۹: ۱۔۵ اب نبی ہمیں آگے مسایاح یعنی مسیحِ موعود کی آمد کی طرف لے چلتا ہے۔ یہاں اِسرائیل کی شمالی سلطنت کو ’’نفتالی کے علاقوں‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ علاقے حملہ آوروں کے باعث حقیر اور ذلیل ہو گئے تھے۔ اب اُن کی توقیر اور شان بحال ہو گی۔ (قوموں کا گلیل ہمارے نجات دِہندہ کے لڑکپن کا گھر اور وطن تھا اور اُس کی خدمت کا ایک خاصا حصہ اِسی علاقے سے وابستہ تھا۔) مسیح کی پہلی آمد گلیل میں روشنی لائی۔ اُس کی دوسری آمد قوم کے لئے شادمانی لائے گی اور غلامی اور جنگ کا خاتمہ کر دے گی۔
۹: ۶ آیت ۶ الف میں پہلی آمد کا بیان ہے، ’’اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا۔‘‘ پہلا جملہ اُس کی بشریت کا اور دوسرا جملہ اُس کی اُلُوہیت کا بیان کرتا ہے۔ آیت کا دوسرا حصہ اُس کی دوسری آمد کی نشان دِہی کرتا ہے:
سلطنت اُس کے کندھے پر ہو گی __ وہ بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خداوند کی حیثیت سے بادشاہی کرے گا۔ بقیہ آیت اُس کے ذاتی اَوصاف بیان کرتی ہے:
اُس کا نام عجیب … ہو گا __ یہ نام صفت نہیں اِسم ہے اور اُس کی ذات اور کام کو ظاہر کرتا ہے۔
مشیر __ حکمرانی اور اُمورِ سلطنت چلانے میں اُس کی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔
خدائے قادر __ وہ قادرِ مطلق اور اعلیٰ ترین حاکم ہے۔
ابدیت کا باپ __ وہ ابدیت کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ وہ خود ازلی ہے اور جو اُس پر ایمان لاتے ہیں اُن کو ابدی زندگی عطا کرتا ہے۔ وائن کہتا ہے کہ اِس میں دُہرا مکاشفہ ہے۔
- وہ ازل اور ابد کا مالک ہے (۵۷: ۱۵) یعنی یہ اُس کی ذات میں ہے اور وہ اُس میں سکونت کرتا ہے۔
- وہ محبت کرنے والا، رحیم اور شفیق ہے۔ کامل دانش مند اُستاد، تربیت دینے والا اور پروردگار ہے۔
سلامتی کا شہزادہ __ وہ ہستی جو آخر کار اِس ابتر اور بداَمن دُنیا میں امن، صلح اور سلامتی قائم کرے گی۔
۹:۷ اُس کی سلطنت نہایت وسیع و عریض، پُرامن اور لااِنتہا ہو گی۔ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھ کر عدالت اور صداقت سے حکمرانی کرے گا۔ یہ سب کچھ کیسے وقوع میں آئے گا؟ اپنے لوگوں کی نگہداشت کے لئے ’’رَبُّ الافواج کی غیوری یہ کرے گی‘‘۔
۹: ۸۔۱۲ نبی پھر عدالت اور قہر و غضب کی گھن گرج کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیغام کو چار قطعوں یا بندوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ہر بند کا آخری مصرع ہے ’’باوجود اِس کے اُس کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے‘‘ (آیات ۱۲،۱۷، ۲۱؛ ۱۰:۴)۔
اِسرائیل نے پہلی سزا سے کچھ اثر نہ لیا بلکہ تکبر اور سخت دلی سے دھمکیاں دیتا ہے کہ ہم وہی عمارت دوبارہ بنائیں گے اور پہلے سے زیادہ شاندار بنائیں گے۔ لیکن خداوند یہ تاکید کرتا ہے کہ مشرق سے ارامی اور مغرب سے فلستی اُن پر چڑھائی کریں گے۔
۹: ۱۳۔۱۷ وہ مزید خبردار کرتا ہے کہ لوگ وسیع پیمانے پر ہلاک ہوں گے۔ عام آدمی سے لے کر عزت دار بزرگ شخص تک کوئی زندہ نہ بچے گا۔ جو نبی جھوٹی باتیں سکھاتا ہے وہ بھی مارا جائے گا۔ چونکہ بے دینی کا دور دَورہ ہے اِس لئے خداوند کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔ یہ ہاتھ رحمت کے لئے نہیں بلکہ سزا دینے کو بڑھا ہوا ہے۔
