أیسعیاہ ۵

(‏۳)‏ اِسرائیل کے گناہ کی سزا (‏باب ۵)‏

۵:‏ ۱‏، ۲ یسعیاہ کے اِس گیت میں اُس کا محبوب یہوواہ یا خداوند ہے۔ اِس گیت میں وہ بیان کرتا ہے کہ خداوند نے اپنے تاکستان کی نگہداشت کیسے پیار اور محبت سے کی۔ خدا نے اُس کے لئے بہترین جگہ منتخب کی‏، زمین کو کھود کر اور کنکر پتھر سے صاف کر کے تیار کیا اور ’’اچھی سے اچھی تاکیں اُس میں لگائیں۔‘‘ اُس کی حفاظت کا اعلیٰ اِنتظام کیا اور اچھی فصل کی اُمید سے ایک کو لہو بھی اُس میں تراشا۔ اُسے اچھی فصل یعنی فرماں برداری‏، شکرگزاری‏، محبت‏، عبادت اور خدمت کی توقع تھی۔ لیکن اُسے بدبودار جنگلی انگور ملے‏، یعنی نافرمانی‏، سرکشی‏، بغاوت اور بت پرستی ملی۔ 

۵:‏ ۳۔۶ خداوند بیزار اور غضب ناک ہو کر یہوداہ سے پوچھتا ہے کہ ’’ مَیں اپنے تاکستان کے لئے اَور کیا کر سکتا تھا جو مَیں نے نہ کیا؟‘‘سب کچھ کرنے کے باوجود مجھے جنگلی انگور کیوں ملے؟ اب وہ اُس سزا کا اعلان کرتا ہے جو عنقریب ملے گی۔ وہ یہوداہ کی حفاظتی باڑ توڑ ڈالے گا۔ ملک پر دشمن چڑھ آئیں گے اور اُسے بالکل ویران کر دیں گے۔ اُس میں اُونٹ کٹارے اور کانٹے اُگیں گے اور خشک سالی کا شکار ہو گا۔ بے شک یہ سارا بیان اُس اسیری کا ہے جو آ رہی تھی۔ 

۵:‏ ۷ وجہ بالکل صاف ہے۔ خدا نے اِسرائیل اور یہوداہ میں راست بازی اور اِنصاف کا اِنتظار کیا‏، لیکن اُسے پامال اور رَوندے ہوئے لوگوں کی خوں ریزی اور فریاد کے سوا کچھ نہ ملا۔ 

۵:‏ ۸۔۱۰ آیات ۸۔۲۳ میں چھے ’’افسوس‘‘ ہیں۔ یہ باب ۳ کے سلسلے کی کڑی ہیں۔ اُن کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے:‏

پہلا افسوس۔ پہلا افسوس زمین کے حریص مالکان پر ہے۔ وہ جائیداد اور مکانوں کی مارکیٹ میں ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ مکانوں کی کمی رہتی ہے۔ لیکن وہ خود ’’بڑے بڑے عالی شان اور خوبصورت‘‘ مکانوں میں رہتے ہیں۔ بنی اِسرائیل کی اسیری کے باعث بہت سے مکان بے چراغ یعنی خالی اور ویران ہو جائیں گے۔ اور زمین اصل پیداوار سے بہت ہی کم پیداوار دے گی۔ ’’پندرہ بیگھے تاکستان‘‘ سے صرف بیس لِٹر مے حاصل ہو گی اور دس پیمانہ بیج سے فقط ایک پیمانہ اناج پیدا ہو گا۔ 

۵:‏ ۱۱۔۱۷ دوسرا افسوس۔ عادی شراب نوش جو صبح سے رات گئے تک نشے میں ڈوبے رہتے ہیں اور ضیافتیں کھا کھا کر بدمست ہوتے ہیں وہ سب اسیری میں جائیں گے کیونکہ وہ خدا اور ’’اُس کے ہاتھوں کی کاریگری‘‘ پر غور نہیں کرتے۔

اِس قسم کے لوگوں کے لئے اسیری نزدیک سے نزدیک تر آ رہی ہے۔ بزرگ یعنی معززین اور عوام قحط اور بھوک کا شکار ہوں گے اور موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ قوم کا کوئی طبقہ بدحالی اور شرمندگی سے نہ بچے گا۔ جب خانہ بدوش بدو اپنے گلّے اِسرائیل کے ویرانوں میں چرائیں گے‏، تب خدا اپنی عدالت میں سچا اور راست ٹھہرے گا۔

