ترغیب دے کہ خداوند ہم کو چھڑائیگا کیا قوموں کے معبودوں میں سے کسی نے بھی اپنے ملک کو شاہ اسور کے ہاتھ سے چھڑایا ہے؟ ۔
۱۹ حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں ہیں؟ سفر وائیم کے دیوتا کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟ ۔
۲۰ ان ملکوں کے تمام دیوتاؤں میں سے کس کس نے اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو خداوند بھی یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑائیگا؟ ۔
۲۱ لیکن وہ خاموش رہےاوراسکے جواب میں انہوں نے ایک بات بھی نہ کہی کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اسے جواب نہ دینا۔
۲۲ اورالیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اورشبناہ منشی اور یوآخ بن آسف محرر اپنے کپڑے چاک کیے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اورربشاقی کی باتیں اسے سنائیں۔