۹: ۱۸۔۲۱ چونکہ شرارت عام ہے اِس لئے ملک خانہ جنگی، بدنظمی، طوائف الملوکی، قحط، لُوٹ مار اور آدم خوری کی آگ سے بھسم ہو جائے گا۔
مقدس کتاب
۱ لیکن اندوہگین کی تیرگی جاتی رہیگی۔ اُس نے قدیم زمانے میں زبولون اورنفتالی کے علاقوں کو ذلیل کیا پر آخری زمانہ میں قوموں کے گلیل میں دریا کی سمت یردن کے پاربزرگی دیگا۔
۲ جو لوگ تاریکی میں چلتے تھےانہوں نے بڑی روشنی دیکھی ۔ جو موت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے ان پر نور چمکا۔
۳ تو نے قوم کو بڑھایا۔ تو نے انکی شادمانی کو زیادہ کیا۔ وہ تیرے حضور ایسے خوش ہیں جیسے فصل کاٹتے وقت اور غنیمت کی تقسیم کے وقت لوگ خوش ہوتے ہیں۔
۴ کیونکہ تو نے انکے بوجھ کے جوئے اور انکے کندھے کے لٹھاور اُن پر ظلم کرنے والے کے عصا کو ایسا توڑاجیسا مدیان کے دن میں کیا تھا ۔
۵ کیونکہ جنگ میں مسّلح مردوں کے تمام سلاح اور خون آلودہ کپڑے جلانے کے لئے ایندھن ہونگے۔
۶ اس لیے ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹابخشا گیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب مشیرخدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔
۷ اُسکی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہو گی۔ وہ داؤد کے تخت اور اُسکی مملکت پر آج سے ابد تک حکمران رہیگا اور عدالتاورصداقت سے اُسے قیام بخشے گا رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔
۸ خداوند نے یعقوب کے پاس پیغام بھیجا اور وہ اسرائیل پر نازل ہوا۔
۹ اور سب لوگ معلوم کرینگے یعنی بنی افرائیم اور اہل سامریہ جو تکبر اور سخت دلی سے کہتے ہیں۔
۱۰ کہ اینٹیں گر گئیں اورہم تراشتے ہوئے پتھروں کی عمارت بنائینگے ۔ گولر کے درخت کاٹے گئے پر ہم دیودار لگائینگے۔
۱۱ اسلیے خداوند رضین کے مخالف گروہوں کو اُن پر چڑھا لائیگا اور اُن کے دشمنوں کو خود مسلح کریگا۔
۱۲ آگے ارامی ہونگے اور پیچھے فلستی اور وہ منہ پسار کر اسرائیل کو نگل جائینگے۔ باوجود اسکے اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔
۱۳ تو بھی لوگ اپنے مارنے والے کیطرف نہ پھرے اوررب الافواج کے طالب نہ ہوئے۔
۱۴ اسلیے خداونداسرائیل کے سر اور دُم اورخاص و عام کو ایک ہی دن میں کاٹ ڈالیگا۔
۱۵ بزرگ اورعزت دار آدمی سر ہے اور جو نبی جھوٹی باتیں سکھاتا ہے وہی دم ہے۔
۱۶ کیونکہ جو ان لوگوں کے پیشوا ہیں ان سے خطاکاری کراتے ہیں اور انکے پیرو نگلے جائیں گے۔
۱۷ پس خداوند ان کے جوانو سے خوشنود نہ ہو گا اور ان کے یتیموں اور ان کی بیواں پر کبھی رحم نہ کریگا کیونکہ ان میں سے ہر ایک بے دین اور بدکردار ہے اور ہر ایک منہ حماقت اگلتا ہے باوجود اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔
۱۸ کیونکہ شرارت آگ کی طرح جلاتی ہے ۔ وہ خس و خار و کھا جاتی ہے بلکہ وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں میں شعلہ زن ہوتی ہے اور وہ دھوئیں کےبادل میں اوپر کو اڑ جاتی ہے۔
۱۹ رب الافواج کےقہر سے یہ مُلک جلایا گیاہے اور لوگ ایندھن کی مانند ہیں کوئی اپنےبھائی پر رحم نہیں کرتا۔
۲۰ اورکوئی دہنی طرف سےچھینےگا پر بھوکا نہ رہیگا اور وہ بائیں طرف سے کھائے گا سیر نہ ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اپنےبازو کا گوشت کھائیگا ۔
۲۱ منسی افرائیم کا اورافرائیم منسی کا اور وہ ملکر یہوداہ کے مخالف ہونگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