أیسعیاہ ۵۳

۵۳:‏ ۱ اِسرائیل کا توبہ کرنے والا بقیہ یاد کرتا ہے کہ جب مسیحِ موعود کی پہلی آمد کی خبر دی گئی تو ایمان لانے والے کوئی زیادہ لوگ نہ تھے۔ اِس کے نتیجے میں خداوند کی نجات بخش قدرت بھی بہتوں پر ظاہر نہ ہوئی۔ 

۵۳:‏ ۲ خداوند یسوع یہوداہ کی پُرمسرت نظروں کے سامنے یوں بڑھا جیسے کوئی نہایت غیر معمولی اور نرم پودا گناہ بھری دُنیا میں نشو و نما پاتا اور بڑھتا ہے۔ وہ خشک زمین میں جڑ کی مانند تھا۔ یہ خشک زمین اِسرائیل تھا جس میں سے جڑ کے پھوٹ نکلنے کا امکان نہیں ہوتا۔ اِسرائیلی قوم اُس میں کوئی خوبصورتی نہ دیکھ سکی جس سے وہ اُس کی مشتاق ہوتی۔ ایف۔ بی۔ مائیر (‏Meyer)‏ اُس کی پست حالی کے بھید کے بارے میں کہتا ہے:‏

’’نرم کونپل زمین سے پھوٹ نکلنے کے لئے بڑی دِقت سے راستہ بناتی اور زمین کے سخت پوست کو چیر کر باہر نکلتی ہے۔ طبعی کشش اور جاذبیت سراسر ناپید! یہ استعارہ نئے عہدنامہ سے تشریح اور وضاحت پاتا ہے جب ہم مسیح کی زمینی زندگی اور خدمت پر نظر کرتے ہیں۔ اُس نے غربت و افلاس کی زندگی بسر کی‏، اُس کے شاگرد بھی غریب ماہی گیر تھے‏، وہ اُمرا کے بجائے عام غریب لوگوں میں مقبول ہوا‏، صلیبی موت پر بھی دو ڈاکو اُس کے دائیں بائیں لٹکے‏، حتیٰ کہ اُس کی کلیسیا بھی غریب لوگوں پر مشتمل ہوئی۔‘‘

۵۳:‏ ۳ وہ آدمیوں میں حقیر و مردود‏، مردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا۔ اِس دُنیا کے لوگوں کے لئے وہ قابلِ نفرت تھا‏، یہاں تک کہ اِسرائیل نے بھی اُس کی قدر نہ کی۔

۵۳:‏ ۴۔۶ اب بقیہ اُس کے بارے میں حقیقت اور سچائی کو جان گیا اور مانتا ہے۔ وہ اِقرار کرتے ہیں:‏ اُس نے ہماری مشقتیں اُٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔ مگر جب ہم نے اُسے صلیب پر دیکھا تو سوچا کہ خدا اُسے اُس کے اپنے گناہوں کی سزا دے رہا ہے‏، لیکن نہیں۔ وہ خطائیں ہماری تھیں‏، وہ بدکرداریاں ہماری تھیں۔ اُس نے سب کچھ برداشت کیا تاکہ ہماری سلامتی ہو اور ہم شفا پائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم تھے جو بھٹک گئے اور گردن کشی کی راہ پر چلے اور یہوواہ نے ہماری بدکرداری اُس بے گناہ عوضی پر لادی۔

جب تک اِسرائیل کا بقیہ اُسے تسلیم نہیں کرتا ہم جو مسیحی ہیں اِن ساری باتوں کا اِقرار کر سکتے ہیں جو اِن آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ 

ہمارے خداوند یسوع نے وہ سارے پانچوں زخم برداشت کئے جن کا طبی سائنس کو علم ہے:‏ (‏۱)‏ کچلنا۔ ڈنڈے کی ضرب (‏۲)‏ پھاڑنا۔ کوڑوں کی مار (‏۳)‏ چبھونا۔ کانٹوں کا تاج (‏۴)‏ چھیدنا۔ ہاتھوں اور پیروں میں میخیں (‏۵)‏ گہرا گھاؤ۔ نیزے یا بھالے کا زخم۔ 