۵:‏ ۱۸‏،۱۹ تیسرا افسوس ۔ بے شرم جھوٹے اور خدا کی تحقیر کرنے والے گویا گناہ اور بدکرداری کی گاڑی میں جتے ہوئے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے پیچھے سزا کو بھی کھینچ رہے ہیں۔ وہ خدا کو چیلنج کرتے ہیں کہ جس سزا کی دھمکی دی تھی وہ جلدی بھیج ’’تاکہ ہم دیکھیں۔‘‘

۵:‏ ۲۰ چوتھا افسوس۔ یہ افسوس اُن لوگوں پر ہے جو اخلاقی امتیازات کو خاطر میں نہیں لاتے‏، نیکی اور بدی کے درمیان اِمتیاز روا نہیں رکھتے۔ 

۵:‏ ۲۱ پانچواں افسوس۔ خود فریب اور اپنی ہی نظروں میں دانا و فہیم لوگ جنہیں کچھ بتانا اور سمجھانا عبث ہوتا ہے۔ 

۵:‏ ۲۲‏،۲۳ چھٹا افسوس۔ وہ قاضی (‏جج)‏ جو مے پینے میں زورآور ہیں اور جو رشوت لے کر اِنصاف کا خون کرتے ہیں۔ 

۵:‏ ۲۴‏،۲۵ وہ شریر اور بدکردار لوگ جو خدا کے کلام کا احترام نہیں کرتے اِس طرح نگلے جائیں گے جیسے آگ کھلے میدان کی سوکھی گھاس کو کھا جاتی ہے۔ چونکہ اِس قوم نے ’’رَبُّ الافواج کی شریعت کو ترک کیا‘‘ اِس لئے خدا غضب کے ساتھ اُن کی عدالت کرے گا۔ پہاڑ کانپ اُٹھیں گے اور بازار لاشوں سے غلاظت کی مانند اَٹ جائیں گے۔ باوجود اِس کے اُس کا قہر ٹل نہیں گیا۔ 

