۱۴: ۱،۲ خداوند اِسرائیل (یعقوب) پر رحم فرمائے گا اور اُنہیں بحال کرے گا۔ غیر قومیں اِس واپسی میں خدا کے لوگوں کی مدد کریں گے اور اُن کے ساتھ صلح اور اَمن سے رہیں گے۔ جو قومیں پہلے اسرائیل پر سرداری اور حکمرانی کرتی تھیں اب اُس کی غلام ہوں گی۔
یعقوب اور اسرائیل کا گھرانا بابل میں جلاوطن اور اسیر یہودیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خداوند ’’اِسرائیل کو ہنوز برگزیدہ کرے گا‘‘۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ اُنہیں اسیری کے ملک سے رہائی دے گا اور اُن کے اپنے ملک میں پھر آباد اور قائم کرے گا۔ یعقوب کے گھرانے سے مل جانے والے پردیسی وہ لوگ ہیں جو بابل میں یہودیت قبول کریں گے۔ جو لوگ اُن کو لا کر اُن کے ملک میں پہنچائیں گے وہ خورس اور دیگر لوگ تھے جن کی ہمدردی اور حمایت اُنہیں حاصل تھی۔ اُنہوں نے یہودیوں کی واپسی میں مدد کی۔
۱۴: ۳۔۱۱ ایذاؤں اور سخت مشقت اور غلامی سے آزاد ہونے پر اِسرائیل شاہِ بابل کے خلاف طعن آمیز گیت گائے گا۔ خداوند نے اُس کی طاقت ملیامیٹ کر دی اور اُس کے ظلم و ستم کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ساری زمین بلکہ جنگل بھی شادمانی کرتے ہیں کیونکہ اب اُس کی فوجیں اُنہیں کاٹ کاٹ کر برہنہ نہیں کریں گے۔ آخرکار اَمن و سلامتی! پاتال کے باشندے اُس (شاہِ بابل) کا استقبال کرنے کو تیار ہیں۔ وہ خوش ہیں کہ اُس کی بھی طاقت اور زور چھن گیا ہے۔ شاہِ بابل کی شان و شوکت اور نمود و نمائش جاتی رہی۔ شاہی محل کی موسیقی ختم ہو گئی۔ وہ کیڑوں پر پڑا سوتا ہے اور اُس کے اوپر کیڑوں ہی کا بالاپوش (اوڑھنا) ہے۔
۱۴: ۱۲۔۱۷ طعن آمیز گیت جاری ہے اور اُس کا موضوع پھیل کر شاہِ بابل کے زوال کے ساتھ ساتھ اُس ہستی یعنی شیطان (لُوسیفر) کو بھی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ رائری (Ryrie) رقم طراز ہے: ’’صاف ظاہر ہے کہ یہ اِشارہ شیطان کی طرف ہے کیونکہ مسیح نے بھی اِسی قسم کے الفاظ سے اُس کا بیان کیا ہے (لوقا ۱۰: ۱۸) اور اِس لئے کہ یسعیاہ ۱۴: ۱۳،۱۴ کے الفاظ سوائے شیطان کے اَور کسی کی زبان پر زیب نہیں دیتے (دیکھئے ۱۔تیمتھیس ۳:۶)‘‘۔ چونکہ یہ ’’صبح کا روشن ستارہ‘‘ (لغوی معنی ’صبح کا بیٹا) بڑے تکبر اور گھمنڈ سے اپنی مرضی کو خدا کی مرضی سے اعلیٰ تر اور بالاتر قرار دیتا تھا اِس لئے اُسے آسمان سے نکالا اور زمین پر پٹک دیا گیا۔ آیات ۱۳،۱۴ میں شیطان کے بدنامِ زمانہ الفاظ ’’ مَیں… (یہ/ وہ) … کروں گا‘‘ قلم بند ہیں جو اُس نے خدا کے خلاف بغاوت میں کہے۔ اِس کے نتیجے میں اُسے پاتال میں ڈالا جائے گا اور وہ جائے عبرت اور وجۂ حیرت ہو گا۔ وہاں کے رہنے والے حیران ہوں گے کہ جو اِتنی طاقت بروئے کار لاتا تھا وہ ایسا پست کیا گیا ہے!
