أیسعیاہ ۵۱

(‏۳)‏ مسیحِ موعود بحیثیت صادق حکمران (‏۵۱:‏ ۱۔۵۲:‏ ۱۲)‏

۵۱:‏ ۱۔۳ اسرائیل میں جو رہائی کے متلاشی ہیں اُن سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب سے اُس نے اُنہیں چٹان میں سے کاٹا (‏مسوپتامیہ سے نکالا)‏ تو اُس نے اُن کی کیسی نگہداشت کی تھی۔ اُنہیں اِس بات سے حوصلہ افزائی ہونی چاہئے کہ خدا نے ابرہام اور سارہ سے نہایت شفقت اور فضل بھرا سلوک کیا اور اُن کی اولاد کو کثرت سے بڑھایا۔ اُنہیں خدا کے اِس وعدے سے دل بڑا کرنا چاہئے کہ وہ صیون کو تسلی دے گا۔ غور کریں کہ وہ تین دفعہ پکارتا ہے کہ میری سنو یا میری طرف متوجہ ہو (‏آیت ۱‏، ۴‏، ۷)‏ اور تین ہی دفعہ پکارتا ہے کہ جاگ (‏۵۱:‏ ۹‏،۱۷؛ ۵۲:‏۱)‏۔

۵۱:‏ ۴۔۶ ہزار سالہ دَور میں مسیحِ موعود اسرائیل اور غیر قوموں سب پر حکمرانی کرے گا۔ بادشاہی کے اِختتام پر آسمان اور زمین نابود کئے جائیں گے اور سارے بے ایمان لوگ مر جائیں گے‏، لیکن خدا کے سارے لوگ ابد تک محفوظ رہیں گے۔ 

۵۱:‏ ۷‏،۸ خداوند بقیہ کو تاکید کرتا ہے کہ ’’بڑی مصیبت‘‘ کے تاریک ایام میں اِنسان کے غیظ و غضب سے نہ ڈرو کیونکہ شریروں کے ہولناک انجام پر مُہر ہو چکی ہے اور خدا کے لوگوں کی رہائی اور خلاصی یقینی ہے۔ 

۵۱:‏ ۹۔۱۱ اِس سے بقیہ کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ خداوند کو پکاریں کہ اپنے لوگوں کو چھڑا جیسے مصر (‏رہب)‏ اور فرعون (‏اژدہا۔ یہ مصر کے فرعونوں کا شاہی نشان تھا)‏ سے چھڑایا تھا۔ اور بحر عمیق (‏بحیرۂ قلزم)‏ کو سکھا دیا تھا تاکہ جن کا فدیہ دیا گیا اُسے پار کریں۔ گزرے مواقعوں پر خدا کی مداخلت کو یاد کرنے سے وہ مستقبل میں دیکھ سکتے ہیں جب مخلصی یافتہ لوگ صیون میں واپس آئیں گے۔ Jennings نے اِس واقعے کی خوبصورت تصویر کھینچی ہے۔

’’اُن کے سروں پر خوشی اور شادمانی کے سہرے ہیں جن کا وہ اب تک عبث پیچھا کرتے رہے تھے‏، مگر آخر کار اُن کو آ لیا ہے۔ اور جس طوفان میں سے وہ گزرے تھے وہ دھوئیں کے بادل کی طرح غائب ہو رہا اور اُن کی آہیں اور آنسو اپنے ساتھ لئے جا رہا ہے۔‘‘ 

