أیسعیاہ ۴۰

۳۔ مستقبل میں اسیری کے نقطہ نظر سے تسلی کی نبوتیں (‏ابواب ۴۰۔۶۶)‏

گذشتہ اُنتالیس باب پرانے عہدنامے کی کتابوں سے مطابقت رکھتے ہیں تو اگلے ستائش باب جو یسوع مسیح یعنی مسیحِ موعود کی تصاویر سے بھرے ہیں یقیناًنئے عہدنامے کی کتابوں سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ 

یسعیاہ کے اِس حصے (‏ابواب ۴۰۔۶۶)‏ میں نبی مستقبل کو دیکھتا ہے جب یہوداہ بابل کی اسیری سے واپس آئے گا اور پھر مسیح کی دوسری آمد پر پوری قوم بحال ہو گی۔

الف۔ اِسرائیل کی آنے والی رہائی سے تسلی (‏ابواب ۴۰۔۴۸)‏

(‏۱)‏ خدا کی معافی اور سلامتی سے تسلی (‏۴۰:‏ ۱۔۱۱)‏

۴۰:‏ ۱‏، ۲ باب ۴۰ کا آغاز واپس آنے والے اسیروں کے لئے تسلی کے پیغام سے ہوتا ہے۔ یروشلیم کی مشکلات اور تکالیف ختم ہو گئیں کیونکہ اُس کے گناہ کا کفارہ ہوا اور اُس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے گناہوں کا بدلہ دو چند پایا (‏یعنی پورا اور جائز بدلہ پایا)‏۔ اِس کی کامل تکمیل مسیح کی دوسری آمد پر ہو گی۔ اِس دوران اِس دُنیا کو بلکہ کلیسیا کو بھی تسلی کی سخت ضرورت ہو گی۔ ہم میں سے ہر ایک خدا کے لوگوں کو تسلی دینے میں اپنا اپنا حصہ ادا کر سکتا ہے۔

۴۰:‏ ۳۔۵ پکار کر کہا جاتا ہے:‏ ’’خداوند کی راہ درست کرو۔‘‘ مسیح کی پہلی آمد پر یوحنا بپتسمہ دینے والے نے پیش رَو کا کردار ادا کیا (‏متی ۳:‏۳)‏ اور ایلیاہ اُس کی دوسری آمد پر یہ کردار ادا کرے گا (‏ملاکی ۴:‏ ۵‏،۶)‏۔ اُس کی آمد کے لئے تیاری زمین کے خدوخال کی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی تیاری ہے۔ مورگن (‏Morgan)‏ لکھتا ہے:‏

’’اِنسانوں کے درمیان جو ایمان دار ہیں وہ اُس کی راہ تیار اور شاہراہ ہموار کرتے ہیں جب وہ اپنی کامل وفاداری اُس کے حوالے کرتے اور صرف اُسی پر تکیہ کرتے ہیں۔ ‘‘

پہاڑ اور ٹیلے متکبر اور سرکش اِنسانوں کو اور نشیب کمزور اور کمتر لوگوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ضرور ہے کہ کردار کی ہر ناہمواری اور سختی ہموار کی جائے۔ ’’خداوند کا جلال (‏یعنی بذاتہٖ خداوند)‏ آشکارا ہو گا اور تمام بشر اُس کو دیکھے گا‘‘ (‏دیکھئے مکاشفہ ۱:‏۷)‏۔ 

۴۰:‏ ۶۔۸ خداوند نبی کو ہدایت کرتا ہے کہ اِنسانوں کے درمیان منادی کر اور اُنہیں بتا کہ وہ کیسے ناپائیدار اور چند روزہ ہیں اور خدا کا کلام کیسا پائیدار اور قائم ہے۔ اگرچہ یہ آیات عمومی لحاظ سے اِنسان کی ناپائیداری کا ذکر کرتی ہیں مگر اِن کا خاص اِشارہ شاید اسرائیل کے سرداروں اور حاکموں کی طرف ہے۔

’’خداکا کلام ابد تک قائم ہے۔‘‘ دُنیا کے کئی ممالک میں مسیحی لوگ اِس جملے کو اپنا راہنما اصول بناتے ہیں۔ ولیم کیلی لکھتا ہے:‏

’’چونکہ خاتمہ (‏اخیر)‏ نزدیک آ رہا ہے ہمیں ضرورت ہے کہ سادہ دلی سے خدا کے کلام پر بھروسا رکھیں۔ ممکن ہے کہ ہر طرح کی مشکلات موجود ہوں اور کلام کمزور معلوم ہوتا ہے کہ ہم ابدیت کے لئے اُس پر بھروسا رکھیں‏، لیکن حقیقت میں یہ کلام آسمان یا زمین سے زیادہ پائیدار ہے۔‘‘