۵:‏ ۲۶۔۳۰ خدا ’’سسکار کر‘‘ بابلیوں کو بلائے گا۔ دیکھ اُن کے فوجی دستے آ رہے ہیں۔ وردی میں ملبس‏، پوری طرح سے مسلح۔ اُن کے گھوڑے اور رتھ تیزی اور تُندی سے بڑھے آتے ہیں اور شہریوں پر ’’جوان شیروں کی طرح‘‘ دھاڑتے ہیں۔ اُن پر جھپٹتے ہیں اور پھر اسیر کر کے جلاوطنی میں لے جاتے ہیں۔ یہ یہوداہ کے لئے تاریک دن ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اب میں اپنے محبوب کے لیے اپنے محبوب کا ایک گیت اُس کےتاکستان کےلیےگاونگا۔ میرے محبوب کا تاکستان ایک زرخیز پہاڑ پر تھا۔
۲ اور اُس نے اُسے کھودا اور اُس میں سے پتھر نکال دئیے اور اچھی سے اچھی تاکیں اُس میں لگائی ارو اُس میں برج بنایااور ایک کولھو بھی اُس میں لگایا اور انتظار کیا کہ اُس میں اچھے انگور لگیں لیکن اُسمیں جنگلی انگور لگے۔
۳ اب اےیروشلیم کے باشندہ اور یہوداہ کے لوگو میرے اور میرے تاکستان میں تم ہی انصاف کرو۔
۴ کہ میں اپنے تاکستان کے لیے اور کیا کر سکتا تھا جومیں نےنہ کیا؟ اوراب جو میں اچھے انگوروں کی اُمیدکی تو اس میں جنگلی انگور کیوں لگے؟۔
۵ میں تم کو بتاتا ہوں کہ اب میں اپنے تاکستان سے کیا کرونگا میں اُسکی باڑ گرادونگا اور وہ چراگاہ ہو گا۔ اُس کا احاطہ توڑڈالونگا اوروہ پامال کیا جائیگا۔
۶ اورمیں اُسے بالکل ویران کردونگا۔ وہ نہ چھانٹا جائیگا نہ نرایا جائیگا۔ اُس میں اونٹ کٹارے اور کانٹ اگیں گے اور میں بادلوں کو حکم کرونگا کہ اس پر مینہ نہ برسائیں۔
۷ سو رب الافواج کا تاکستان اسرائیل کا گھرانہ ہے اور بنی یہوادہ اُس کا خوشمنا پودا ہے اُس نےانصاف کا انتظار کیا پر خونریزی دیکھی وہ داد کا مُنتظر رہاپر فریاد سُنی۔
۸ اُن پر افسوس جو گھر سے گھر اور کھیت سے کھیت ملا دیتے ہیں یہاں تک کہ کوئی جگہ باقی نہ بچےاور وہی مُلک میں اکیلےبسیں۔
۹ رب الافواج نےمیرے کان میں کہا یقیناً بہت سےگھر اجڑ جائیں گے اور بڑے بڑے عالیشان اور خوبصورت مکان بھی بے چراغ ہونگے۔
۱۰ کیونکہ پندرہ بیگھے تاکستان سے صرف ایک بت مے نکلے گی اور ایک خومر بیج سے ایکایفہ غلہ۔
۱۱ اُن پر افسوس جو صبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہو اور رات کو جاگتے ہیں جب کہ شراب اُن کو بھڑکا نہ دے ۔
۱۲ اور اُن کے جشن کی محفلوں میں ستار، بربط اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ خدا کے کام کو نہیں سوچتے اور اُس کے ہاتھوں کی کایگری پر غور نہیں کرتے۔
۱۳ اس لیے میرے لوگ جہالت کے سبب سے اسیری میں جاتے ہیں اُن کے بزرگ بھوکوں مرتے اورعوام پیاس میں جلتے ہیں۔
۱۴ بس پاتال اپنی ہوس بڑھاتا ہے اور اپنا منہ بے انتہا پھاڑتاہے اور ان کے شریف اور عام لوگ اور غوگائی اور جو کوئی ان میں فخر کرتاہے اُس میں اُتر جائینگے۔
۱۵ اورچھوٹا آدمی جھکایا جائیگا اوربڑا آدمی پست ہو گا اور مغرورں کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔
۱۶ لیکن رب الافواج عدالت میں سر بُلند ہو گا اور خدائے قدوس کی تقدیس صداقت سے کی جائیگی۔
۱۷ تب برے گویا اپنی چراگاہوں میں چریں گے اوردولتمندوں کے ویران کھیت پردیسیوں کے گلے کھائیں گے۔
۱۸ اُن پر افسوس جو بطالت کے طنابوں سے بدکرداری کو اور گویاگاڑی کے رسوں سے گناہ کو کھینچ لاتے ہیں ۔
۱۹ اور جو کہتے ہیں کہ وہ جلدی کرےاور پُھرتی سے اپنا کام کرےکہ ہم دیکھیں اور اسرائیل کے قُدوُس کی مشورت نزدیک ہو اورآن پہنچے تاکہ ہم اسے جانیں۔
۲۰ اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتےہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو او ر تاریکی کی جگہ نور کر دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں۔
۲۱ اُن پر افسوس جو اپنی نظر میں دانشمند اوراپنی نگاہ میں صاحب امتیاز ہیں۔
۲۲ اُن پر افسوس جو مے پینے میں زور آوراور شراب ملانے میں پہلوان ہیں۔
۲۳ جو رشوت لے کر شریروں کو صادق اورصادقوں کو شریر ٹھہراتے ہیں۔
۲۴ پس جس طرح آگ بھوسے کو کھا جاتی ہے اور جلتاہوا پھوُس بیٹھ جاتا ہے اُسی طرح اُن کی جڑ بوسیدہ ہوگی اوراُن کی کلی گرد کی طرح اُڑ جائیگی کیونکہ انہوں نے رب الافواج کی شریعت کو ترک کیا اوراسرائیل کے قُدوس کے کلام کو حقیر جانا۔
۲۵ اس لیے خداوند کا قہر اُس کے لوگوں پر بھڑکا اور اُس نے اُن کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا اوراُنکو مارا چنانچہ پہاڑ کانپ گئے اوراُن کی لاشیں بازاروں میں غلاظت کی مانند پڑی ہیں۔ باوجود اُس کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے ۔
۲۶ اور وہ قوموں کے لیے دورسےجھنڈا کھڑا کریگا اوراُن کو زمین کی انتہا سے سُسکار کر بُلائیگا اور دیکھ وہ دوڑےچلے آئینگے۔
۲۷ نہ کوئی اُن میں تھکے گا اور نہ پھسلے گا۔ نہ کوئی اونگھیگا اورنہ سوئیگا۔ نہ اُن کا کمر بند کھُلے گا اور نہ جوتیوں کا تسمہ ٹوٹے گا۔
۲۸ اُنکے تیر تیز ہیں اور اُن کی سب کمانیں کشیدہ ہونگی۔ اُنکے گھوڑوں کےسم چقماق اوراُنکی گاڑیاں گردباد کی مانند ہونگی۔
۲۹ وہ شیرنی کی مانند گرجیں گے ہاں وہ جوان شیروں کی مانند دھاڑیں گے وہ غُرا کر شکار پکڑینگے اوراُسے بےروک ٹوک لےجائیں گے اورکوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
۳۰ اور اُس روز وہ اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیساسمندر کا شورہوتاہے اور اگر کوئی اس ملک پر نظر کرے تو تو بس اندھیرا اور تنگ حالی ہے اورروشنی اُسکے بادلوں سےتاریک ہو جاتی ہے ۔