(۵) اسرائیل کی بحالی سے تسلی (باب ۴۳،۴۴)
۴۳: ۱۔۷ نہایت محبت بھرے لہجے میں یہوواہ اپنے لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ خوف نہ کر۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جس نے تمہیں خلق کیا، بنایا، تمہارا فدیہ دیا اور تمہیں بلایا ہے وہ سیلاب میں اور آگ میں تمہارے ساتھ ہو گا۔ اسرائیل کا قدوس مصر کو اُن کے فدیہ میں دیتا ہے۔ یہ وعدہ یہودیوں کے اسیری سے واپس آنے کے بعد پورا ہوا۔ وائن لکھتا ہے:
’’خدا نے اِسرائیل کو آزاد کرنے کے بدلے شاہِ فارس خورس کو اَجر دیا اور اُسے اور اُس کے بیٹے Cambysesکو اِجازت دی کہ مصر اور پڑوسی مملکتوں پر قبضہ کر لیں۔ سبا سفید نیل اور نیلے نیل کے درمیان ایک وسیع علاقہ تھا جو ایتھوپیا سے ملحق تھا۔ اِن علاقوں پر قبضہ صرف ایک تحفہ یا بخشش نہ تھی بلکہ یہ فدیے کی قیمت تھی یا اُن لوگوں کا کفارہ تھا جن کی خاطر قیمت ادا کی گئی۔‘‘
چونکہ اِسرائیل بیش قیمت اور معزز ہے اور خدا نے اُس سے محبت رکھی ہے اِس لئے خدا اُس کی جان کے عوض اُمتیں دے گا۔ یعنی غیر قوموں پر چاروں طرف سے قہر و غضب نازل ہو گا تاکہ اُس (خدا) کے بیٹوں اور بیٹیوں کو زمین کے کونے کونے سے لا کر اپنے ملک میں لایا جائے۔ آیات ۵۔۷ اِس بحالی کا بیان کرتی ہیں۔
۴۳: ۸۔۱۳ اب خداوند اسرائیل اور تمام قوموں کو گویا عدالت میں طلب کرتا ہے اور کہتا ہے وہ اپنے گواہوں کو لائیں تاکہ ثابت کریں کہ بت ہونے والے واقعات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ورنہ مانیں اور اِقرار کریں کہ خدا ہی سچا خدا ہے۔ خدا اِسرائیل کو اپنے گواہ ٹھہراتا ہے کہ وہ گواہی دیں کہ صرف وہ ہی سچا اور حقیقی خدا ہے، کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور اُس کے سوا کوئی بچانے والا اور چھڑانے والا نہیں اور اُس کے فرماں، فیصلے اور کام ردّ نہیں کئے جا سکتے۔
۴۳: ۱۴۔۲۱ خداوند نے تہیہ کر لیا ہے کہ اِسرائیل کی خاطر بابل کو کچلے۔ اِس سے عملاً ثابت ہو جائے گا کہ وہ اپنے لوگوں کا خداوند، قدوس، خالق اور بادشاہ ہے۔ وہی ہے جو اُنہیں بحیرۂ قلزم میں سے سلامت گزار لایا اور اُن کا پیچھا کرنے والے مصریوں کو اُسی سمندر میں غرق کر دیا۔ لیکن جو کچھ وہ اب کرنے والا ہے اُس کے مقابلے میں لوگ اِس خروج کو بھول جائیں گے۔ وہ اپنے لوگوں کے لئے بیابان میں ایک راہ تیار کرے گا جب وہ اسیری سے واپس آئیں گے۔ وہ زمین کو نیا بنا دے گا۔ اِس نئی زمین میں ویران اور اُجاڑ مقامات میں بھی پانی فراواں ہو گا اور بیابان کے جانور اُس کی تعظیم کریں گے۔ خدا کے لوگ بھی شکرگزار ہوں گے اور اُس کی حمد کریں گے۔
۴۳: ۲۲۔۲۴ یہ آیات پھر اِسرائیل کے اسیری سے پہلے کے ایام کی بات چھیڑتی ہیں۔ لوگوں نے دعا مانگنا ترک کر دیا ہے اور خدا سے تنگ آ گئے ہیں۔ وہ خدا کے حضور ہدیئے تو لاتے ہیں، لیکن برائے نام اور رسمی طور سے لاتے ہیں۔ اُن کے دل خدا سے دُور ہیں۔ چنانچہ اُن کا ہدیے لانا، نہ لانا اور ذبیحے گزراننا، نہ گزراننا برابر ہے۔ وہ خدا کے حضور ہدیوں اور نذرانوں کے نہیں بلکہ اپنی خطاؤں کے ڈھیر لگاتے ہیں۔
۴۳: ۲۴۔۲۸ مگر وہ اپنے فضل سے اُن کے گناہوں کو مٹاتا ہے اور اُن کی خطاؤں کو یاد نہیں کرتا۔ کیا وہ اپنی کوئی ایک بھی خوبی بتا سکتے ہیں جس کی خاطر وہ (خدا) ایسا کرے؟ نہیں۔ آدم سے لے کر آج تک کی پوری تاریخ اُن کے گناہوں اور ناکامیوں کی مسلسل داستان ہے۔ اِسی لئے اُس کا قہر اور غضب اُن پر نازل ہوا۔
مقدس کتاب
۱ اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لیکر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔
۲ جب تو سیلاب میں سے گذرے تو میں تیرے ساتھ ہونگا اورجب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائینگی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگیگی اورشعلہ تجھے نہ جلائیگا۔