۵۳:‏ ۷‏،۸ جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے کوئی گلہ شکوہ یا فریاد نہیں کرتی اُس نے بھی اُسی طرح صلیب کو برداشت کیا۔ ظلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اُسے جلدی سے قید کیا اور عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں اِنصاف کئے بغیر فتویٰ سنانے میں بھی جلدی کی گئی۔ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُس کی نسل آگے نہ چلے گی کیونکہ وہ عالمِ شباب میں اپنے لوگوں کے گناہوں کے لئے قتل ہوا۔ 

۵۳:‏ ۹ شریر آدمیوں نے سازش کی کہ اُسے مجرموں کے ساتھ دفن کیا جائے‏، لیکن خدا نے اُن کے منصوبے ناکام بنا دیئے اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ ہوا۔ وہ ارمتیہ کے یوسف کی نئی قبر میں دفن ہوا۔ اگرچہ اُس نے کوئی ظلم یا بُرا کام نہیں کیا تھا‏، کبھی جھوٹ نہ بولا تھا تو بھی لوگوں نے اُسے شرم ناک طریقے سے دفن کرنے کی سازش کی۔ 

۵۳:‏ ۱۰‏، ۱۱ الف تو بھی خداوند (‏یہوواہ)‏ نے مناسب جانا کہ اُسے کچلے اور غمگین کرے۔ جب اُس کی جان گناہ کی قربانی ہو جائے گی وہ اپنی نسل کو دیکھے گا۔ جو اُس پر ایمان لاتے ہیں وہ سب اُس کی نسل ہیں۔ اُس کی عمر دراز ہو گی۔ وہ قدرت کے ساتھ تاابد زندہ ہے۔ خدا کے سارے ارادے اور مقاصد اُس کے وسیلے سے پورے ہوں گے۔ وہ اُس ہجوم در ہجوم لوگوں کو دیکھے گا جو اُس کے خون کے وسیلے سے چھڑائے گئے ہیں تو بے حد سیر اور آسودہ ہو گا۔ اُسے کامل تسکین ہو گی۔

۵۳:‏ ۱۱ ب اپنے ہی عرفان سے میرا صادق خادم بہتوں کو راست باز ٹھہرائے گا۔ اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اپنے باپ کی مرضی کے عرفان سے وہ صلیب تک گیا۔ اور اپنی موت اور جی اُٹھنے کے وسیلے سے وہ ایمان داروں کو راست باز محسوب کرتا ہے۔ یا اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اُس کے عرفان سے یعنی اُسے جان لینے سے اِنسان راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں (‏یوحنا ۱۷:‏ ۳)‏۔ بہر صورت چونکہ اُس نے بدکرداری اُٹھا لی اِس لئے بہتوں کا راست باز ٹھہرایا جانا ممکن ہوا۔ 

۵۳:‏ ۱۲ اُس کے پورا کئے ہوئے کام کا ایک اَور نتیجہ یہ ہے کہ یہوواہ اُسے بزرگوں کے ساتھ حصہ دے گا۔ یہ بزرگ مقدسین ہیں جن کی بزرگی یا عظمت کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اُس (‏مسیحِ موعود)‏ کے ساتھ پیوستہ ہیں۔ اور وہ لُوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گا۔ زور آور وہ ایمان دار ہیں جو بذاتہٖ کمزور مگر خداوند میں زور آور اور مضبوط ہیں۔ 

اُس کی شان دار فتح کے چار اسباب دیئے گئے ہیں۔ (‏۱)‏ اُس نے اپنی جان موت کے لئے اُنڈیل دی۔ (‏۲)‏ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا‏، یعنی دو ڈاکوؤں کے درمیان لٹکایا گیا؛ (‏۳)‏ اُس نے بہتوں کے گناہ اُٹھا لئے؛ (‏۴)‏ اُس نے خطاکاروں کی شفاعت کی۔ ڈیوڈ بیرون (‏Baron)‏ رقم طراز ہے:‏