۴۰:‏ ۹۔۱۱ خود صیون مسیحِ موعود کی آمد کی خوش خبری سنانے والی (‏عبرانی میں شہر مونث ہیں)‏ ہے یا کوئی سنانے والی یہ خوش خبری صیون کو دے گی۔ آیت ۱۰ اور ۱۱ خدا کی شفقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ شفقت اور رحمت اُن کے لئے ہیں جو اُس کا گلہ اور برّے ہیں جو غیر قوموں کے درمیان پراگندہ ہیں۔ یہ آیات اُس کے جلال اور قدرت کے ساتھ آنے کا بیان کرتی ہیں۔

(‏۲)‏ خدا کی ذاتی صفات سے تسلی (‏۴۰:‏ ۱۲۔۳۱)‏

۴۰:‏ ۱۲ یہاں سے وہ بلند پایہ اور ٹکسالی عبارت شروع ہوتی ہے جو بتوں کی بطالت کے مقابلے میں خدا کی عظمت اور بزرگی کا بیان کرتی ہے۔ یہوواہ نے سمندر کو چُلُّو سے ناپا اور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی ہے۔ انگوٹھے کے سرے سے چھوٹی اُنگلی کے سرے تک پھیلاؤ کا درمیانی فاصلہ ایک بالشت ہوتا ہے۔ یہوواہ نے زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا۔

۴۰:‏ ۱۳‏، ۱۴ کوئی نہیں جس نے کبھی خداوند کی روح کی ہدایت کی ہو۔ اُس کی تخلیق اور پرورد گاری کے سارے کام بیرونی مدد کے بغیر کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔

۴۰:‏ ۱۵۔۱۷ خدا کے سامنے قومیں ایسی بے حقیقت اور ہیچ ہیں جیسی ڈول کی ایک بوند۔ لبنان کے سارے جنگل ایندھن کے لئے کافی نہیں اور اُس کے سارے جانور سوختنی قربانی کے لئے کافی نہیں۔ 

۴۰:‏ ۱۸۔۲۶ اِنسان کی بنائی ہوئی کون سی مورت ایسے عظیم اور قادر خدا کو دِکھا سکتی ہے؟ امیر آدمی اپنے لئے قیمتی دھاتوں سے اور غریب آدمی لکڑی سے بت بناتا ہے۔ قطعی مضحکہ خیز! کیا اُنہوں نے یہوواہ کی ذات اور قدرت اور عظمت کے بارے میں نہیں سنا یا نہیں سمجھے؟ کون سی مورت یا کون سا بت اُس خدا کی قدرت کی عظمت کا آئینہ دار ہو سکتا ہے جس نے ستارے بنائے؟ جب وہ اُنہیں رات کو نکلنے کا حکم دیتا ہے تو ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔

