أیسعیاہ ۵۹

(‏۲)‏ اِسرائیل کی بدکرداریاں (‏باب ۵۹)‏

۵۹ ۱۔۸ اِسرائیل کا گناہ ہے جو خدا کو اُنہیں آزادی اور مخلصی دلانے سے روکتا ہے‏، یہوواہ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ اُن کے ہاتھ‏، اُنگلیاں‏، لب اور زبان جھوٹ بولنے اور خون کرنے میں تیز ہیں۔ اِنصاف سے انحراف اور بددیانتی کا دَور دَورہ ہے۔ لوگ زیاں کاری سے اور باردار ہو کر بدکرداری کو جنم دیتے ہیں۔ اُن کی سرگرمیاں ایسی ضرر رساں ہیں جیسے افعی کے اَنڈے اور ایسی بے کار ہیں جیسے مکڑی کا جالا۔ اُن کی زندگی کے ہر پہلو پر گناہ غالب ہے __ جو کچھ کرتے ہیں‏، جہاں کہیں جاتے ہیں‏، جو کچھ سوچتے ہیں۔ اُنہیں سلامتی اور اِنصاف سے کچھ غرض نہیں۔ وہ ہر ٹیڑھی بات کو اوّلیت دیتے ہیں۔ جو باتیں اسرائیل پر صادق آتی ہیں وہ کُل نسلِ اِنسانی پر صادق آتی ہیں (‏رومیوں ۳:‏ ۱۵۔۱۷)‏۔

۵۹:‏ ۹۔۱۵ الف ایمان دار بقیہ کی بات کرتے ہوئے یسعیاہ اُن کے گناہ کا ایسے اقرار کرتا ہے جیسے وہ اُس کا اپنا گناہ ہے۔ وہ اُن کی بے اِنصافی‏، ناراستی‏، اندھے پن اور مُردہ پن کا اِقرار کرتا ہے۔ وہ بے صبری سے غراتے اور مایوسی سے کڑھتے ہیں۔ نہ اِنصاف ہے اور نہ نجات۔ خدا کے حضور اُن کی خطائیں بہت بڑھ گئی ہیں اور اُن کے خلاف گواہی دیتی ہیں۔ اُنہوں نے خدا کو ترک کیا اور بے راہ ہو کر اُس سے دُور چلے گئے۔ وہ ظلم‏، بغاوت اور جھوٹ کی زبان بولتے ہیں۔ اُنہوں نے اِنصاف کو دُور دھکیل دیا ہے اور راستی دُور کھڑی ہے اور سچائی بازاروں میں شکار ہو گئی ہے۔ راستی کو اندر آنے کی اِجازت نہیں اور سچائی کہیں نہیں ملتی اور دین دار آدمی پر دھاوا بول دیا جاتا ہے۔

