أیسعیاہ ۶۱

(‏۴)‏ مسیحِ موعود کی خدمات (‏باب ۶۱)‏

۶۱:‏ ۱۔۴ ہم جانتے ہیں کہ یہاں بولنے والا خداوند یسوع ہے کیونکہ اُس نے ناصرت کے عبادت خانے میں آیات ۱‏،۲ کا حوالہ دیا (‏لوقا ۴:‏ ۱۶۔۲۱)‏ اور مزید کہا ’’آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا‘‘ (‏آیت ۲۱)‏۔ اپنے بپتسمے کے وقت اُسے روح القدس سے مسح کیا گیا اور اُس کی زمینی خدمت میں یہ ساری باتیں شامل تھیں __ حلیموں کو نجات کی خوش خبری سنانا‏، شکستہ دلوں کو تسلی دینا‏، گناہ کے اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کرنا‏، قیدیوں کے بند کھولنا۔ اُس نے اِس اِقتباس کو یہ کہہ کر ختم کیا :‏ ’’اور خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کروں‘‘ کیونکہ جو کچھ اِس کے بعد آیا ہے یعنی ’’اپنے خدا کے اِنتقام کے روز کا اِشتہار دوں‘‘ وہ صرف اُس کی دوسری آمد تک پورا ہو گا۔ جب وہ جلال کے ساتھ ظاہر ہو گا تو خدا کے اِنتقام کے روز کا اِشتہار دے گا۔ اُس وقت وہ صیون کے دُکھیوں اور ماتم کرنے والوں کو دلاسا دے گا۔ اور راکھ کے بدلے اُن کے سر پر سہرا سجائے گا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن اور اُداسی کے بدلے ستائش کا خلعت عطا کرے گا۔ اُس کے برگزیدہ لوگ اُس وقت صداقت کے درخت اور خداوند کے لگائے ہوئے کہلائیں گے اور اُس کے جلال کا باعث ہوں گے۔ وہ ملکِ موعود کے اُن مکانوں کو از سرِنو تعمیرکریں گے جو مدت سے اُجاڑ اور ویران پڑے تھے۔

۶۱:‏ ۵۔۹ پردیسی یعنی غیر ملکی اور غیر قوم لوگ اِسرائیلیوں کے خدمت گار ہوں گے۔ وہ اُن کے گلوں کو چرائیں گے اور اُن کے کھیتوں میں ہل چلائیں گے اور اِسرائیلیوں کی خدا کے کاہنوں اور خادموں کی حیثیت سے عزت کریں گے۔ غیر قوموں کا مال و دولت یہودیوں کو ملے گا اور صدیوں کی ملامت اور خجالت دُور ہو جائے گی اور خدا کے لوگ دوچند عزت سے بہرہ ور ہوں گے۔ آیت ۷ میں ’تم‘ اور ’وہ‘ دونوں ایک ہی قوم یعنی یہودیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہوواہ اُس ظلم‏، بے اِنصافی اور غارت گری کو یاد کرے گا جو اُس کے برگزیدوں سے روا رکھی گئی۔ وہ اُنہیں اِس کا اَجر دے گا اور اُن کے ساتھ ابدی عہد باندھے گا اور ساری قومیں مانیں گی کہ خداوند نے اُنہیں مبارک کیا ہے۔ اِس کو عام طور سے ’’نیا عہد‘‘ سمجھا جاتا ہے (‏یرمیاہ ۳۱:‏ ۳۱۔۳۴‏، عبرانیوں ۸:‏ ۸۔۱۲)‏۔