’’فعل haph’gia’ (‏شفاعت کی)‏‏، صیغہ ناتمام یا غیر متعین مستقبل میں ہے۔ یہ ایسے کام کو ظاہر کرتا ہے جو شروع ہوا لیکن تاحال پورا یا مکمل نہیں ہوا۔ Delitzsch کی رائے کے مطابق اِس کی نہایت تعجب انگیز تکمیل مصلوب نجات دِہندہ کی دعا ہے کہ اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں‏،‘‘ لیکن شفاعت کا یہ کام جو اُس نے صلیب پر شروع کیا اب بھی خدا کے دہنے ہاتھ جاری ہے۔‘‘

مجموعی طور پر کلام کے اِس حصے میں کئی تضاد نظر آتے ہیں۔ اِس سلسلے میں موڈی کہتا ہے:‏ 

’’اُس کی تحقیر ہوئی مگر اُسے قبول کیا جاتا اور اُس کی تعریف ہوتی ہے۔ وہ غریب مگر دولت مند ہے۔ مر جاتا ہے مگر زندہ رہے گا۔ ربی کہتے تھے کہ اِس باب کی تکمیل کے لئے کوئی دُہرا مسیحِ موعود ہونا چاہئے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ ہمارےپیغام پرکون ایمان لایا؟اور خُداوندکا بازوکس پرظاہرہوا؟
۲ پر اس کے آگے کونپل کی طرح اور خشک زمین سے جڑکی مانندپھوٹ نکلاہے۔نہ اُس کی شکل و صورت ہے نہ خوب صورت اور جب ہم اُ پر نگاہ کریں تو کچھ حسن وجمال نہیں کہ ہم اُس کے مشتاق ہوں۔
۳ وہ آدمیوں میں حقیرو مردود ۔ لوگ اُس سے گویا روپوش تھے۔اُس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اس کی کچھ قدر نہ جانی
۴ تو بھی اس نے ہماری مشقتیں اٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔پر ہم نے اسے خدا کا مارا کوٹا اور ستایاہوا سمجھا۔
۵ حالانکہ وہ ہماری خطائوں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مارکھانے سے ہم شفا پائیں۔
۶ ہم سبب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئےہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوندنے ہم کی بد کرداری اُس پر لا دی۔
۷ وہ ستایا گیا تو بھی اُس برداشت کی اور منہ نہ کھولا۔جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے۔اُسی طرح خاموش رہا۔
۸ وہ ظلم کر کے اور فتوی لگا کراُسے لے گئےپر اُس کے زمانہ کے لوگوںمیں سےکس نے خیال کیا کہ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈا لا گیا؟میرے لوگوں کے سبب اُس پر مارپڑی۔
۹ اس کی بر شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ موا حا لانکہ اس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا اوراس کے منہ میں ہرگزچھل نہ تھا۔
۱۰ لیکن خُداوند کو پسندآیا کہ اسے کچلے۔اس نے اسے غمگین کیا۔جب اس کی گناہ کے سبب گزرانی جائے گی تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا۔اس کی عمردراز ہو گی اور خُداوند کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلہ سے پوری ہو گی۔
۱۱ اپنی جان ہی کا دکھ اٹھا کر وہ اسے وہ دیکھے گا اور سیر ہو گا۔اپنے ہی عرفان سےمیراصادق خادم بہتوں کو راست باز ٹھہراے گاکیونکہ وہ ان کی بدکرداری خود اٹھالے گا۔
۱۲ اس لئے میں اسے بزرگوں کے ساتھ حصہ دوں گا اور وہ لوٹ کا مال زور اوروں کے ساتھ بانٹ لے گا کیونکہ اس نے اپنی جان کے لئے ا نڈیل دی اور وہ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا تو بھی اس نے بہتوں کے گناہ اٹھا لئے اور خطا کاروں کی شفاعت کی۔