۵۹:‏ ۱۵ ب ۔۲۱ جب خدا آسمان سے نظر کرتا ہے تو رنجیدہ ہوتا ہے کہ اِنصاف کہیں نہیں ہے۔ وہ تعجب کرتا ہے کہ کوئی آدمی نہیں جو صورتِ حال کو سنبھال سکے یعنی کوئی درمیانی یا شفاعت کرنے والا نہیں ہے‏، اِس لئے خدا خود آگے بڑھتا اور یہ کام کرتا ہے۔ وہ اپنے بازو (‏طاقت)‏ سے فتح حاصل کرتا ہے اور اُس کی اپنی راست بازی اُسے سنبھالتی ہے۔ وہ لڑائی کے ہتھیار پہنتا ہے اور راست بازی‏، اِنتقام‏، غیرت اور قہر میں اپنے دشمنوں کے خلاف میدانِ عمل میں آتا ہے۔ وہ غیر قوموں کو بالکل وہی بدلہ دیتا ہے جس کے وہ سزاوار ہیں اور بالآخر مشرق سے مغرب تک اُسے خداوند تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ (‏مسیحِ موعود)‏ سیلاب کی مانند آتا ہے جو خداوند (‏یہوواہ)‏ کے دم سے رواں ہو۔ وہ صیون میں دین دار بقیہ کے پاس آئے گا اور اُن کا فدیہ دینے والا ہو گا۔ اُس وقت خدا اِسرائیل کے گھرانے کے ساتھ ایک نیا عہد باندھے گا جیسا کہ ہم یرمیاہ ۳۱:‏ ۳۱۔۳۴‏، عبرانیوں ۸:‏ ۱۰۔۱۲؛ ۱۰:‏ ۱۶‏،۱۷ میں بھی پڑھتے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ دیکھوخداوند کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گا کہ بچانہ سکے اور اس کا کان بھاری نہیں کہ سن نہ سکے
۲ بلکہ تمہاری بد کاری نے تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان جدائی کر دیدی ہے اور تمہارے گناہوں نے اسے تم سے رو پوش کیا ایسا کہ نہیں سنتا۔
۳ کیونکہ کہ تمہارا ہاتھ خون سے اور تمہاری ا نگلیاں بدکاری سے ا لودہ ہیں۔تمہارے لب جھوٹ بولتے اور تمہاری زبان شرارت کی باتیں بکتی ہے۔
۴ کوئی انصاف کی بات پیش نہیں کرتا اور کوئی سچائی سے حجت نہیں کرتا۔وہ بطالت پر توکل کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں وہ زیان کاری سے باردار ہو کر بدکرداری کو جنم دیتے ہیں ۔
۵ وہ افعی کے انڈے سیتے اور مکڑی کا جالاتانتے ہیں۔جوان کے انڈوں سے کچھ کھائے مر جائے گا اور جو ان میں سے توڑا جائے اس سے افعی نکلے گا۔
۶ ان کے جالے پوشاک نہیں بنے گی۔وہ اپنی دست کاری سے ملبس نہ ہوں گے۔ان کے اعمال بدکاری کے ہیں اور ظلم کا کام ان کے ہاتھوں میں ہے۔
۷ ان کے پاؤں بدی کی طرف دڑتے ہیں اور وہ بے گناہ کا خون بہانے کے لئےجلدی کرتے ہیں۔ان کے خیالات بدکاری کے ہیں۔تباہی اور ہلاکت اُن کی راہوں میں ہے۔
۸ وہ سلامتی کا راستہ نہیں جانتے اور اُن کی روش میں انصاف نہیں۔وہ اپنے لئے ٹیڑھی راہ بناتے ہیں۔جو کوئی اُس میں جائےگا سلامتی کو نہ دیکھے گا۔
۹ اس لئے انصاف ہم سے دور ہے اور صداقت ہمارے نزدیک نہیں اتی۔ہم نور کا انتظار کرتے ہیںپر دیکھو تاریکی ہے اور روشنی کا پراندھیرے میں چلتے ہیں۔
۱۰ ہم دیوار کو اندھیرے کی طرح ٹٹولتے ہیں۔ہاں یوں ٹٹو لتے ہیں کہ گویا ہماری آنکھیں نہیں۔ ہم دوپہر کو یوں ٹھوکر کھاتے ہیں گویا رات ہو گی۔ہم تندرستوں کے درمیان گویا مردہ ہیں۔
۱۱ ہم سب ریچھوں مانند غراتےہیں اور کبوتروں کی طرح کڑھتےہیں۔ہم انصاف کی راہ تکتے ہیں پر وہ کہیں نہیں اور نجات کےمنتظرہیں پر وہ ہم سے دہر ہے۔
۱۲ کیونکہ ہماری خطائیں تیرے حضور بہت ہیں اور ہمارے گناہ ہم پر گواہی دیتے ہیں کیونکہ ہماری خطائیں ہمارے ساتھ ہے۔اور ہم بدکاری کو جانتے ہیں
۱۳ کہ ہم نے ختاکی۔خداوند کا انکار کیا اور اپنے خدا کی پیروی سے بر گشتہ ہو گئے۔ہم نے ظلم اور سر کشی کی باتیں کیں اور دیل میں باطل تور کر کہ دروغ گوئی کی۔
۱۴ عدالت ہٹائی گئی اور انصاف دور کھڑا ہو رہا۔صداقت بازار میں گر پڑی اور راستی داخل نہیں ہو سکتی
۱۵ ہاں راستی گم ہو گئی اور جو بدی سے بھاگتا ہےشکار ہو جاتا ہےخداوند نے یہ دیکھا اور اس کی نظر میں برا معلوم ہوا کہ عدالت جاتی رہی ۔
۱۶ اور اس نے دیکھا کہ کوئی آدمی نہیں اور تعجب کیا کہ کوئی شفاعت کرنے والا نہیں اس لئے اسی کے بازو نے اس کی نجات ھاصل کی اور اسی کی راست بازی اسے سنبھالا۔
۱۷ ہاں اُس نے راست بازی کا بکتر پہنا اور نجات کا خود اپنے سر پر رکھا اور اُس نے لباس کی جگہ انتقام کی پوشاک پہنی اور غیرت کے جبہ سے ملبس ہوا۔
۱۸ وہ اُن کو اُن کے اعمال کےمطابق جزا کے دے گا۔اپنے مخالفوں پر قہر کرے گا اور دشمنوں کو سزا دے گا اور جزیروں کو بدلہ دے گا۔
۱۹ تب مغرب کے باشندے خداوند کے نام سے ڈریں گے اور مشرق کے باشندے اُس کے جلال سے کیونکہ وہ دریا کے سیلاب کی طرح آئے گا جو خداوند کے نام سے رواں ہو۔
۲۰ اور خداوند فرماتا ہے کہ صیون میں اور اُن کے پاس یعقوب میں خطاکاری سے باز اتے ہیں ایک فدیہ دینے والا آئے گا۔
۲۱ کیونکہ اُن کے ساتھ میرا عہد یہ ہے۔خداوند فرمتا ہے میری روح جو تجھ پر ہے اور میری باتیں جو میں نے تیرے منہ میں ڈالی ہیں اور تیرے منہ سے اور تیری نسل کے منہ سے اور تیری نسل کی نسل کے منہ سے اب سے لے کرابد تک جاتی رہیں گی۔خداوند کا یہی ارشاد ہے۔