۴۰:‏ ۲۷۔۳۱ اگر یہوداہ کے لوگوں میں سے کوئی بے دل اور بے حوصلہ ہے اور سوچتا ہے کہ کیا خدا اب بھی ہماری فکر اور پروا کرتا ہے تو اُسے جان لینا چاہئے کہ جو خداوند کا اِنتظار کرتے ہیں وہ اَزسرِ نَو زور حاصل کرتے ہیں۔ یہ سوچنا حماقت ہے کہ خدا اپنے لوگوں کی اُن ستاروں سے کم پروا کرتا ہے جن کی وہ نہایت درستی اور صحت سے راہنمائی کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔
۲ یروشلیم کو دلاسا دو اور اسے پکار کر کہو کہ اسکی مصیبت کے دن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اسکے گناہ کا کفارہ ہوا اور اس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دو چند پایا۔
۳ پُکارنے والے کی آواز! بیابان میں خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خداوند کے لیے شاہراہ ہموار کرو۔
۴ ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے گا اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔
۵ اور خداوند کا جلال آشکارا ہو گا اورتمام بشراسکو دیکھے گا کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے ۔
۶ ایک آواز آئی کہ منادی کر اورمیں نے کہا کہ میں کیا منادی کروں؟ ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اسکی ساری رونق میدان کے پھول کی مانند۔
۷ گھاس مرجھاتی ہے پھول کُملاتا ہے کیونکہ خداوند کی ہوا اس پر چلتی ہے یقیناً لوگ گھاس ہیں۔
۸ ہاں گھاس مرجھاتی ہے۔ پھول کُملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔
۹ اے صیون کو خوشخبری سنانے والی اونچے پہاڑ پر چڑھ جا اور اے یروشلیم کو بشارت دینے والی زور سے اپنی آواز بلند کر! خوب پُکار اور مت ڈر۔ یہوداہ کی بستیوں سے کہہ دیکھو اپنا خدا!۔
۱۰ دیکھو خداوند خدا بڑی قدرت کے ساتھ آئیگا اور اسکا بازو اسکے لیے سلطنت کریگا۔ دیکھو اسکا صلہ اسکے ساتھ ہے اوراسکا اجر اسکے سامنے۔
۱۱ وہ چوپان کی مانند اپنا غلہ چرائیگا۔ وہ بّروں کو اپنے بازوں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا اور انکو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے کر چلے گا۔
۱۲ کس نے سمندر کو چلو سے ناپا اور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی اور زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا اورپہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کیا اورٹیلوں کو ترازو میں تولا؟ ۔
۱۳ کس نے خداوند کی روح کی ہدایت کی یا اسکا مشیر ہو کر اسے سکھایا؟ ۔
۱۴ اس نے کس سے مشورت لی جو اسے تعلیم دے اور اسے عدالت کی راہ سجھائے اور اسے معرفت کی بات بتائے اور اسے حکمت سے آگاہ کرے ؟ ۔
۱۵ دیکھ قومیں ڈول کی ایک بوند کی مانند ہیں اورترازو کی باریک گرد کی مانند گنی جاتی ہیں۔ دیکھ وہ جزیروں کو ایک ذٓرہ کی مانند اٹھا لیتا ہے۔
۱۶ لبنان ایندھن کے لیے کافی نہیں اور اسکے جانور سوختنی قربانی کے لیے بس نہیں۔
۱۷ سب قومیں اسکی نظرمیں ہیچ ہیں بلکہ وہ اسکے نزدیک بطالت اور ناچیز سے بھی کمتر گنی جاتی ہیں۔
۱۸ پس تم خدا کو کس سے تشبیہ دو گے؟ اور کون سی چیز اس سے مشابہ ٹھہراؤ گے؟۔
۱۹ تراشی ہوئی مورت! کاریگر نے اسے ڈھالا اور سنار اس پر سونا مڑھتا ہے اوراسکے لیے چاندی کی زنجیریں بناتا ہے۔
۲۰ اور جو ایسا تہیدست ہے کہ اس کے پاس نذر گذارننے کو کچھ نہیں وہ ایسی لکڑی چن لیتا ہے جو سڑنے والی نہ ہو۔ وہ ہوشیار کاریگر کی تلاش کرتا ہے تاکہ ایسی مورت بنائے جو قائم رہ سکے۔
۲۱ کیا تم نہیںجانتے؟ کیا تم نے نہیں سنا؟ کیا یہ بات ابتدا ہی سے تم کو بتائی نہیں گئی؟ کیا تم بنائے عالم سے نہیں سمجھے؟ ۔
۲۲ وہ محیط زمین پر بیٹھا ہے اور اسکے باشندے ٹڈوں کی مانند ہیں وہ آسمان کو پردہ کی مانند تانتا ہے اور اسکو سکونت کے لیے خیمہ کی مانند پھیلاتا ہے۔
۲۳ جو شاہزادوں ہو ناچیز کر ڈالتا ہے اور دنیا کے حاکموں کو ہیچ ٹھہراتا ہے۔
۲۴ وہ ہنوز لگائے نہ گئے وہ ہنوز بوئے نہ گئے ۔ انکا تنا زمین میں ہنوز جڑ نہ پکڑ چکا کہ وہ فقط ان پر پھونک مارتا ہے اور وہ خشک ہو جاتے ہیں اورگرد باد انکو بھوسے کی مانند اڑا لے جاتاہے۔
۲۵ وہ قدوس فرماتا ہے کہ تم مجھے کس سے تشبیہ دوگے؟ اورمیں کس چیز سے مشابہہ ہونگا۔
۲۶ اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ وہی جو انکے لشکر کو شمار کر کے نکالتا ہے اور ان سب کو نام بنام بلاتا ہے اسکی قدرت کی عظمت اور اسکے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔
۲۷ پس اے یعقوب تو کیوں یوں کہتا ہے کہ اے اسرائیل تو کس لئے ایسی بات کرتا ہے کہ میری راہ خداوند سے پوشیدہ ہے اور میری عدالت خدا سے گذر گئی؟ ۔
۲۸ کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نےنہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اسکی حکمت ادراک سے باہر ہے۔
۲۹ وہ تھکے ہوئے ہو زوربخشتا ہے اورناتوان کی توانئی کو زیادہ کرتا ہے ۔
۳۰ نوجوان بھی تھک جائینگے اور ماندہ ہونگے اور سورما بالکل گر پڑینگے ۔
۳۱ لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسر نو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑینگے وہ دوڑینگے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلینگے اورماندہ نہ ہونگے۔