أیسعیاہ ۲۵

ہ۔ نغمات کی کتاب (‏ابواب ۲۵۔۲۷)‏

(‏۱)‏ سلطنت کی برکات کے لئے اسرائیل کا نغمۂ ستائش (‏باب ۲۵)‏

۲۵:‏ ۱۔۵ ابواب ۲۵۔۲۷ کو نغمات کی کتاب کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں یہودیوں کا بحال شدہ بقیہ بڑی مصیبت سے رہائی کے لئے خداوند کی حمد و ستائش کرتا ہے۔ دشمن شہر (‏ضروری نہیں کہ کوئی خاص شہر)‏ خاک کا ڈھیر ہو گئے ہیں اور اِس وجہ سے غیر قومیں خدا کی قدرت اور طاقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ خدا اپنے لوگوں کے لئے وہ سب کچھ ہے جو اُنہیں درکار تھا۔ 

۲۵:‏ ۶۔۹ خدا نے کوہِ صیون پر ایک ضیافت تیار کی ہے جو نہایت اعلیٰ روحانی لذتوں پر مشتمل ہے۔ وہ بے علمی اور جہالت کا پردہ (‏نقاب)‏ اُٹھا لیتا ہے۔ شیطان نے اِس پردے سے تمام لوگوں کو اَندھا کر رکھا تھا۔ خدا موت پر فتح پاتا ہے (‏اُن سارے مقدسوں کو زندہ کرتا ہے جو ’’بڑی مصیبت‘‘ میں جاں بحق ہوئے تھے)‏۔ وہ رنج و غم کو نابود کرتا اور یہودی لوگوں کی رُسوائی کا داغ مٹا دیتا ہے۔ بقیہ کہے گا کہ ’’یہ ہمارا خدا ہے۔ ہم اُس کی راہ تکتے تھے اور وہی ہم کو بچائے گا … ہم اُس کی نجات سے خوش و خرم ہوں گے۔‘‘

۲۵:‏ ۱۰۔۱۲ موآب شاید اِسرائیل کے سارے دشمنوں کا نمائندہ ہے۔ وہ شرم ناک طور پر کچلا جائے گا۔ آیت ۱۱ میں خدا کو ایک تیرنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وہ موآبیوں کے درمیان سزا کے لئے اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ اے خداوند تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کرونگا ۔ تیرے نام کی ستایش کرونگا کیونکہ تو عجیب کام کیے ہیں تیری مصلحتیں قدیم سے وفاداری اور سچائی ہیں۔
۲ کیونکہ تو نے شہر کو خاک کا ڈھیرکیا۔ ہاں فصیل دور شہر کو کھنڈر کاڈھیر بنا دیا اورپردیسیوں کے محل کو بھی یہاں تک کہ شہر نہ رہا۔ وہ پھر تعمیرنہ کیا جائیگا۔
۳ اسلیے زبردست لوگ تیری ستایش کرینگے اور ہیبتناک قوموں کا شہر تجھ سے ڈریگا۔
۴ کیونکہ تومسکین کے لیے قلعہ اورمحتاج کے لیے پریشانی کے وقت ملجا اور آندھی سے پناہ گاہ اور گرمی سے بچانے کو سایہ ہوا جس وقت ظالموں کی سانس دیوار کن طوفان کی مانند ہو۔
۵ تو پردیسیوں کے شور کو خشک مکان کی گرمی کی مانند دور کریگااور جس طرح ابر کے سایہ سے گرمی نیست ہوتی ہے اسی طرح ظالموں کا شادیانہ بجانا موقوف ہو گا۔
۶ اوررب الافواج اس پہاڑ پر سب قوموں کے لیے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کریگا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔ ہاں فربہ چیزوں سے جو پر مغز ہوں اور مے سے جو تلچھٹ پر سےخوب نتھری ہوئی ہو۔
۷ اور وہ اس پہاڑپر اس پردہ کو جو تمام لوگوں پر گر پڑا اور اس نقاب کو جو سب قوموں پرلٹک رہا ہےدورکریگا۔
۸ وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا اور اپنےلوگوں کی رسوائی تمام زمین پر سے مٹا ڈالیگا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
۹ اور اس وقت یوں کہا جائیگاکہ لو یہ ہماراخدا ہے۔ ہم اسکی راہ تکتے تھے اور وہی ہم کو بچائے گا ۔ یہ خداوند ہے اور ہم اسک انتظار میں تھے اور ہم اسکی نجات سے خوش و خرم ہونگے۔
۱۰ کیونکہ اس پہاڑ پر خداوند کا ہاتھ برقرار رہیگا اور موآب اپنی ہی جگہ میں ایسا کچلا جائے گا جیسے مزبلہ کے پانی میں گھاسکچلی جاتی ہے۔
۱۱ اور وہ اس کی مانند جو تیرتے ہوئے ہاتھ پھیلاتا ہے اپنے ہاتھ پھیلائیگا پر وہ اس غرور کو اسکے ہاتھوں کتے فن فریب سمیت پست کریگا۔
۱۲ اور وہ تیری فصیل کے اونچے برجوں کو توڑ پر پست کریگا اور زمین کے بلکہ خاک کےبرابر کردیگا۔