۵۱:‏ ۱۲۔۱۶ یہوواہ اُن سب کو تسلی کا پیغام دیتا ہے جو نبوکدنضریا کسی اَور ظالم شخص سے ڈرتے تھے۔ اُنہیں اُس خدا سے ڈرنا چاہئے جس نے آسمان کو تانا اور زمین کی بنیاد ڈالی۔ اگر ایسا کریں گے تو کمزور اِنسان کے ڈر سے آزاد ہو جائیں گے۔ ’’جلاوطن اسیر جلدی سے آزاد کیا جائے گا۔ وہ غار میں نہ مرے گا اور اُس کی روٹی کم نہ ہو گی۔‘‘ یہ اسیر خورس کے زمانے میں آزاد کئے گئے اور اُس وقت آزاد کئے جائیں گے جب مسیحِ موعود اپنے جلال میں ظاہر ہو گا۔ یہوواہ یہ وقوع پذیر کرے گا۔ جو لامحدود بلندی پر رہتا ہے وہ نہایت نزدیک بھی ہے اور اپنے لوگوں کو اپنے ہاتھ کے سایہ تلے چھپا رکھتا ہے۔ وہ اپنا کلام اُن کے منہ میں ڈالتا ہے تاکہ وہ دُنیا میں اِس کی تبلیغ کریں۔ آیت ۱۶ کا اطلاق خداوند یسوع پر بھی ہو سکتا ہے۔ باپ نے اپنا کلام مسیحِ موعود کے منہ میں ڈالا۔ اُس نے اُس کی حفاظت کی اور اُسے تیار کیا تاکہ ہزار سالہ دَور کے نئے آسمان اور نئی زمین کو برپا کرے اور صیون سے کہے کہ تم میرے لوگ ہو۔

ا۵:‏ ۱۷۔۲۰ جاگ! جاگ! یروشلیم کے دکھ اور مصیبت کی تاریک رات ختم ہو گئی ہے جس کے دوران اُن کے بیٹوں میں سے کوئی اُس کی راہنمائی نہیں کر سکتا تھا اور جب کال اور تلوار اُسے تباہ اور ویران کر رہے تھے‏، جب اُس کے جوان مرد ایسے بے بس پڑے تھے جیسے ہرن دام میں بے دم پڑا ہوتا ہے۔ چنانچہ اب خداوند یروشلیم سے کہتا ہے جاگ!جاگ!