۶۱:‏ ۱۰‏، ۱۱ مسیحِ موعود نے اپنے بقیہ کا فدیہ دیا ہے اور وہ اُن کی حمد و ستائش کو قوموں کے سامنے ظہور میں لاتا ہے۔ وہ نجات کی پوشاک اور راست بازی کے خلعت سے مسرور ہے جس سے خدا نے اُن کو ملبس کیا ہے۔ وہ اِس بات پر مزید شادمان ہے کہ ہزار سالہ دَور کے دوران قوموں کے سامنے اِسرائیل میں عملی صداقت اور ستائش ظہور پذیر ہوئی ہو گی۔ (‏آیت ۱۰ اور ۱۱ میں مفسرین بولنے والے کی شناخت فرق فرق طرح سے کرتے ہیں مثلاً یسعیاہ‏، صیون یا خود مسیحِ موعود۔ ہم آخری کو ترجیح دیتے ہیں یعنی یہ کہ آیات ۱۔۳ اور یہاں بولنے والا ایک ہی ہے یعنی مسیحِ موعود)‏۔

مقدس کتاب

۱ خداوند خدا کی روح مجھ پر ہے کیونکہاُس نے مجھے مسح کیا تاکہ حلیموں کو خشو خبری سناوں۔اس نے مجھے بھیجا ہے کہ شکستہ دلوں کو تسلی دوں ۔ قیدوں کے لیے رہائی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کروں۔
۲ تاکہ خدا وند کے سال مقبول کا اور اپنے خدا کے انتقام کے روز کا اشتہار دوںاور سب غمگینوں کو دلاسا دوں۔
۳ صیون کے غمزدوں کے لئےیہ مقرر کردوں کہ ان کو راکھ کے بدلے سہرا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن اور اُداسی کے بدلے ستایش کا خعلت بخشوں تاکہ وہ صداقت کے درخت اور خداوند کے لگائے ہوئے کہلائیں کہ اُس کا جلال ظاہر ہو۔
۴ تب وہ پرانے اُجاڑ مکانوں کو تعمیر کریں گے اور قدیم ویرانیوں کو پھر بنا کریں گے اور ان اجڑے شہروں کی مرمت کریں گے جو پشت در پشت اُجاڑ پڑے تھے۔
۵ پردیس آکھڑے ہوں گےاورتمہارے گلوں کو چرائیں گے اور بیگانوں کے بیٹے تمہارے ہل چلانے والے اور تکستانوں میں کام کرنے والے ہوں گے۔
۶ پر تم خداوند کے کے کاہن کہلائو گے۔وہ تم کو ہمارے خدا کے خادم کہیں گے۔تم قوموں کا مال کھائو گے اور تم اُن کی شوکت پر فخر کرو گے ۔
۷ تمہاری خجالت کا عوض دو چند ملے گا۔وہ اپنی رسوائی کے بدلے اپنے حصہ سے سے خوش ہوں گے۔پس وہ اپنے ملک میں دو چند کے مالک ہوں گے اور ان کو ابدی شادمانی ہوگی۔
۸ کیونکہ میں خداوندانصاف کو عزیز رکھتا ہوں اور غارت گری اور ظلم سے نفرت کرتا ہوں۔سو میں سچائی سے اُن کے کاموں کا اجردوں گا اور ان کے ساتھ ابدی عہد باند ہوں گا۔
۹ ان کی نسل قوموں کے درمیان نامور ہو گی اور ان کی اولاد لوگوں کے درمیان۔وہ سبجو ان کو دیکھیں گے اقرار کریں گے کہ ہی نسل ہے جسے خداوند نے برکت بخشی ہے
۱۰ میں خداوندسے بہت شادمانہوں گا۔میری مسرور ہوگی کیونکہ اس نے مجھے نجات کے کپڑے پہنائے۔اس نے راستبازی کے خلعت سے مجھے ملبس کیا جیسے دلہا سہرے سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور دلہن اپنے زیوروں سے اپنا سنگار کرتی ہے
۱۱ کیونکہ جس طرح زمین اپنے نباتات کو پیدا کرتی ہے اور جس طرح باغ ان چیزوں کو جو اس میں بوئی گئی ہیں اگاتا ہے اسی خداوندخدا صداقت اور ستایش کو تمام قوموں کے سامنے ظہور میں لائے گا۔