ب۔ یسعیاہ کی بلاہٹ، پاک صاف کیا جانا اور تقرر (باب ۶)
۶: ۱ جس سال میں عزیاہ بادشاہ نے وفات پائی یسعیاہ نے بادشاہوں کے بادشاہ کا رُؤیا دیکھا۔ یوحنا ۱۲: ۳۹۔۴۱ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس بادشاہ کو اُس نے دیکھا وہ سوائے خداوند یسوع مسیح کے اَور کوئی نہ تھا۔ ایف۔سی۔ جیننگز (Jennings) نے اِس پر یوں تبصرہ کیا ہے:
وہ (یسعیاہ) بھی پتمس میں یوحنا کی طرح روح میں آ گیا۔ اور ادوہن (Adohn) (خدا کا نام۔ یہاں اور رومیوں ۹:۵ میں ’’مسیح … جو سب کے اوپر اور ابد تک خدائے محمود ہے‘‘) کو پورے جاہ و جلال کے ساتھ تخت پر بیٹھے دیکھا۔ یہ تخت بذاتِ خود ’’بلند اور سرفراز‘‘ ہے کیونکہ ’’اُس کا تخت سب پر سلطنت کرتا ہے۔‘‘ اور اُس تخت پر بیٹھنے والے کے ’’لباس کے دامن سے ہیکل معمور ہو گئی۔‘‘
۶: ۲ ۔ ۵ اُس کی خدمت میں آسمانی مخلوق سرافیم حاضر تھے۔ اُن کے چھے چھے پَر تھے۔ چار خدا کے احترام اور تعظیم کے لئے اور دو اُڑنے کے لئے۔ یہ سرافیم خدا کی قدوسیت کی تعریف کرتے اور چاہتے ہیں کہ خدا کی خدمت کرنے سے پہلے اُس کے خادم پاک صاف کئے جائیں۔
رُؤیا سے نبی کے دل میں اپنے گناہ کی گہری قائلیت پیدا ہوئی اور اُسے اِقرار کرنے کے مرحلے پر لے آئی۔
۶: ۶۔۸ اِس کے فوراً بعد نبی کو پاک صاف کیا گیا۔ اِس کے بعد ہی یسعیاہ نے خداوند (یہوواہ) کی پکار سنی۔ اُس نے جلدی سے خود کو خداوند کے لئے مقدس کیا اور خدا نے اُسے ایک بھاری ذمہ داری تفویض کی۔
۶: ۹، ۱۰ اُسے خدا کا کلام اُن لوگوں کو پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی جن کی آنکھیں اَندھی اور دل سخت ہو چکے ہوں گے کیونکہ اُنہوں نے خدا کے پیغام کو ردّ کر دیا۔ آیات ۹،۱۰ یسعیاہ کی خدمت کے مقصد و مُدَّعا کا ذکر نہیں کرتیں بلکہ اِس کے ’’اٹل نتیجہ‘‘ کا بیان کرتی ہیں۔ یہ آیات نئے عہدنامے میں اِقتباس کی گئی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ اِسرائیل نے مسیحِ موعود کو ردّ کر دیا ہے۔ وائن (Vine) رقم طراز ہے کہ:
’’اُن لوگوں (بنی اِسرائیل) نے اپنی رَوِشیں اِتنی بگاڑی تھیں کہ اب اُن کے تبدیل ہونے، ایمان لانے اور شفا پانے کا امکان نہیں رہا تھا۔ اِنسان بدی اور گناہ میں ایسا سخت ہو جاتا ہے کہ اُس کی حالت لاعلاج ہو جاتی ہے۔ اور یہ خدا کی طرف سے اُن کے لئے سزا اور بدلہ ہوتا ہے۔‘‘
۶: ۱۱۔۱۳ ’’اے خداوند یہ کب تک؟‘‘ اِس سوال کا مطلب ہے کہ خدا کا قہر و غضب اُس کے لوگوں پر کب تک ہوتا رہے گا۔ جواب یہ تھا: ’’جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اور کوئی بسنے والا نہ رہے اور گھر بے چراغ نہ ہوں اور زمین سراسر اُجاڑ نہ ہو جائے۔‘‘ خدا ایک بقیہ (’’دسواں حصہ‘‘) بچا لے گا۔ مگر اُس بقیہ کو بھی بڑی مصیبت میں سے گزرنا ہو گا۔ ’’ یہ مقدس تخم‘‘ ایک بڑے درخت کے زندہ ’’ٹنڈ‘‘ کی مانند ہو گا جو باقی درخت کے برباد ہو جانے کے بعد بچ رہتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ جس سال میں عُزیاہ بادشاہ نے وفات پائی اُس سال میں نے خداوند کو بڑی بُلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا او اُسکے لباس کےدامن سے ہیکل معمور ہو گئی۔
۲ اُس کے آس پاس سرافیم کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک کے چھ بازو تھے اور ہر ایک دو سے اپنا مُنہ ڈھانپے ہوئےتھا اور دو سے پاؤں اوردوسے اڑتا تھا۔
۳ اور ایک نے دوسرے کو پُکارا اورکہا قدوس قدوس قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اُسکے جلال سے معمور ہے۔
۴ اور پُکارنے والے کی آواز سے آستانوں کی بنیادیں ہل گئی اور مکان دھوئیں سے بھر گیا۔
۵ تب میں بول اُٹھا کہ مجھ پر افسوس ! میں تو برباد ہوگیا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اورنجس لب لوگوں میں بستا ہوں کیونکہ میری آنکھوں نے بادشاہ رب الافواج کو دیکھا۔
۶ اُس وقت سرافیم میں سے ایک سُلگا ہوا کوئلہ جو اُس نے دست پناہ سے مذبح پر سےاٹھالیاتھا لیکر اڑتا ہوا میرے پاس آیا۔
۷ اور اُس نے میرےمنہ کو چھوا اورکہا دیکھ اس نے تیرے لبوں کو چُھؤا۔ پس تیری بد کرداری دور ہوئی اور تیرے گناہ کا کفارہ ہو گیا۔
۸ اُس وقت میں نے خداوند کی آواز سُنی جس نے فرمایا میں کس کو بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائے گا؟ تب میں نے عرض کی کہ میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔
۹ اوراُسنے فرمایا کہ کہ جا اور اُن لوگوں سے کہہ کہ تم سُنا کرو پر سمجھونہیں۔ تم دیکھا کرو پربوجھو نہیں ۔
۱۰ تواُن لوگوں کےدلوں کو چربا دے اوراُن کے کانوں کو بھاری کر اور ان کی آنکھیں بند کر دے تا نہ ہوں کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے کانوں سے سُنیں اور اپنےدلوں سے سمجھ لیں اور باز آئیں اورشفا پائیں۔
۱۱ تب میں نے کہا کہ اے خداوند یہ کب تک؟ اُس نے کہا کہ جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اورکوئی بسنےوالا نہ رہے اورگھر بےچراغ نہ ہوں اور زمین سرا سر اجاڑ نہ ہو جائے ۔
۱۲ اور خداوند آدمیوں کو دور کر دے اور اس زمین میں متروک مقام بکثرت ہوں۔
۱۳ اور اگراُس میں دسواں حصہ باقی بھی بچ جائے تر وہ پھر بھسم کیا جائے گا لیکن وہ بُطم اوربلوط کی مانند ہو گا کہ باوجود وہ کاٹے بھی جائیں تو بھی اُن کاٹنڈ بچ رہتا ہے ۔ سو اُسکا ٹنڈ ایک مقدس تخم ہو گا۔