۵۱:‏ ۲۱۔۲۳ خداوند کے قہر کے جام سے یروشلیم لڑکھڑا گیا ہے۔ اب وہ یہ جام لے کر اُس کے دشمنوں کو دے گا جو ظلم و ستم کرنے میں خداوند کی مقررہ حدود سے تجاوز کر گئے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اے لوگو جو صداقت کی پیروی کرتے ہو اورخداوندکے جو یان ہو میری سنو اس چٹان پر جس میں تم کاٹے گئے ہواور اُس گڑھے کے سوراخ پر جہاں سے تُم کھودے گئے ہو نظر کرو ۔
۲ اپنے باپ ابرہام پر اور سارا پر جس سے تُم پیداہوئے نگاہ کرو کہ جب میں اُسے بلایا وہ اکیلا تھا۔پر میں اُ س کو برکت دی اور اُس کو کژت بخشی۔
۳ یقینا خُداوند صیون کو تسلی دے گا۔وہ اُس کے تمام ویرانوں کی دل داری کرے گا۔وہ اُس کا بیابان عدن کی مانند اور اُس کا صحرا خُداوندکے باغ کی مانند بنائے گا۔خوشی اور شادمانی اُس میں پائی جائے گی۔شکر گزاری اور گانے کی اواز اُس میان ہو گی۔
۴ میری طرف متوجہ ہوٓاے میرے لوگو!میری طرف کان لگاآے میری اُمت! کیونکہ شریعت مجھ سے صادر ہو گی اور میں اپنے عدل کو لوگوں کی روشنی کے لئے قائم کروں گا۔
۵ میری صداقت نزدیک ہے۔میری نجات ظاہر ہےاور میرےبازو لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔جزیرے میرا انتظار کریں گےاور میرے بازو پر اُن کا توکل ہو گا۔
۶ اپنی آ نکھیں آٓسمان کی طرف اُٹھاؤ اور نیچے زمین پر نگاہ کرو۔کیونکہ آ سمان دُھوئیں کی مانند غائب ہو جائیں گے اور زمین کپڑے کی طرح پرانی ہو جائے گی اور اُس کے باشندے مچھروں کی طرح مر جائیں گے لیکن میری نجات اند تک رہے گی اور میری صداقت موقوف نہ ہو گی۔
۷ آے صداقت شناسو! میری سُنو ۔آےلوگوجن کے دل میں میری شریعت ہے!انسان کی ملا مت سے نہ ڈرواور اُن کے طعنہ زنی سے ہرساں نہ ہو
۸ کیونکہ کیڑا اُن کو کپڑے کی مانند کھائے گااور کرم اُن کو پشمینہ کی طرح کھا جائے گا۔ لیکن میری صداقت ابد تک رہے گی اور میری نجات پُشت در پُشت۔
۹ جاگ جاگ آے خُداوند کے بازو۔توانائی سے ملُبس ہو!جاگ جیسا قدیم زمانہ میں اور گزشتہ پُشتوں میں۔کیا تو وہی خواب نہیں جس نے رہب کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اژدہا کو چھیدا؟۔
۱۰ کیا تُو وہ ہی نہیں جس نے سمندر یعنی بحرعمیق کے پانی کو سُکھا ڈالا۔جس نے بحری کی تہ کو راستہ بنا ڈالا تا کہ جس کا فدیہ دیا گیااُسے عبور کریں؟۔
۱۱ سو وہ جن کوخداوندنے مخلصی بخشی لوٹیں گے اور گاتے ہوئے صیون میں ٓائیں گےاور ابدی سُرور اُن کے سروں پر ہو گا۔وہ خوشی اور شادمانی حاصل کریں گے اور غم واندوہ کا فور ہوجائیں گے۔
۱۲ تم کو تسلی دینے والا میں ہی ہوں۔تو کون ہے جو فانی انسان سے آرام زادے سے جو گھاس کی مانند ہو جائے گا ڈرتا ہے۔
۱۳ اور خُداوند اپنے خالق کو بھول گیا جس نے آاسمان کو تانا اور زمین کی بنیاد ڈالی اور ھر وقت ظالم کےجوش خروش سے کہ وہ ہلاک کرنے کو تیارہےڈرتا ہے؟پر ظالم کا جوش خروش کہاں ہے؟۔
۱۴ جلاوطن اسیر جلدی آزاد کیا جائے گا۔وہ غار میں نہ مرے گا اور اُس کی روٹی کمی نہ ہوگی۔
۱۵ کیونکہ میں ہی تیرا خُداہوں جو مو جزن سمندر کو تھما دیتاہوں۔میرا نام رب الافواج ہے
۱۶ اور میں نے اپنا کلام تیرےمنہ میں ڈالا اور تجھے اپنے ہاتھ کے سایہ تلے چھپارکھا تاکہ افلاک کو بر پا کروں اور زمین کی بنیاد ڈالوں اور اہل صیون سے کہوں کہ تم میرے لوگ ہو۔
۱۷ جاگ جاگ اُٹھ اے یروشلیم!تو نے خدا کے ہاتھ سے اُس کے غضب کا پیالہ پیا۔تو نے ڈگمگانے کا جام تلچھٹ سیمت پی لیا۔
۱۸ اُن سب بیٹوں میں جو اُس سےپیدا ہوئے کوئی نہیں جواُس کا رہنماہواور اُن سب بیٹوں میں کو اُس نے پالاایک بھی نہیں جو اُس کا ہاتھ پکڑے
۱۹ یہ دو حادثے تجھ پر آ پڑے۔کون تیرا غم خوار ہو گا؟ویرانیاور ہلاکت۔کال اور تلوار۔میں کیونکر تجھے تسلی دوں؟۔
۲۰ تیرے بیٹے ہرکُوچے کے مدخل میں ایسے بے ہوش پڑے جیسےہرندام میں۔وہ خُداوندکے غضب اور تیرےخُدا کی دھمکی سے بے خود ہیں
۲۱ پس اب تو بد حالاور مست ہےپر مے سے نہیں یہ بات سن۔
۲۲ تیرا خُداوندیہوواہ ہاں تیراخُدا جو اپنے لوگوں کی وکالت کرتا ہے۔یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ڈگمگانے کا پیالہ اور اپنے قہر کا جام تیرے ہاتھ سے لے لوں گا۔تو اُسے پھر کبھی نہ پئےگی۔
۲۳ اور میں اُسے اُن کے ہاتھ میں دونگا جو تجھے دُکھ دتیےاورجو تجھ سے کہتےتھےکہ ہم تیرےاُپرسے گزریں اور تُونے اپنی پیٹھ کو زمین بلکہ گزرنے والوں کے لئے سڑک بنا دیا۔