۱۴: ۱۸۔۲۱ شاہِ بابل کی طرف دوبارہ متوجہ ہو کر گیت میں لکھا ہے کہ دوسرے بادشاہ تو شان دار مقبروں میں دفن ہیں، لیکن اُسے معقول تدفین نصیب نہ ہو گی۔ اُس کی کوئی یادگار نہ ہو گی اور اُس کی شاہی نسل (اُس کے فرزندوں) کا سلسلہ کٹ جائے گا۔
۱۴: ۲۲،۲۳ خدا کا جھاڑو بابل شہر کا صفایا کر دے گا اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے گا۔
(۲) ا سُور کے خلاف فیصلہ (۱۴: ۲۴۔۲۷)
اب اسور کی تباہی کا موضوع شروع ہوتا ہے جو اُس زمانے میں بابل پر قابض اور حکمران تھا۔ اسور کی فوجیں اسرائیل کے پہاڑوں پر پاؤں تلے لتاڑی جائیں گی۔ اِس پیش گوئی کی مکمل تکمیل ’’بڑی مصیبت‘‘ کے زمانے میں ہو گی جب شمال کا بادشاہ عمانوایل کے ملک پر چڑھائی کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گا۔
(۳) فلستین کے خلاف فیصلہ (۱۴: ۲۸۔۳۲)
۱۴: ۲۸۔۳۱ فلستین کو آخز کی وفات پر خوش نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں عزیاہ کے پوتے آخز کو ’’لٹھ‘‘ کہا گیا ہے۔ عزیاہ نے فلستیوں کو مارا تھا (۲۔تواریخ ۲۶: ۶،۷)۔ اُس کی نسل سے ایک اَور آدمی حزقیاہ اُن پر ایسے حملہ کرے گا جیسے کوئی ناگ اور آتشی سانپ کرتا ہے (دیکھئے ۲۔سلاطین ۱۸: ۸)۔ اُس وقت خدا کے مسکین اور محتاج لوگ محفوظ ہوں گے۔ لیکن خداوند فلستیوں پر کال نازل کرے گا اور اُس کے باقی ماندہ لوگ قتل کئے جائیں گے۔ شمال سے اسوری حملہ آور ہوں گے۔ وہ دھوئیں کی مانند ملک پر چھا جائیں گے۔ البتہ خدا کے لوگ یروشلیم میں محفوظ و مامون رہیں گے۔
۱۴: ۳۲ اگر غیر قوم کے ہرکارے پوچھیں گے کہ کیا ہو رہا ہے تو اُن کو بتایا جائے گا کہ خداوند صیون کے ساتھ اپنے وعدے پورے کر رہا ہے اور یروشلیم کے باشندوں کی حفاظت کر رہا ہے۔
مقدس کتاب
۱ کیونکہ خداوند یعقوب پر رحم فرمائیگا بلکہ وہ اسرائیل کو ہنوز برگزیدہ کرے گا اور انکو انکے ملک میں پھر قائم کریگا اور پردیسی ان کے ساتھ میل کرینگے اور یعقوب کے گھرانے سے مل جائینگے۔
۲ اور لوگ انکو لا کر انکے ملک میں پہچائینگے اوراسرائیل کا گھرانہ خداوند کی سر زمین میں انکا مالک ہو کر انکو غلام اور لونڈیاں بنائےگا کیونکہ وہ اپنے اسیرکرنے والوں کو اسیرکرینگے اور اپنے ظلم کرنے والوں پر حکومت کرینگے ۔
۳ اور یوں ہو گا کہ جب خداوند تیری محنت و مشقت سے اورسخت خدمت سےجو انہوں نے تجھ سے کرائی راحت بخشے گا۔
۴ تب توشاہ بابل کے خلاف یہ مثل لائیگا اور کہیگا کہ ظالم کیسا نابود ہو گیا! اور غاصب کیسا نیست ہوا ! ۔
۵ خداوند نے شریروں کا لٹھ یعنی بےانصاف حاکموں کاعصا توڑڈالا۔
۶ وہی جو لوگوں کو قہر سے مارتا رہا اورقوموں پر غضب کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا اور کوئی روک نہ سکا ۔
۷ ساری زمین پر آرام و آسائش ہے ۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔
۸ ہاں صنوبر کےدرخت اور لبنان کے دیودار تجھ پر یہ کہتے ہوئے خوشی کرتے ہیں کہ جب سے تو گرایا گیا تب سے کوئی کاٹنے والا ہماری طرف نہیں آیا۔
۹ پاتال نیچے سے تیرےسبب سے جنبش کھاتا ہے کہ تیرے آتے وقت تیرا استقبال کرے وہ تیرے لئےمردوں کو یعنی زمین کے سب سرادروں کو جگاتا ہے۔ وہ قوموں کے سب بادشاہوں کو ان کے تختوں پر سے اٹھا کھڑا کرتا ہے۔
۱۰ وہ سب تجھ سے کہیں گے کیا تو بھی ہماری مانند عاجز ہو گیا؟ تو ایسا ہو گیا جیسے ہم ہیں؟ ۔
