(۴) موآب کے خلاف فیصلہ (ابواب ۱۵،۱۶)
۱۵: ۱۔۷ یسعیاہ موآب کی تباہی کے بارے میں ایک فصیح مگر حزنیہ گیت (مرثیہ) گاتا ہے۔ اِس کے دو قلعہ بند شہر عار اور قِیر ناگہاں برباد ہوں گے۔ اِس کے گاؤں اور قصبے ماتم کریں گے۔ ملک سے بھاگنے والوں کی حالتِ زار دیکھ کر یسعیاہ کو بھی ترس آتا ہے۔ اردگرد کی ساری زمین اور مضافات برباد اور ویران ہو گئے اور لوگ جو کچھ بچا سکے ساتھ لے کر جوق در جوق سرحدوں کی طرف بھاگتے ہیں۔
۱۵: ۸،۹ فریاد اور واویلا کا شور موآب کی سرحدوں تک پہنچ گیا۔ آیت ۲ میں دیبون (غم اور حسرت) شہر کا نام آیت ۹ میں دیمون ہو جاتا ہے غالباً یہ رعایتِ لفظی ہے۔ اِس لئے کہ دیمون عبرانی کے لفظ دَم/ دام بمعنی خون سے ملتا جلتا ہے۔ اب دیمون کی ندیاں لہو سے بھری ہیں۔ بچ کر بھاگنے والوں کا یوں پیچھا کیا جاتا ہے جیسے ببر شیر پیچھا کرتا اور شکار کو دبوچ لیتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ موآب کی بار بنوت۔ ایک ہی رات میں موآب خراب و نابود ہو گیا ایک ہی رات میں قیر موآب خراب و نیست ہو گیا۔
۲ بیت اوردیبون اونچے مقاموں پر رونے کے لیے چڑھ گئے ہیں ۔ نبو اور میدبا پر اہل موآب واویلا کرتے ہیں ۔ اُن سب کے سر منڈائے گئے اور ہر ایک کی داڑھی کاٹی گئی۔
۳ وہ اپنی راہوں میں ٹاٹ کا کمر بند باندھتے ہیں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر اوربازاروں میں نوحہ کرتے ہوئے سب کے سب زارزار روتے ہیں۔
۴ حسبون اور الیعالہ واویلا کرتے ہیں۔ اُنکی آواز یہض تک سُنائی دیتی ہے۔ اِس پر موآب کے مسلح سپاہی چلا چلا کر روتے ہیں۔ اسکی جان اس میں تھرتھراتی ہے۔
۵ میرا دل موآب کے لیے فریاد کرتا ہے۔ اسکے بھاگنے والے ضغر تک عجلت شلیشیاہ تک پہنچے۔ ہاں وہ لوحیت کی چڑھائی پر روتےہوئے چڑھ جاتے اور حورونایم کی راہ میں ہلاکت پر واویلا کرتے ہیں۔
۶ کیونکہ نمریم کی نہریں خراب ہو گئی کیونکہ گھاس کملا گئی اور سبزہ مرجھا گیا اورروئیدگی کا نام نہ رہا۔
۷ اس لیے وہ فراون مال جو انہوں نے حاصل کیا تھا اور ذخیرہ جو انہوں نے رکھ چھوڑا تھا بید کی ندی کے پار لے جائیں گے۔
۸ کیونکہ فریاد موآب کی سرحدوں تک اور انکا نوحہ اجلائم تک اور انکا ماتم بیرایلیم تک پہنچ گیا ہے۔
۹ کیونکہ دیمون کی ندیاں لہو سے بھری ہیں۔ میں دیمون پر زیادہ مصیبت لاونگا کیونکہ اُس پر جو موآب میں سے بچ کر بھاگے گا اور اس ملک کے باقی لوگوں پر ایک شیر ببر بھیجوں گا۔