۳ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔ میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اورتیرے بدلے میں کوش اور سبا کو دیا۔
۴ چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرااور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اورتیری جان کے بدلے میں امتیں دے دونگا۔
۵ تو خوف نہ کر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیری نسل کو مشرق سے لے آونگا اور مغرب سے تجھے فراہم کرونگا۔
۶ میں شمال سے کہونگا کہ دے ڈال اورجنوب سے کہ رکھ نہ چھوڑ۔ میرے بیٹوں کو دور سے اور میری بیٹیوں کو زمین کی انتہا سے لاؤ۔
۷ ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اورجسکو میں نے اپنے جلال کے لیے خلق کیاجسے میں نے پیدا کیا ہاں جسے میں ہی نے بنایا۔
۸ ان اندھے لوگوں کو جو آنکھیں رکھتے ہیں اور ان بہروں کو جن کے کان ہیں باہر لاؤ۔
۹ تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں۔ انکے درمیان کون ہے جو اسے بیان کرے یا ہم کو پچھلی باتیں بتائے؟ وہ اپنے گواہوں کو لائیں تاکہ وہ سچے ثابت ہوں اورلوگ سنیں اورکہیں کہ یہ سچ ہے۔
۱۰ خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اورمیرا خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کی میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی نہ ہو گا۔
۱۱ میں ہی یہوواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔
۱۲ میں نے اعلان کیا اور میں نے نجات بخشی اور میں ہی نے ظاہر کیا جب تم میں کوئی اجنبی معبود نہیں تھا سو تم میرے گواہ ہو خداوند فرماتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔
۱۳ آج سے میں ہی ہوں اور کوئی نہیں جر میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ میں کام کرونگا۔ کون ہے جو اسے رد کر دکے۔
۱۴ خداوند تمہارا نجات دینے والا اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہےکہ تمہاری خاطر میں نے بابل پر خروج کرایا اورمیں ان سب کو فراریوں کی حالت میں اورکسدیوں کو بھی جو اپنے جہازوں میں للکارتےتھے لے آونگا۔
۱۵ میں خداوند تمہار قدوس اسرائیل کا خالق تمہارا بادشاہ ہوں ۔
۱۶ جس نے سمندر میں راہ اورسیلاب میں گذر گاہ بنائی۔
۱۷ جو جنگی رتھوں اورگھوڑوں اور لشکر اوربہادروں کو نکال لاتا ہے ( وہ سب کے سب لیٹ گئے وہ پھرنہ اٹھینگے وہ بجھگئے ہاں وہ بتی کی طرح بجھ گئے) ۔
۱۸ یعنی خداوند یوں فرماتا ہے کہ پچھلی باتوں کو یاد نہ کر اورقدیم باتوں پر سوچتےنہ رہو۔
۱۹ دیکھو میں ایک نیا کام کرونگا۔ اب وہ ظہور میں آئیگا کیا تم اس سے ناواقف رہو گے؟ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا۔
۲۰ جنگلی جانور گیدڑاور شتر مرغ میری تعظیم کرینگے کیونکہ میں بیابان میں پانی اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا تاکہ میرے لوگوں کے لیے یعنی میرے برگزیدوں کے پینے کے لیے پانی ہو۔
۲۱ میں نے ان لوگوں کو اپنے لیےبنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔
۲۲ تو بھی اے یعقوب تو نے مجھے نہ پکارا بلکہ اے اسرائیل تو مجھ سے تنگ آگیا۔
۲۳ تو بروں کو اپنی سوختنی قربانیوں کے لیے میرے حضور نہ لایا اورتو نے اپنے ذبیحوں سے میری تعظیم نہیں کی۔ میں نے تجھے ہدیے لانے پر مجبور نہیں کیا اور لبان جلانے کی تکلیف نہیں دی۔
۲۴ تو نے روپیہ سے میرے لئے اِگر کو نہیں خریدا اورتو نے مجھے اپنے ذبیحوں کی چربی سے سیر نہیں کیا لیکن تونے اپنے گناہوں سے مجھے زیر بار کیا اور اپنی خطاؤں سے مجھے بیزار کر دیا۔
۲۵ میں ہی وہ ہوں جو اپنے نام کی خاطر تیرے گناہوں کو مٹاتا ہوں اور میں تیری خطاؤں کو یاد نہیں رکھونگا۔
۲۶ مجھے یاد دلا۔ ہم آپس میں بحث کریں۔ اپنا حال بیان کر تاکہ تو صادق ٹھہرے۔
۲۷ تیرے بڑے باپ نے گناہ کیا اور تیرے تفسیر کرنے والوں نے میری مخالفت کی ہے۔
۲۸ اس لیے میں نے مقدس کے اسیروں کو ناپاک ٹھہرایا اور یعقوب کو لعنت اوراسرائیل کو طعنہ زنی کے حوالہ کیا۔