۱۱ تیری شان و شوکت اور تیرے سازوں کی خوش آوازی پاتال میں اتاری گئی تیرے نیچے کپڑوں کا فرش ہوا اور کپڑے ہی تیرے بالا پوش بنے۔
۱۲ اےصبح کے روشن ستارے تو کیونکرآسمان سے گر پڑا! اے قوموں کر پست کرنے والے توکیونکر زمین پر ٹپکا گیا ! ۔
۱۳ تُو تو اپنے دل میں کہتا تھا کہ میں آسمان پر چڑھ جاونگا میں اپنے تخت کو خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کرونگا اور میں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاروں پربیٹھوں گا۔
۱۴ میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاونگا ۔ میں خدا تعالیٰ کی مانند ہونگا۔
۱۵ لیکن تو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اتارا جائیگا۔
۱۶ اور جنکی نظر تجھ پر پڑےگی تجھے غور سے دیکھ کر کہیں گے کیا یہ وہی شخص ہے جس نے زمین کو لرزایا اور مملکتوں کو ہلا دیا۔
۱۷ جس نے جہان کو ویران کیا اور اسکی بستیاں اجاڑ دیں ۔ جس نے اپنے اسیروں کو آزاد نہ کیا کہ گھر کی طرف جائیں؟ ۔
۱۸ قوموں کے تمام بادشاہ سب کے سب اپنے اپنےمسکن میں شوکت کے ساتھ آرام کرتے ہیں۔
۱۹ لیکن تو اپنی گور سے باہر نکمی شاخ کی مانند نکال پھینکا گیا۔ تو اُن مقتولوں کے نیچے دبا ہے جو تلوار سے چھیدے گئے اور گڑھے کے پتھروں پر گرے ہیں ۔ اُس لاش کی مانند جوجو پاؤں سے لتاڑی گئی ہو ۔
۲۰ تو انکے ساتھ کبھی قبر میں دفن نہ کیا جائے گا کیونکہ تو نے اپنے مملکت کو ویران کیا اور اپنی رعیت کو قتل کیا ۔بدکرداروں کی نسل کا نام باقی نہ رہیگا۔
۲۱ اسکے فرزندوں کے لئے انکے باپ دادا کےگناہوں کے سبب سے قتل کے سامان تیار کرو تاکہ وہ پھر ملک کے مالک نہ ہو جائیں اور رُویِ زمین کو شہروں سے معمور نہ کریں۔
۲۲ کیونکہ رب الافواج فرماتا ہے میں انکی مخالفت کو اٹھونگا اور میں بابل کا نام مٹاونگا اور انکو جو باقی ہیں بیٹوں اور پوتوں سمیت کاٹ ڈالونگا ۔ یہ خداوند کا فرمان ہے۔
۲۳ رب الافواج فرماتا ہے میں اسے خار پشت کی میراث اور تالاب بناونگا اور میں اسے فنا کے جھاڑو سے صاف کردونگا۔
۲۴ رب الافواج قسم کھا کر فرماتا ہےکہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔
۲۵ میں اپنے ہی ملک میں اسوری کی شکست دونگا اور اپنے پہاڑوں میں اُسے پاؤں تلے لتاڑونگا ۔ تب اُسکا جُوا ان پر سے اتریگا اور اسکا بوجھ ان کے کندھو ں پر سے ٹلیگا۔
۲۶ ساری دنیا کی بابت یہی ہے اور سب قوموں پر یہی ہاتھ بڑھایا گیا ہے ۔
۲۷ کیونکہ رب الافواج نے ارادہ کیا ہے۔ کون اسے باطل کریگا ؟ اور اسکا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اُسے کون روکیگا؟ ۔
۲۸ جس سال آخز بادشاہ نے وفات پائی اُسی سال یہ بار بنوت آئی۔
۲۹ اے کل فلستین تو اس پر خوش نہ ہو کہ تجھے مارنے والا لٹھ ٹوٹ گیا کیونکہ سانپ کی اصل سے ایک ناگ نکلیگا اور اُس کا پھل ایک اڑنےوالا آتشی سانپ ہو گا ۔
۳۰ تب مسکینوں کے پہلوٹھے کھائینگے اور محتاج آرام سے سوئیں گے پر میں تیری جڑ کال سے برباد کردونگا اور تیرے باقی لوگ قتل کیے جائینگے۔
۳۱ اے پھاٹک تو واویلا کر اے شہر تو چلا اے فلستین تو بالکل گداز ہو گئی کیونکہ شمال سے ایک دھواں اُٹھیگااور اسکے لشکروں میں سے کوئی پیچھے نہ رہے گا ۔
۳۲ اس وقت قوم کے قاصدوں کو کوئی کیا جواب دیگا؟ کہ خداوند نے صیون کو تعمیر کیا ہے اور اس میں اسکے مسکین بندے پناہ لیں گے۔